Noor Foundation Public School System Thatta

Noor Foundation Public School System Thatta

Share

Today a READER...
Tomorrow a LEADER.... Today a READER...
Tomorrow a LEADER...

11/08/2021
22/02/2021
21/02/2021

اردو میں حروف ِ ابجد مکمل تفصیل کے ساتھ

۔ چونکہ یہ عربی سے لیے گئے ہیں اس لیے حروف تہجی کو ہی حروف ابجد کہتے ہیں
اُردُو زبان میں چھتیس حروف ِ ابجد اور سینتالیس آوازیں ہیں۔ جن میں سے بیشترعربی سے لیے گئے ہیں اور دیگر انہی کی مختلف شکلیں ہیں۔ کچھ حروف کئی طریقوں سے استعمال ہوتے ہیں اور کچھ مخلوط حروف بھی استعمال ہوتے ہیں جو دو حروف سے مل کر بنتے ہیں۔ بعض لوگ"ء" کو الگ حرف نہیں مانتے مگر پرانی اُردُو کتب اور لُغات میں اسے الگ حرف کے طور پر لکھا جاتا ہے۔ مختلف الفاظ میں یہ الگ حرف کے طور پر ہی استعمال ہوتا ہے مثلاً "دائرہ"۔ یہ بات مدِنظر رکھنا ضروری ہے کہ اُردُو تختی اور اُردُو حروف دو مختلف چیزیں ہیں کیونکہ اُردُوتختی میں اُردُو حروف ِ ابجد کی کئی اشکال ہو سکتی ہیں جن کو الگ حرف کا درجہ نہیں دیا جا سکتا بلکہ وہ ایک ہی حرف کی مختلف شکلیں ہیں۔ مثلاً نون غنہ، نون کی شکل ہے اور "ھ" اور "ہ" ایک ہی حرف کی مختلف اشکال ہیں۔
اسی طرح حرف ‘‘ ة ’’ کو عموماً اُردُو ابجد کا حصّہ نہیں مانا جاتا، تاہم کئی الفاظ و اِصطلاحات میں اِس کا اِستعمال ضرور ہے۔جس کی ایک مثال مرکب لفظ دائرةالمعارف ہے۔اور شاید اِسی اِستعمال کی وجہ سےمقتدرۂ قومی زبان نے اُردُو حروفِ تہجی میں اِس کو شامل کیا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ کئی مزید حروف کو بھی شاملِ ابجد کیا گیا ہے جس سے اُردو حروف ِ ابجد کی تعداد 58 ہوجاتی ہے۔ لیکن بعض کے مطابق " ة " کے بدلے "ت" ہی لکھنا مناسب ہے۔ مثلاً: توبۃ النصوح کی جگہ توبت النصوح، قرة العین حیدر کی جگہ قرت العین حیدر ۔
فلکی حروف: وہ حروف جو ہمیشہ سطر کے اوپر رہتے ہیں۔
فرشی حروف: ایسے حروف سطر پر لکھے جاتے ہیں۔
اصلی حروف: ان کے جسم کچھ بڑے اور لٹکے ہوئے ہوتے ہیں انہیں موٹے پیٹ والے حروف بھی کہتے ہیں۔سارے حروف سطرکے اوپر سے شروع ہوتے ہیں، موٹے پیٹ ہمیشہ سطرکے نیچےاور آخری سرا دوبارہ اوپر لے جایا جاتا ہے۔
شمسی اور قمری حروف
عربی قاعدے کے مطابق عربی سے اُردُو میں آنے وال حروف کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔
1۔ شمسی حروف 2۔ قمری حروف
1۔ حروف شمسی: عربی کےوہ حروف جن سے شروع ہونے والے الفاظ کے شروع میں "ال" لگایا جائے تو "ل" کی آواز نہیں نکالی جاتی۔ جیسے” ال +شمس“ کو "اش شمس " پڑھا جائے گا۔
حروف شمسی یہ ہیں؛ ت، ث، د، ذ، ر، ز، س، ش، ص، ض، ط ،ظ، ل، اور ن۔

2۔ حروف قمری: عربی کےوہ حروف جن سے شروع ہونے والے الفاظ کے شروع میں "ال" لگایا جائے تو "ل" کی آواز بولی جاتی ہے۔جیسے ”ال+ قمر “کو القمر پڑھا جائے منقوط حروف اور غیر منقوط حروف

