03/10/2025
Reply to indian Media || Arsalan Pitafi || india vs pakistan cricket match
فیس بک کے فقیر لوگ
📌 *ایک ماتمی مجتہد کا انتقال*
✍️ *ازقلم:عبدالجبار سلفی*
*(وٹس ایپ03228464167)*
کل گزشتہ اثناعشری روافض کے معروف عالم اور مجتہد 1932ء میں پیدا ہونے والے مولوی محمد حسین نجفی المعروف ڈھکو صاحب کم و بیش91 برس کی عمر گزارنے کے بعد اسلام آباد کے الشفاء ہسپتال میں فوت ہو گئے ہیں۔بعد ازاں ان کی میت بذریعہ ایمبولینس سرگودھا لائی گئی جہاں شام کے وقت شیعی ضابطے کے تحت نماز جنازہ پڑھ کر تدفین کر دی گئ۔
ڈھکو صاحب بعض مسائل کے اختلاف کی وجہ سے اپنے فرقہ شیعہ میں مدتوں متنازع رہے۔اور انہوں نے یہ نزاعی زندگی جم کر گزاری۔اس سے بعض اہل سنت علماء دین خوش فہمی کا شکار ہو گئے تھے کہ شاید بہ نسبت دیگر امامی علماء کے جناب ڈھکو صاحب ایک معتدل شیعہ عالم ہیں۔چونکہ سر راہ خوش فہمیوں کے سنگ مرمر پہ جلدی پھسل جانا ہمارے بعض اہل علم کی قدیم روش چلی آ رہی ہے۔سو یہاں بھی خوش گمانی نے ان کے دل کرچی کئے مگر ڈھکو صاحب کی کتابیں پڑھنے والے اور انہیں قریب سے دیکھنے بھالنے والےخوب واقف ہیں کہ ڈھکو صاحب نے بھی اپنی طویل ترین زندگی کی متاع عقل و خرد پاکانِ امت پہ تبرے کرنے میں لٹائی اور شوق تبرا و مخصوص شیعی تعصبات میں وہ مکمل طور پہ اپنے پیش روؤں کے نقوش پا پہ قائم رہے۔
کاتب السطور کی جناب ڈھکو صاحب سے مختلف وقتوں میں چار ملاقاتیں رہیں ہیں۔اور چاروں ان کے گھر واقع سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودھا میں ہوئیں۔چنانچہ ان سے میری پہلی ملاقات سلطان العلماء علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ کی حساس طبیعت کے تحت عمل میں آئی تھی۔اس کی تفصیل جاننے کے لئے ہم اپنے قارئین کو ماضی بعید کے ایک کونے سے کچھ جھلکیاں دکھائیں گے۔ستمبر 1925ء کی بات ہے کہ ابوالفضل حضرت مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمۃ اللہ علیہ نے تردید رفض و بدعت پر ایک شاہکار کتاب *آفتاب ھدایت* تصنیف کی تھی۔یہ کتاب دلائل و براہین کے منطقی تبادلوں کے باوصف اردو ادب و انشاء کا بھی ایک ایسا خزانہ ہے جو پڑھنے والوں کو سوچوں میں گم کر دیتی ہے کہ یہ تحریر پنجاب کی اس زمانہ میں تحصیل چکوال کے ایک دور افتادہ گاؤں *بھیں* میں مقیم مصنف کی ہے یا لکھنوء کے کسی کہنہ مشق انشاء پرداز کے خامہ عنبر شمامہ کی مہک ہے۔یہ حقیقت ہے کہ متحدہ ہندوستان کے رافضی علماء کو اس زمانہ میں *آفتاب ھدایت* نامی اس عظیم المرتبت کتاب نے مخبوط الحواس کر کے رکھ دیا تھا۔اس زمانہ میں اہل تشیع کے مایہ ناز علماء مرزا احمد علی امرتسری،مجتہد علامہ علی الحائری،مولانا سجاد احمد لکھنوی،مولانا محمد باقر چکڑالوی الہندی اور مولانا فیض محمد مکھیالوی جیسے لوگ موجود تھے لیکن آفتاب ھدایت کا جواب مولانا دبیر مرحوم کے اسلوب میں لکھنے کے لئے سبھی کے پَر جلتے تھے۔تاآنکہ ہندوستان تقسیم ہو گیا۔بشمول مولانا محمد کرم الدین دبیر بڑے بڑےاہل سنت اور امامی علماء ایک ایک کر کے دنیا چھوڑ گئے تو 1974ء کے زمانہ میں چکوال کے اہل تشیع کی مذہبی رعونت نے ایک بار پھر سر اٹھایا اور انجمن حیدری کے تحت *آفتاب ھدایت* کا جواب لکھوانے کے لئے شیعہ اہل علم سے مشاورت کا عمل شروع ہو گیا۔جس کے نتیجے میں قرعہ تحقیق جناب ڈھکو صاحب کے نام نکلا۔تب ڈھکو صاحب اپنی عمر کی 42 بہاریں دیکھ چکے تھے۔چونکہ مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ کے فرزند ارجمند قائد اہل سنت حضرت مولانا قاضی مظہر حسین رحمۃ اللہ علیہ اپنے پورے خاندان کے ساتھ چکوال اور موضع بھیں میں مقیم تھے تو یہاں کے مقامی روافض نے آفتاب ھدایت کا جواب لکھوانے میں بہت زیادہ دلچسپی لی تھی۔ ڈھکو صاحب نے جب کمر ہمت باندھ کر جواب لکھنے کا آغاز کیا تو انہیں اچھا خاصا اپنی جان کو جوکھوں میں ڈالنا پڑا۔