Government High School Kedam, District Swat.

Government High School Kedam, District Swat. Government High School Kedam , District Swat Established in 1986 as High School

25/01/2023

*قوموں کے عروج و زوال کا راز*

اس وقت تعلیمی درجہ بندی کے اعتبار سے فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے جبکہ سپر پاور امریکا 20ویں نمبر پر ہے، 2023ء تک فن لینڈ دنیا کا واحد ملک ہو گا جہاں مضمون نام کی کوئی چیز اسکولوں میں نہیں پائی جاتی، فن لینڈ کا کوئی بھی اسکول زیادہ سے زیادہ 195 بچوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ 19 بچوں پر ایک ٹیچر۔

دنیا میں سب سے لمبی بریک بھی فن لینڈ میں ہی ہوتی ہے، بچے اپنے اسکول ٹائم کا 75 منٹ بریک میں گزارتے ہیں، دوسرے نمبر پر 57 منٹ کی بریک نیو یارک کے اسکولوں میں ہوتی ہے جبکہ ہمارے یہاں اگر والدین کو پتہ چل جائے کہ کوئی اسکول بچوں کو ”پڑھانے” کے بجائے اتنی لمبی بریک دیتا ہے تو وہ اگلے دن ہی بچے اسکول سے نکلوالیں، خیر آپ دلچسپ بات ملاحظہ کریں کہ پورے ہفتے میں اسکولوں میں محض 20 گھنٹے پڑھائی ہوتی ہے جبکہ اساتذہ کے 2 گھنٹے روز اپنی ”اسکلز” بڑھانے پر صرف ہوتے ہیں۔

سات سال سے پہلے بچوں کے لیے پورے ملک میں کوئی اسکول نہیں ہے اور پندرہ سال سے پہلے کسی بھی قسم کا کوئی باقاعدہ امتحان بھی نہیں ہے، ریاضی کے ایک استاد سے پوچھا گیا کہ آپ بچوں کو کیا سکھاتے ہیں تو وہ مسکراتے ہوئے بولے ”میں بچوں کو خوش رہنا اور دوسروں کو خوش رکھنا سکھاتا ہوں کیونکہ اس طرح وہ زندگی کہ ہر سوال کو با آسانی حل کر سکتے ہیں “۔

آپ جاپان کی مثال لے لیں کہ تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھا یا جاتا ہے اور وہ ”اخلاقیات” اور ”آداب” ہیں، حضرت علیؓ نے فرمایا “جس میں ادب نہیں اس میں دین نہیں“ مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اور ہمیں ابھی تک ان کی یہ بات معلوم کیوں نہ ہو سکی بہر حال اس پر عمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے۔

ہمارے ایک دوست جاپان گئے اور ایئر پورٹ پر پہنچ کر انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اور پھر ان کو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں، اشفاق احمد صاحب مرحوم کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا اور انہوں نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ میں استاد ہوں، وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور اس دن مجھے معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز استادوں کی عزت میں ہے اور یہی قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز۔

جاپان میں معاشرتی علوم ”پڑھائی” نہیں جاتی ہے کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہے پڑھانے کی نہیں اور وہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کے ساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں، جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں، صبح آٹھ بجے اسکول آنے کے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے۔

دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریں جو صرف نقل اور چھپائی پر مشتمل ہے، ہمارے بچے ”پبلشرز” بن چکے ہیں، آپ تماشہ دیکھیں جو کتاب میں لکھا ہوتا ہے اساتذہ اسی کو بورڈ پر نقل کرتے ہیں، بچے دوبارہ اسی کو کاپی پر چھاپ دیتے ہیں، اساتذہ اسی نقل شدہ اور چھپے ہوئے مواد کو امتحان میں دیتے ہیں، خود ہی اہم سوالوں پر نشانات لگواتے ہیں اور خود ہی پیپر بناتے ہیں اور خود ہی اس کو چیک کر کے خود نمبر بھی دے دیتے ہیں،
بچے کے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ بھی خود ہی صادر کردیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اور قابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں، جن کے بچے فیل ہو جاتے ہیں وہ اس نتیجے پر افسوس کرتے رہتے ہیں اور اپنے بچے کو ”کوڑھ مغز” اور ”کند ذہن” کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔

