Pir Qandhari ..Dar ul Uloom, Jamia Faizya

Pir Qandhari ..Dar ul Uloom, Jamia Faizya Teachings Of Islam By Aulya e Karaam

اچھی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے

اِنَّ اللہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ عَلَيْهِ
آج سے تقريبآ ١٤٠٠ سال قبل اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت اور اصلاح کے لئے امام الانبیاء ، رحمة للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ۔۔آپ کے دعویٰ نبوت پر ایمان لانے والی

قدسی جماعت صحابہءکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تھی ۔۔کسی نبی کی دعوت پر اولین بلا واسطہ ایمان لانے والے، مشکل ترین حالات میں ثابت قدمی سے جمے رہنے والے نفوس ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا رتبہ پا لیتے ہیں ، اتنا بڑا کہ بعد کی تمام امت تقویٰ اور اتباع کے تمام مرتب طے کرنے کے بعد بھی کبھی ان کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتی ۔۔ان جانثاران پیمبر کی مدحت میں قرآن بھی نغمہ سرا ہے ، کہیں انہیں رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ کا پروانہ ملا ، تو کہیں مھتدون ، مفلحون، راشدون ، فائزون کی سندیں ملیں ۔۔ان کی حیات طیبہ کو پڑھنا، سننا، عملا اختیار کرنااور ان کے نقش قدم کی پیروی کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے ۔۔اتباع صحابہ کو اپنانے کے لئے ان کی زندگی کا ہر گوشہ ، انفرادی و اجتماعی معاملات ،اخلاص و للہیٰت ، بصیرت و اجتہاد ، علم و حکمت، زہد و توکل ، حیاءو غناء ، سیاست و معاشرت ، تقویٰ و تفقہ ، تواضع و سخاوت ، غرض ہر خوبی ، ہر پہلو ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔۔اور اس سے واقفیت ان کے حالات اور سیرت کے مطالعہ کے ذریعہ ممکن ہے۔۔یہ مطالعہ ہمیں ایسے خلفاء ، حکماء ، علماء اور ایسے بہادر لوگوں کے تذکرہ اور حالات سے روشناس کراتا ہے جن کے دل نور ایمانی سے روشن ، جن کی جبیں سجود عاشقانہ سے مزین ، جن کے دل محبت رسول سے سرشار، جن کی زبانیں ذکر الہیٰ سے معمور اور جن کے اعضاء اطاعت الہی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں ، یہ لوگ اسلام کی روشنی کا مینار اور حق کی پیروی کرنے والے ہیں ، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :۔
اصحابی کالنجوم ، با یھم اقتدیتم اھتدیتم
میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ، تم جس کی بھی
اقتداء کرو گے ، ہدایت پا جاؤ گے

This Page will bring up the purpose and
motive of Establishing " The Islamic Kandhari University" Campus at Faizabad Shareef, Tandlianwala

This Project shall be Launched soon Inshallah under the Supervision of Pir Syed Raza Hussain Shah Kandhari.

22/08/2026
22/08/2026

الانعام : ۹۷، ۹۸

اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے ستارے بنائے تاکہ تم ان کے ذریعے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ پاؤ۔ بیشک ہم نے علم والوں کے لیے تفصیل سے نشانیاں بیان کردیں ۔ اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیاپھر کہیں ٹھکانہ ہے اورکہیں امانت رکھے جانے کی جگہ ہے۔ بیشک ہم نے سمجھنے والوں کے لیے نشانیاں تفصیل سے بیان کردیں ۔

تفسیر : ‎صراط الجنان

{ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ: اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا۔}

اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہی ہے جس نے تم کو ایک جان یعنی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پیدا کیا پھر ماں کے رحم میں یا زمین کے اوپر تمہارا ٹھکانہ بنایا اور باپ کی پیٹھ یا زمین کے اندرتمہارے لئے امانت رکھے جانے کی جگہ بنائی ہے۔ بیشک ہم نے سمجھنے والوں کے لیے اپنی قدرت کی نشانیاں تفصیل سے بیان کردیں۔

