13/02/2026
🌿 صدقۂ جاریہ — اپنے مرحومین کے لیے دائمی اجر کا موقع 🌿
حضرت سعد بن عبادہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: “یا رسول اللہ! میری والدہ فوت ہوگئی ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟” آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے پوچھا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی پلانا۔
(سنن ابی داؤد: 1681)
اسی مبارک تعلیم پر عمل کرتے ہوئے ہمارے مدرسہ میں طلبہ اور نمازیوں کی ضرورت کے پیشِ نظر پانی کا بور (واٹر بورنگ) لگایا جا رہا ہے، تاکہ صاف پانی کی مستقل سہولت فراہم ہو سکے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو صدقۂ جاریہ بن کر ہمیشہ جاری رہنے والا ثواب عطا کرے گا۔
💧 آپ کی تھوڑی سی مدد:
آپ کے مرحوم والدین اور عزیزوں کے لیے ایصالِ ثواب بن سکتی ہے
ہر پینے والے کے ساتھ آپ کے نامۂ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ کرے گی
علمِ دین حاصل کرنے والے طلبہ کی خدمت کا ذریعہ بنے گی
🤲 آئیے! اس نیک کام میں حصہ ڈال کر اپنے لیے اور اپنے فوت شدگان کے لیے دائمی اجر کا سامان کریں۔
📌 تعاون کے لیے (ایزی پیسہ اکاؤنٹ):
03487019706
اللہ تعالیٰ آپ کے مال، رزق اور زندگی میں برکت عطا فرمائے اور اس صدقے کو آپ کے لیے آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے۔
جزاکم اللہ خیراً کثیراً
15/04/2025
حضرت مولانا احمد چشتی نظامی تونسوی کھوکھررحمة الله عليه
مولانا احمد کے والد ماجد کا نام مولوی نور محمد ہے اور وہ حضرت نور محمد نارو والی (م ۱۲۰۴ھ ) کے مریدین میں سےتھے۔ مولوی نورمحمد کے آباواجداد تونسہ کےقدیم باشندوں میں سے تھے۔ مولانا احمد تونسہ شریف میں پیدا ہوئے ۔ اور وہیں حضرت
تونسوی کے قائم کردہ مدرسہ میں تعلیم حاصل کی ۔ تکمیل تعلیم کے بعد حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی کے دست مبارک پر بیعت کی اور تھوڑے عرصہ بعد درجہ خلافت سے سرفراز ہوئے ! مولانا احمد کچھ عرصہ تک حضرت خواجہ تونسوی کے امام صلواۃ رہے ۔ حضرت خواجہ انہی کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد مولانا احمد پر سکر و استغراق کی کیفیت طاری ہوئی توان کی جگہ حافظ محمد علی کو امام مقر رکیا گیا ۔
حصول خلافت کے بعد آپ نے تونسہ شریف میں سلسلہ ارشاد جاری کیا اور بہت جلد آپ کی شہرت ہو گئی حتی کہ حضرت تونسوی کی موجودگی میں حضرت تونسوی سے بھی زیادہ آپ کی طرف لوگوں کا رجوع ہوا ۔ آپ کا حلقہ بھی حضرت کے حلقہ سے زیادہ ہوتا اور لنگر بھی حضرت کے لنگر سے زیادہ جاری ہوا۔ حضرت کو آپ کی شہرت و عروج کا علم ہوا تو فرمایا :
"الحمد للہ با وجود مرشدخلیفه این چنین صاحب شهرت پیدا شد "
"اللہ تعالیٰ کا شکر ہےمرشد کے ہوتے ہوئے اس طرح کا صاحب شہرت خلیفہ پیدا ہوا"
بہت سےلوگ آپ کے حلقہ ارادت میں داخل تھے اور تادم آخر آپ کا فیض جاری رہا اور آپ کے روحانی مدارج بلند سے بلند تر تھے۔
مولوی احمد علی مصنف قصر عارفان آپ کے متعلق لکھتے ہیں :-
در یکی ازان (خلفا حضرت تونسوی ) قوی الاحوال مولوی شاه احمد ابدال که در علوم دینی بحر کامل بوده در اذکار و اشغال و تعلیم طالبان و ریاضات و اعمال صفوتی کافی و دست قوی داشت .
