GPS Waliabad Swat

GPS Waliabad Swat

Share

An educational institute established as GMPS on 07-03-1990 and upgraded(constructed) to GPS in 2016.

07/12/2025
24/10/2025

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَ عَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّكَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ

اَللّٰھُمَّ بَارِكْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَ عَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّكَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ

24/10/2025

*"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"*
*دلوں کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہی ہے .
بے شک الحمدللہ*
*💯* ♥️

17/10/2025

*❁بِسْــــــــــــــــــمِ اﷲِالرَّحْمَنِ اارَّحِيم❁۔

*اَللّٰھُمَّ صَــّلِ عَلٰی ,مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ*🌸

*اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ،*🌸

14/08/2025

Photos from GPS Waliabad Swat's post 14/08/2025

SDEOCharbagh School Leaders Swat

14/08/2025

❤ sy 🇵🇰

11/03/2025

*سیرت النبی ﷺ*
*(قسط نمبر 57)*

حضرت عمر رضی الله عنہ کے قبول اسلام کا واقعہ 6 نبوی کا ہے.. وہ حضرت حمزہ رضی الله عنہ کے صرف تین دن بعد مسلمان ہوئے تھے.. قریش کے سربر آوردہ اشخاص میں ابوجہل اور حضرت عمر رضی الله عنہ اسلام اور آنحضرتﷺ کی دشمنی میں سب سے زیادہ سرگرم تھے اس لئے آنحضرت ﷺ نے خصوصیت کے ساتھ ان ہی دونوں کے لئے اسلام کی دعا فرمائی..

اعزالاسلام باحدالرجلین اما ابن ہشام واماعمر بن الخطاب..

"اے اللہ ! اسلام کو ابو جہل یا عمر بن الخطاب (رضی الله عنہ) سے معزز کر.."
(جامع ترمذی , مناقب عمر)

اسی طرح طبرانی نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا..

اَ لّٰھُمَّ اَعِزَّ الاِسلاَمِ بِاَحَبِّ الَّجُلَینِ اِلَیکَ بعمر بن الخطاب اَو بِاَبِی جہل بن ہشام

"اے اللہ ! عمر بن الخطاب اور ابوجہل بن ہشام میں سے جو شخص تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے اس کے ذریعے سے اسلام کو قوّت پہنچا.."

مگر یہ دولت تو قسام ازل نے حضرت عمر رضی الله عنہ کی قسمت میں لکھ دی تھی , ابوجہل کے حصہ میں کیونکر آتی..؟ اس دعائے مستجاب کا اثر یہ ہوا کہ کچھ دنوں کے بعد اسلام کا یہ سب سے بڑا دشمن اس کا سب سے بڑا دوست اور سب سے بڑا جاں نثار بن گیا یعنی حضرت عمر رضی الله عنہ کا دامن دولت ایمان سے بھر گیا..

ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَاءُ"
تاریخ و سیر کی کتابوں میں حضرت عمر کی تفصیلات اسلام میں اختلاف ہے.. ایک مشہور واقعہ جس کو عام طور پر ارباب سیر لکھتے ہیں , یہ ہے..

حضور اکرم ﷺ کی بعثت کے وقت حضرت عمر رضی الله عنہ کی عمر ستائیس سال تھی.. حضرت عمر رضی الله عنہ اپنی تند مزاجی اور سخت خوئی کے لئے مشہور تھے.. مسلمانوں نے طویل عرصے تک ان کے ہاتھوں طرح طرح کی سختیاں جھیلی تھیں..

