Prof:Abu Sajid Samo

Prof:Abu Sajid Samo Education is continues process of life

28/09/2022

اعلان نبوت کے چند روز بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات مکہ کی ایک گلی سے گزر رہے تھے کہ انہیں ایک گھر میں سے کسی کے رونے کی آواز آئی ۔ آواز میں اتنا دردتھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے اختیار اس گھر میں داخل ہوگئے۔
دیکھا تو ایک نوجوان جو کہ حبشہ کا معلوم ہوتا ہے چکی پیس رہا ہے اور زارو قطار رو رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ میں ایک غلام ہوں ۔
سارا دن اپنے مالک کی بکریاں چراتا ہوں شام کو تھک کر جب گھر آتا ہوں تو، میرا مالک مجھے گندم کی ایک بوری پیسنے کے لیے دے دیتا ہے جس کو پیسنے میں ساری رات لگ جاتی ہے ۔ میں اپنی قسمت پر رو رہا ہوں کہ میری بھی کیا قسمت ہے میں بھی تو ایک گوشت پوست کا انسان ہوں ۔ میرا جسم بھی آرام مانگتا ہے مجھے بھی نیند ستاتی ہے لیکن میرے مالک کو مجھ پر ذرا بھی ترس نہیں آتا ۔
کیا میرے مقدر میں ساری عمر اس طرح رو رو کے زندگی گزارنا لکھا ہے ؟؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے مالک سے کہہ کر تمہاری مشقت تو کم نہیں کروا سکتاکیوں کہ وہ میری بات نہیں مانے گا،ہاں میں تمہاری تھوڑی مدد کرسکتا ہوں کہ تم سو جاؤ اور میں تمہاری جگہ پر چکی پیستا ہوں ۔ وہ غلام بہت خوش ہوا اور شکریہ ادا کرکے سو گیا
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسکی جگہ چکی پیستے رہے، جب گندم ختم ہوگئی تو آپ اسے جگائے بغیر واپس تشریف لے آئے ۔ دوسرے دن پھر آپ وہاں تشریف لے گئے اور اس غلام کو سلا کر اسکی جگہ چکی پیستے رہے ۔ تیسرے دن بھی یہی ماجرا ہوا کہ آپ اس غلام کی جگہ ساری رات چکی پیستے اور صبح کو خاموشی سے اپنے گھر تشریف لے آتے،،
چوتھی رات جب آپ وہاں گئے تو اس غلام نے کہا، اے اللہ کے بندے آپ کون ہو اور میرا اتنا خیال کیوں کر رہے ہو ۔ہم غلاموں سے نہ کسی کو کوئی ڈر ہوتا ہے اور نہ کوئی فائدہ ۔
تو پھر آپ یہ سب کچھ کس لیے کر رہے ہو ؟؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں یہ سب انسانی ہمددری کے تحت کر رہا ہوں اس کے علاوہ مجھے تم سے کوئی غرض نہیں، اس غلام نے کہا کہ آپ کون ہو ،،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں علم ہے کہ مکہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ۔اس غلام نے کہا ہاں میں نے سنا ہے کہ ایک شخص جس کا نام محمد ہے اپنے آپ کو اللہ کا نبی کہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں وہی محمد ہوں ۔
یہ سن کر اس غلام نے کہا کہ اگر آپ ہی وہ نبی ہیں تو مجھے اپنا کلمہ پڑھائیے کیوں اتنا شفیق اور مہربان کوئی نبی ہی ہوسکتا ہے جو غلاموں کا بھی اس قدر خیال رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کلمہ پڑھا کر مسلمان کردیا،
پھر دنیا نے دیکھا کہ اس غلام نے تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کی لیکن دامن مصطفیٰ نہ چھوڑا ۔ انہیں جان دینا تو گوارا تھا لیکن اتنے شفیق اور مہربان نبی کا ساتھ چھوڑنا گوارہ نہ تھا..
آج دنیا انہیں بلال حبشی رضی اللہ عنہ کے نام سے جانتی ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمددری اور محبت نے انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بے لوث غلام بنا کر رہتی دنیا تک مثال بنا دیا،
(سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اقتباس)

27/06/2022

ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں ریڈیو اناؤنسر نے اپنے مہمان سے جو ایک عرب پتی شخص تھا ، پوچھا :" زندگی میں سب سے زیادہ خوشی آپ کو کس چیز میں محسوس ہوئی؟"
وہ کروڑ پتی شخص بولا:
میں زندگی میں خوشیوں کے چار مراحل سے گزرا ہوں اور آخر میں مجھے حقیقی خوشی کا مطلب سمجھ میں آیا.