حضرت تونسوی کے خلفاء میں سے
قوی الاحوال مولوی شاہ (سردار) احمد ابدال("ابدال" ایک صوفی اصطلاح ہے جو ان خاص اولیاء اللہ کے لیے استعمال ہوتی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے روحانی نظام چلانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہو مولانا احمد تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کو "ابدال" کہنا ان کی روحانی عظمت، مقام، اور اللہ کے خاص بندوں میں شمار ہونے کی دلیل ہے)
جو دینی علوم میں بحرِ کامل تھے، اذکار و اشغال، طالبان کی تعلیم، ریاضتوں اور صفوتی اعمال میں کامل مہارت اور مضبوط دسترس رکھتے تھے۔
اور حاجی نجم الدین آپ کو ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں :۔
" آن مستغرق بحر وحدت و تغریق دریائے معرفت آن نهنگ لجه توحید، آن سرگروه فرقه اہل تجرید و تفرید محرم راز احد مولانا احمد "
وہ (مولانا احمد) وحدت کے سمندر میں مستغرق، معرفت کے دریائے بے کنار میں غرق، توحید کے بھنور کے نهنگ (یعنی بہت بلند درجہ کے عارف)، اہلِ تجرید و تفرید کے پیشوا اور رازِ احدیت کے محرم تھے۔
اخلاق واوصاف
حاجی نجم الدین صاحب لکھتے ہیں کہ مولانا احمد کا اخلاق بہت بلند تھا ۔ آپ ہرادنی اعلی چھوٹے بڑے کی عزت کرتے تھے اور ہرایک کو اٹھ کرملتے تھے اور حضرت تو نسوی کی خدمت میں رہنے والے تمام صوفیوں کے استاد تھے
حاجی صاحب لکھتے ہیں :-
فصوص الحکم و مثنوی مولانا جلال الدین محمد رومی و فتوحات مکیه را گویا ایشان حافظ بودندو مذہب خود برمذهب شیخ اکبر محی الدین ابن عربی می داشتند و در ترک د نیا سبقت از همه یاران بردند، چنانچه ہر فتوح که می رسید آنرا صرف می کردند و در هر ماه مکان خود را از ذخائر دنیا صاف می کردند .
آپ فصوص الحکم اور مثنوی روم کے تو گویا حافظ تھے اور اپنا مسلک شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کا ر کھتے تھے ۔ اور ترک دنیا میں سب برادران طریقت سے بڑھ گئے تھے۔ جو کچھ آتا تھا خرچ کر دیتے تھے ۔ اور ہر مہینے اپنے مکان کو دنیا وی سامانوں سے پاک صاف کر دیتے تھے۔
وفات
مولانا احمد صاحب سترہ شوال ۱۲۷۲ ھ کو فوت ہوئے اور تونسہ شریف میں دفن ہوئے
جانشین
وفات کے بعدآپ کے بھتیجے مولوی غلام نبی رحمۃ اللہ علیہ جانشین ہوئے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین رحمۃ اللہ علیہ جانشین ہوئے ۔ اور آج تک آپ کا سلسلہ جاری ہے۔
دعا گو مولانا غلام عباس چشتی کھوکھر آستانہ عالیہ مولانا احمد تونسوی رحمہ اللہ علیہ تونسہ شریف