21/08/2026

الانعام : ۹۶

۔ (وہ) تاریکی کو چاک کرکے صبح نکالنے والا (ہے) اور اس نے رات کوآرام (کا ذریعہ) بنایا اور اس نے سورج اور چاند کو (اوقات کے) حساب (کا ذریعہ بنایا) یہ زبردست، علم والے کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے۔

تفسیر : ‎صراط الجنان

{ فَالِقُ الْاِصْبَاحِ: تاریکی کو چاک کرکے صبح نکالنے والا۔}

اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی مزید عظمتیں بیان فرماتا ہے چنانچہ فرمایا کہ وہ تاریکی کو چاک کرکے صبح نکالنے والا ہے چنانچہ صبح کے وقت مشرق کی طرف روشنی دھاگے کی طرح نمودار ہوتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس خط نے تاریکی چاک کردی، یہ بھی اس کی قدرت ہے۔ نیز اس نے رات کوآرام کا ذریعہ بنایا کہ مخلوق اس میں چین پاتی ہے اور دن کی تھکاوٹ اور ماندگی کو استراحت سے دور کرتی ہے اور شب بیدار زاہد تنہائی میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت سے چین پاتے ہیں۔نیز اس نے سورج اور چاند کو اوقات کے حسا ب کا ذریعہ بنایا کہ اُن کے دورے اور سیر سے عبادات و معاملات کے اوقات معلوم ہوتے ہیں مثلاً چاند سے قَمری مہینے اور سورج سے شمسی مہینے بنتے ہیں۔ چاند سے اسلامی عبادات اور سورج سے موسموں اور نمازوں کا حساب لگتا ہے غرضیکہ ان میں عجیب قدرت کے کرشمے ہیں۔ یہ سب زبردست، علم والے کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے۔ آیت سے معلوم ہوا کہ علمِ ریاضی ، علمِ نَباتات، علمِ فلکیات اور علم الحیوانات بھی بہت اعلیٰ علوم ہیں کہ ان سے رب تعالیٰ کی قدرت کاملہ ظاہر ہوتی ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آسمانی اور زمینی چیزوں کو اپنی قدرت کا نمونہ بنایاہے۔

فقر و محتاجی دور ہونے کی دعا:

حضرت مسلم بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یہ دعا مانگا کرتے تھے ’’اَللّٰہُمَّ فَالِقَ الْاِصْبَاحِ وَجَاعِلَ اللَّیْلِ سَکَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا، اِقْضِ عَنِّی الدَّیْنَ وَاغْنِنِی مِنَ الْفَقْرِ وََمَتِّعْنِی بِسَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَقُوَّتِیْ فِیْ سَبِیْلِکَ‘‘ اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، (اے) تاریکی کو چاک کرکے صبح نکالنے والے اور رات کوآرام (کا ذریعہ) بنانے والے اور سورج و چاند کو (اوقات کے) حساب (کا ذریعہ بنانے والے ) میرے قرض کو پورا فرما دے اور محتاجی سے مجھے غنا عطا فرما اور مجھے میری سماعت، بصار ت اور قوت سے اپنی راہ میں فائدہ اٹھانے والا بنا۔
( مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الدعاء، من کان یدعو بالغنی، ۷ / ۲۷، الحدیث: ۳)

20/08/2026

الانعام : ۹۵

بیشک اللہ دانے اور گٹھلی کو چیر نے والا ہے، زندہ کو مردہ سے نکالنے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ہے، یہ اللہ ہے تو تم کہاں پھرے جاتے ہو؟