حضرت عمر رضی الله عنہ کی بہن فاطمہ رضی الله عنہا کا نکاح حضرت سعید بن زید رضی الله عنہ سے ہوا تھا جو اسلام قبول کر چکے تھے.. حضرت فاطمہ رضی الله عنہا بھی اسلام قبول کر چکی تھیں لیکن حضرت عمر رضی الله عنہ ابھی تک اسلام سے بیگانہ تھے.. قبیلہ کے جو لوگ اسلام لا چکے تھے حضرت عمر رضی الله عنہ ان کے دشمن ہو گئے.. لبینہ رضی الله عنہا ان کے خاندان کی کنیز تھی جس نے اسلام قبول کرلیا تھا.. اس کو بے تحاشہ مارتے.. مارتے مارتے تھک جاتے تو کہتے کہ"دم لے لوں تو پھر ماروں گا".. لبینہ رضی الله عنہا کے علاوہ اور جس جس پر قابو چلتا اس کو خوب مارتے تھے لیکن ایک شخص کو بھی وہ اسلام سے دل بر داشتہ نہ کرسکے.. آخر مجبور ہو کر (نعوذ باللہ) خود حضور ﷺ کے قتل کا ارادہ کیا اور تلوار حمائل کرکے سیدھے حضور ﷺ کے مکان کی طرف چلے..
راستہ میں بنی زہرہ کے نعیم بن عبداللہ النّحام رضی الله عنہ سے ملاقات ہوئی.. پوچھا.. "کدھر کا ارادہ ہے..؟" جواب دیا کہ "محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ کرنے جاتا ہوں.." انہوں نے کہا.. "محمد (ﷺ) کو قتل کرکے بنو ہاشم اور بنو زہرہ سے کیسے بچ سکو گے..؟"

حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا.. "معلوم ہوتا ہے تم بھی اپنا پچھلا دین چھوڑ کر بے دین ہو چکے ہو.."

نعیم بن عبداللہ رضی الله عنہ نے کہا.. "عمر ! ایک عجیب بات نہ بتا دوں..؟ تمہاری بہن اور بہنوئی بھی تمہارا دین چھوڑ کر "بے دین" ہوچکے ہیں.. پہلے اپنے گھر کی خبر لو.."

یہ سن کے غصے سے بے قابو ہوگئے اور سیدھے بہن بہنوئی کا رخ کیا.. وہاں انہیں حضرت خباب بن ارت رضی الله عنہ سورۂ طہٰ پر مشتمل ایک صحیفہ پڑھا رہے تھے اور قرآن پڑھانے کے لئے وہاں آنا جانا حضرت خباب رضی الله عنہ کا معمول تھا.. بات یہ تھی کہ جب کوئی محتاج شخص مسلمان ہوتا تو حضور ﷺ اسے کسی آسودہ حال صحابی کے سپرد کر دیتے تاکہ اس کی ضروریات کی کفالت کرے.. اُم انمار کے غلام حضرت خبّاب بن ارت رضی الله عنہ ایمان لائے تو انہیں حضرت سعید بن زید رضی الله عنہ کے سپرد کیا گیا.. یہ دونوں حضرت خبّاب بن ارت رضی الله عنہ ہی سے قرآن سیکھ رہے تھے..

جب حضرت خباب رضی الله عنہ نے حضرت عمر رضی الله عنہ کی آہٹ سنی تو گھر کے اندر چھپ گئے.. ادھر حضرت عمر رضی الله عنہ کی بہن فاطمہ رضی الله عنہا نے صحیفہ چھپا دیا لیکن حضرت عمر رضی الله عنہ گھر کے قریب پہنچ کر حضرت خباب رضی الله عنہ کی قراءت سن چکے تھے.. چنانچہ پوچھا.. "یہ کیسی دھیمی دھیمی آواز تھی جو تم لوگوں کے پاس میں نے سنی تھی..؟"

انہوں نے کہا.. "کچھ بھی نہیں.. بس ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے.."

حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا.. "غالبا" تم دونوں بے دین ہوچکے ہو.."
بہنوئی نے کہا.. "اچھا عمر ! یہ بتاؤ اگر حق تمہارے دین کے بجائے کسی اور دین میں ہو تو..؟"

حضرت عمر رضی الله عنہ کا اتنا سننا تھا کہ اپنے بہنوئی پر چڑھ بیٹھے اور انہیں بری طرح کچل دیا.. ان کی بہن نے لپک کر انہیں اپنے شوہر سے الگ کیا تو بہن کو ایسا چانٹا مارا کہ چہرہ خون آلود ہوگیا..

بہن نے جوش غضب میں کہا.. "عمر ! اگر تیرے دین کے بجائے دوسرا ہی دین برحق ہو تو..؟ أشھد أن لا الٰہ الا اللّٰہ وأشھد أنَّ محمدًا رسول اللّٰہ. میں شہادت دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور میں شہادت دیتی ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں.."

