06/08/2024
نبیءکریمﷺ کے فرمان مبارک کامفہوم کہ:
*میری امت میں تیس جھوٹے آئیں گے, جن میں سےہرایک نبوت کادعوی کرےگا,لیکن میں آخری نبی ہوں, میرےبعد کوئی نبی نہیں۔*
ختم نبوت حضورﷺ کاوہ فخر واعزاز ہے جس میں آپکے ساتھ کوئی دوسرا شراکت دار نہیں اور نہ ہوسکتاہے...!!
لیکن اسکے باوجود حضورﷺ کی پیشن گوئی کےمطابق کچھ جھوٹے کذابین نبوت کےجھوٹے دعوے کرتےآئے ہیں, انہی میں سےایک مرزا قادیانی بھی تھا...
اور اسکےماننے والےآج بھی موجود ہیں جوکہ خود کومسلمان ظاہر کرواکے امت مسلمہ کےبچوں اوربچیوں کاایمان لوٹ رہے ہیں.... لیکن حقیقت میں وہ ایک فریب کےسوا کچھ نہیں....!!
لیکن جب ہمیں پتہ ہی نہیں ہوگا کہ قادیانیوں کی حقیقت کیا ہے توہم خود کواور اپنےپیاروں کو انکےفریب سےکیسے بچاسکیں گے.. ؟
قادیانی مشنری اپنے جھوٹے نبی کی نبوت کوعام کرنے میں پوری طرح سرگرم ہےتوآخر ہم کیوں غفلت اور سستی کاشکار ہیں؟
آخرت میں محمدعربیﷺ کے شفاعت کے طلب گار ہیں تو کیا کوئی ذمہ داری ہم پرعائد نہیں ہوتی... ؟
کوئی ہماری زمین پہ قبضہ کرلے تو ہم اسے نہیں چھوڑتے اور جو حضورﷺ کی ختم نبوت پہ ڈاکہ مارنے کی کوشش کرے, اور..... ہم انکےبارےمیں اتنے لاعلم ہوں کہ بےخبری میں ان کےساتھ رشتے ناطے جوڑبیٹھیں یاانکی لچھے دارباتوں میں آکر ایمان سےہاتھ دھوبیٹھیں..... تو کیسا خسارہ ہوگا....دنیاوآخرت دونوں کا...!!!
ذرا نہیں پورا سوچئے....!!
اور اگر سمجھ آجائے تو ختم نبوت کورس میں انرولمنٹ کروالیجئے۔
رابطہ نمبر:
03129876865
03181550919
حضورﷺ کی محبت کےتقاضوں کوسامنےرکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ شئیرکیجئے۔
29/06/2023
Ashab-e-Suffa Online Academy سے جڑے ہرہرفرد کودل کی گہرائیوں سےعید قربان مبارک,اللہ تبارک وتعالی
آپکےاعمال صالحہ کوقبول فرمائیں اور ہزاروں نعمتیں, برکتیں اور خوشیاں نصیب فرمائیں....
mubarak
19/06/2023
کام چھوٹاہویابڑا....گھرکی سطح پرہویاادارے کی سطح پر.... تمام افرادمل جل کرتےہیں....
ایک فردکچھ نہیں کرسکتا.... بلکہ ایک ٹیم اورجماعت مل کر ہی کوئی کام بخیروخوبی پایہءتکمیل تک پہنچاتی ہے....
یہی قانونِ فطرت ہے اوراسی تعاون وتناصرکےاصول پردنیاکا نظام قائم ہے....
اورنیکی کےکاموں میں تعاون کرنےاورساتھ نبھانے کی تاکید توقرآن کریم میں بھی آئی ہے..
سورہ مائدہ میں اللہ تبارک وتعالٰی نےفرمایا:-
"وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَقْوٰی"
اورنیکی اورحسن سلوک میں آپس میں تعاون کرو
اسی حکم الٰہی کوپوراکرنےوالی اور "تفسیرسورہءکہف" کےمشقی گروپس کاانتظام سنبھالنےوالی ہماری پیاری بہنیں خصوصی شکریہ کی مستحق ہیں....