سب سے پہلا مرحلہ تھا مال اور اسباب جمع کرنے کا. لیکن اس مرحلے میں مجھے وہ خوشی نہیں ملی جو مجھے مطلوب تھی.پھر دوسرا مرحلہ آیا قیمتی سامان اور اشیاء جمع کرنے کا. لیکن مجھے محسوس ہوا کہ اس چیز کا اثر بھی وقتی ہے اور قیمتی چیزوں کی چمک بھی زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہتی.

پھر تیسرا مرحلہ آیا بڑے بڑے پروجیکٹ حاصل کرنے کا. جیسے فٹ بال ٹیم خریدنا، کسی ٹورسٹ ریزارٹ وغیرہ کو خریدنا . لیکن یہاں بھی مجھے وہ خوشی نہیں ملی جس کا میں تصور کرتا تھا.

چوتھی مرتبہ ایسا ہوا کہ میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ میں کچھ معذور بچوں کے لیے وہیل چیرس خریدنے میں حصہ لوں.
دوست کی بات پر میں نے فوراً وہیل چیرس خرید کر دے دیں. لیکن دوست کا اصرار تھا کہ میں اس کے ساتھ جا کر اپنے ہاتھ سے وہ وہیل چیرس ان بچوں کے حوالے کروں. میں تیار ہو گیا اور اس کے ساتھ گیا. وہاں میں نے ان بچوں کو اپنے ہاتھوں سے وہ کرسیاں دیں. میں نے ان بچوں کے چہروں پر خوشی کی عجیب چمک دیکھی. میں نے دیکھا کہ وہ سب کرسیوں پر بیٹھ ادھر ادھر گھوم رہے ہیں اور جی بھر کے مزہ کر رہے ہیں. ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ کسی پکنک اسپاٹ پر آئے ہوئے ہیں.

لیکن مجھے حقیقی خوشی کا احساس تب ہوا جب میں وہاں سے جانے لگا اور ان بچوں میں سے ایک نے میرے پیر پکڑ لیے. میں نے نرمی کے ساتھ اپنے پیر چھڑانے کی کوشش کی لیکن وہ بچہ میرے چہرے کی طرف بغور دیکھتا ہوا میرے پیروں کو مضبوطی سے پکڑے رہا.

میں نے جھک کر اس بچے سے پوچھا : کیا آپ کو کچھ اور چاہیے؟
اس بچے نے جو جواب مجھے دیا اس نے نہ صرف مجھے حقیقی خوشی سے روشناس کرایا بلکہ میری زندگی کو پوری طرح بدل کر رکھ دیا.اس بچے نے کہا: میں آپ کے چہرے کے نقوش اپنے ذہن میں بٹھانا چاہتا ہوں تاکہ جب جنت میں آپ سے ملوں تو آپ کو پہچان سکوں اور ایک بار اپنے رب کے سامنے بھی آپ کا شکریہ ادا کر سکوں.."

( ایک عربی پوسٹ کا اردو ترجمہ )

21/02/2022

♡معارف الحدیث
☆: کتاب الاخلاق
☆باب: خوش کلامی اور بد زبانی
☆حدیث نمبر: 《314》

☆عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِطَعَّانٍ ، وَلَا لَعَّانٍ ، وَلَا فَاحِشٍ وَلَا بَذِىٍ " (رواه الترمذى)

☆ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ مؤمن بندہ نہ زبان سے حملہ کرنے والا ہوتا ہے ، نہ لعنت کرنے والا اور نہ بد گو اور نہ گالی بکنے والا ۔ (جامع ترمذی)

☆تشریح:
مطلب یہ ہے کہ مؤمن کا مقام یہ ہے اور اس کا شیوہ یہ ہونا چاہئے کہ اس کی زبان سے لعن طعن اور گالی گلوج نہ نکل ، کتاب الایمان میں وہ حدیث گذر چکی ہے جس میں اختلاف و نزاع کے وقت گالیاں بکنے کو منافق کی نشانی بتلایا گیا ہے ۔

05/01/2022

♡معارف الحدیث
☆: کتاب الاخلاق
☆باب: اللہ کو سب سے زیادہ عزیز بندہ ہے جو بدلہ لینے اور سزا دینے کی قدرت رکھنے کے باوجود معاف کر دے
☆حدیث نمبر: 《265》

☆عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ ، يَتَعَجَّبُ وَيَتَبَسَّمُ فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ ، غَضِبْتَ وَقُمْتَ ، قَالَ : "كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ : مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ بِمَظْلَمَةٍ فَيُغْضِي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، إِلَّا أَعَزَّ اللهُ بِهَا نَصْرَهُ ، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ ، يُرِيدُ بِهَا صِلَةً ، إِلَّا زَادَ اللهُ بِهَا كَثْرَةً ، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ ، يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً ، إِلَّا زَادَ اللهُ بِهَا قِلَّةً " (رواه احمد)