یہ سن کر حضرت عمر رضی الله عنہ پر مایوسی کے بادل چھا گئے اور انہیں اپنی بہن کے چہرے پر خون دیکھ کر شرم و ندامت بھی محسوس ہوئی.. کہنے لگے.. "اچھا یہ کتاب جو تمہارے پاس ہے ذرا مجھے بھی پڑھنے کو دو.."

بہن نے کہا.. "تم ناپاک ہو.. اس کتا ب کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں.. اٹھو غسل کرو.." حضرت عمر رضی الله عنہ نے اٹھ کر غسل کیا.. پھر کتاب لی اور پڑھی.. کہنے لگے.. "یہ تو بڑے پاکیزہ نام ہیں.." اس کے بعد سے (۲۰: ۱۴) تک قراءت کی.. کہنے لگے.. "یہ تو بڑا عمدہ اور بڑا محترم کلام ہے.. مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پتہ بتاؤ.."

حضرت خباب رضی الله عنہ حضرت عمر رضی الله عنہ کے یہ فقرے سن کر اندر سے باہر آگئے.. کہنے لگے.. "عمر ! خوش ہو جاؤ.. مجھے امید ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعرات کی رات تمہارے متعلق جو دعا کی تھی (کہ اے اللہ ! عمر بن خطاب یا ابو جہل بن ہشام کے ذریعے اسلام کو قوت پہنچا) یہ وہی ہے اور اس وقت رسول اللہ ﷺ کوہ صفا کے پاس حضرت ارقم کے مکان میں تشریف فرما ہیں.."

یہ سن کر حضرت عمر رضی الله عنہ نے اپنی تلوار حمائل کی اور اس گھر کے پاس آکر دروازے پر دستک دی.. ایک آدمی نے اٹھ کر دروازے کی دراز سے جھانکا تو دیکھا کہ عمر تلوار حمائل کئے موجود ہیں.. لپک کر رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی اور سارے لوگ سمٹ کر یکجا ہوگئے..

حضرت حمزہ رضی الله عنہ نے پوچھا.. "کیا بات ہے..؟"

لوگوں نے کہا.. "عمر ہیں.."

حضرت حمزہ رضی الله عنہ نے کہا.. "بس ! عمر ہے.. دروازہ کھول دو.. اگر وہ خیر کی نیت سے آیا ہے تو بہتر ہے اور اگر کوئی برا ارادہ لے کر آیا ہے تو اسی کی تلوار سے اس کا سر قلم کر دونگا.."·------

============(باقی آئندہ ان شآءاللہ)

سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی..
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..

11/03/2025

*سیرت النبی ﷺ*
*(قسط نمبر 56)*

جب مشرکین اپنی چال میں کامیاب نہ ہوسکے اور مہاجرینِ حبشہ کو واپس لانے کی کوشش میں منہ کی کھانی پڑی تو آپے سے باہر ہوگئے اور لگتا تھا کہ غیظ وغضب سے پھٹ پڑیں گے.. چنانچہ ان کی درندگی اور بڑھ گئی.. جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو اب مکہ میں جو مسلمان بچے کھچے رہ گئے تھے وہ بہت ہی تھوڑے تھے اور پھر صاحب شرف وعزت بھی تھے یا کسی بڑے شخص کی پناہ میں تھے.. اس کے ساتھ ہی وہ اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے بھی تھے اور حتی الامکان سرکشوں اور ظالموں کی نگاہوں سے دور رہتے تھے مگر اس احتیاط اور بچاؤ کے باوجود بھی وہ ظلم وجور اور ایذاء رسانی سے مکمل طور پر محفوظ نہ رہ سکے..

مکہ کی فضا ظلم وجور کے ان سیاہ بادلوں سے گھمبیر تھی کہ اچانک ایک بجلی چمکی اور مقہوروں کا راستہ روشن ہوگیا یعنی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوگئے.. ان کے اسلام لانے کا واقعہ 6 نبوی کے اخیر کا ہے اور اغلب یہ ہے کہ وہ ماہ ذی الحجہ میں مسلمان ہوئے تھے..