ایک مدت کے تصنیفی جھمیلوں اور رکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد بالآخر ڈھکو صاحب شیعانِ پاکستان کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گئے اور یوں مولانا محمد کرم الدین مرحوم کی وفات کے تیس سال بعد اور آفتاب ہدایت کے پہلے ایڈیشن کے پچاس سال بعد *تجلیات صداقت* کے نام سے کتاب منظر عام پر آ گئی جو دراصل گربہ مسکین ڈھکو صاحب کی شیعی فطرت کا آئینہ تھی۔کیونکہ اپنی اس جوابی کتاب میں جناب ڈھکو صاحب کو مولانا کرم الدین مرحوم کے قائم کردہ معیار تحقیق کی کھد بد کرنے میں کچھ ایسی کیفیات کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ قلم چلانے کے ساتھ ساتھ خود بھی چاروں جانب گھومتے رہے۔جب کہیں لاجواب ہوتے تو مولانا دبیر مرحوم پہ پھبتیاں کسنے لگتے۔جب استدلال و استنباط کے آگے بےبس ہو جاتے تو بیوہ عورتوں کی طرح طعنہ زنی پہ اتر آتے اور جب مکمل طور پہ بند گلی میں جا کر پھنس جاتے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو گالیاں دینے لگتے۔کاش ہمارے خوش فہم علماءکرام کسی بھی شخصیت کے متعلق اپنی رائے قائم کرنے سے پہلے اس کے نظریات کا جائزہ لے لیا کریں۔جناب ڈھکو صاحب نے اپنی اس کتاب میں ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اہانت کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ *ہم ان کو مومنوں کی ماں تو مانتے ہیں مگر مومنہ نہیں مانتے* اسی طرح حضرات خلفاء ثلاثہ اور دیگر صحابہ کرام و ازواج رسولﷺ کی شان میں ہر وہ گالی لکھی جس کی کسی بھی شیعہ عالم سے توقع کی جا سکتی ہے۔اس کے علاوہ اپنی کتاب *اثبات الامامت* میں جوش متعہ سے مغلوب ہو کر یہاں تک لکھ دیا کہ *ہاں ہمارے آئمہ طاہرین متعہ کرتے تھے* نیز اپنی کتاب
*احسن الفوائد* میں واضح لکھا کہ *ہمارے مذہب کے علماء کے ہاں موجودہ قرآن مجید تحریف شدہ ہے* ڈھکو صاحب کی اس کتاب کی اشاعت کے بعد قائد اہل سنت حضرت قاضی صاحب رحمہ اللہ نے *تجلیات صداقت پر ایک اجمالی نظر* کے نام سے مختصر جواب لکھ کر شائع کیا تھا اور اسی کتاب میں ڈھکو صاحب کے لئے آپ نے *ماتمی مجتہد* کی اصطلاح استعمال کی تھی۔حضرت قائد اہل سنت رحمہ اللہ نے اپنے متعدد خطوط میں بعض اہل علم کو لکھا تھا کہ ہم *آفتاب ھدایت* کے حاشیہ پر ڈھکو صاحب کی اس کتاب کا جواب شائع کرنا چاہتے ہیں۔اس مقصد کے لئے خود حضرت اقدس رحمہ اللہ نے رجسٹر سائز کے تقریباً تین سو صفحات لکھ لئے تھے جو الحمدللہ محفوظ ہیں۔مگر بعد میں بےتحاشہ تحریکی مصروفیات،تبلیغی اسفار اور دوسرے موضوعات کے تصنیفی تشاغل کے علاوہ کبرسِنی کے عوارضات کی بنا پہ جب تاخیر ہوتی چلی گئی تو یہ ذمہ داری حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ کے سپرد ہوئی۔اور یہی لمحات تکوینی طور پہ کاتب السطور کی ڈھکو صاحب سے ملاقات کا ذریعہ بننے جا رہے تھے۔ہوا یوں کہ جب علامہ صاحب نے اپنی کتاب کی پہلی جلد کا مسودہ تیار کر لیا تو ایک دن مجھے حکم فرمایا کہ آپ جا کے سرگودھا میں ڈھکو صاحب سے ملاقات کریں اور ان کی صحت کا جائزہ لیں کہ وہ کس پوزیشن میں ہیں؟اگر تو بظاہر کچھ دن ان کے مزید زندہ رہنے کے امکانات ہیں تو ہم پہلی جلد ابھی شائع کر دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی کتاب کا جواب دیکھ سکیں اور اگر ان کے فوت ہونے کے امکانات ہوں تو پھر دوسری جلد مکمل ہونے پہ دونوں مجلدات اکھٹی ہی شائع کریں گے۔علامہ صاحب کی یہ ظریفانہ طبیعت بعض اوقات مکمل سنجیدگی کا روپ دھار لیتی تھی۔قصہ کوتاہ یہ کہ کاتب السطور نے جناب ڈھکو صاحب کا موبائل نمبر تلاش کیا۔ان سے فون پہ بات کی اور ملاقات کا وقت لے کر وقت مقررہ پہ سرگودھا جا کر ان کی قیام گاہ پہ پہنچ گیا۔