☆ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کو گالیاں دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، (اور آپ اس شخص کے مسلسل گالیاں دینے پر اور ابو بکرؓ کے صبر کرنے اور خاموش رہنے پر) تعجب اور تبسم فرما رہے تھے ، پھر جب اُس آدمی نے بہت ہی زیادہ گالیاں دی (اور زبان کو روکا ہی نہیں) تو ابو بکر نے بھی اُس کی بعض باتوں کو اُس پر اُلٹ دیا اور کچھ جواب دیا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ناراضی کے ساتھ وہاں سے اُٹھ کر چل دئیے (حضرت ابو بکرؓ کو اس سے بہت فکر لاحق ہوئی ، اور وہ بھی معذرت کے لئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کا سبب معلوم کرنے کے لیے آپ کے پیچھے چلے) ۔ پس ابو بکرؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور عرض کیا ، یا رسول اللہ ! (یہ کیا بات ہوئی کہ) وہ شخص مجھے گالیاں دیتا رہا اور آپ وہاں تشریف فرما رہے ، پھر جب میں نے کچھ جواب دیا ، تو حضور ناراض ہو کر اٹھ آئے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا جب تک تم خاموش تھے ، اور صبر کر رہے تھے تمہارے ساتھ اللہ کا ایک فرشتہ تھا ، جو تمہاری طرف سے جواب دہی کر رہا تھا ، پھر جب تم نے خود دیا ، تو (وہ فرشتہ تو چلا گیا ، اور) شیطان بیچ میں آ گیا (کیوں کہ اُسے امید ہو گئی کہ وہ لڑائی کو اور آگے بڑھا سکے گا) ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا ، اے ابو بکر ! تین باتیں ہیں جو سب کی سب بالکل حق ہیں ، پہلی بات یہ ہے کہ جس بندہ پر کوئی ظلم و زیادتی کی جائے اور وہ محض اللہ عز وجل کے لیے اس سے درگزر کرے (اور انتقام نہ لے) تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس کی بھرپور مدد فرمائیں گے (دنیا اور آخرت میں اُس کو عزت دیں گے) ۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ جو شخص صلہ رحمی کے لیے دوسروں کو دینے کا دروازہ کھولے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اُس کو اور بہت زیادہ دیں گے ۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ جو آدمی (ضرورت سے مجبور ہو کر نہیں بلکہ) اپنی دولت بڑھانے کے لئے سوال اور گدا گری کا دروازہ کھولے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کی دولت کو اور زیادہ کم کر دیں گے ۔ (مسند احمد)

☆تشریح:
انصاف کے ساتھ ظلم کا بدلہ لینا اگرچہ جائز ہے ، لیکن فضیلت اور عزیمت کی بات یہی ہے کہ بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود محض اللہ کے لئے معاف کر دے ۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ چونکہ اخص الخواص میں سے تھے ، اس لئے آپ نے اُن کی طرف سے تھوڑی سی جوابدہی کو بھی پسند نہیں فرمایا ۔ قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا ہے :
وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ (شورى 40 : 42)
اور برائی کا (قانونی) بدلہ اُسی کی مثل برائی ہے (یعنی جس درجہ کی زیادتی کسی نے کی ، اُس کے بدلے میں اس کے ساتھ اسی درجہ کی زیادتی کی قانوناً اجازت ہے لیکن اللہ کا جو بندہ انتقام نہ لے اور معاف کر دے اور صلح و اصلاح کی کوشش کرے ، تو اس کا خاص اجر و ثواب اللہ کے ذمہ ہے ۔

رحم دلی کی جڑ سے جو شاخیں پھوٹتی ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اپنے مجرم اور قصور وار کو معاف کر دیا جائے ، اور اس سے انتقام نہ لیا جائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو بھی اس کی خاص طور سے ترغیب دیتے تھے ۔ چند ہی ورق پہلے “ کتاب الرقاق ” کے آخر میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ حدیث درج ہو چکی ہے کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے میرے رب نے نو باتوں کا خاص طور سے حکم فرمایا ہے ، اور اُن میں سے ایک بات آپ نے یہ ذکر فرمائی ، کہ مجھے حکم ہے کہ جو کوئی مجھ پر ظلم و زیادتی کرے ، میں اُس کو معاف کر دیا کروں ۔ اس سلسلہ کی ایک دو حدیثیں یہاں اور بھی پڑھ لیجئے ۔

