: 13 سے 18 سال (شعور اور مستقبل سازی)
یہ عمر سب سے اہم اور حساس ہوتی ہے۔
🔹 دینی تربیت
دین کو ذمہ داری نہیں بلکہ شخصیت کا حصہ بننے دیں۔
انہیں اپنی نماز، روزہ، قرآن اور اخلاق خود سنبھالنے دیں۔
سوالات ہوں تو غصے کے بجائے تحمل سے جواب دیں۔
🔹 اخلاقی و شخصی تربیت
گفتگو کا انداز سکھائیں:
احترام، دلیل، تحمل، اور سننے کا سلیقہ۔
دوستوں کا انتخاب سمجھائیں، سختی نہیں — شعور دیں۔
غلطی ہو جائے تو اسے گناہ اور امید دونوں کے پیرائے میں سمجھائیں۔
🔹 دنیاوی تربیت
مارکیٹ کے اصول، پیسے کا استعمال، بجٹ، وقت کا نظم سکھائیں۔
انہیں خود فیصلے لینے دیں لیکن رہنمائی ساتھ رکھیں۔
مستقبل کے بارے میں گفتگو کریں:
تعلیم، مقصد، کیریئر، دینی شعور + عملی زندگی۔
The Moon Light Grammar School Mangrotha Road
ہم جدید تعلیم کو قرآنی تعلیمات کے ساتھ جوڑ کر باکردار، باایمان اور کامیاب طلبہ تیار کرتے ہیں۔ 🌸
: 7 سے 12 سال (شخصیت کی مضبوطی)
🔹 دینی تربیت
نماز کی عادت بنوائیں، لیکن پیار اور حکمت کے ساتھ۔
سیرتِ نبویؐ کی چھوٹی کہانیاں سنائیں۔
روزے، اخلاق، شکرگزاری کے مفہوم سے آشنا کریں۔
🔹 اخلاقی تربیت
وعدہ پورا کرنے اور ذمہ داری کا شعور دیں۔
غلطی ہونے پر ڈانٹنے کے بجائے سوالات کریں:
"اگلی بار بہتر کیسے کریں گے؟"
کامیابی کی تعریف کریں، ناکامی پر حوصلہ دیں۔
🔹 دنیاوی تربیت
پڑھائی کا ٹائم ٹیبل بنوائیں اور اس پر عمل کرنے کی عادت ڈالیں۔
کھیل، آرٹ یا کوئی اسکل (تیراکی، سائیکلنگ، کیلیگرافی) ضرور سکھائیں۔
سکرین ٹائم زیادہ سے زیادہ 1–1.5 گھنٹے۔
3 سے 6 سال (ابتدائی بنیادیں)
🔹 دینی تربیت
نماز کے لیے صرف محبت سے ساتھ لے جائیں، زبردستی نہ کریں۔
چھوٹی سورتیں، دعائیں کھیل ہی کھیل میں سکھائیں۔
اللہ کو "رحم کرنے والا" اور دین کو "خوبصورت" بتائیں۔
🔹 اخلاقی تربیت
بچے کی ہر سچی بات کی تعریف کریں تاکہ سچ بولنے کی عادت پکے۔
"شکریہ، معاف کیجیے، پلیز" جیسے آداب گھر میں لازمی کروائیں۔
مارپیٹ یا چِلانے کے بجائے نرمی سے سمجھائیں۔
🔹 دنیاوی تربیت
رنگ، اشکال، شاعری، کہانیاں، کتابیں — تخیل بڑھاتی ہیں۔
بلا ضرورت موبائل سے بچائیں، زیادہ وقت والدین کے ساتھ کھیل میں گزاریں۔
چھوٹے کام دیں: کھلونے جمع کروانا، چیزیں واپس رکھنا۔
حضرت علیؓ کے اقوالِ زریں (تعلیم و علم کے بارے میں)
1.
"علم دولت سے بہتر ہے، کیونکہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے اور تم دولت کی حفاظت کرتے ہو۔"
2.
"علم حاصل کرو، کیونکہ علم تمہیں زندگی میں عزت دیتا ہے، اور مرنے کے بعد نیک نامی۔"
3.
"عقل مند کا دل اس کے علم کا خزانہ ہے، اور جاہل کا دل اس کی جہالت کا قید خانہ۔"
4.
"علم حاصل کرو، کیونکہ جہالت انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔"
5.
"علم دولت سے بڑھ کر ہے، کیونکہ علم نبیوں کی میراث ہے اور دولت فرعونوں کی۔"
ناکامی سے مت ڈرو
ناکامی کوئی اختتام نہیں، یہ کامیابی کی شروعات ہے۔ جو گر کر اٹھنا جانتا ہے، وہ سب سے مضبوط ہوتا ہے۔ غلطیوں سے سیکھو، خود کو بہتر بناؤ، اور دوبارہ کوشش کرو۔ یاد رکھو، ہر کامیاب انسان کبھی ناکام ضرور ہوا ہے — فرق صرف یہ ہے کہ اس نے ہمت نہیں ہاری۔
دوسروں کے لیے مثال بنو
کامیاب انسان وہ نہیں جو صرف خود آگے بڑھے، بلکہ وہ ہے جو دوسروں کو بھی روشنی دکھائے۔ اپنے عمل سے مثال قائم کرو۔ ایمانداری، محنت، اور اخلاق تمہیں سب سے ممتاز بنائیں گے۔ ایک اچھا انسان ہمیشہ دوسروں کے دلوں میں زندہ رہتا
چھوٹے قدم، بڑی کامیابیاں
کامیابی ایک دن میں نہیں ملتی۔ چھوٹے چھوٹے قدم، روز کی محنت، اور صبر مل کر بڑے خوابوں کو حقیقت بناتے ہیں۔ اگر تم روز تھوڑا آگے بڑھو گے، تو ایک دن بہت آگے نکل جاؤ گے۔ ہمت رکھو، منزل تمہارا انتظار کر رہی ہے۔
استاد کی عزت، کامیابی کی بنیاد
استاد وہ چراغ ہے جو تمہارے مستقبل کو روشن کرتا ہے۔ جو اپنے استاد کی عزت کرتا ہے، وہ کبھی اندھیرے میں نہیں رہتا۔ ان کی رہنمائی پر عمل کرو، ان کی نصیحتوں کو دل سے سنو۔ یاد رکھو، استاد صرف علم نہیں دیتے بلکہ تمہیں زندگی جینے کا سلیقہ بھی سکھاتے ہیں۔
خود پر یقین رکھو
دنیا تم پر تب یقین کرے گی جب تم خود پر یقین کرو گے۔ اپنی صلاحیتوں پر شک نہ کرو، کیونکہ تمہاری کامیابی تمہارے اعتماد میں چھپی ہے۔ ہر انسان کے اندر ایک خاص چمک ہوتی ہے، بس اسے پہچاننے کی ضرورت ہے۔ اگر تم خود کو کامیاب سمجھو گے تو کامیابی تمہارا راستہ خود ڈھونڈ لے گی۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Mangrotha Road Taunsa Sharif
Taunsa