ہم 13، 14 سال تک بچوں کو قطار میں کھڑا کر کر کے اسمبلی کرواتے ہیں اور وہ اسکول سے فارغ ہوتے ہی قطار کو توڑ کر اپنا کام کرواتے ہیں، جو جتنے بڑے اسکول سے پڑھا ہوتا ہے قطار کو روندتے ہوئے سب سے پہلے اپنا کام کروانے کا ہنر جانتا ہے، طالبعلموں کا اسکول میں سارا وقت سائنس ”رٹتے” گزرتا ہے اور آپ کو پورے ملک میں کوئی ”سائنس دان” نامی چیز نظر نہیں آئے گی کیونکہ بدقسمتی سے سائنس ”سیکھنے” کی اور خود تجربہ کرنے کی چیز ہے اور ہم اسے بھی ”رٹّا” لگواتے ہیں۔

آپ حیران ہوں گے کہ میٹرک کلاس کا پہلا امتحان 1858ء میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ بر صغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اس لیے ہمارے پاس ”پاسنگ مارکس” 65 ہیں تو بر صغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں، دو سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس 33 کر دئیے گئے اور ہم اب بھی ان ہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں.....

التماسِ دعا:
اَللّٰهُمَّ صَلِ٘ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَّمَدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرٰھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاهِيمَ اِنَّکَ حٓمِیٌدٌ م٘ٓجِیُد۔
اَللّٰهُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّد ٍوَّعَلٰی آلِ مُحَّمَدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاهِيمَ اِنَّکَ حٓمِیٌدٌ م٘ٓجِیُد۔

09/01/2023
12/12/2022



بورڈ نے امتحانی طریقہ کار کو تبدیل کرتے ہوۓ SLO بیسڈ یعنی Student Learning Outcomes کی بنیاد پر کیا ہے۔
اس طریقہ کارمیں Book میں دیا گئے ٹاپکس اہم ہوتے ہیں اور ان ٹاپکس کو طالب علم نے مختلف resources اور Reference books سے تیار کرنا ہوتا ہے۔

فی الوقت کے پی ٹیکسٹ بکس میں موجود content کو تین بنیادی حصوں میں تقسیم کر کے پیپر تیار کیے جا رہے ہیں
1. :
اس حصہ میں کتاب میں دی گئی تعریفیں اور انفارمیشن بیسڈ سوالات شامل ہیں۔ یہ حصہ مشقی سوالات وغیرہ پر مشتمل ہے جس میں بچے کی memory کو ٹیسٹ کیا جاۓ گا۔یہ حصہ کل پیپر کے 40% سوالات پر مشتمل ہے
مثلا فزکس کی تعریف کریں یا اسلام کے بنیادی عقائد لکھیں وغیرہ
2. :
اس حصہ میں content کا وہ حصہ شامل ہے جو Applied knowledge پر مشتمل ہے یعنی جو ٹاپک پڑھا جاۓ اس کا روزمرہ زندگی میں استعمال کیا ہے۔یہ حصہ کل پیپر کے 30% سوالات پر مشتمل ہے۔
مثلا آپ بطور طالب علم نماز پنجگانہ کا اہتمام کیسے کرتے ہیں؟ یا مررز کو بطور رفلیکٹر استعمال کرتے ہوۓ انرجی کیسے حاصل کریں گے؟
3. :
اس حصہ کو صحیح معنوں میں Concept بلڈنگ کہتے ہیں دراصل Application بیسڈ سوالات ان سے ہی Derive ہوتے ہیں۔ اس حصہ میں اعلی تصوراتی سوالات، derivations, correlations اور ٹاپک کی depth مراد ہے۔ یہ حصہ بچے کو تنگ کر سکتا ہے یہ سوالات کل پرچہ کا 30% ہوں گے۔
مثلا آپ 5 ملین پاؤنڈ پانی بغیر کسی سہارے ہوا میں کیسے معلق کریں گے؟

اس طریقہ امتحان سے بچے کی critical تھنکنگ بہتر ہو گی اور روایتی رٹا سسٹم اور Past papers cramming سے چھٹکارا مل جاۓ بالخصوص بچے کو رٹا مشین بنانے کی بجاۓ سکھانے پر فوکس ہو گا.
اداروں کےلیے لازمی ہے کہ وہ اپنے سلیبس کو نئے پیٹرن کے مطابق تشکیل دے کر بچوں کی Assessment کریں تاکہ پہلےسے رائج طریقہ تدریس اور طریقہ امتحان سے نکل کر جدید طریقہ امتحان پر شفٹ ہوا جا سکے۔

