06/08/2020
السلام علیکم،
تاریخ کے جھروکوں سے تاریخی شخصیات کا مختصر تعارف کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
آج کی شخصیت
میجر راجہ عزیز بھٹی
1965ء کی پاک بھارت جنگ میں شہید ہونے والے پاک فوج کے میجر جنہیں بعد میں حکومت پاکستان نے نشانِ حیدر کے اعزاز سے نوازا۔
تاریخ ولادت:6 اگست 1928 برطانوی ہانگ کانگ
تاریخ وفات :12 ستمبر 1965 (37 سال)
بركى، لاہور
مدفن :لادیاں، تحصیل کھاریاں، ضلع گجرات
شہریت: پاکستان ,برطانوی ہند
عملی زندگی:مادر علمی پاکستان ملٹری اکیڈمی
پیشہ :فوجی افسر
پیشہ ورانہ زبان :انگریزی، اردو
عسکری خدمات :شاخ پچیسویں پنجابی رجمنٹ (سترہویں پنجاب رجمنٹ)
عہدہ :میجر (1962–1965)
لڑائیاں اور جنگیں :پاک بھارت جنگ 1965ء
اعزازات
نشان حیدر
پاکستان کے نامور سپوت راجا عزیز بھٹی شہید (نشان حیدر) 6 -اگست 1928ء کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد راجا عبد اللہ بھٹی اپنی ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد یہ گھرانہ واپس لادیاں گجرات چلا آیا جو ان کا آبائی گاؤں تھا۔ راجا عزیز بھٹی قیام پاکستان کے بعد 21 جنوری 1948ء کو پاکستان ملٹری اکیڈمی میں شامل ہوئے۔
1950ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے پہلے ریگولر کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں انہیں شہید ملت خان لیاقت علی خان نے بہترین کیڈٹ کے اعزاز کے علاوہ شمشیر اعزازی اور نارمن گولڈ میڈل کے اعزاز سے نوازا پھر انہوں نے پنجاب رجمنٹ میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی
راجہ عزیز بھٹی 1952 ء میں اعلیٰ فوجی ٹریننگ کے لیے کینیڈا بھی گئے ۔ انہوں نے 1957 ء سے 1959 ء تک جی ایس سیکنڈ آپریشنز کی حیثیت سے جہلم اور کوہاٹ میں خدمات سر انجام دیں۔ 1960 ء سے 1962 ء تک پنجاب رجمنٹ جب کہ 1962 ء سے 1964 ء تک انفنٹری اسکول کوئٹہ سے وابستہ رہے ۔ انہوں نے جنوری 1965 ء سے مئی 1965ء تک سیکنڈ کمانڈر کے طورپر خدمات سرانجام دیں۔
6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں ایک کمپنی کی کمان کر رہے تھے۔ اس کمپنی کے دو پلاٹون بی آر بی نہر کے دوسرے کنارے پر متعین تھے۔ میجر عزیز بھٹی نے نہر کے اگلے کنارے پر متعین پلاٹون کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ ان حالات میں جب کہ دشمن تابڑ توڑ حملے کر رہا تھا اور اسے توپ خانے اور ٹینکوں کی پوری پوری امداد حاصل تھی۔ میجر عزیز بھٹی اور ان کے جوانوں نے آہنی عزم کے ساتھ لڑائی جاری رکھی اور اپنی پوزیشن پر ڈٹے رہے۔
9 اور 10 ستمبر کی درمیانی رات کو دشمن نے اس سارے سیکٹر میں بھرپور حملے کے لیے اپنی ایک پوری بٹالین جھونک دی۔ میجر عزیز بھٹی کو اس صورت حال میں نہر کے اپنی طرف کے کنارے پر لوٹ آنے کا حکم دیا گیا مگر جب وہ لڑ بھڑ کر راستہ بناتے ہوئے نہر کے کنارے پہنچے تو دشمن اس مقام پر قبضہ کرچکا تھا تو انہوں نے ایک انتہائی سنگین حملے کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کو اس علاقے سے نکال باہر کیا اور پھر اس وقت تک دشمن کی زد میں کھڑے رہے جب تک ان کے تمام جوان اور گاڑیاں نہر کے پار نہ پہنچ گئیں۔ انہوں نے نہر کے اس کنارے پر کمپنی کو نئے سرے سے دفاع کے لیے منظم کیا۔ دشمن اپنے چھوٹے ہتھیاروں‘ ٹینکوں اور توپوں سے بے پناہ آگ برسا رہا تھا مگر راجا عزیز بھٹی نہ صرف اس کے شدید دبائو کا سامنا کرتے رہے بلکہ اس کے حملے کا تابڑ توڑ جواب بھی دیتے رہے۔ اسی دوران دشمن کے ایک ٹینک کا گولہ ان پر آن لگا جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نے سترہ پنجاب رجمنٹ کے اٹھائیس افسروں سمیت پانچ دن اور پانچ راتوں تک دشمن کے ہر وار کو ناکام بنائے رکھااور اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شہید ہو کر ایسا کارنامہ سرانجام دیا تھا کہ ان کی بہادری کو سنہری حروف میں یاد کیا جاتا ہے۔
26 ستمبر 1965ء کو صدر مملکت فیلڈ مارشل ایوب خان نے پاک فوج کے 94افسروں اور فوجیوں کو جنگ ستمبر میں بہادری کے نمایاں کارنامے انجام دینے پر مختلف تمغوں اور اعزازات سے نوازا۔ وطن کی خاطر اپنی جان نثار کرنے پر میجر عزیز بھٹی کو پاکستان کا سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر دیا گیا۔ راجا عزیز بھٹی شہید یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے تیسرے سپوت تھے۔