اصل جزاءاورانعام تواللہ تبارک وتعالٰی ہی دینگےان شاءاللہ.... ہماری دعاءہے کہ اللہ سبحانہ وتعالٰی آپکواپنی شان کےمطابق دنیاوآخرت میں اس عمل کااجرعنایت کریں....آمین ثم آمین
ہمارے ساتھ کورس کےاختتام تک تعاون کرنےاورہماری بہنوں کےاسباق باقاعدگی سےسننے, انکی حوصلہ افزائی کرنےپرآپکی خدمت میں
*Appreciation certificates*
کاننھاساتحفہ حاضرخدمت ہے...
قبول کیجئے!!!
منجانب
اصحاب صفہ آن لائن اکیڈمی
18/06/2023
اللہ تبارک وتعالی سورہ کہف کی تفسیرمکمل کرنےوالی تمام طالبات کودنیاوآخرت کی خیروبھلائی سےسرفرازفرمائیں اوراس علم کوانکےلئے اس پرفتن دورمیں دین وایمان کی سلامتی کاذریعہ بنائیں....آمین ثم آمین
18/06/2023
اصحاب صفہ آن لائن اکیڈمی کےزیراہتمام "تفسیرسورہءکہف" کاپہلا بیچ بخیروخوبی پایہءتکمیل تک پہنچا....
طالبات کی دلچسپی اورذوق وشوق ماشاءاللہ آخرتک برقراررہا اورمعلمہ اورطالبات دونوں کا بہت ہی خوب یہ تجربہ رہا...
سورہءکہف کےمضامین یعنی اصحاب کہف کامافوق الفطرت واقعہ, انکاایمانی جذبہ, جوانی میں انکاپلٹاکھالینا اور پھر رب تعالی کی نصرت کاعجیب منظر......309سال تک باحفاظت سوئےرہنااورپھربیدارہونےپر بعث بعدالموت کی دلیل بن جانا....... باغ والےکافراوراسکےمؤمن دوست کاقصہ,اسمیں قدرت خداوندی کاانوکھااظہار........حضرت موسٰی وخضر علیہماالسلام کےعجیب واقعات,رب تعالی کےتکوینی امور کےچندمناظر اورفطرت انسانی کابرداشت نہ کرپانا........ ذوالقرنین بادشاہ کےتین world tours اورانکےعجیب وغریب احوال..... یاجوج ماجوج اور دجال کےاحوال,سدذوالقرنین اوراسکےعلاوہ بہت کچھ صرف ایک سورت کےپڑھنےپڑھانے سےحاصل ہوابحمداللہ تعالی.....
بالیقین قرآن کریم کی ہرسورت کی الگ ہی چاشنی ہے....اورقرآنی سورتوں میں سورہءکہف کو خصوصی حیثیت حاصل ہے..... فتنوں سےحفاظت اور اسکےعجیب وغریب واقعات کی وجہ سے....
سورہءکہف کےدلچسپ اورپرمغزمضامین جب موقع ملےبالضرور سیکھنےاورسمجھنےچاہئیں....
اس منفردسورت کےانہی منفرد مضامین کوسینوں میں جذب کرنےاوربہترین کارکردگی دکھانےپر ہماری عزیز طالبات کواسنادسےنوازاجارہاہے....
والسلام
اصحاب صفہ انتظامیہ
04/06/2023
ایک عہدتھاجوتمام ہوا.... 🌹
جوآپ سب کےدم سےرونق تھی. ...وہ ختم ہونےپہ دل اداس بھی ہےاورخوشی بھی کہ آپ لوگوں نےاتنی محنت سےسب سیکھا... !! اللہ پاک قبول ومقبول فرمائیں.... آمین
"تفسیرسورہءکہف کاپہلابیچ"....🌹 بہترین بیچ....🌹 محنتی اورقرآن سےمحبت کرنےوالابیچ تھا.....ماشاءاللہ....
فائنل ٹیسٹ بھیج دیاگیاہے... بس اختتامی دعاء اور رزلٹ باقی ہے💖💖
طالبات کی فیڈبیکس,اسناد اوررزلٹ ان شاءاللہ جلدشئیرکیاجائےگا
29/04/2023
*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!!*
اصحاب صفہ آن لائن اکیڈمی کی جانب سےپیشِ خدمت ہے صرف اورصرف ایک ماہ پرمشتمل *تفسیر سورہءکہف کورس*...جوکہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد ترین کورس ہے...