15/04/2025
منقبت بحضور مولانا احمد تونسوی چشتی نظامی کھوکھر رحمۃ اللّٰہ علیہ
شہرہ تیرا عام ہوا مولانا احمد تونسوی رحمۃ اللہ علیہ
تو عالی مقام ہوا مولانا احمد تونسوی رحمۃ اللہ علیہ
وحدت وجود کا غلبہ ایسا محی الدیں عربی جیسا
اس میں تو امام ہوا مولانا احمد تونسوی رحمۃ اللہ علیہ
خلق خدا سے جو بھی آ ئے تو اسکو خدا ملائے
نعرہ یہ تیرا عام ہوا مولانا احمد تونسوی رحمۃ اللہ علیہ
شاہ سلیمان کو تو تھا پیارا کرتے تھے اس لیے اشارہ
مرید یہ تیرے نام ہوا مولانا احمد تونسوی رحمۃ اللہ علیہ
تھا موجود مرشد تیرا پھر بھی بڑا شہرہ تیرا
کیسے یہ انعام ہوا مولانا احمد تونسوی رحمۃ اللہ علیہ
در تیرے جو بھی آ یا دینے والا تجھ کو پایا
بگڑا اسکا کام ہوا مولانا احمد تونسوی رحمۃ اللہ علیہ
احمد دین کا بیٹا یوسف یوسف کا پوتا اشعر
اشعر تیرا غلام ہوا مولانا احمد تونسوی رحمۃ اللہ علیہ
مولانا غلام عباس اشعر چشتی
کھوکھر تونسوی
آستانہ عالیہ مولانا احمد تونسوی رحمۃ اللہ علیہ تونسہ شریف
14/04/2025
་་
مستغرق بحر وحدت، غریق دریائے معرفت، نہنگ لجہء توحید
سرگرده فرقه اہل تجرید و تفرید ، محرم راز احد
حضرت مولانا احمد تونسوی رحمة الله علیه
آپ کا نام مولانا احمد اور والد صاحب کا نام مولوی نور محمد ہے
آپ کے والد حضرت نور محمد
نا رو والہ صاحب (حاجی پور) کے مریدوں میں سے ہیں ۔ آپ کی جائے ولادت تونسہ شریف ہے آپ کے آبا و اجداد اسی جگہ رہتے تھے ۔
آپ علوم ظاہری و باطنی کے عالم صاحب کشف و کرامت و صاحب و جد و سماع تھے حضرت محبوب(خواجہ شاہ سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ) کے مرید و خلیفہ تھے۔مدت مدید تک حضرت صاحب کے امام رہے کہ حضرت صاحب کی نماز جماعت ہمیشہ وہ پڑھاتے تھے مگر پھر جب ان پر غلبہ وحدت غالب ہوا اور شراب سکر میں مخمورہو گئے اور مسجد میں عین نماز میں گریہ وزاری کرنے لگتے اور محویت تمام ان پر غالب رہنے لگی ان کی جگہ مولوی علی محمد صاحب امام مقرر ہوئے۔
مولانااحمد صاحب پر اس حد تک غلبہ وحدت تھا کہ جب ان کے سامنے کتے گائے، انسان یا دوسرے حیوان آتے تو ان کو سلام کرتے اور انکی تعظیم بجا لاتے۔ گویا جملہ کائنات ان کے حق میں آئینہ ہو گئی تھی کہ ذات حق کو اس میں دیکھتے تھے ۔
جیسا کہ حافظ شیرازی نے کہا ہے :
در و دیوار من آئینه شد از کثرت شوق
ہر کجا مے نگرم روئے شما می بینم الله
ترجمہ
میری دیواریں اور دروازے شوق کی کثرت سے آئینہ بن گئے ہیں،
جہاں بھی نظر ڈالتا ہوں، تمہارا ہی جلوہ دکھائی دیتا ہے، اے اللہ!