اس وقت سردیوں کا موسم تھا اور ڈھکو صاحب اپنی حویلی میں ایک حجام سے حجامت بنوا رہے تھے۔اس کے بعد مہمان خانہ میں بیٹھے اور کافی دیر تک اختلافی موضوعات موضوع سخن رہے۔دوگھنٹے پہ مشتمل ملاقات کے بعد راقم سرگودھا سے سیدھا علامہ صاحب کے دولت کدہ پہ حاضر ہوا۔اور جب ملاقات کی سرگزشت سنائی تو علامہ صاحب اپنے دونوں ہاتھ چہرے پہ رکھ کر ہنستے تھے۔شاید انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں اتنی جلدی ان کے اس حکم کی تعمیل کر سکوں گا۔ میرے ہاتھ میں کتابوں سے بھرا ایک شاپر بھی تھا جو ڈھکو صاحب نے مجھے اپنی کتابوں پہ دستخط کر کے دی تھیں۔علامہ صاحب نے میرا انٹرویو لیا کہ ڈھکو صاحب کی صحت کیسی ہے؟میں نے عرض کی کہ سنّ ولادت کے اعتبار سے تو وہ آپ جناب سے سات آٹھ سال چھوٹے ہیں۔مگر بالوں پہ سیاہ خضاب لگاتے ہیں اور بغیر لاٹھی کے چلتے ہیں یوں جوان جوان محسوس ہوتے ہیں۔علامہ صاحب نے کہا *ہاتھوں میں رعشہ ہے یا نہیں؟* جواب میں بندہ نے کہا کہ مجموعی طور پہ ان کی صحت ٹھیک ہے۔اور امید ہے کہ وہ آپ کی جواب الجوابی کتاب پڑھ کر ہی فوت ہوں گے۔چنانچہ علامہ صاحب کی کتاب کی پہلی جلد *تجلیات آفتاب* کے نام سے چھپ کر منظر عام پہ آ گئ۔
اس کے بعد میری دوسری ملاقات ان سے اس وقت ہوئی تھی۔جب *مولانا محمد اسمعیل محمدی مرحوم* میرے ساتھ تھے۔اس میں محمدی صاحب کی ڈھکو صاحب سے کچھ تلخی ہو گئ تھی جس کی تفصیلات کا یہ موقع نہیں ہے۔
تیسری مرتبہ جب میں ان سے ملنے گیا تو میرا ہدف ان کی مطبوعہ تفسیر *فیضان الرحمن* کا حصول تھا۔اور اب کے اسلام آباد کے ایک حضرت مولانا صاحب کی ہمراہی میں جانا ہوا تھا۔
چوتھی مرتبہ کی ملاقات بھی علامہ صاحب ہی کے ایما پہ اس وقت ہوئی تھی جب *تجلیات آفتاب* کی دوسری جلد طبع ہونے لگی۔یہ ملاقات خاص تکنیکی پالیسیوں پہ مبنی تھی جس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت علامہ صاحب نے *تجلیات آفتاب* کی دوسری جلد میں راقم اور ڈھکو صاحب کی ملاقات کو *بلطائف الحیل* کے اشاروں سے رقم فرمایا۔اب اس *بلطائف الحیل* داستان کا اجمال کیا ہے؟اس کو زیرنظر مضمون میں لکھنا خلاف حکمت بھی ہے اور باعث طوالت بھی! البتہ جو احباب عندالملاقات تقاضہ فرماتے ہیں تو انہیں کسی قدر بتا دیاجاتا ہے۔
چونکہ *تحریک خدام اہل سنت پاکستان* اور خانوادہ مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر کے علمی تسلسل میں ڈھکو صاحب بھی ایک تاریخی کڑی تھے۔اس لئے ان کی وفات پہ کچھ یادداشتوں کی تازگی اور *فاعتبروا یااولی الابصار* کے ضابطہ سے کچھ حاصل کرنے کی تمناؤں کے ساتھ یہ مضمون قلمبند کیا گیا ہے۔
کاش مولوی محمد حسین صاحب ڈھکو مذہب اہل السنت والجماعت پہ اپنی زندگی کا چراغ گل کرتے تو کتنا ہی اچھا ہوتا۔ہاں مگر یہ اہل عقل کے لئے ایک سبق ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخی اتنا ناپسندیدہ اور خطرناک عمل ہے کہ اس سے ایمان کی ٹہنی جل جاتی ہے اور ہدایت کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔
*حضرت خواجہ غلام حسن رحمۃ اللہ علیہ آف سواگ شریف* نے بجا فرمایا تھا کہ جس پودے کی ٹہنیاں سوکھ جائیں تو اسے پانی کی مدد سے ہرا بھرا کیا جا سکتا ہے لیکن جس پودے کی جڑیں جل جائیں اسے دوبارہ تازہ نہیں کیا جا سکتا۔فاعتبروا یااولی الابصار
*(عبدالجبار سلفی حال وارد ایبٹ آباد 22 اگست 2023ء)*
*اندازگفتگوکیاہے؟*
✍️مولانا ناصرالدین مظاہری
بات اَن پڑھوں یا کم پڑھے لکھوں کی نہیں کر رہا ہوں بلکہ عالم وفاضل اور کئی کئی سال تدریس میں مصروف معزز و معظم اساتذۂ کرام کی کر رہاہوں، آپ خوداندازہ کریں اگرکوئی شخص کسی مدرسہ یا دانشگاہ میں استاذ ہو،طلبہ کی بڑی تعداد اس کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کررہی ہوتو ایسے خوش نصیب اساتذہ کی زبان اوران کے کردار و عمل سے بھی ’’تربیت یافتہ ‘‘ ہونے کا اظہار و احساس ہوناہی چاہئے۔
بہت سے اساتذہ کو دیکھاہے کہ جب وہ کسی طالب علم یاکسی چھوٹے کو پکارتے ہیں توان کے الفاظ یہ ہوتے ہیں۔