جیساکہ آپ کومعلوم ہےکہ سورہءکہف کانام *اصحاب کہف* یعنی نوجوانوں کی اس جماعت کےنام پہ رکھاگیاہے جنہوں نے جوانی میں ہی دین کی خاطر سب کچھ چھوڑ کرغار میں پناہ لی اور پھر قدرت خداوندی کاعظیم مظہر تمام دنیا کےسامنے آشکارا ہوا...
سورہءکہف یہ سکھاتی ہےکہ دراصل پلٹنے اور صحیح سمت اختیارکرنے کادرست وقت جوانی ہی ہوتاہے...ورنہ بڑھاپےمیں توخیالات ایسےپختہ ہوچکےہوتے ہیں کہ تبدیلی ازحدمشکل ہوتی ہے....
لہٰذا آئیے اور اپنی جوانیوں کو اللہ تبارک وتعالٰی کا کلام عظیم سیکھنے کےلئے خرچ کیجئے اور بالخصوص اس سورۃ کی تفسیر سیکھئے جس کوگہرائی سے سمجھ کر آپ قیامت تک کےآنے والےفتنوں سےمحفوظ رہ سکتی ہیں....
آئیے ہم بھی اپنی سی کوشش کرتے ہیں اس مقصد کو حاصل کرنے کےلئے.... اللہ پاک ہمارا حامی و ناصر ہو....
والسلام
اصحاب صفہ انتظامیہ
*نوٹ:*
*🌷کورس کی جومعلومات پوسٹ میں لکھ دی گئی ہیں انکوبغور پڑھ لیجئے... اورانہی امورکو دوبارہ نہ پوچھ کرشکریہ کاموقع دیجئے...*
🌷نیز ہفتے میں 4سے5 دن کلاس ہوگی اور کورس واٹس ایپ پہ ہی ہوگا...
کورس میں ایڈہونے کےلئے رابطہ کیجئے:-
+923181550919
+923129876865
صدقہءجاریہ کہ نیت سے یہ پوسٹ زیادہ سےزیادہ شئیرکیجئے!!
25/02/2023
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!!
4 بیچز کی شاندار کامیابی کےبعد اصحابِ صفہ آن لائن اکیڈمی کی جانب سے حاضرہے
🌷 بیسک تجویدالقرآن 5th batch 🌷
رمضان المبارک اورقرآنِ پاک کاخاص تعلق اورجوڑہے...
ہررمضان میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کےساتھ پیارےنبیءِ کریمﷺقرآن پاک کا دور کیاکرتےتھے
ہرایک کی کوشش ہوتی ہےکہ رمضان المبارک میں زیادہ سےزیادہ قرآن پاک کووقت دے... لیکن جس چیزسےلاپرواہی برتی جاتی ہے...
وہ ہے "قرآن پاک کادرست تلفظ اور تجوید کےساتھ پڑھنا"...
لیکن یہ آپکوتب ہی معلوم ہوگا جب آپ تجویدسیکھنا شروع کرینگی....تجویدسیکھنے سے پہلے آپکو لگےگاکہ ہماری کوئی غلطی نہیں ہےجبکہ المیہ یہ ہےکہ ہم توقرآن پاک کوخالص اردو تلفظ کےساتھ پڑھ دیتے ہیں اور ایسی کئی غلطیاں کرتےہیں جنکاہمیں اندازہ تک نہیں ہوتا....
💔ہم یہ توفکرکرتےہیں کہ ہمارا انگلش بولنےکا لہجہ درست ہولیکن... قرآن پاک تلفظ کودرست کرنےکی فکرنہیں کرتے... 🌷
مثال کےطور پرہم... ملتی جلتی آوازوں والےحروف مثلا...ت,ط....س,ص,ث.... ز,ظ, ض, ذ میں کوئی فرق ہی نہیں کرتے
سب کوایک جیساپڑھتے ہیں جبکہ یہ نہ فرق نہ کرنا... ایسی غلطی ہےجوکہ حرام ہے...بعض اوقات ایسی غلطیاں کرنےسےنمازبھی ٹوٹ جاتی ہے
♥️ اورمعنی میں اس طرح کافرق آتاہےجیساکہ...