مختصر یہ کہ، سوالات کی نوعیت *کیا* سے *کیوں* کی طرف ہو سکتی ہے۔
مزید یہ کہ معروضی کی تیاری مکمل کتاب سے ضروری ہے، باقی مختصر سوالات میں کچھ چوائس ہوتی ہے۔

اللہ ربّ العزت سے دعا ہے سب پڑھنے اور پڑھانے والوں کے لئیے آسانیاں عطا فرمائے اور دنیا و آخرت کے تمام امتحانات میں کامیابیاں عطا فرمائے۔

آمین یا ربّ العالمین۔
💥New Scheme pattern paper 2023

15/11/2022

*ٹیچر کسے کہتے ہیں؟*

ﺁﭖ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺍﯾﮏ *Teacher* ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ *mostly* ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ *Teacher* ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎﺗﺎ ﮨﮯ , ﺳﮑﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ....
ﺁﭖ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ , ﻣﮕﺮ *Teacher* ﮐﯽ ﺩﻭﺭِ ﺟﺪﯾﺪ ﮐﯽ , ﻣﺎﮈﺭﻥ *Definition* ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺗﻮ ﻭﮦ *definition* ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ

*TEACHER is equal to Motivator*۔۔
ﺍﮔﺮ ﭨﯿﭽﺮ *Motivate* ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﻭﮦ ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ , ﭘﮍﮬﺎ ﺩﯾﻨﺎ , ﺑﺘﺎﺩﯾﻨﺎ , ﺳمجھا دینا ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ , ﺍﯾﮏ Spark ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﺎ will, ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﺎﯾﮧ ﺍﺻﻞ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ .
ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﭨﯿﭽﻨﮓ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ licence ( ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﺎﻣﮧ ) ﻟﮯ ﮐﺮ Teach ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺏ ﺍﺱ *Teaching licence* ﮐﻮ ﺍﯾﺸﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ 6 ﻣﯿﺠﺮ ﮐﻮﺍﻟﭩﯿﺰ ﮐﻮ ﭼﯿﮏ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ...

*1 Subject Grip*
ﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻄﻠﻮﺑﮧ ﺳﺒﺠﯿﮑﭧ ﭘﺮ ﮐﻤﺎﻧﮉ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺍﭼﮭﺎ ﭨﯿﭽﺮ ﮨﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ common ﮨﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﯽ ﺳﺒﺠﯿﮑﭧ ﮔﺮﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻓﻮﮐﺲ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺁﭘﮑﯽ ﺳﺒﺠﯿﮑﭧ ﮔﺮﭖ *Upgraded* ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ؟
ﻋﻤﻮﻣﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻭﮨﯽ *knowledge* ﮨﻢ carry ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﮈﮔﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ...

*2 Communication Skills*
ﯾﮧ ﺑﮩﺖ *important* ﭘﻮﺍﺋﻨﭧ ﮨﮯ , ﮐﻤﯿﻮﻧﯿﮑﺸﻦ skill ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﯾﮧ ﻓﻦ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﺳﻄﺢ ﭘﺮ ﺁﮐﺮ ﺍﺳﮑﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﺋﯿﮟ .

*3 Social Genius*
ﺍﺱ ﺧﺎﺹ *terminology* ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻠﻨﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮨﻮ , ﻣﻠﻨﺴﺎﺭ ﮨﻮﻧﺎ . ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﯽ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺳﮑﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ , ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ .
*4. Motivation*
ﭨﯿﭽﺮ ﻣﯿﮟ motivation ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ , ﺟﺬﺑﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ *spark*, ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ .

*5 A True Learner*
ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﻮ , ﺍﮔﺮﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻢ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ علم کا ﭘﯿﺎﺳﺎ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ ﮔﯿﮟ ؟

*6 Progressive Attitude*
ایک ٹیچر کے لیے ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﻮﻧﺎ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﮯ , ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﭨﯿﭽﺮ ﻭﮦ ﮨﮯ جو ﺍﺱ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎئے گا, ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ وہ ﻗﻮﻡ ﮐﻮﮐﯿﺎ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎئے گا... شکریہ

08/06/2022

*گرمی کی چھٹیوں میں ٹین ایج کو کیسے ایکٹو رکھنا ھے کہ موبائل سے دور رہیں اپنا اسکول کا کام بھی ڈیلی* *روٹین میں رکھیں اور اچھا وقت* *گزاریں* ....

