فضلاء فارغ التحصیل ہونے کے بعد کیا مشاغل اختیار کریں
علی ہلال
دینی مدارس کے سالانہ امتحانات سرپر ہیں۔ یہ سیزن تمام درجات کے طلبہ کے لئے مختلف وجوہات کی بناء پربہت اہم ہوتاہے لیکن فراغت حاصل کرنے والے طلبہ کے لئے اس کی اہمیت کچھ زیادہ ہوجاتی ہے۔
دینی مدارس کے فضلاء میں سے بیشتر کا تعلیمی دورانیہ آٹھ سال تک محدود نہیں ہوتا۔ وہ حفظ اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ دس سے بارہ اور چودہ برس تک درسگاہوں میں رہنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ طویل تعلیمی سفر کے بوجھ سے ان کے کاندھے جھکے ہوتے ہیں۔ اس منزل تک پہنچتے ہوئے وہ موسم کے کئی سرد و گرم برداشت کر چکے ہوتے ہیں۔ ان کے اپنے بھی خواب ہوتے ہیں اور والدین کی بھی ان سے بڑی امیدیں ہوتی ہیں۔ اس طرح سے یہ امیدوں اور تمناؤں کے بھر آنے کا موسم ہوتاہے۔
ویسے تو دینی مدارس کے فضلاء کو تجاویز اور مشورے دینے والوں کی کمی نہیں ہے ۔ اور بہت اچھی تجاویز سامنے آتی ہیں۔ مگر دیکھا یہ گیاہے کہ ہر کوئی اپنے دماغ،افکار،خیالات ،حالات اور ماحول کے زیر اثر رہا کر ہی مشورہ دیتا ہے۔
ضروری نہیں کہ مشورہ لینے والے کے لئے وہ سازگار اور مناسب بھی ہو۔ ہر کسی کا مشورہ ہر کسی کے لئے مفید ثابت نہیں ہوتا ۔ اور میرا خیال ہے کہ مشورے پر عمل کرنا تو شائد اتنا مشکل نہیں ہوتا مگر اس سے فایدہ اٹھانا خاصا مشکل ضرور ہے۔
ہدف کا تعین زمانہ طالب علمی سے ہی ضروری ہے۔ کسی ایک فن میں دلچسپی بہت سی آسانیاں پیدا کرتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ دینی مدارس کےجن فضلاء کو جیب کی توانگری اور والدین کا سپورٹ میسر ہو۔ انہیں فراغت کے بعد مزید دو برس کسی بھی تخصص کے لئے وقف کردینا چاہئیے۔ جن میں سے ایک سال انگریزی ،ڈیزائننگ،گرافکس یا دیگر اسکلز کے لئے ہو جبکہ ایک برس فقہہ، حدیث یا کسی زبانی مہارت کے لئے ہو۔ ساتھ میں عصری امتحانات بھی لازمی ہیں۔
اس کے بعد چند برس تک درس وتدریس کے ساتھ وابستگی بہترین فیصلہ ثابت ہوتاہے۔ آپ نے جس نصاب کے سیکھنے میں زندگی کے قیمتی ماہ وسال لگائےہوئے ہیں ۔ اس کی تدریس سے مزید تجربات حاصل ہوں گے۔ تدریس ایک بہترین پیشہ ہے۔ بشرط یہ کہ فحش لطائف سنانے اور طلبہ کو تنگ کرنے کی بیماری لاحق نہ ہو۔
بعض فضلاء معلم کے مسند پر بیٹھتے ہی سی ٹی ڈی پولیس کے اہلکار بن جاتے ہیں۔ طلبہ کے ٹوہ میں لگ جاتے ہیں۔ انہیں بے جا تنگ کرتے ہیں۔ کبھی کبھار تو معاملہ اصلاح کے بجائے ضد اور انا پرستی تک چلاجاتاہے۔
بعض مدارس میں معلمین کے گروپس بنے ہوتے ہیں۔ وہ نئے مدرس کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ چغلیاں کھانا اور مہتمم وناظم کی نظروں میں نئے مدرس کو گرانا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہوتاہے۔
یہ ایک مستقل بیماری ہے۔ جو بسااوقات کافی بڑے قدآور لوگوں میں بھی پائی جاتی ہے۔
بہت سے افراد دوران تدریس آپ کے بارے مسلسل پوچھتے رہتے ہیں۔ وہ آپ کے ماضی کے بارے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کی کمزوریوں کو تلاش کرتے ہیں۔یہ آپ کے اساتذہ اور ہم درس ساتھیوں تک پہنچنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ناسور قسم کے عناصر ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کے ساتھ حکمت کے ساتھ رہنا پڑتا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے کہا گیاہے کہ "أِنّا لَنَكْشِرُ في أفواهِ قومٍ واِنّ قلوبَنا لَتَلْعَنُهم " .
بہت ساری مشکلات کے باوجود بھی تدریس ایک مفید پیشہ ہے۔ مدرس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بڑھاپے میں تنہائی اور انسانوں کی بے رخی کا شکار نہیں ہوتا۔ بڑے خوبصورت اداکار، فن کار ،دولت مند تاجر اور صنعت کار بھی عمر کے آخر ی حصے میں جاکر تنہا ہوکر رہ جاتے ہیں مگر ارباب علم ومطالعہ کا حلقہ بڑھتی عمر کے ساتھ مزید بڑھتا چلا جاتاہے۔
تاہم تدریس حصولِ علم کی نیت سے ہو۔ نت نئے علوم تک رسائی اور وسعت مطالعہ ایک مدرس کو منفرد بناتی ہے۔
اس دوران اگر یقین ہو جائے کہ اب تدریس کے بجائے کسی دوسرے میدان کا رخ کرنا چاہئیے اور صلاحیت بھی ہے تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ تاہم کوئی خاص مہارت کے بغیر تدریس کا تجربہ چھوڑنا اچھا فیصلہ ثابت نہیں ہوتا۔ لہذا اس میدان کو آزمانے کے فوائد بہت ہیں۔ جن سے خود کو محروم رکھنا ٹھیک نہیں ہوگا۔
بشکریہ Ali Hilal
Al eajam online Quran academy
Al eajam online Quran academy
العجم آن لائن قرآن اکیڈمی
09/09/2023
Want your school to be the top-listed School/college in Tando Allahyar?
Click here to claim your Sponsored Listing.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Tando Allahyar