’’ابے او‘‘۔’’ہاں بے‘‘۔ ’’توکہاں جارہاہے‘‘۔ ’’تیراکیانام ہے؟‘‘۔ ’’تیرا باب کون ہے؟‘‘ ’’ابے تونے کچھ سمجھابھی یانہیں؟‘‘
یہ تومیں نے چندجملے ہی لکھے ہیں اس سے بھی گئے گزرے الفاظ سے مخاطب کرتے ہوئے آپ نے بھی بارہا سناہوگا۔
ذراغور کیجئے! ہرشخص کی اپنی عزت ہوتی ہے ، ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی عزت کی جائے،اس کوعزت سے پکاراجائے، اس کی عزت نفس مجروح نہ کی جائے، عزت دینے سے عزت ملتی ہے لیکن جاہلانہ ماحول،عامیانہ زندگی اور بزرگوں کی صحبت سے محرومی کے باعث ہم میں سے اکثریت کی عمریں ادھیڑ ہوچکی ہیں، بہت سوں نے تواپنی طبعی عمریں پوری کرلی ہیں ، ان ہی میں سے بعض کو اپنے بارے میں گمان ہے کہ وہ درس وتدریس کے باب میں نامور ہیں، بعض کوخوش فہمی ہے کہ وہ تقریر اور اسٹیج کے میدان میں لاثانی ہیں، کچھ کواپنے بارے میں غرہ ہے کہ وہ حدیث اور تفسیر کا درس مثالی دیتے ہیں ۔ ممکن ہے آپ کایہ سوچناصحیح ہو لیکن جناب ہمیں اس وقت بہت تکلیف ہوتی ہے جب آپ اپنے کسی چھوٹے یا بڑے کو ’’تو‘‘ سے پکارتے ہیں،’’تم ‘‘کہہ دیتے ہیں،’’ابے اورتبے‘‘ سے خطاب کرتے ہیں، ’’او‘‘ اور ’’اوئے ‘‘ جیسے عامیانہ جملے استعمال کرتے ہیں۔سامنے والابے وقوف نہیں ہے وہ آپ کے ان جملوں سے آپ کاحدود اربعہ معلوم کرلیتا ہے، وہ جان لیتاہے کہ آپ خاندانی اور شریف گھرانے کے فرد نہیں ہیں۔وہ سمجھ جاتاہے کہ آپ وہ چکنے گھڑے ہیں جن کو دیوبند اور سہارنپور جیسی عظیم دانشگاہوں میں تلمذ سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوا، بڑے بڑے اساتذہ کی خدمت میں بیٹھ کر آپ نے اپنا بھی وقت ضائع کیا ہے اوران بڑوں کابھی قیمتی وقت برباد کردیا ہے۔
حضرت مولاناسعیدالرحمن اعظمی مدظلہ نے ایک دفعہ اپنے ایک چپراسی کو اس کی کسی غلطی پرغصہ میں ’’تم‘‘ کہہ دیا۔ ملازم کے جانے کے بعد حضرت مولانااعظمی کوتنبہ ہوا تو فوراً اس ملازم کو بلایا اورعاجزی کے ساتھ فرمایا:
’’بھائی! مجھے معاف کرنا میں نے غلطی سے آپ کو ’’تم‘‘ کہہ دیاہے؟‘‘
یہ واقعہ ہمیں بہت کچھ سوچنے کاموقع فراہم کرتاہے ،ہم اپنی روزمرہ زندگی میں بالکل ہی احساس اورخیال نہیں کرتے کہ ہمارے منہ سے کتنے جملے نکلے ہیں جنہوں نے کسی کے قلب نازک کوتڑپادیاہے،ہمارے کرداروعمل سے کتنی حرکات سرزد ہوئی ہیں جس سے کسی کی عزت نفس مجروح ہوئی ہے۔ہماری ایک ایک بات تولی جاتی ہے ، لکھی جاتی ہے،نامۂ اعمال میں بھی اوراپنے ماحول ومعاشرہ میں بھی۔
اللہ تعالیٰ کااراشادہے:
’’انسان اپنے منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتاہے مگریہ کہ اس کے پاس (لکھنے والا)نگہبان ونگران تیارہے‘‘(ق)
اورسورۂ انفطارمیں ارشادہے :
’’یقیناً تم پرنگہبان ،عزت والے،لکھنے والے مقررہیں، جوکچھ تم کرتے ہووہ جانتے ہیں‘‘
لغات کی کتابوں میں ’’ابے اور تبے‘‘ کی زبان کامطلب تلاش کرکے دیکھئے وہاں لکھاہواہے :
’’بازاری بول چال، ناشائستہ گفتگو، بدتہذیبی کے کلمات‘‘
اب ہم اپنے بارے میں اندازہ ہی نہیں بلکہ یقین کرسکتے ہیں کہ ہمارا شمار کس طبقہ میں کیاجانا چاہئے۔
منشی انوارحسین تسلیم کامشہور شعرہے:
یوں پکارے ہیں مجھے کوچۂ جاناں والے
ادھرآبے،ابے او چاک گریباں والے
ظاہرہے کوچۂ جاناں والوں کابھی یہ خطاب پسندیدہ نہیں ہے۔
ہر ایک بات پہ کہتے ہوتم کہ توکیاہے؟
تمہی بتاؤکہ یہ انداز گفتگو کیاہے
اشراف کے گھروں میں جاکر دیکھئے بڑے بوڑھے لوگ اب بھی اپنے کم سن اورکم عمر بچوں کو’’آپ اورجناب‘‘سے مخاطب کرتے ہیں ۔یہی نہیں ان اشراف کے اریب قریب زندگی بسرکرنے والے حضرات بھی محروم نہیں رہتے ،چنانچہ ایک واقعہ سناتاچلوں:
مجھ سے حضرت مولانا مفتی مظفرالاسلام تھانوی نے بیان کیاکہ ان کے بعض واقف کارلکھنؤ گئے،رکشہ والے سے منزل تک چلنے کی بات کی،اجرت میں اتفاق رائے نہیں ہوسکا توایک ساتھی نے برجستہ کہا ’’اورکیا لے گا‘‘ وہ رکشہ والا کہنے لگاکہ آپ میرے رکشہ میں جائیں یانہ جائیں یہ آپ کی مرضی ہے لیکن کم سے کم گالی تونہ دیں۔