22/12/2021

♡معارف الحدیث
☆: کتاب الاخلاق
☆باب: ایک شخص پیاسے کتے کو پانی پلانے پر بخش دیا گیا
☆حدیث نمبر: 《253》

☆عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ ، اشْتَدَّ عَلَيْهِ العَطَشُ ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا ، فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ ، يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ العَطَشِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الكَلْبَ مِنَ العَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ بِي ، فَنَزَلَ البِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ ، فَسَقَى الكَلْبَ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنَّ لَنَا فِي البَهَائِمِ أَجْرًا؟ فَقَالَ : « نَعَمْ ، فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ » (رواه البخارى ومسلم)

☆ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس اثناء میں کہ ایک آدمی راستہ چلا جا رہا تھا ، اُسے سخت پیاسلگی ، چلتے چلتے اُسے ایک کنواں ملا ، وہ اس کے اندر اُترا اور پانی پی کر باہر نکل آیا ، کنوئیں کے اندر سے نکل کر اُس نے دیکھا کہ ایک کتا ہے جس کی زبان باہر نکلی ہوئی ہے اور پیاس کی شدت سے وہ کیچڑ کھا رہا ہے ، اس آدمی نے دل میں کہا کہ اس کتے کو بھی پیاس کی ایسی ہی تکلیف ہے جیسی کہ مجھے تھی ، اور وہ اس کتے پر رحم کھا کر پھر اس کنوئیں میں اُترا اور اپنے چمڑے کے موزے میں پانی بھر کر اُس نے اُس کو اپنے منہ سے تھاما اور کنوئیں سے باہر نکل آیا ، اور اُس کتے کو وہ پانی اُس نے پلا دیا ، اللہ تعالیٰ نے اس کی اس رحمدلی اور اس محنت کی قدر فرمائی اور اسی عمل پر اس کی بخشش کا فیصلہ فرما دیا ۔ بعض صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ سُن کر دریافت کیا ، کہ : یا رسول اللہ ! کیا جانوروں کی تکلیف دور کرنے میں بھی ہمارے لئے اجر و ثواب ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! ہر زندہ اور تر جگر رکھنے والے جانور (کی تکلیف دور کرنے) میں ثواب ہے ۔ (بخاری و مسلم)

☆تشریح:
بعض اوقاتایک معمولی عمل دل کی خاص کیفیت یا خاص حالات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑی قبولیت حاصل کر لیتا ہے ، اور اس کا کرنے والا اُسی پر بخش دیا جاتا ہے ، اس حدیث میں جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اُس کی نوعیت بھی یہی ہے ۔ آپ ذرا سوچئے ! ایک شخص گرمی کے موسم میں اپنی منزل کی طرف چلا جا رہا ہے ، اُس کو پیاس لگی ہے ، اسی حالت میں اُس کو ایک کنواں نظر پڑ گیا ، لیکن پانی نکالنے کا کوئی سامان رسی ڈول وغیرہ نہیں ہے اس لئے مجبوراً یہ شخص پانی پینے کے لئے خود ہی کنوئیں میں اتر گیا ، وہیں پانی پیا اور نکل آیا ، اب اُس کی نظر ایک کتے پر پڑی ، جو پیاس کی شدت سے کیچڑ چاٹ رہا تھا ، اُس کو اُس کی حالت پر ترس آیا ، اور دل میں داعیہ پیدا ہوا کہ اس کو بھی پانی پلاؤں ، اُس وقت ایک طرف اس کی اپنی حالت کا تقاضا یہ ہو گا کہ اپنا راستہ لوں اور منزل پر جلدی پہنچ کے آرام کروں ، اور دوسری طرف اُس کے جذبہ رحم کا داعیہ یہ ہو گا کہ خواہ میرا راستہ کھوٹا ہو ، اور خواہ کنوئیں سے پانی نکالنے میں مجھے کیسی ہی محنت مشقت کرنی پڑے لیکن میں اللہ کی اس مخلوق کو پیاس کی تکلیف سے نجات دوں ، اس کشمکش کے بعد جب اُس نے اپنی طبیعت کے آرام کے تقاضے کے خلاف جذبہ رحم کے تقاضے کے مطابق فیصلہ کیا اور کنوئیں میں اُتر کر موزے میں پانی بھر کر اور منہ میں موزا تھام کر محنت و مشقت سے پانی نکال کے لایا ، اور اُس پیاسے کتے کو پلایا تو اُس بندہ کی اس خاص حالت اور ادا پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آ گیا ، اور اسی پر اس کی مغفرت کا فیصلہ فرما دیا گیا ۔
الغرض مغفرت و مخشش کے اس فیصلہ کا تعلق صرف کتے کو پانی پلانے کے عمل ہی سے نہ سمجھنا چاہئے ، بلکہ جس خاص حالت میں اور جس جذبہ کے ساتھ اُس نے یہ عمل کیا تھا ، وہ اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند آیا ، اور اسی پر اس بندہ کی مغفرت اور بخشش کا فیصلہ کر دیا ۔