تفسیر : ‎صراط الجنان

{ فَالِقُ الْحَبِّ : دانے کو چیرنے والا۔}

توحیدو نبوت کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے کمالِ قدرت ، علم اور حکمت کے دلائل ذکر فرمائے کیونکہ مقصود ِاعظم اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کی تمام صفات و افعال کی معرفت ہے اور یہ جاننا ہے کہ وہی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے اور جو ایسا ہو وہی مستحقِ عبادت ہوسکتا ہے نہ کہ وہ بت جنہیں مشرکین پوجتے ہیں۔ خشک دانہ اور گٹھلی کو چیر کر ان سے سبزہ اور درخت پیدا کرنا اور ایسی سنگلاخ زمینوں میں ان کے نرم ریشوں کو جاری کردینا جہاں آہنی میخ بھی کام نہ کرسکے اس کی قدرت کے کیسے عجائبات ہیں۔ وہی اللہ کریم دانے اور گٹھلی کو چیر کر سبزہ اور درخت بنادیتا ہے اور زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے جیسے جاندار سبزہ کو بے جان دانے اور گٹھلی سے اور انسان و حیوان کو نطفہ سے اور پرندے کو انڈے سے۔ یونہی وہی رب ِ عظیم عَزَّوَجَلَّ مردہ کو زندہ سے نکالنے والاہے جیسے جاندار درخت سے بے جان گٹھلی اور دانہ کو اور انسان و حیوان سے نطفہ کو اور پرندے سے انڈے کو ۔یہ سب اس کے عجائبِ قدرت و حکمت ہیں تو اے کافرو! یہ ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ، توتم کہاں اوندھے جاتے ہو؟ اور ایسے دلائل و براہین قائم ہونے کے بعد کیوں ایمان نہیں لاتے اور موت کے بعد اٹھنے کا یقین نہیں کرتے ؟ اور غور کرو کہ جو بے جان نطفہ سے جاندار حیوان کوپیدا کرتا ہے اس کی قدرت سے مردہ کو زندہ کرنا کیا بعید ہے۔

20/08/2026
19/08/2026

الانعام : ۹۴

اور بیشک تم ہمارے پاس اکیلے آئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اورتم اپنے پیچھے وہ سب مال و متاع چھوڑ آئے جو ہم نے تمہیں دیا تھا اور (آج) ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو نہیں دیکھتے جنہیں تم گمان کرتے تھے کہ وہ تم میں (ہمارے) شریک ہیں۔ بیشک تمہارے درمیان جدائی ہوگئی اور تم سے وہ غائب ہوگئے جن (کے معبود ہونے) کا تم دعویٰ کرتے تھے۔

تفسیر : ‎صراط الجنان

{ وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى: اور تم ہمارے پاس اکیلے آئے۔}

گزشتہ آیت میں کافروں کی موت کے احوال بیان ہوئے تھے اور اس آیت میں قیامت کے احوال کا بیان ہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ان کافروں سے کہا جائے گا: بیشک تم ہمارے پاس حساب و جزا کے لئے ایسے اکیلے آئے جیسے ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، نہ تمہارے ساتھ مال ہے ،نہ جاہ، نہ اولاد جن کی محبت میں تم عمر بھر گرفتار رہے اورنہ بت جنہیں پوجتے رہے۔ آج اُن میں سے کوئی تمہارے کام نہ آیابلکہ تم وہ سب مال ومتاع اپنے پیچھے چھوڑ آئے جو ہم نے تمہیں دیا تھا اور آج ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو نہیں دیکھتے جنہیں تم گمان کرتے تھے کہ وہ تمہارے عبادت کرنے میں ہمارے شریک ہیں۔ بیشک تمہارے درمیان جدائی ہوگئی اور تم سے وہ بت غائب ہوگئے جن کے معبود ہونے کا تم دعویٰ کرتے تھے۔

قبر و حشر کی تنہائی کے ساتھی بنانا عقلمندی ہے:

یاد رہے کہ مرنے کے بعد انسان قبر میں اکیلا ہو گااور دنیا کے مال و متاع،اہل و عیال ،عزیز رشتہ دار اور دوست احباب میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ قبر میں نہ جائے گا بلکہ یہ سب اسے قبر کے تاریک گڑھے میں تنہا اور اکیلا چھوڑ کر چلے جائیں گے، اسی طرح میدانِ حشر میں بھی انسان اس طرح اکیلا ہو گا کہ اس وقت اس کا ساتھ دینے کی بجائے ہر ایک اس سے بے نیا ز ہو کر اپنے انجام کی فکر میں مبتلا ہو گا ، یونہی بارگاہِ الٰہی میں اپنے اعمال کا حساب دینے بھی یہ تنہا حاضر ہو گا لہٰذا دانائی یہی ہے کہ دنیا کی زندگی میں رہتے ہوئے اپنے ایسے ساتھی بنا لئے جائیں جو قبر کی وحشت انگیز تنہائی میں اُنْسِیَّت اور غمخواری کا باعث ہوں اور قیامت کے دن نفسی نفسی کے ہولناک عالم میں تسکین کا سبب بنیں اور یہ ساتھی نیک اعمال ہیں جیسا کہ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں ، دو واپس لوٹ آتی ہیں اور ایک ا س کے ساتھ باقی رہتی ہے، اس کے اہل و عیال، اس کا مال اور ا س کا عمل اس کے ساتھ جاتے ہیں اور اس کے اہل و عیال اور ا س کا مال واپس لوٹ آتے ہیں اور ا س کا عمل باقی رہتا ہے
(بخاری، کتاب الرقاق، باب سکرات الموت، ۴ / ۲۵۰، الحدیث: ۶۵۱۴)۔

18/08/2026

الانعام : ۹۳

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا کہے: میری طرف وحی کی گئی حالانکہ اس کی طرف کسی شے کی وحی نہیں بھیجی گئی اور جو کہے : میں بھی ابھی ایسا اُتار دوں گا جیسا اللہ نے اتارا ہے۔ اور اگر تم دیکھو جب ظالم موت کی سختیوں میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنی جانیں نکالو۔ آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا اس کے بدلے میں جو تم اللہ پر ناحق باتیں کہتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔

تفسیر : ‎صراط الجنان

{ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔}

یہ آیت مُسَیْلِمَہ کذّاب کے بارے میں نازل ہوئی جس نے یمن کے علاقے یمامہ میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ قبیلہ بنی حنیفہ کے چند لوگ اس کے فریب میں آگئے تھے ۔یہ کذاب ،سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانۂ خلافت میں حضرت وحشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاتھ سے قتل ہوا۔(خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۹۳، ۲ / ۳۷) اس کے بارے میں فرمایا کہ اس سے بڑھ کر ظالم کون؟ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر جھوٹ باندھے یا نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے اور کہے کہ میری طرف وحی کی گئی حالانکہ اس کی طرف کسی شے کی وحی نہیں بھیجی گئی ۔یہ آیت صراحت کے ساتھ مرزا قادیانی کا بھی رد کرتی ہے کیونکہ وہ بھی اس کا مدعی تھا کہ میری طرف وحی نازل کی جاتی ہے۔ آج کل قادیانی لوگوں کو مختلف طریقوں سے دھوکہ دیتے ہیں۔ کچھ یہ کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد نے نبوت کا نہیں بلکہ مجدد ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور ہم اسے صرف مجدد مانتے ہیں جبکہ بعض کہتے ہیں کہ مرزا نے مطلق نبوت و رسالت کا دعویٰ نہیں کیا تھا بلکہ ایک خاص قسم کی نبوت کا دعویٰ کیا تھاحالانکہ مرزا قادیانی کی کتابوں میں بیسیوں جگہ مُطلق نبوت و رسالت کا دعویٰ موجود ہے اور جو ظلی و بروزی نبوت کا دعویٰ ہے وہ بھی نبوت ہی کا دعویٰ ہے اور وہ بھی قطعاً کفر ہے، نیزمرزا کے منکروں کوکافر اور ماننے والوں کو صحابی اور بیویوں کو ازواجِ مطہرات کہنا ان کی کتابوں میں عام ہے لہٰذا کسی بھی مسلمان کو ان کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیے۔