حضرت مولانامحمداسعداللہ ناظم مظاہرعلوم کادور دورہ تھا،مجلس میں کسی نے حضرت مولانا مفتی مظفر حسینؒ کاذکر کیااورنام کے ساتھ مفتی نہیں لگایا توحضرت مولانا محمد اسعداللہؒ نے خفگی اور ناراضی کااظہارکرتے ہوئے فرمایا:
’’کیسے لوگ ہیں جواتنے بڑے عالم کوبغیرمفتی کے پکارتے ہیں‘‘
ہمیں غور کرنا چاہئے کہ ہم اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اورہدایات کے مطابق کس قدر عمل پیرا ہیں،ہمیں رسول اللہ کے ارشادگرامی من کان یؤمن باللّٰہ والیوم الآخرفلیقل خیراأولیصمت (جوشخص اللہ اورآخرت کے دن پرایمان رکھتاہے اس کوچاہئے کہ یاتوبھلائی کی بات کہے یاخاموش رہے) پرکتناعمل کیاہے؟من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ (جس کی زبان اورہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں) پرکبھی عمل کی کوشش کی ہے یانہیں؟ان دمائکم وأموالکم وأعراضکم بینکم حرام (ایک مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کاخون ،مال اوراس کی عزت وآبروقابل احترام ہیں)پرکتناعمل کیاہے؟کیابات ہے کہ شرمگاہ اورزبان کے کچے ہی سب سے زیادہ عذاب جہنم کے مستحق ہیں؟شرم گاہ اورزبان کی حفاظت کرنے والوں کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں جنت کی ضمانت دی ہے؟۔
سوچئے اور غور کیجئے کیونکہ ابھی سوچنے اور غورکرنے کاوقت اللہ تعالیٰ نے دیاہواہے ،ممکن ہے ہمیں تنبہ اور اپنی غلطی کااحساس ہوجائے ۔ع
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
🔴 *فیصل آباد سے تازہ پھلجھڑی* 🔴
✍️ *بقلم:عبدالجبار سلفی*
*(وٹس ایپ03228464167)*
فیصل آباد جامعہ اسلامیہ امدادیہ کے استاذ محترم جناب مولانا محمد زاہد صاحب کا شمار بھی انہیں حضرات میں ہوتا ہے جو آئے روز سوشل میڈیا پہ اپنی کمزور اور ناقص فکری تعبیرات کے ذریعے *تشکیکی فتنہ* کو تقویت پہنچاتے رہتے ہیں۔
فی زمانہ اہل حق کی عبرت انگیز رسوائیوں میں بعض ان علماءکرام کا بھی بڑا کردار ہے کہ جو دو مخلتف الخیالات بزرگوں یا دو جماعتوں کے مابین تقابلی آراء پیش کرتے ہوئے ہمیشہ اپنوں پہ ہی نزلہ گراتے ہیں۔اور دوسروں کو بھرپور گنجائش دیتے ہوئے ان کے رخسار گلاب آشنا کر دیتے ہیں۔یہ حضرات بجائے اس کے کہ حسن تاویل کے ساتھ عالمانہ رنگ میں تبصرہ کر کے جانبین سے وابستہ لوگوں کو قریب کرنے میں ممد و معاون ہوں،الٹا اپنے ہی بزرگوں کی کمزوریاں تلاش کر کر کے جب تک وہ غیروں کے نقائص کو کمال اور اپنوں کے کمالات کو نقائص کے ترازو میں نہ رکھ چھوڑیں،تب تک ان کی طبیعت سیر نہیں ہوتی۔
چنانچہ حال ہی میں انہوں نے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ سے منسوب کتاب *فتنہ مودودیت* کے حوالہ سے اپنے تازہ ارشادات پیش کئے ہیں ان میں ایک یہ بات بھی ہے کہ:
*حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی ہمارے ہاں فیصل آباد تشریف لائے تو کسی نے پوچھا کہ مولانا عبیداللہ سندھی اور مولانا ابوالکلام آزاد کے جمہور اہل سنت سے انحرافات زیادہ ہیں لیکن ان کے مقابلہ میں مولانا مودودی کو برا بھلا کیوں کہا جاتا ہے؟ تو حضرت مفتی صاحب نے فرمایا یہ سب سیاست کی کرشمہ سازیاں ہیں*
ہمارےملک میں سیاسی کرشمہ سازیوں کی تو واقعی دلدوز اور اندوہناک داستان ہے جس میں مخالفتوں یا موافقتوں کے شرعی معیار کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جماعت اسلامی کی بعض سیاسی پالیسیوں اور مولانا مودودی صاحب کے خیالات و تعبیرات پر جب منصف مزاج اہل علم نے مثبت تنقید کی تو اس دوران سیاسی مخالفین بھی اس گرم تندور پہ آ کے اپنے کام نکلواتے رہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا عمل صرف ایک جانب سے ہوتا رہا یا دوسری جانب سے بھی بےپروائیاں برتی گئی ہیں؟
