10/07/2024
میٹرک 2024 کے سالانہ نتاٸج کے حوالہ سے والدین کی خدمت میں دو اہم گزارشات :
1⃣ پہلی گزارش :
آپ کے بچوں کے میٹرک کے سالانہ امتحانات کے نتاٸج آچکے ہیں کچھ والدین کے بچوں نےان کی توقعات سے زیادہ جبکہ کچھ نے کم نمبر حاصل کیے ہوں گے ۔
🔵 پہلے مرحلہ میں ٹھنڈے دماغ سے رزلٹ کارڈ اور بچے کی سارا سال محنت کا موازنہ کیجیے ۔
اس موازنہ کے دوران امتحانات کے دنوں میں بچے کی جسمانی صحت کے علاوہ گھر کے اندر اور امتحانی سنٹر میں گزرے اوقات کا بھی گہراٸی سے جاٸزہ لیں۔
ان ساری باتوں کو مدنظر رکھتے ہوٸے بچے کو حکمت کے ساتھ تنبیہ ضرور کریں کیونکہ امتحانات کے نتاٸج کے بعد بچے جس طرح والدین کی طرف سے انعامات کے منتظر ہوتے ہیں
اسی طرح انہیں اس بات کا بھی یقین ہوتا ہے کہ اچھی کارکردگی نہ دکھانے پر ہمیں سرزنش کا سامنا بھی کرنا پڑے گا ۔
🔵 دوسرے مرحلہ میں کم نمبرز والے پرچہ جات کی ری چیکنگ یا دوبارہ امتحان سے بچے کے نمبرز کو بہتر بنانے کا اسے حق ضرور دیں ۔
2⃣ دوسری گزارش :
یہ بات تو درست ہے کہ پاکستان کے نظام تعلیم میں میٹرک کی سند کسی بھی بچے کی اکیڈمک تعلیم میں سب سے پہلی ڈگری کا درجہ رکھتی ہے۔ اور FSC اور دیگر مقابلہ کے امتحانات میں میٹرک کے نمبر بہرحال اہمیت رکھتے ہیں لیکن ان کا قطعی طور پر یہ مطلب نہیں کہ میٹرک میں 1000 سے کم یا سیکنڈ ڈویژن لینے والے بچے عملی زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے لہذا
اپنے کسی عمل یا بات کی وجہ سے بچے کی حوصلہ شکنی مت کریں ۔
🔵 بچوں کو بتلاٸیں بیٹا : ہر ناکامی ایک بہت بڑی کامیابی کا زینہ ہوا کرتی ہے ۔ میٹرک پہلی اور آخری سیڑھی نہیں،
دنیا کی تاریخ میں آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میٹرک میں کم نمبر لینے والوں کا مستقبل تباہ ہو گیا ہو ۔
ابھی آپ کے لیے آگے بڑھنے اور خود کو منوانے کے بے شمار مواقع ہیں۔ ہمیشہ وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنی غلطیوں سے عبرت پکڑتے ہیں ۔ اور آٸندہ انہیں نا دہرانے کا عزم کرتے ہیں ۔
نشرمکرر
عزیز الرحمن تخت بھائی