{ وَمَنْ قَالَ:اور جس نے کہا۔}

آیت کا یہ حصہ عبداللہ بن ابی سرح کے بارے میں نازل ہوا جو کاتب ِ وحی تھا۔ جب آیت ’’ وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ ‘‘ نازل ہوئی ، اس نے اس کو لکھا اور آخر تک پہنچتے پہنچتے انسانی پیدائش کی تفصیل پر مطلع ہو کر متعجب ہوا اور اس حالت میں آیت کا آخر ی حصہ ’’ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ‘‘ بے اختیار اس کی زبان پر جاری ہوگیا ۔ اس پر اس کو یہ گھمنڈ ہوا کہ مجھ پر وحی آنے لگی اور مرتد ہوگیا، یہ نہ سمجھا کہ نورِ وحی اور قوت و حسنِ کلام کی وجہ سے آیت کا آخری کلمہ خود زبان پر آگیا ہے اور اِس میں اُس کی قابلیت کا کوئی دخل نہ تھا۔ زورِ کلام بعض اوقات خود اپنا آخر بتادیا کرتا ہے جیسے کبھی کوئی شاعر نفیس مضمون پڑھے وہ مضمون خود قافیہ بتا دیتا ہے اور سننے والے شاعر سے پہلے قافیہ پڑھ دیتے ہیں ان میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہر گز ویسا شعر کہنے پر قادر نہیں تو قافیہ بتانا ان کی قابلیت نہیں ، کلام کی قوت ہے اور یہاں تو نورِوحی اور نورِ نبی سے سینہ میں روشنی آتی تھی چنانچہ مجلس شریف سے جدا ہونے اور مرتد ہوجانے کے بعد پھر وہ ایک جملہ بھی ایسا بنانے پر قادر نہ ہوا جو نظمِ قرآنی سے ملتا جلتا ہو۔ آخر کار زمانہ ِاقدس ہی میں فتحِ مکہ سے پہلے پھر اسلام سے مشرف ہوگیا۔
(تفسیر قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۹۳، ۴ / ۳۰، الجزء السابع)
اس کے بارے میں فرمایا کہ اس سے بڑھ کر ظالم کون؟ جو کہے : عنقریب میں بھی ایسی ہی کتاب اُتار دوں گا جیسی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نازل کی ہے۔

{ وَ لَوْ تَرٰى : اور اگر تم دیکھو۔}

یہاں سے کافروں کی موت کے وقت کے حالات بیان ہوئے ہیں ، فرمایا کہ اگر تم کافروں کی حالت دیکھو تو بڑی خوفناک حالت دیکھو گے جب ظالم موت کی سختیوں میں ہوتے ہیں اور فرشتے ارواح قبض کرنے کے لئے جھڑکتے جاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ اپنی جانیں نکالو۔ آج تمہیں اس کے بدلے میں ذلت کا عذاب دیا جائے گاجو تم نبوت اور وحی کے جھوٹے دعوے کرکے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے شریک اور بیوی بچے بتا کر اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ناحق باتیں کہتے تھے۔

موت کے وقت مسلمان اور کافر کے حالات :