نقاط: کچھ حروف پر ایک بندی لگائی جاتی ہے، اسے نقطہ بولتے ہیں۔
مثلاً ب، ت، ج، چ، ظ ، ش، ن وغیرہ
حروف منقوط: وہ حروف جن پر نقطہ ہو ، حروف منقوط کہلاتے ہیں۔ ان کی تعداد 17 ہے
جیسے ب، ت، پ ،ث، ج ، چ، خ، ذ، ز،ژ، ش ض، ظ ، غ ، ف ، ق، ن۔
حروف غیر منقوط: وہ حروف جن پر نقطہ نہ ہو ، حروف غیر منقوط کہلاتے ہیں۔ ان کی تعداد 20 ہے
جیسےا، ح، د ، ر ، س، ص، ط، ع، ک، گ، ل، م، و ، ہ ، ی ۔
(ی پہلی اور درمیانی صورت میں منقوط ہو جاتی ہے)
مدۤ : یہ علامت جس حرف(الف) پر آتی ہےاسے لمبا کر کے پڑھا جاتا ہے۔
جیسےآم، آب، آج۔ وغیرہ
الف ممدوہ : جس الف کو کھینچ کر پڑھا جائے اور اس پر علامت مد"ۤ" موجود ہو۔جیسے آج، آرام، آب، آپ، آہستہ۔ وغیرہ
الف مقصورہ: وہ الف جو کھینچ کر نہ پڑھی جائے۔ اب، ادب، اردو، انسان۔ وغیرہ
واؤ معروف: وہ ”و“ جسے خوب کھل کر پڑھا جائے۔
جیسے دُور، حضور، نور، قصور۔ وغیرہ
واؤ مجہول: وہ ”و“ جسے خوب کھل کر نہ پڑھا جائے۔
جیسے زور، چور، مور، شور ۔وغیرہ
واؤ معدولہ: وہ ”و“جو لکھی جائے پر پڑھنے میں نہ آئے۔
جیسےخوش، خود، خواہش، خواب۔ وغیرہ
ہائے مختفی: وہ "ہ" جو کھل کر نہ پڑھی جائے۔
جیسے رستہ، مستانہ، پیالہ، خستہ، فرشتہ۔ وغیرہ
ہائے ملفوظی: وہ "ہ" جو کھل کر پڑھی جائے۔
جیسے گواہ، راہ، بیاہ، گناہ۔ وغیرہ
یائے معروف: وہ "ی" جو کھل کر پڑھی جائے۔
جیسے عزیز، شریف، مریض، امیر، شریک۔ وغیرہ
یائے مجہول: وہ "ی" جو کھل کر نہ پڑھی جائے۔
جیسے فریب، سیب، دیر، بھید، نیک۔ وغیرہ

03/02/2021
06/08/2020

السلام علیکم،
تاریخ کے جھروکوں سے تاریخی شخصیات کا مختصر تعارف کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

آج کی شخصیت
میجر راجہ عزیز بھٹی

1965ء کی پاک بھارت جنگ میں شہید ہونے والے پاک فوج کے میجر جنہیں بعد میں حکومت پاکستان نے نشانِ حیدر کے اعزاز سے نوازا۔

تاریخ ولادت:6 اگست 1928 برطانوی ہانگ کانگ
تاریخ وفات :12 ستمبر 1965 (37 سال)
بركى، لاہور
مدفن :لادیاں، تحصیل کھاریاں، ضلع گجرات
شہریت: پاکستان ,برطانوی ہند
عملی زندگی:مادر علمی پاکستان ملٹری اکیڈمی
پیشہ :فوجی افسر
پیشہ ورانہ زبان :انگریزی، اردو

عسکری خدمات :شاخ پچیسویں پنجابی رجمنٹ (سترہویں پنجاب رجمنٹ)
عہدہ :میجر (1962–1965)
لڑائیاں اور جنگیں :پاک بھارت جنگ 1965ء

اعزازات
نشان حیدر

پاکستان کے نامور سپوت راجا عزیز بھٹی شہید (نشان حیدر) 6 -اگست 1928ء کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد راجا عبد اللہ بھٹی اپنی ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد یہ گھرانہ واپس لادیاں گجرات چلا آیا جو ان کا آبائی گاؤں تھا۔ راجا عزیز بھٹی قیام پاکستان کے بعد 21 جنوری 1948ء کو پاکستان ملٹری اکیڈمی میں شامل ہوئے۔

1950ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے پہلے ریگولر کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں انہیں شہید ملت خان لیاقت علی خان نے بہترین کیڈٹ کے اعزاز کے علاوہ شمشیر اعزازی اور نارمن گولڈ میڈل کے اعزاز سے نوازا پھر انہوں نے پنجاب رجمنٹ میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی

راجہ عزیز بھٹی 1952 ء میں اعلیٰ فوجی ٹریننگ کے لیے کینیڈا بھی گئے ۔ انہوں نے 1957 ء سے 1959 ء تک جی ایس سیکنڈ آپریشنز کی حیثیت سے جہلم اور کوہاٹ میں خدمات سر انجام دیں۔ 1960 ء سے 1962 ء تک پنجاب رجمنٹ جب کہ 1962 ء سے 1964 ء تک انفنٹری اسکول کوئٹہ سے وابستہ رہے ۔ انہوں نے جنوری 1965 ء سے مئی 1965ء تک سیکنڈ کمانڈر کے طورپر خدمات سرانجام دیں۔

6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں ایک کمپنی کی کمان کر رہے تھے۔ اس کمپنی کے دو پلاٹون بی آر بی نہر کے دوسرے کنارے پر متعین تھے۔ میجر عزیز بھٹی نے نہر کے اگلے کنارے پر متعین پلاٹون کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ ان حالات میں جب کہ دشمن تابڑ توڑ حملے کر رہا تھا اور اسے توپ خانے اور ٹینکوں کی پوری پوری امداد حاصل تھی۔ میجر عزیز بھٹی اور ان کے جوانوں نے آہنی عزم کے ساتھ لڑائی جاری رکھی اور اپنی پوزیشن پر ڈٹے رہے۔

9 اور 10 ستمبر کی درمیانی رات کو دشمن نے اس سارے سیکٹر میں بھرپور حملے کے لیے اپنی ایک پوری بٹالین جھونک دی۔ میجر عزیز بھٹی کو اس صورت حال میں نہر کے اپنی طرف کے کنارے پر لوٹ آنے کا حکم دیا گیا مگر جب وہ لڑ بھڑ کر راستہ بناتے ہوئے نہر کے کنارے پہنچے تو دشمن اس مقام پر قبضہ کرچکا تھا تو انہوں نے ایک انتہائی سنگین حملے کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کو اس علاقے سے نکال باہر کیا اور پھر اس وقت تک دشمن کی زد میں کھڑے رہے جب تک ان کے تمام جوان اور گاڑیاں نہر کے پار نہ پہنچ گئیں۔ انہوں نے نہر کے اس کنارے پر کمپنی کو نئے سرے سے دفاع کے لیے منظم کیا۔ دشمن اپنے چھوٹے ہتھیاروں‘ ٹینکوں اور توپوں سے بے پناہ آگ برسا رہا تھا مگر راجا عزیز بھٹی نہ صرف اس کے شدید دبائو کا سامنا کرتے رہے بلکہ اس کے حملے کا تابڑ توڑ جواب بھی دیتے رہے۔ اسی دوران دشمن کے ایک ٹینک کا گولہ ان پر آن لگا جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔

میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نے سترہ پنجاب رجمنٹ کے اٹھائیس افسروں سمیت پانچ دن اور پانچ راتوں تک دشمن کے ہر وار کو ناکام بنائے رکھااور اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شہید ہو کر ایسا کارنامہ سرانجام دیا تھا کہ ان کی بہادری کو سنہری حروف میں یاد کیا جاتا ہے۔

26 ستمبر 1965ء کو صدر مملکت فیلڈ مارشل ایوب خان نے پاک فوج کے 94افسروں اور فوجیوں کو جنگ ستمبر میں بہادری کے نمایاں کارنامے انجام دینے پر مختلف تمغوں اور اعزازات سے نوازا۔ وطن کی خاطر اپنی جان نثار کرنے پر میجر عزیز بھٹی کو پاکستان کا سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر دیا گیا۔ راجا عزیز بھٹی شہید یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے تیسرے سپوت تھے۔

Photos from Noor Foundation Public School System Thatta's post 22/03/2020

Stay Home Stay safe
-19
🙂Appeal to all Pakistanis🇵🇰

Self Isolation (staying at home) is best choice. All responsible Government personnel have left their homes and families to serve you, let us help them & reward their sacrifice by staying at home🏡

InshaAllah!
May Allah protect and save all of us ..
Ameen ❣️

Want your school to be the top-listed School/college in Thatta?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Thatta-Sujawal Bypass Road
Thatta

Opening Hours

Monday 08:00 - 13:30
Tuesday 08:00 - 13:30
Wednesday 08:00 - 13:30
Thursday 08:00 - 13:30
Friday 08:00 - 12:30