*طین* ط کےساتھ *مٹی* کوکہتےہیں...
جبکہ *تین* ت کےساتھ زیتون کوکہتےہیں...
*قلب* دل کو اور *کلب* کتے کوکہتے ہیں.... اوریہ فرق کیسےہوگا... تجویدسیکھ کر...
🤝بےشک یہ محنت طلب ہےلیکن ناممکن نہیں... اورجب استاد آپکی باقاعدہ اصلاح کروانےکوموجود ہوتو یہ سب آسان ہوجاتاہے...
یادرکھئے!! تجوید کامطلب قرآن پاک کو سُر اور اچھی آوازکےساھ پڑھنانہیں بلکہ درست تلفظ اورادائیگی ہےجوکہ فرض کادرجہ رکھتی ہے...
🤝توآئیے.... اس فریضےکواداءکرنے کا موقع آپکےپاس موجودہے..
پہلےآئیے!! پہلےپائیے!!
17/02/2023
📚اصحاب صفہ آن لائن اکیڈمی📚
📙حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شخصیت،کردار اور کارنامے📙
کتاب: مولانا محمود اشرف عثمانی
✒️قسط نمبر:7
🟣 علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں
"مختلف سندوں سے ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اختلاف کے دوران حضرت ابو مسلم خولانی لوگوں کی ایک جماعت کے ہمراہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے تا کہ ان کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت پر آمادہ کرسکیں، اور جاکر حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا:
" تم علی(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے جھگڑ رہے ہو، کیا تمہارا خیال ہے کہ تم علم و فضل میں اس جیسے ہو؟
حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا:
"خدا کی قسم! میرا یہ خیال نہیں ، میں جانتا ہوں کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھ سے بہتر ہیں، افضل ہیں اور خلافت کے بھی مجھ سے زیادہ مستحق ہیں، لیکن کیا تم یہ بات تسلیم نہیں کرتے کہ عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کو ظلما شہید کیا گیا ہے اور میں اس کا چچازاد بھائی ہوں اس لئے مجھے ان کے خون کا قصاص اور بدلہ لینے کا زیادہ حق ہے۔
تم جا کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ بات کہو کہ قاتلین عثمان کو میرے سپردکردیں، میں خلافت کو ان کے سپرد کردوں گا۔
یہ حضرات حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے ، ان سے اس معاملے میں بات کی، لیکن انہوں نے (ان معقول دلائل و اعذار کی بناء پر جو ان کے پاس تھے ) قاتلین کو ان کے حوالے نہیں کیا،
اس موقع پر اہل شام نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔
اس واقعے کے بعد اس شبہ اور بہتان کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ذاتی نام ونمود اور اقتدار کی خواہش کے لئے ایسا کر رہے تھے۔
🪄 اس بات کا اندازہ اس ایمان افروز خط سے لگایا جاسکتا ہے جو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان ہی اختلافات کے دوران قیصر روم کو تحریر فرمایا تھا،
روم کے بادشاہ قیصر نے عین اس وقت جبکہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اختلاف شباب پر تھا اور قتل وقتال کی نوبت آ رہی تھی ، ان اختلافات سے فائدہ اُٹھانا چاہا اور شام کے سرحدی علاقوں پر لشکر کشی کرنے کا ارادہ کیا،
حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی اطلاع مل گئی ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے ایک خط بھیجوایا اور اس میں لکھا:۔
" مجھے اس بات کا علم ہوا ہے کہ تم سرحد پر لشکر کشی کرنا چاہتے ہو، یاد رکھو! اگر تم نے ایسا کیا تو میں اپنے ساتھی (حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے صلح کرلوں گا، اور ان کا جو لشکر تم سے لڑنے کے لئے روانہ ہوگا، اس کے ہراول دستے میں شامل ہو کر قسطنطنیہ کو جلا ہوا کوئلہ بنا کر رکھ دوں گا"۔
جب یہ خط قیصر روم کے پاس پہنچا تو وہ اپنے ارادے سے باز آ گیا اور لشکر کشی سے رُک گیا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ لوگ کفر کے مقابلے میں اب بھی ایک جسم و جان کی طرح ہیں اور ان کا اختلاف، سیاسی لیڈروں کا اختلاف نہیں ہے۔