حضرت صاحب (خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ)کے با وجود ان کی اتنی شہرت تھی کہ اطراف واکناف سے خلق آتی اور ان کی مرید ہوتی ۔ ان کا مکان حضرت صاحب کے مکان کے مشرق کی طرف قریب ترین تھا۔ انکی مجلس میں زیادہ لوگ بیٹھتے تھے اور حضرت صاحب کی مجلس میں کم بیٹھتے تھے ۔ اور ان کے لنگر میں فقراء کو روٹی حضرت صاحب کے لنگر سےزیادہ ملتی تھی۔
ان کی مجلس میں دن رات مردوں اور عورتوں کو ذوق و شوق ہوتاتھا ۔ بلکہ آپ نے اعلان کیا تھا کہ جسے خدا کو دیکھنے کی خواہش ہو میرے پاس آئے۔حضرت صاحب( پیر پٹھان )ان کی شہرت سے اور ان کی مجلس کی گرمی سے بہت خوش ہوتے تھےکہ الحمد للہ کہ مرشد کے سامنے ہی ایسا صاحب شہرت خلیفہ پیدا ہوا ہے ۔ مگر جب غلبہ تو حید کے سبب علمائے ظاہراور دیگرظاہر بینوں نے ان کا شکوہ حضرت صاحب کی خدمت میں بار بار کیا۔ حضرت صاحب واقف حال تھے ۔ اس لئے ان لوگوں کے کہنےپر کچھ خیال نہ کیا ۔حضرت صاحب اپنے مصلہ پر سمت قبلہ بیٹھےہوئے تھے ۔ ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اے دوستو خدا کا شکر بجانہیں لاتے کہ حق تعالی نے مجھے ایسا مرید دیا ہے کہ باوجود میری زندگی کے ایساصاحب ارشاد ہے ۔ وہ جاہل نہیں ہے کہ میں اسے نصیحت کروں وہ صاحب حال وعلم ہے۔ شاکی لوگ نادم ہوکر چلے گئے
منقول ہے کہ مولوی صاحب کا خلق ایسا تھا کہ ہر ادنی واعلی ، خورد و بزرگ کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے ۔
آپ کل صوفیوں کے استاد تھے۔ کہ صوفی لوگ حضرت صاحب سے سبق لینے کے بعد ان کی خدمت میں جاتے تھے ۔ اور مسلہ کی فہمید کرتے تھے ۔ کاتب الحروف(نجم الدین سلیمانی)نے بھی ان سے چند کتب سلوک دیکھے اور سمجھے ہیں۔ فصوص الحکم - مثنوی، فتوحات مکی کے گویا آپ حافظ تھے۔
آ پ اپنا عقیدہ شیخ اکبر محی الدین عربی کے عقیدہ کے مطابق رکھتے تھے ۔ اور ترک دنیا میں تمام یاروں پر سبقت لے گئے تھے۔ چنانچہ جو فتوح ملتی تھی اسے صرف کر دیتے تھے ۔ اور ہر مہینہ اپنے مکان کو دنیا کے اسباب سے صاف کر دیتے تھے۔ بلکہ چار پائی بھی راہ خدا میں دے دیتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں پھر سامان دے دیتا تھا۔
شادی کی تھی البتہ ابتدائے سلوک میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ پھر نکاح نہ کیا۔ اولاد بھی نہیں ہے۔ ان کے مرید بہت ہیں ۔
البتہ ان کا قائم مقام (جانشین)ان کا برادر زادہ (بھتیجا )مولوی غلام نبی تھے جو صفات درویشی سے متصف تھے
ان کا (مولانا احمد تونسوی رحمۃ اللہ علیہ) وصال ، سترہ شوال کو ہوا ۔ ان کی مزار و روضہ تونسہ شریف کے قبرستان میں واقع ہے
ان کی دربار کے قریب ان کے نام سے منسوب مسجد و مدرسہ قائم ہے جہاں حفظ و ناظرہ قرآن مجید ، درس نظامی , عصری علوم کی تعلیم دی جاتی ہے
مرتبہ مولانا غلام عباس چشتی کھوکھر آستانہ عالیہ مولانا احمد تونسوی رحمہ اللہ علیہ تونسہ شریف
ماخوذ از مناقب المحبوبین
14/02/2025
اس کیلکولیٹر پر موجود ان خاص بٹنوں کے استعمال اور فوائد کو تفصیل سے سمجھیں:
1. GT (Grand Total) بٹن