23/11/2021

♡معارف الحدیث
☆: کتاب الرقاق
☆باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع اور اہم نصیحتیں اور وصیتیں
☆حدیث نمبر: 《227》

☆عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي ، وَأَوْجِزْ ، فَقَالَ : « إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ ، وَلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ ، وَأَجْمِعِ الْيَأْسَ عَمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ » (رواه احمد)

☆ترجمہ:
حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے نصیحت فرمائیے اور مختصراً فرمائیے (تا کہ یاد رکھنا آسان ہو) آپ نے ارشاد فرمایا کہ (ایک بات تو یہ یاد رکھو کہ) جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اس شخص کی سی نماز پڑھو جو سب کو الوداع کہنے والا ، اور سب سے رخصت ہونے والا ہو (یعنی دنیا سے جانے والے آدمی کی نماز جیسی ہونی چاہئے تم ہر نماز ویسی نماز پڑھنے کی کوشش کرو ، اور دوسری بات یہ یاد رکھو کہ) ایسی کوئی بات زبان سے نہ نکالو جس کی کل تم کو معذرت اور جواب دہی کرنی پڑے (یعنی بات کرتے وقت ہمیشہ اس کا خیال رکھو کہ ایسی بات منہ سے نہ نکلے جس کی جواب دہی کسی کے سامنے اس دنیا میں یا قیامت کے دن خدا کے حضور میں کرنی پڑے اور تیسری بات یہ یاد رکھو کہ) آدمیوں کے پاس اور ان کے ہاتھ میں جو کچھ نظر آتا ہے اس سے اپنے کو قطعاً مایوس کر لو (یعنی تمہاری اُمیدوں اور توجہ کا مرکز صرف رب العالمین ہو ، اور مخلوق کی طررف سے اپنی امیدوں کو بالکل منقطع کر لو) ۔ (مسند احمد)

17/09/2021

♡معارف الحدیث
☆: کتاب الرقاق
☆باب: قیامت کے دن بڑے سے بڑا عبادت گزار بھی اپنی عبادت کو ہیچ سمجھے گا
☆حدیث نمبر: 《149》

☆عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، رَفَعَهُ « لَوْ أَنَّ رَجُلًا يَخِرُّ عَلَى وَجْهِهِ ، مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ ، فِي مَرْضَاةِ اللَّهِ ، لَحَقَّرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ » (رواه احمد)

☆ترجمہ:
عتبہ بن عبید سے روایت ہے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا : اگر کوئی شخص اپنی پیدائش کے دن سے ، موت کے دن تک برابر اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے سجدہ میں پڑا رہے ، تو قیامت کے دن اپنے اس عمل کو بھی وہ حقیر سمجھے گا ۔ (مسند احمد)

☆تشریح:
مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب انسان پر وہ حقیقتیں منکشف ہوں گی ، اور جزاو وسزا اور عذاب و ثواب کے وہ مناظر آنکھوں کے سامنے آ جائیں گے ، جو یہاں پردہ غیب میں ہیں ، تو اللہ کے وہ بندے بھی جنہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ سے زیادہ حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارا ہو گا یہی محسوس کریں گے کہ ہم نے کچھ بھی نہیں کیا ، حتی کہ اگر کوئی بندہ ایسا ہو جو پیدائش کے دن سے موت کی گھڑی تک برابر سجدہ ہی میں پڑا رہا ہو ، اُس کا احساس بھی یہی ہو گا اور وہ اپنے اس عمل کو بھی ہیچ سمجھے گا ۔

10/09/2021

♡معارف الحدیث
☆: کتاب الرقاق
☆باب: غفلت کو دور کرنے کے لئے موت کو زیادہ یاد کرو
☆حدیث نمبر: 《143》