بہرحال یہ افسوسناک اختلاف اور قتال پیش آیا، اور دراصل اس میں بڑا ہاتھ ان مفسدین کا تھا جو دونوں جانب غلط فہمیاں پھیلاتے اور جنگ کے شعلوں کو ہوا دیتے رہے۔
⭕۳۷ھ میں صفر کے مہینے میں واقعہ صفین پیش آیا، اس جنگ میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ ستر ہزار آدمی شریک ہوئے، جس میں صحابہ اور تابعین شامل تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان یہ جنگ چار پانچ سال تک جاری رہی۔
اس کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ شہید کر دیئے گئے ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بھی قاتلانہ حملہ کیا گیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخم آئے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ خلافت پر متمکن ہوئے جو ابتداء ہی سے صلح جو اور مسلمانوں کے آپس کے قتال سے سخت متنفر تھے، شروع میں مفسدین نے انہیں بھی بھڑ کایا مگر وہ ان کے کہے میں نہ آئے اور *۴۱ھ* میں انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صلح کر کے خلافت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد کی ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے لئے سالانہ دس لاکھ درہم وظیفہ مقرر کر دیا ۔
حضرت حسن بصریؒ ،حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت حسنؓ کے درمیان صلح کےواقعے کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
ترجمہ:۔
🔹"سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہاڑ جیسے لشکر لے کر حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ کے مقابلے پر سامنے آئے تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہنے لگے:
"میں لشکروں کو دیکھ رہا ہوں کہ بغیر قتل عظیم کے واپس نہ لوٹیں گے (یعنی قتال عظیم ہوگا ۔
تو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے:
"بتلاؤ! اگر انہوں نے انہیں قتل کیا اور ان لوگوں نے ان کو قتل کیا تو مسلمانوں کے معاملات کی دیکھ بھال کون کرے گا ؟ ان کی عورتوں کی رکھوالی کی ضمانت کون دے گا؟ اور یتیم بچوں اور مال ومتاع کا ضامن کون ہوگا ؟
اس سے ظاہر ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں قوم وملت کا کتنا درد تھا اور وہ مسلمانوں کی باہمی خانہ جنگی کو کتنی بری نگاہ سے دیکھتے تھے۔
🪄اس کے علاوہ علامہ ابن خلدون نے نقل کیا ہےکہ :-
"جب حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت حسنؓ سے صلح کا ارادہ کیا تو ایک سفید کاغذ منگوایا اور اس کے آخر میں اپنی مہر لگائی اور کاغذ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس روانہ فرما کر کہلا بھیجا کہ یہ سفید کاغذ آپ کی طرف بھیج رہا ہوں اور اس کے آخر میں، میں نے اپنی مہر لگادی ہے، آپ جو چاہیں شرطیں تحریر فرمادیں، مجھے منظور ہیں
چنانچہ حضرت حسنؓ نے کچھ شرطیں لکھ دیں اور اس طرح ۴۱ ھ میں آپ کے اور حضرت حسنؓ کے درمیان صلح ہوگئی اور تمام مسلمانوں نے متفقہ طور پر آپ کو خلیفہ مقرر کر کے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔
اس سال کو تاریخ عرب میں ”عام الجماعۃ " کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کہ یہ وہ سال ہے کہ جس میں امت کا منتشر شیرازہ پھر مجتمع ہوگیا اور دنیا بھر کے مسلمانوں نے ایک خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔
علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ : "جب حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ صلح کر کے مدینہ تشریف لائے تو ایک شخص نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صلح کرنے پر آپ کو بُرا بھلا کہا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:۔