حضور اکرم ﷺ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ سے خاص محبت تھی.. وہ آپ ﷺ سے دو تین سال بڑے تھے اور ساتھ کے کھیلے تھے.. دونوں نے ثویبہ رضی اللہ عنہا کا دودھ پیا تھا اور اس رشتہ سے آپ ﷺ کے دودھ شریک بھائی تھے.. وہ ابھی تک اسلام قبول نہیں کئے تھے لیکن حضور ﷺ کی ہر ادا کو محبت کی نظر سے دیکھتے تھے..

ان کا مذاقِ طبیعت شکار اور سپاہ گری تھا.. ان کا معمول تھا کہ منہ اندھیرے تیر کمان لے کر نکل جاتے اور دن بھر کے شکار کے بعد شام میں واپس ہوتے تو پہلے حرم میں جاتے اور طواف کے بعد قریش کے سرداروں کے پاس جاتے جو صحنِ حرم میں بیٹھا کرتے تھے.. اس طرح سب سے ان کی دوستی تھی اور سب ان کی قدر کرتے تھے..
ایک روز آنحضرت ﷺ صفا کی پہاڑی پر سے گزر رہے تھے کہ ابوجہل کا سامنا ہوا.. وہ آپ ﷺ کا ازلی دشمن تھا.. اس نے آپ ﷺ کو تنہا دیکھ کر گالیاں دیں اور سخت بدکلامی کی..
رسول اللہ ﷺ خاموش رہے اور کچھ بھی نہ کہا لیکن اس کے بعد اس نے آپ ﷺ کے سر پر ایک پتھر دے مارا جس سے ایسی چوٹ آئی کہ خون بہہ نکلا.. پھر وہ خانہ کعبہ کے پاس قریش کی مجلس میں جا بیٹھا..

دور سے "عبداللہ بن جدعان" کی آزاد کردہ کنیز کوہ صفاء پر واقع اپنے مکان سے یہ سب دیکھ رہی تھی.. جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شکار سے واپس ہوئے تو اس کنیز نے سارا ماجرا سنایا.. حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ غصے سے بھڑک اٹھے..

یہ قریش کے سب سے طاقتور اور مضبوط جوان تھے.. ماجرا سن کر ایک لمحہ رکے بغیر دوڑتے ہوئے اور مشتعل ہو کر ابوجہل کی تلاش میں نکلے تو دیکھا کہ وہ مسجد حرام میں بنی مخزوم کے حلقہ میں بیٹھا ہے.. سیدھے وہیں پہنچے اور کہا.. "تو میرے بھتیجے کو گالی دیتا ہے ؟ (تیری اتنی جرآت ؟.. لو) میں بھی اسی کے دین پر ہوں.. (اب مجھے بھی گالی دے کر دکھاو).. اس کے بعد کمان اس کے سر پر اس زور کی ماری کہ اس کے سر پر زخم آگیا..

اس پر ابوجہل کے قبیلے بنو مخزوم اور حضرت حمزہ کے قبیلے بنو ہاشم کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف بھڑک اٹھے لیکن ابوجہل نے یہ کہہ کر انہیں خاموش کردیا کہ ابوعمارہ کو جانے دو.. میں نے واقعی اس کے بھتیجے کو بہت بری گالی دی تھی..

ابتدا میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا اسلام محض اس حمیت کے طور پر تھا کہ ان کے عزیز کی توہین کیوں کی گئی.. حضور ﷺ کی حمایت میں انہوں نے اسلام کا اظہار تو کردیا لیکن گھر پر آئے تو متردد تھے کہ آبائی دین کو دفعتا" کیوں کر چھوڑ دوں.. تمام دن کی غور و فکر کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ دین حق یہی ہے.. اس کے بعد حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں "دار ِارقم" میں حاضر ہوئے اور کہا.. "برادر زادے ! خوش ہو جاؤ کہ میں نے ابوجہل سے آپ کا بدلہ لے لیا ہے.."
آپ ﷺ نے فرمایا.. "چچا ! میں تو اس وقت خوش ہوتا جب آپ دینِ اسلام قبول کر لیتے.."