جانبین کی تاریخ پڑھنے والے خوب جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی اور خود مولانا مودودی صاحب نے بھی محض سیاسی جذبوں سے بڑے بڑے مخلص معاصرین کو اپنے قلم اور زبان کے اڑنگے پہ لائے رکھا اور انہیں پٹخنیاں دینے میں اپنی فطری توانائیوں کا خوب استعمال کیا۔بیت اللہ شریف کے غلاف کی تشہیروں اور نمائشوں سے لے کر انقلاب ایران تک اور صدر ایوب و فاطمہ جناح کے انتخابات سے لے کر اب تک کے موجودہ سیاسی لمحات تک،کونسا اسلامی اور دینی گوشہ ہے جسے مروجہ جمہوری اور بےرحم سیاست کی خاطر جماعت یا بانی جماعت نے استعمال کر کے دیانت و انصاف کا آشیانہ برباد نہیں کیا؟اس ظالم سیاست کا مرثیہ کوئی لکھے تو کہاں سے شروع کرے اور رکے تو کہاں وقف کرے؟یہ سوچ ہی ایک متفکر یا مفکر کو سچ بولنے سے متزلزل کر دیتی ہے۔لیکن ان سب حقائق کے باوجود مولانا مودودی صاحب سے اہل حق کا اصولی اور بنیادی اختلاف بھی اگر *سیاست ہی کی کرشمہ سازیاں ہیں* تو پھر حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کی کتاب *حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور تاریخی حقائق* کو کس طرح آپ اپنی اس موچی دروازہ میں لگائی گئ عدالت سے انصاف مہیا کر سکتے ہیں؟کیونکہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی اس کتاب کا جب جسٹس ریٹائرڈ غلام علی ملک مرحوم نے رد لکھا تھا تو انہوں نے بھی جابجا،عین انہیں کلمات کے ساتھ تو نہیں لیکن اپنی خاص اردو ادب کی چاشنی سے یہی گلے شکوے کئے تھے کہ فی الاصل مخالفین کو مولانا مودودی صاحب کے ساتھ سیاسی چِڑ ہے جسے وہ مختلف دیگر جذبات کے ذریعے پروان چڑھانے میں منہمک ہیں۔یوں انہوں نے مودودی صاحب کی بھرپور وکالت کرنے میں جدید نسلوں کے دماغوں کو فتح کرنے کے کافی جتن کئے۔
لیکن افسوس کہ علماء دیوبند کو اپنے افکار کے دفاع کے لئے جسٹس غلام علی جیسا بھی نہ مل سکا جو کم ازکم اپنی معلوماتی رسائی کی حد تک تو دفاع کر سکتا یہاں تو علماء دیوبند کے خلاف جو بھی اٹھتا ہے بدقسمتی سے وہ دیوبندیوں ہی کے فیڈر کی چُوسنی منہ میں لئے نمودار ہوتا ہے
اکابرین دیوبند کے دامن میں لاکھوں کمالات کے گوہر موجود ہونے کے باوجود بندہ کی بےوزن رائے میں بدنصیبی یہ رہی کہ ان کے نام لیواؤں میں مولانا محمد زاہد اور ان جیسے چند دیگر بزعم خویش دانشور موجود ہیں جو اپنوں سے زیادہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے میں سرگرم نظر آتے ہیں
*فتنہ مودودیت* کتاب کا نام خواہ کسی نے بھی رکھا ہو،اور یہ حضرت شیخ الحدیث ممدوح کی ذاتی تصنیف ہو یا ان سے منسوب ہو۔قطع نظر ان بحثوں کے یہ حقیقت اپنی جگہ جوں کی توں ہے کہ مولانا مودودی صاحب نے اپنی بعض تحریروں میں انبیاء علیہم السلام،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا اسلاف امت کے متعلق تاریخی رطب و یابس کے سہارے جو آراء قائم کی تھیں۔ان سے اختلاف کرنے میں مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اور حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ ایک ہی پوائنٹ پہ موجود ہیں۔لہذا اب ٹانگیں جدھر چاہیں گھما لیں،ناف بہ ہر صورت درمیان میں ہی رہے گی۔ علاوہ ازیں اس زمانہ میں دالعلوم دیوبند اور جامعہ مظاہرالعلوم سہارنپور میں جو خطرناک طلبہ سٹرائک کی بنیاد پہ قضیے رونما ہوئے تھے ان میں دیگر اسباب کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کا بھرپور منفی اور شرارت آمیز کردار بھی شامل تھا۔جس کی خشت اول بہرحال خیالات اور نظریات میں ذہنی ہم آہنگیوں میں لمبے فاصلے تھے۔
مولانا عبیداللہ سندھی اور مولانا ابوالکلام کے تفردات یا بقول مولانا محمد زاہد صاحب *انحرافات* پہ بھی بہت کچھ لکھا گیا ہے۔اگر مولانا موصوف سوشل میڈیا کے شوق سے ذرا سا پرے کو ہٹیں اور کتابوں کے جہان کا مشاہدہ فرمائیں تو انہیں بہت کچھ نظر آ جائے گا اور تو اور جب مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی رحمہ اللہ نے مولانا عبیداللہ سندھی پہ اپنی کتاب برائے تبصرہ کراچی بھیجی تھی تو ان دنوں *البلاغ* میں شائع شدہ تبصرے میں تحمل اور صبر کی ساری حدیں پار کر دی گئی تھیں ۔