" مجھے برا بھلا مت کہو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ رات اور دن کی گردش اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک کہ معاویہ امیر نہ ہو جائیں گے۔"
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے امیر المؤمنین ہو جانے کے بعد جہاد کا وہ سلسله از سرنو شروع ہو گیا جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد بند ہو گیا تھا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل روم سے جہاد کیا،
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل روم کے خلاف سولہ جنگیں لڑیں،
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا، ایک حصے کو آپ گرمی کے موسم میں جہاد کے لئے روانہ فرمادیتے تھے، پھر جب سردیوں کا موسم آتا تو آپ دوسرا تازہ دم حصہ جہاد کے لئے بھیجتے تھے،
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری وصیت بھی یہ تھی:-
*شد خناق الروم. ( روم کا گلا گھونٹ دو ) ۔*
*۴۹ھ* میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قسطنطنیہ کی جانب زبر دست لشکر روانہ کیا، جس کا سپہ سالار سفیان بن عوف کو مقرر کیا، اس لشکر میں اجلہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شریک تھے، اور یہی وہ غزوہ ہے جس کی *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم* نے اپنی حیات میں ہی پیشین گوئی فرمادی تھی اور اس میں شریک ہونے والوں کے متعلق فرمایا تھا:۔
⚡ أول جيش يغزو القسطنطينية مغفور لهم.
ترجمہ:- پہلا وہ لشکر جو قسطنطنیہ کا جہاد کرے گا ان کو بخش دیا جائے گا۔
🔹 آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے دور خلافت میں صقلیہ کے عظیم الشان جزیرے پر مسلمانوں نے فوج کشی کی اور کثیر تعداد میں مال غنیمت مسلمانوں کے قبضے میں آیا تھا، نیز آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے زمانے میں سجستان سے کابل تک کا علاقہ فتح ہوا اور سوڈان کا پورا ملک اسلامی حکومت کے زیر نگین آگیا۔
حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک طویل عرصہ تک شام کے گورنر رہے، اس دوران انہوں نے رومی و نصرانیوں کے خلاف بہت سے جہاد کئے ، وہ سب ان کے علاوہ ہیں۔
15/02/2023
*📚اصحاب صفہ آن لائن اکیڈمی📚*
*📙حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، شخصیت، کردار اور کارنامے📙*
*کتاب: مولانا محمود اشرف عثمانی*
*✒️ قسط نمبر* : *6*
*🌐سوانح*
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی ولادت بعثت نبوی سے پانچ سال قبل ہوئی اور آپ نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے اسلام لانے کا اعلان کیا ،
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ شام وغیرہ کے علاقوں میں مصروف جہاد رہے، اسی دوران آپ نے جنگ یمامہ میں شرکت کی، بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کو آپ ہی نے قتل کیا تھا، مگر صحیح یہ ہے کہ حضرت وحشی نے نیزہ مارا تھا اور آپ نے اس کے قتل میں مدد کی تھی ۔
⚡ (1) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور 19ھ میں انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی یزید بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو اس وقت شام کے گورنر تھے، حکم دیا کہ *قیساریہ کو فتح کرنے کے لئے جہاد کریں،* قیساریہ روم کا مشہور شہر اور رومیوں کی فوجی چھاؤنی تھی، چنانچہ یزید بن ابی سفیان نے شہر کا محاصرہ کر لیا، یہ محاصرہ طول کھینچ گیا تو یزید بن ابی سفیان آپ کو اپنا نائب مقرر کر کے دمشق چلے گئے ،
حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قیساریہ" کا محاصرہ جاری رکھا یہاں تک کہ شوال 19ھ میں اسے فتح کر لیا۔