☆عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَلاَّهُ فَرَأَى نَاسًا كَأَنَّهُمْ يَكْتَشِرُونَ قَالَ : أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ أَكْثَرْتُمْ ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ لَشَغَلَكُمْ عَمَّا أَرَى ، فَأَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَأْتِ عَلَى القَبْرِ يَوْمٌ إِلاَّ تَكَلَّمَ فِيهِ فَيَقُولُ : أَنَا بَيْتُ الغُرْبَةِ وَأَنَا بَيْتُ الوَحْدَةِ ، وَأَنَا بَيْتُ التُّرَابِ ، وَأَنَا بَيْتُ الدُّودِ ، فَإِذَا دُفِنَ العَبْدُ الْمُؤْمِنُ قَالَ لَهُ القَبْرُ : مَرْحَبًا وَأَهْلاً أَمَا إِنْ كُنْتَ لأَحَبَّ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ ، فَإِذْ وُلِّيتُكَ اليَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِيَ بِكَ قَالَ : فَيَتَّسِعُ لَهُ مَدَّ بَصَرِهِ وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الجَنَّةِ . وَإِذَا دُفِنَ العَبْدُ الفَاجِرُ أَوِ الكَافِرُ قَالَ لَهُ القَبْرُ : لاَ مَرْحَبًا وَلاَ أَهْلاً أَمَا إِنْ كُنْتَ لأَبْغَضَ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ ، فَإِذْ وُلِّيتُكَ اليَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِيَ بِكَ قَالَ : فَيَلْتَئِمُ عَلَيْهِ حَتَّى تَلْتَقِيَ عَلَيْهِ وَتَخْتَلِفَ أَضْلاَعُهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِأَصَابِعِهِ ، فَأَدْخَلَ بَعْضَهَا فِي جَوْفِ بَعْضٍ قَالَ : وَيُقَيِّضُ اللَّهُ لَهُ سَبْعِينَ تِنِّينًا لَوْ أَنْ وَاحِدًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ شَيْئًا مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا فَيَنْهَشْنَهُ وَيَخْدِشْنَهُ حَتَّى يُفْضَى بِهِ إِلَى الْحِسَابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا القَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الجَنَّةِ أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ . (رواه الترمذى)

☆ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز کے لئے گھر سے مسجد تشریف لائے ، تو آپ نے لوگوں کو اس حال میں دیکھا کہ گویا (وہاں مسجد ہی میں) وہ کِھل کِھلا کر ہنس رہے ہیں ، (اور یہ حالت علامت تھی غفلت کی زیادتی کی) اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کی اس حالت کی اصلاح کے لئے) ارشاد فرمایا : میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اگر تم لوگ لذتوں کو توڑ دینے والی موت کو زیادہ یاد رکرو ، تو وہ تمہیں اس غفلت میں مبتلا نہ ہونے دے ، لذتوں کو توڑنے والی موت کو زیادہ یاد کرو ۔ (اس کے بعد فرمایا) حقیقت یہ ہے کہ قبر (یعنی زمین کا وہ حصہ جس کو مرنے کے بعد آدمی کا آخری ٹھکانا بننا ہے) ہر روز پکارتی ہے ۔ (ظاہر یہ ہے کہ زبانإ قال سے پکارتی ہے ، اور اس کی اس پکار کو وہی سُن سکتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ سنانا چاہے ، اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہر روز قبر زبانِ حال سے پکارتی ہے) کہ میں مسافرت اور تنہائی کا گھر ہوں ، میں مٹی اور کیڑوں کا گھر ہوں (اور قبر کی زبان حال کی اس پکار کو تو ہر بندہ ہر وقت سن سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے زبانِ حال کی باتیں سننے والے کان عطا فرمائے ہوں) ۔ (اس کے بعد آپ نے اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ مرنے کے بعد جب بندہ کا واسطہ اس زمین سے پڑتا ہے اور وہ اس کے سپرد ہوتا ہے ، تو ایمان و عمل کے فرق کے لحاظ سے زمین کا برتاؤ اس کے ساتھ کتنا مختلف ہوتا ہے ، چنانچہ آپ نے فرمایا) جب وہ بندہ زمینی کے سپرد کیا جاتا ہے جو حقیقی مؤمن و مسلم ہو ، تو زمین (کسی عزیز اور محترم مہمان کی طرح اس کا استقبال کرتی ہے ، اور) کہتی ہے مرحبا ! (میرا دل دیدہ و دل فرش ، راہ) خوب آئے ، اور اپنے ہی گھر آئے ، تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جتنے لوگ میرے اوپر چلتے تھے ان میں سب سے زیادہ محبوب اور چہیتے مجھے تم ہی تھے ، اور آج جب تم میرے سپرد کر دئیے گئے ہو ، اور میرے پاس آ گئے ہو ، تو تم دیکھو گے کہ (تمہاری خدمت اور راحت رسانی کے لئے) میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہوں ، پھر وہ زمین اُس بندہ مؤمن کے لئے حد نگاہ تک وسیع ہو جاتی ہے ، اور اُس کے واسطے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے ۔ اور جب کوئی سخت بدکار قسم کا آدمی ، یا (آپ نے فرمایا ، کہ) ایمان نہ لانے والا آدمی زمین کے سپرد کیا جاتا ہے ، تو زمین اُس سے کہتی ہے کہ جتنے آدمی میرے اوپر چلتے پھرتے تھے تو مجھے ان سب سے زیادہ مبغوض تھا ، اور آج جب تو میرے حوالہ کر دیا گیا ہے ، اور میرے قبضے میں آگیا ہے ، تو ابھی تو دیکھے گا کہ میں تیرے ساتھ کیا کرتی ہوں ۔ آپ نے فرمایا کہ پھر وہ زمین ہر طرف سے اُس کو بھینچتی اور دباتی ہے ، یہاں تک کہ اس دباؤ سے اس کی پسلیاں ادھر اُدھر ہو جاتی ہیں ۔ ابو سعید خدریؓ کا بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں میں دوسرے ہاتھ کی انگلیاں ڈال کر ہم کو اس کا نقشہ دکھایا ۔ اس کے بعد فرمایا “ پھر اس پر ستر اژدھے مسلط کر دئیے جاتے ہیں ، جن میں سے ایک اگر زمین میں پھنکار مارے ، تو رہتی دنیا تک وہ زمین کوئی سبزہ نہ اگا سکے ، پھر یہ اژدھے اسے برابر کاٹتے نوچتے رہیں گے ، یہاں تک کہ قیامت اور حشر کے بعد وہ حساب کے مقام تک پہنچا دیا جائے ۔ ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ : اس کے سوا کچھ نہیں کہ قبر یا تو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے ، یا دوزخ کے خندقوں میں سے ایک خندق ۔ ” (جامع ترمذی)