اس آیت میں موت کے وقت کافر کے حالات بیان ہوئے اور حدیثِ پاک میں مسلمان اور کافر دونوں کی موت کے حالات بیان کئے گئے ہیں ، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جب مسلمان کی موت قریب ہوتی ہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشمی کپڑے لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں :اے روح! تو راضی خوشی حالت میں اور ا س حال میں نکل کہ اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہے،تُو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے رزق سے اپنے پروردگار کی طرف نکل جو ناراض نہیں ہے۔پھر روح عمدہ خوشبودار مشک کی طرح خارج ہوتی ہے اور فرشتے اسے اسی وقت اٹھا کر آسمان کے دروازے پر لے جاتے ہیں اور کہتے ہیں :یہ کتنی اچھی خوشبو ہے جو زمین سے آئی ہے۔ اس کے بعد اُسے مسلمانوں کی روحوں کے پاس لے کر آتے ہیں۔وہ روحیں اُس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتی ہیں جو کسی گئے ہوئے شخص کے واپس آنے پر خوش ہوتا ہے اور وہ روحیں ا س سے دریافت کرتی ہیں : دنیا میں پیچھے رہنے والا فلاں شخص کیسے کام کرتا ہے؟ پھر روحیں کہتی ہیں :ابھی ٹھہروا ور اسے چھوڑ دو، یہ دنیا کے غم میں ہے۔ یہ روح کہتی ہے: کیا وہ شخص تمہارے پاس نہیں تھا؟ (یعنی دنیا سے تو وہ آچکا تو کیا تمہارے پاس نہیں ہے؟) روحیں کہتی ہیں :(اگر وہ دنیا سے آچکا اور ہمارے پاس نہیں ہے تو پھر) وہ جہنم میں گیا ہو گا۔اور جب کافر کی موت آتی ہے تو عذاب کے فرشتے بوریے کا ایک ٹکڑا ڈالے آ کر کہتے ہیں : اے روح!تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرف نکل کیونکہ تو اللہ تعالیٰ سے ناراض ہے اوراللہ تعالیٰ تجھ سے ناراض ہے، اس کے بعد وہ جلے ہوئے بدبودار مردار کی طرح نکلتی ہے حتّٰی کہ فرشتے اسے زمین کے دروازے پر لاتے ہیں تو فرشتے پوچھتے ہیں :یہ کیا بدبو ہے، یہاں تک کہ اسے کافروں کی روحوں میں لے جاتے ہیں۔
(سنن نسائی، کتاب الجنائز، باب ما یلقی بہ المؤمن من الکرامۃ۔۔۔ الخ، ص۳۱۳، الحدیث: ۱۸۳۰)

18/08/2026

الانعام : ۹۲

اور یہ برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ،پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس لئے (اتری) تاکہ تم اس کے ذریعے مرکزی شہر اور اس کے اردگرد والوں کو ڈر سناؤ اور جو آخرت پر ایمان لاتے ہیں وہی اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں ۔

تفسیر : ‎صراط الجنان

{ وَ هٰذَا كِتٰبٌ: اور یہ کتاب ہے۔}

یہاں قرآنِ پاک کے بارے میں فرمایا کہ یہ قرآنِ پاک برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ۔ یہ پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور ہم نے اسے اس لئے نازل فرمایا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کے ذریعے مرکزی شہر مکہ مکرمہ اور اس کے اردگرد والوں کواللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب کی خبریں دو۔

{ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ:اور جو آخرت پر ایمان لاتے ہیں۔}

ارشاد فرمایا کہ جو لوگ آخرت اور اس میں موجود انواع و اقسام کے عذابات پر ایمان لاتے ہیں وہی اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں کیونکہ وہ برے انجام سے ڈرتے ہیں اور یہی خوف انہیں غورو فکر کرنے پر ابھارتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ا س پر ایمان لے آتے ہیں اور قرآنِ مجید پر ایمان لانے والے اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔
(روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۹۲، ۳ / ۶۴)

یہاں نماز کو بطورِ خاص اس لئے ذکر کیا گیا کہ یہ ایمان کے بعد سب سے اعلیٰ عبادت ہے اور جب بندہ تمام ارکان و شرائط کے ساتھ اس کی پابندی کرتا ہے تو دیگر عبادات اور طاعات کی پابندی کرنا بھی شروع کر دیتا ہے۔ا س سے معلوم ہو اکہ قرآنِ مجید پر ایمان لانے کا ایک تقاضا یہ ہے کہ پانچوں نمازیں ان کے تمام ارکان و شرائط کے ساتھ پابندی سے ادا کی جائیں اور ان کی ادائیگی میں کسی طرح کی سستی اور کاہلی سے کام نہ لیا جائے۔اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو اس تقاضے پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Address

Faizabad Shareef
Tandlianwala

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 15:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 19:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pir Qandhari ..Dar ul Uloom, Jamia Faizya posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Pir Qandhari ..Dar ul Uloom, Jamia Faizya:

Shortcuts

Share

Category