اس فتح کے ایک ماہ بعد ہی ذیقعدہ ۱۹ھ میں یزید بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ طاعون کے مہلک مرض میں وفات پاگئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی موت کا بہت صدمہ ہوا اور کچھ عرصہ بعد آپ نے ان کے بھائی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شام کا گورنر بنادیا اور آپ کا وظیفہ ایک ہزار درہم ماہانہ مقرر فرمایا۔
⚡حضرت عمر کے دور خلافت میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چار سال شام کے گورنر کی حیثیت سے گزارے اس عرصے میں آپ نے روم کی سرحدوں پر جہاد جاری رکھا اور بہت سارے شہر فتح کئے ۔
🌀حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس عہدے پر نہ صرف باقی رکھا، بلکہ آپ کے حسن انتظام، تدبر اور سیاست سے متاثر ہوتے ہوئے *حمص ، قنسرین اور فلسطین* کے علاقے بھی آپ کے ماتحت کر دیئے۔
🔅حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں کل بارہ سال یا اس سے کچھ زائد آپ نے گورنر کی حیثیت سے گزارے،
اس عرصے میں بھی آپ اعلائے کلمۃ اللہ کے واسطے جہاد میں مصروف رہے۔
🔹 *۲۵ھ* میں آپ نے رُوم کی جانب جہاد کیا اور عمور یہ تک جاپہنچے اور راستے میں فوجی مرکز قائم کئے۔
قبرص، بحیرہ روم میں شام کے قریب ایک نہایت زرخیز اور خوب صورت جزیرہ ہے اور یورپ اور روم کی طرف سے مصر و شام کی فتح کا دروازہ ہے، اس مقام کی بہت زیادہ اہمیت تھی کیونکہ مصر و شام جہاں اب اسلام کا پرچم لہرا رہا تھا، ان کی حفاظت اس وقت تک نہ ہو سکتی تھی جب تک کہ بحری ناکہ مسلمانوں کے قبضے میں نہ آئے،
اس وجہ سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے ہی سے آپ کی اس زرخیز ، حسین اور اہم جزیرے پر نظر تھی اور ان کے دور خلافت میں آپ ان سے قبرص پر لشکر کشی کی اجازت طلب کرتے رہے مگر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سمندر کی مشکلات اور دوسری وجوہات کی بناء پر اجازت نہ دی،
جب حضرت عثمان کا دور آیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے اجازت طلب کی اور اصرار کیا تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجازت دے دی۔
اور آپ نے مسلمانوں کی تاریخ میں پہلی بار بحری بیڑہ تیار کرایا اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ہمراہ *۲۷ھ* میں قبرص کی جانب روانہ ہوئے۔
🔹 *پہلااسلامی بحری جنگی بیڑہ اوربشارتِ نبویﷺ*
(۲) مسلمانوں کی تاریخ میں بحری بیڑے کی تیاری اور بحری جنگ کا یہ پہلا موقع تھا۔ ابن خلدون لکھتے ہیں:
*" حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے خلیفہ ہیں جنھوں نے بحری بیڑہ تیارکرایا اور مسلمانوں کو اس کے ذریعے جہاد کی اجازت دی۔*
پہلی بار بحری بیڑہ تیار کرانا حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محض ایک تاریخی خصوصیت ہی نہیں ہے بلکہ اس لحاظ سے نہایت عظیم سعادت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا بحری جہاد کرنے والوں کے حق میں جنت کی بشارت دی تھی،
🔅چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرمایا ہے:۔
*أول جيش من أمتى يغزون البحر قد وجبوا۔*
*ترجمہ:- میری امت کے پہلے لشکر نے جو بحری لڑائی لڑے گا، اپنے او پر جنت واجب کرلی ہے۔*
▪️ *۲۷ھ* میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی طرف اپنا بحری بیڑہ لے کر روانہ ہوئے اور *▪️۲۸ھ* میں وہ آپ کے ہاتھوں فتح ہو گیا، اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہاں کے لوگوں پر جزیہ عائد کیا۔
*▪️۳۳ھ* میں آپ نے افرنطینہ، ملطیۃ اور روم کے کچھ قلعے فتح کئے ۔
*▪️۳۵ھ* میں غزوہ ذی خشب پیش آیا اور آپ نے اس میں امیر لشکر کی حیثیت سے شرکت فرمائی۔
▪️ *۳۶ھ* میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہو گئے،اور اس کے بعد جنگ صفین وجمل کے مشہور واقعات پیش آئے۔