البتہ مودودی صاحب سے مخالفانہ روش میں تیزیوں کی ایک وجہ تفردات،تعبیرات یا انحرافات سے ایک اسٹیشن آگے ان کی بعض *خرافات* بھی تھیں۔پھر مودودی صاحب کی پشت پہ جس طرح ایک لگی بندھی جماعت تھی اس طرح دوسرے دو بزرگوں کے پیچھے ایسی مربوط ان کی جماعت نہیں تھی کہ جس کی وجہ سے ٹکراؤ میں تشدید پیدا ہوتی۔اگرچہ ان کے فکری مؤیدین تعداد یا علمی لیول کے لحاظ سے مولانا مودودی صاحب کے چاہنے والوں سے کہیں زیادہ رہے ہیں۔ہم اپنے اختلافی تبادلۂ خیالات میں کسی کی *حیثیت عرفی* کو پامال کرنے کے حق میں نہیں ہیں مگر آج اپنے اپنے حجروں میں بیٹھ کر برقی لہروں کی مدد سے دوسروں کو بھاشن دینے والوں سے اتنی درخواست ضرور کرتے ہیں کہ کبھی اس راز سے بھی تو پردہ اٹھائیں کہ 1995-96ء کے دور میں وہ کس سیاست یا باطنی خباثت کی کرشمہ گریاں تھیں جن میں ایک *ناخلف* انہیں مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی عدالت کے کٹہرے میں ایک سو کے قریب تیارکردہ گواہوں کی کھیپ لے کر ایک مقدس رشتے کے خلاف صف آراء ہو گئے تھے۔جس کے بھیانک نتائج کے تصورات سے آج بھی مخلصین کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اور انہیں دل فگار حالات کے صدموں کی تاب نہ لا کر وہ مقدس رشتہ (جو ہزار حقیقتوں کے باوجود ان کے لئے بہرصورت مقدس ہی تھا) آخرت سدھار گئے تھے۔اس لئے ان سیاست کی کرشمہ سازیوں کی آڑ میں محض پچھلوں کے کفن کھینچ کے برقی ہواؤں کے دوش کی سواری کرنے کی بجائے اگر پورے انصاف کے ساتھ اپنا محاسبہ فرمائیں تو بزرگوں کی سیاسی کمزوریاں آپ کو اپنے مقابلہ میں نیکیوں کے ایسے چمکتے ستارے دکھائی دیں کہ انسانی عقلیں ٹھٹھک کے رہ جائیں گی۔فاعتبروا یا اولی الابصار
*(عبدالجبار سلفی حال مقیم بطحاء قریش شارع جدہ مکۃ المکرمۃ 10 مئی 2023ء)*
08/05/2023
🔴 *قائد جمعیت پر گستاخی کا الزام*
✍️ *بقلم:عبدالجبار سلفی*
*(وٹس ایپ03228464167)*
کسی بھی الزام کا غلط استعمال کرنا یا اس کی بےمحل نسبت کرنا درحقیقت *اصل مجرم* کو پناہ دینے کے مترادف ہے۔گزشتہ روز *قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب* نے دوران گفتگو امیر المومنین امام المتقین خلیفہ ثانی *سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ* اور فتح بیت المقدس کا تذکرہ کرتے ہوئے عجلت اور سبقت میں ایسے کلمات ادا کر دئیے تھے جو *تعلیق بالمحال* کی قبیل سے تھے یعنی کسی بات یا کام کو ناممکن الوقوع امر پہ منحصر کرنا یا ایسی چیز سے مشروط کر دینا جو ناممکنات میں سے ہو۔
گویا ازروئے دیانت و انصاف یہ اہل علم و تقوی کا کھلا فیصلہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن صاحب نے خدانخواستہ نہ تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جناب میں توہین کی۔نہ وہ ایسے غیر ذمہ دار اور ناپختہ واعظ ہیں کہ کلمات کا آئے روز بےجا استعمال کرتے ہوں اور نہ ہی ان کا تعلق اس *مکتب فکر* کے ساتھ ہے جن کے ہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالیاں دینا مذہب کا حصہ ہو۔
جب مولانا فضل الرحمن صاحب کا مذہب و مسلک متعین اور سورج سے زیادہ عیاں ہے کہ وہ ایک سنی المذہب عالم دین ہیں۔اور سنیت کے ہاں صحابہ کرامؓ کی تکریم و تعظیم عقائد کا بنیادی جزو ہے تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ مولانا فضل الرحمن ایک جلیل القدر صحابی کی جناب میں خاکم بدہن ارتکاب توہین کرتے؟مگر برا ہو بے روح جذباتیت کا،کہ بہت سارے سنی مسلمانوں نے بھی بطور الزام کے نہیں تو بہ پیرائے استفہام ضرور چھان بین ضروری جانی کہ کیا واقع مولانا صاحب نے بےادبی کی ہے؟ اللہ کی پناہ!