یہ بٹن ان تمام نتائج (totals) کو جمع کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جو آپ نے کیلکولیٹر پر کیے ہوں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ نے کئی الگ الگ حسابات کیے اور ان سب کا مجموعہ ایک ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں، تو GT بٹن دبانے سے تمام حسابات کا گرینڈ ٹوٹل نظر آئے گا۔
2. M+ (Memory Plus) بٹن
یہ بٹن کسی بھی نمبر کو میموری میں جمع (add) کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
استعمال: اگر آپ نے "50" لکھا اور پھر M+ دبایا، تو یہ نمبر کیلکولیٹر کی میموری میں محفوظ ہو جائے گا۔ اگر آپ بعد میں "30" لکھ کر دوبارہ M+ دبائیں، تو اب میموری میں "80" محفوظ ہوگا (50+30=80)۔
3. M- (Memory Minus) بٹن
یہ بٹن میموری میں موجود نمبر میں سے کوئی بھی نیا نمبر منفی (subtract) کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
استعمال: اگر میموری میں پہلے سے "80" موجود ہے اور آپ "20" لکھ کر M- دبائیں تو میموری میں "60" باقی رہ جائے گا (80-20=60)۔
4. MRC (Memory Recall & Clear) بٹن
یہ بٹن دو کام کرتا ہے:
پہلی بار دبانے سے میموری میں محفوظ کردہ نمبر دکھاتا ہے (Recall)۔
دوبارہ دبانے سے میموری صاف کر دیتا ہے (Clear)۔
5. +/- (Plus Minus) بٹن
یہ بٹن کسی بھی نمبر کی علامت (sign) کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
استعمال: اگر آپ نے "25" لکھا ہے اور +/- دبائیں، تو یہ "-25" میں بدل جائے گا، اور دوبارہ دبانے سے پھر "+25" ہو جائے گا۔
6. MU (Mark-Up) بٹن
یہ بٹن زیادہ تر بزنس میں منافع (profit margin) نکالنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
استعمال: اگر کسی چیز کی قیمت 500 روپے ہے اور آپ اسے 20% منافع کے ساتھ بیچنا چاہتے ہیں تو یوں کریں:
1. 500 لکھیں
2. MU دبائیں
3. 20 لکھ کر % دبائیں
4. کیلکولیٹر خود بخود وہ قیمت دکھائے گا جس پر آپ کو وہ چیز بیچنی ہے
✔ دکانداروں اور کاروباری حضرات کے لیے MU بٹن بہت کارآمد ہے۔
✔ M+, M-, اور MRC ان لوگوں کے لیے مفید ہیں جو بڑے حسابات کو میموری میں محفوظ رکھ کر بعد میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
✔ GT ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہے جو مختلف حسابات کا گرینڈ ٹوٹل نکالنا چاہتے ہیں۔
یہ بٹن کیلکولیٹر کو مزید طاقتور اور کارآمد بناتے ہیں، خاص طور پر کاروباری حضرات اور طلبہ کے لیے۔
07/02/2025
اہل محبت سے شرکت کی درخواست ہے
Please Share it
02/02/2025
حمد بی حد آن خدای پاک را
آنکه ایمان داد مشتی خاک را
ترجمہ
بےشمار تعریف اس اللہ تعالٰی کیلئے
جس نے انسان کو ایمان دیا
22/01/2025
در حمد باری تعالی
کریما به بخشائے بر حال ما
کہ ھستم اسیر کمند . ہںوا
نداریم غیر از تو فریاد رس
توئی عاصیاں را خطا بخش و بس
نگہدار مارا ز راہ خطا
خطا درگذار و صوابم نما
ترجمہ
اے کریم رحم فرما ہمارے حال پر
جو ہںوں میں قیدی حرص کے جال کا
نہیں رکھتے ہم تیرے سوا فریاد کو پہنچنے والا
توہی گناہگاروں کے گناہ بخشنے والا اور بس
محفوظ رکھ ہم کو خطا کے راستہ سے
خطا معاف فرما اور سیدھا راستہ مجھے دکھا