☆تشریح:
قبر کے عذاب و ثواب کے متعلق پوری تفصیل سے گفتگو پہلی جلد میں کی جا چکی ہے ، اور عقل کی خامی کسے جو سوالات اور شبہات اس بارہ میں پیدا ہو سکتے ہیں ، ان کا جواب بھی وہیں دیا جا چکا ہے ، یہ بھی وہیں بتایا جا چکا ہے کہ قبر سے مراد عالمِ برزخ کا ٹھکانا ہے ، خواہ وہ اصطلاحی قبر ہو یا کچھ اور ، نیز وہیں یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ ثواب یا عذاب کی تفصیلات میں جہاں جہاں حدیثوں میں ستر کا ، یا اسی طرح کا کوئی دوسرا بڑا عدد آتا ہے تو اس سے مراد صرف کثرت اور بہتات بھی ہو سکتی ہے ، الغرض ان سب پہلوؤں پر تفصیل سے گفتگو پہلی جلد میں کی جا چکی ہے ، یہاں تو حدیث کی اس روح کو سمجھنا چاہئے کہ بندے کو خدا سے ، اور آخرت کے اپنے انجام سے کسی وقت بھی غافل نہ ہونا چاہئے ، اور موت اور قبر کو یاد کرنے اور یاد رکھنے کے ذریعہ غفلت کا علاج کرتے رہنا چاہئے ، اور بلا شبہ یہ تیر بہدف علاج ہے ۔ صحابہ میں جو تقویٰ ، جو خوفِ خدا اور آخرت کی جو فکر تھی ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی طریقِ علاج کا نتیجہ تھا ، اور آج بھی یہ اوصاف کچھ اُن ہی بندگانِ خدا میں نظر آتے ہیں ، جنہوں نے موت اور قبر کی یاد کو اپنا وظیفہ بنا رکھا ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے ، کہ موت اور قبر کی یاد کے ذریعہ اپنی غفلتوں کا علاج کریں ، اور خدا کے خوف اور خشیت اور آخرت کی فکر کو اپنی زندگی کی اساس بنائیں ۔

Al-QuranSurah 《3》  Aal-i-Imraan - Ayah 《18》☆أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـمبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّح...
22/09/2020

Al-Quran
Surah 《3》 Aal-i-Imraan - Ayah 《18》

☆أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ وَالۡمَلٰٓٮِٕكَةُ وَاُولُوا الۡعِلۡمِ قَآٮِٕمًا ۢ بِالۡقِسۡطِ‌ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُؕ

☆Translation:
Allah bears witness that there is no god but He - and (so do) the angels and the men of knowledge being the One who maintains equity. There is no god but He, the Mighty, the Wise.