اب اگر مولانا فضل الرحمن صاحب ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بےادبی کرنے لگیں تو پھر باقی کل کی کل دیوبندیت کو آنکھیں بند کر کے امام باڑوں کی نذر کر دیناچاہئیے۔
زیادہ سے زیادہ محتاط لفظوں میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بہ لازمۂ بشریت بغیر نیت و ارادہ سے عجلت میں جو اس قسم کے الفاظ حضرت مولانا صاحب کی زبان سے نکلے ہیں۔وہ نہ نکلتے تو اچھا تھا کہ اب مخالفین کو سیاسی پروپیگنڈہ کرنے کا موقع مل گیا ہے۔
جمعیت علماء اسلام کی بعض سیاسی پالیسیوں سے اگر کوئی سیاسی دلیل یا دوسری سیاسی جماعت سے وابستگی کی وجہ سے اختلاف کرتا ہے تو یہ نہ صرف علم و سیاست کا حسن ہے بلکہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔لیکن بلا وجہ دیکھا دیکھی کے تحت کسی معتبر اور مستند عالم دین یا قیادت پہ یوں *گستاخی گستاخی* کی گردان پڑھتے ہوئے چڑھ دوڑنا کسی صورت میں مستحسن کام نہیں ہے
بالخصوص آج کل جبکہ اشتعال،غم و غصہ اور عدم برداشت کے شعلوں کی تپش سے پورا ملک گرم ہے،ایسے ہوائی الزامات سے اہل دین و انصاف کو اجتناب برتنا بہت ضروری ہے۔کیونکہ ان اتہامات میں اپنے دلوں کے دامن الجھا دینا بلاوجہ پانی میں مدھانی چلانے کے مترادف ہے۔تاہم ہر شر سے خیر کا پہلو بھی ضرور نکلتا ہے۔
ہماری ناقص رائے میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے ان جذباتی کارکنوں کے لئے ایک بڑا سبق بھی ہے جو بات بات پہ اپنے سیاسی حریفوں پہ توہین مذہب کی پھبتیاں کستے ہیں۔اور کسی بھی جماعت میں موجود چند اشرار کی حماقتوں کو پوری جماعت کا گستاخانہ مسلک قرار دیتے ہوئے بےمقصد توانائیاں استعمال کرتے رہتے ہیں۔اس طرح قومیاتی تقسیم مزید تقسیم سے دوچار تو ہوتی ہی ہے،اس سے بڑےنقصان کا احتمال یہ ہوتا ہے کہ مخالفین کی معترضانہ توپوں کے رخ ہماری مذہبی قیادتوں کی جانب ہو جاتے ہیں۔فلہذا سوچنے کا مقام ہے کہ جب بڑے بڑے تجربہ کار اور میدان
علم و عمل یا سیاست کے یکہ تاز انسانی کمزوریوں کی وجہ سے بعض دفعہ سبقت لسانی کا شکار ہو جاتے ہیں تو پھر اَن پڑھ یا علم دین سے محروم لوگوں کے دماغوں اور زبانوں کی مہاریں تو ویسے ہی شیطان کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں۔پھر ان کے دماغی برتنوں سے جو کچھ نکلے گا یا نکل رہا ہے،وہ سب کے سامنے ہے۔لہذا ایک ہی لاٹھی سے ہر ایک کو مت ہانکئیے۔اس سے بڑھ کر تاریخی ظلم اور کیا ہو گا کہ آغا جواد نقوی جیسے ایرانی اشیر باد پہ پلنے والے بھی توہین صحابہؓ کے مجرم ہوں اور اکابرین اہل سنت پہ بھی یہی داغ لگا دیا جائے۔تو پھر تکریم صحابہ کرامؓ کے پہریدار کس جہان میں رہتے ہیں؟
*(عبدالجبار سلفی لاہور 7 مئی 2023ء بمطابق 16 شوال المکرم 1444ھ)*
01/02/2023
اگر سامنے والا تھوڑا سا بھی طاقتور یا پہنچ والا ہے
تو قانون اپنا راستہ تبدیل کر لیتا ہے۔☹️