⭕آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا موقف اس سلسلے میں یہ تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ظلماً شہید کیا گیا ہے اس لئے قاتلوں سے قصاص لینے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے، اور قاتلوں سے جو نرمی برتی جارہی ہے، ان کو عہدوں پر مامور کیا جا رہا ہے اور وہ خلافت کے کاموں میں جو بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، اس سلسلے کو ختم کیا جائے۔
چنانچہ البدایہ والنہایہ میں مذکور واقعے سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس موقف کی مکمل وضاحت ہوتی ہے اور اس بے بنیاد الزام کی قلعی کھل جاتی ہے کہ آپ اقتدار کی خواہش کے لئے ایسا کر رہے تھے۔
نوٹ:-
( بقیہ واقعہ اگلی قسط میں ملاحظہ کیجئے) انشاءاللہ
14/02/2023
📚اصحاب صفہ آن لائن اکیڈمی📚
📙حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ،شخصیت کردار اور کارنامے📙
ازافادات: مولانا محمود اشرف عثمانی
✒️قسط نمبر:5
🌐حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تابعین کی نظر میں🌐
تابعین کرام میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کیا حیثیت تھی؟ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اپنے دور خلافت میں کبھی کسی کو کوڑوں سے نہیں مارا ،مگر ایک شخص جس نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر زبان درازی کی تھی، اس کے متعلق انہوں نے حکم دیا کہ *اسے کوڑے لگائے جائیں ۔*
🔸 (۲) حافظ ابن کثیر نے بیان کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مبارک جو مشہور تابعین میں سے ہیں، ان سے کسی نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں پوچھا، تو حضرت ابن المبارک جواب میں کہنے لگے : *"بھلا میں اس شخص کے بارے میں کیا کہوں؟ جس نے سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہو اور جب سرکار نے سمع الله لمن حمدہ کہا تو انہوں نے جواب میں "ربنا لک الحمد کہا ہو۔*
🔸 (۳) انہی عبداللہ بن المبارک سے ایک مرتبہ کسی نے سوال کیا کہ: یہ بتلائیے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز میں سے کون افضل ہے؟
سوال کرنےوالے نے ایک جانب اس صحابی کو رکھا جس پر طرح طرح کے اعتراضات کئے گئے تھے، اور دوسری طرف اس جلیل القدر تابعی کو جس کی جلالت شان پر تمام امت کا اتفاق ہے،
یہ سوال سن کر عبداللہ ابن المبارک غصے میں آگئے اور فرمایا:
*" تم ان دونوں کی آپس میں نسبت پوچھتے ہو، خدا کی قسم ! وہ مٹی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کرتے ہوئے حضرت معاویہ کی ناک کے سوراخ میں چلی گئی، وہ حضرت عمر بن عبد العزیز سے افضل ہے ۔*
اسی قسم کا سوال حضرت معافی بن عمران سے کیا گیا تو وہ بھی غضب ناک ہو گئے اور فرمایا:
*” بھلا ایک تابعی کسی صحابی کے برابر ہوسکتا ہے؟*
*حضرت معاویہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ان کی بہن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں تھیں، انہوں نے وحی خداوندی کی کتابت کی اور حفاظت کی ، بھلا ان کے مقام کو کوئی تابعی کیسے پہنچ سکتا ہے؟"*
اور پھر یہ حدیث پڑھ کر سنائی کہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :-
⚡ *"جس نے میرے اصحاب اور رشتہ داروں کو بُرا بھلا کہا اس پر اللہ کی لعنت ہو ۔"*
🔸(۴)مشہور تابعی حضرت احنف بن قیس اہل عرب میں بہت حلیم اور بردبار مشہور ہیں، ایک مرتبہ ان سے پوچھا گیا کہ
*بُردبار کون ہے* ؟ *آپ یا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ؟*
آپ نے فرمایا:
*" بخدا میں نے تم سے بڑا جاہل کوئی نہیں دیکھا، (حضرت ) معاویہ قدرت رکھتے ہوئے حلم اور بُردباری سے کام لیتے ہیں اور میں قدرت نہ رکھتے ہوئے* *بُردباری کرتا ہوں، لہذا میں ان سے کیسے بڑھ سکتا ہوں؟ یا ان کے برابر کیسے ہوسکتا ہوں؟