☆ترجمہ:
اللہ خود گواہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور سارے فرشتے (گواہ ہیں) اور اہل علم بھی (اس پر گواہ ہیں) وہ عدل وقسط کا قائم کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زبردست ہے کمال حکمت والا ہے۔

☆تفسیر:
آیت 18 شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ الاَّ ہُوَلا
سب سے بڑی گواہی تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے ‘ جو کتب سماویہ سے بھی ظاہر ہے اور مظاہر فطرت سے بھی۔
وَالْمَلآءِکَۃُ وَاُولُوا الْعِلْمِ
اولوالعلم وہی لوگ ہیں جنہیں قرآن کہیں اولوالالباب قرار دیتا ہے اور کہیں ان کے لیے الَّذِیْنَ یَعْقِلُوْنَجیسے الفاظ آتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آیات آفاقی کے حوالے سے اللہ کو پہچان لیتے ہیں اور مان لیتے ہیں کہ وہی معبود برحق ہے۔ سورة البقرۃ کے بیسویں رکوع کی پہلی آیت ہم نے پڑھی تھی جسے میں آیت الآیاتقرار دیتا ہوں۔ اس میں بہت سے مظاہر فطرت بیان کر کے فرمایا گیا : لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ان میں یقیناً نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ تو یہ جو قَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ہیں ‘ جو اولوالالباب ہیں ‘ اولوالعلم ہیں ‘ وہ بھی گواہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔
قَآءِمًام بالْقِسْطِ ط۔
یہ اس آیت مبارکہ کے اہم ترین الفاظ ہیں۔ قبل ازیں عرض کیا جا چکا ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ عدل قائم کرتا ہے اور عدل کرے گا ‘ البتہ اہل سنت کے نزدیک یہ کہنا سوء ادب ہے کہ اللہ پر عدل کرنا واجب ہے۔

معارف الحدیثکتاب: کتاب الایمانباب: قیامتحدیث نمبر: 90عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَ...
18/09/2020

معارف الحدیث
کتاب: کتاب الایمان
باب: قیامت
حدیث نمبر: 90

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ القِيَامَةِ ثَلاَثَةَ أَصْنَافٍ: صِنْفًا مُشَاةً، وَصِنْفًا رُكْبَانًا، وَصِنْفًا عَلَى وُجُوهِهِمْ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ؟ قَالَ: إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَقْدَامِهِمْ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ، أَمَا إِنَّهُمْ يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ. (رواه الترمذى)

ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، کہ ”قیامت کے دن سب آدمی تین قسموں اور تین گروہوں میں اٹھائے جائیں گے ، ایک قسم پیدل چلنے والے ، اور ایک قسم سوار ، اور ایک قسم منہ کے بل چلنے والے “۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! یہ (تیسرے گروہ والے) منہ کے بل کس طرح چل سکیں گے؟ آپ نے فرمایا : ”جساللہ نے انہیں پاؤں کے بل چلایا ہے ، وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ ان کو منہ کے بل چلائے“ ۔ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ لوگ اپنے منہ کے ذریعے ہی زمین کےہر ٹیلے ٹھیرے ، اور ہر کانٹے سے بچیں گے ۔ (ترمذی)

تشریح:
حدیث میں جن تین گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے شارحین حدیث نے ان کی تفصیل اس طرح کی ہے ، کہ پیدل چلنے والا گروہ عام اہلِ ایمان کا ہو گا ، اور دوسرا گروہ جو سواریوں پر ہو گا ، وہ خاص مقربین اور عبادِ صالحین کا گروہ ہو گا ، جن کا وہاں شروع ہی سے اعزاز و اکرام ہوگا ، اور سر کے بل ، اور منہ کے بل چلنے والے وہ بد نصیب ہوں گے ، جنہوں نے اس دنیوی زندگی میں انبیاء علیہم السلام کی تعلیم اور ہدایت کے مطابق سیدھا چلنا قبول نہیں کیا ، اور مرتے دم تک وہ الٹے ہی چلتے رہے ۔ قیامت کے دن اس کی پہلی سزا انہیں یہ ملے گی ، کہ سیدھے پاؤں پر چلنے کے بجائے وہاں وہ الٹے منہ کے اور سر کے بل چلائے جائیں گے ، یہاں تک کہ جس طرح اس دنیا میں چلنے والے راستے کی اونچ نیچ سے ، اور جھاڑیوں اور کانٹوں سے اپنے پاؤں کے ذریعہ بچ کر نکلتے ہیں ، اسی طرح قیامت میں یہ سر کے بل چلنے والے وہاں کے راستے کی اونچ نیچ سے ، اور وہاں کے کانٹوں سے اپنے سروں اور چہروں ہی کے ذریعہ بچ کر نکلیں گے ، یعنی یہاں پر جو کام پاؤں سے کئے جاتے ہیں ، وہاں وہ سبکام خدا کے ان مجرموں کو سر سے اور منہ سے کرنے پڑیں گے ۔ اَللَّهُمّ

Address

Sindh Agriculture University
Tando Jam

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Prof:Abu Sajid Samo posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category