جواب 👇

✍️ ٹائم ٹیبل بنائیں

✍️ ایکسرسائز ، واک، جم، سوئمنگ وغیرہ کو باقاعدگی سے کریں

✍️بچے پر ذمہ داری ڈالیں جیسے شام کی چائے، پودوں کو پانی، گھر کی صفائی، کپڑے استری کرنا ، چیزیں سمیٹ کر رکھنا کوئی بھی کام جو آپ دینا چاہے وہ ان کی responsiblity میں شامل کر دیں کے انہوں نے کرنے ہی کرنے ہیں۔

✍️کتب بینی کی عادت ڈالیں بلکہ کتاب خود بھی پڑھیں اور پھر بچوں کے ساتھ اس کو ڈسکس کریں کے کیا پڑھا، کیا سیکھا ، کیا سبق ملا.

✍️کریٹو رائٹنگ creative writing سکھائیں اس کی مدد سے بچے معاملہ فہمی بھی سیکھ سکیں گے۔ کوئی بھی ٹاپک دیجیے اور اس پر لکھنا کا کہیں.

✍️پرابلم سولونگ problem solving سکھائیں۔ کوئی بھی مسئلہassume کیجئے انہیں وہ سچویشن دیجئے اور پوچھیں کے اس صورتحال کو کیسے ہینڈل کیا جاسکتا ہے یا اگر انہیں کبھی اس سچویشن کا سامنا کرنا پڑے تو وہ کیسے ہینڈل کریں گے اور پھر بہتر طریقہ بتائیں۔

✍️زیادہ فوکس سکل ڈویلپمنٹ پر کریں کمیونیکیشن سکلز لازمی سکھائیں اور ان کو سکھانے کے لئے بچے کو مختلف ٹاپکس ، مختلف پرابلمز ، مختلف سچویشنز پر بولنے کا کہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔۔۔

✍️اس کے علاوہ جو بھی سکل آپکے بچے میں یے اسکو پالش کرنے میں اس کی مدد کریں
پینٹنگ ، رائیٹنگ ، سکیچنگ ، کوکنگ، ڈیزائینگ ، گارڈننگ وغیرہ

✍️آنلائن فریلانسنگ کورسز سکھائیں۔

✍️ٹین ایج بچے کو مذہب کی طرف راغب کرنے،اس کی تعلیم دینے کی بہترین عمر ہے اس لیے قرآن پاک کے ترجمہ تفسیر وغیرہ بھی پڑھائیں اور ان پر healthy discussion بھی کریں۔۔

✍️اس عمر میں بچوں میں بہت سی جسمانی اور جذباتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہوتی ہیں ان کے پیش نظر اپنے بچے کو اپنے سے بہت قریب رکھیں تاکہ وہ ہمیشہ مشکل اور پریشانی میں آپ کے پاس ہی ائے۔ بچے کو اعتماد دیجئے کے وہ اپنی ہر بات ہر مسئلہ کھل کر آپ سے ڈسکس اور شئیر کر سکتا ہے اور یہ اعتماد دینے کے لیے ضروری ہے کے آپ خود بچے کے ساتھ اپنی چھوٹی چھوٹی پرابلمز ڈسکس کیجئے اور ان سے مشورہ لیجئے۔۔

✍️بچوں کو appreciate کیجئے طنز و تنقید کم سے کم کریں اور healthy discussions کو معمول کا حصہ بنائیں۔
برائے مہربانی اس تحریر کو شئیر یا فارورڈ کیا جائے
Copied: M. Zahir

❂▬▬▬๑۩۞۩๑▬▬▬❂

03/06/2022

Congratulations!
Seraj Torwali took over as the new Head Master of Government High School Kedam.
Hope Seraj will contribute with full zeal and enthusiasm towards the betterment of the community

Winter vacations 24th of December, 2021 to 28th of February ,2022.
17/12/2021

Winter vacations 24th of December, 2021 to 28th of February ,2022.

16/12/2021

Two students from Government High School Kedam
have been selected for Prestigious Scholarship from KP Government.
Congratulations Shamshir Ali and Fazal Ghufar for securing this award 🥇

Results SSC (A)Exam 2021 GHS Kedam
19/09/2021

Results SSC (A)Exam 2021 GHS Kedam

19/09/2021

اللہ کے فصل وکرم سے گورنمنٹ ہائی سکول کیدام جماعت دھم کے تمام طلبہ Students پاس ہوگئے ہیں۔ تفصیلات بہت جلد سکول پیج پر شئیر کئے جائینگے۔

Address

7 Kilometers From Bahrain Towards Kalam
Swata

Telephone

+923139453994

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Government High School Kedam, District Swat. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Government High School Kedam, District Swat.:

Shortcuts

Share

Category