یہ سن کر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھ لیا.. حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد قریش نے سمجھ لیا کہ آنحضرت ﷺ کو قوت کے ساتھ حفاظت و حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے اس لئے آپ ﷺ کو ستانا چھوڑ دیا..

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے غزوۂ بدر میں عتبہ کو قتل کیا.. 3 ہجری میں غزوۂ اُحد میں شہید ہوئے.. حضور ﷺ نے سیدالشہدأ کا خطاب دیا.. اسداللہ ان کا لقب تھا..

دار ِارقم..

کعبہ کے مقابل کوہِ صفا پر واقع حضرت ارقم بن ابی الارقم مخزومی رضی اللہ عنہ کے مکان کو اسلام کے پہلے مرکز کی حیثیت سے شہرت حاصل ہوئی.. یہ مکان سرکشوں کی نگاہوں اور ان کی مجلسوں سے دور کوہ صفا کے دامن میں الگ تھلگ واقع تھا.. رسول اللہﷺ نے اسے اس مقصد کے لئے منتخب فرمایا کہ یہاں مسلمانوں کے ساتھ خفیہ طور پر جمع ہوں.. چنانچہ آپ ﷺ یہاں اطمینان سے بیٹھ کر مسلمانوں پر اللہ کی آیات تلاوت فرماتے , ان کا تزکیہ کرتے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتے.. مسلمان بھی امن وسلامتی کے ساتھ اپنی عبادت اور اپنے دینی اعمال انجام دیتے اور اللہ کی نازل کی ہوئی وحی سیکھتے.. جو آدمی اسلام لانا چاہتا , یہاں آکر خاموشی سے مسلمان ہوجاتا اور ظلم وانتقام پر اترے ہوئے سرکشوں کو اس کی خبر نہ ہوتی.. روزانہ کوئی نہ کوئی شخص آتا اور اسلام قبول کرتا.. اس طرح ایمان لانے والوں کی تعداد بڑھتے بڑھتے 38 ہو گئی..
دار ارقم میں ایمان لانے والے 39 ویں صحابی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تھے.. یہیں پر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کے صرف تین دن بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی آ کر اسلام قبول کیا.. حضرت عمر رضی اللہ عنہ چالیسویں صحابی تھے.. ان کے قبول اسلام کا واقعہ تفصیل کے ساتھ اگلی قسط میں بیان کیا جائے گا۔

============(باقی آئندہ ان شآءاللہ
سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی..
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..
الرحیق المختوم اردو..

11/03/2025

*سیرت النبی ﷺ*
*(قسط نمبر 55*)

دوسرے دن مسلمان حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اپنا ترجمان بنا کر نجاشی کے دربار میں حاضر ہوئے.. مسلمان یہ تہیہ کرکے اس کے دربار میں آئے کہ ہم سچ ہی بولیں گے خواہ نتیجہ کچھ بھی ہو.. اندر داخل ہونے سے قبل انہوں نے آواز دی.. "بادشاہ سلامت ! اللہ والوں کا گروہ اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے.."

نجاشی نے یہ آواز سن کر دربان سے کہلوایا کہ ان کلمات کو پھر سے دہرائیں.. مسلمانوں نے ان کلمات کو دہرایا تو نجاشی نے جواب میں کہا.. "اللہ کے حکم سے داخل ہوجاؤ کہ تم اس کی ہی حفاظت میں ہو.."
مسلمان "السلام علیکم" کہتے ہوئے دربار میں داخل ہوئے لیکن نجاشی کو سجدہ نہیں کیا تو امراء نے سجدہ نہ کرنے کی وجہ پوچھی.. مسلمانوں نے جواباََ کہا کہ ہم اللہ کے سِوا کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے.. اس کے بعد نجاشی نے کفّار قریش سے کچھ سوالات کئے..

عمرو بن العاص نے عرض کیا.. "اے بادشاہ ! ہم اپنے آبا و اجداد کے دین پر تھے.. انہوں نے اسے چھوڑ کر ایک نیا دین اختیار کیا ہے.."

نجاشی نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا.. "یہ کونسا دین ہے جس کی بنیاد پر تم نے اپنی قوم سے علٰیحدگی اختیار کرلی ہے لیکن میرے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہو اور نہ ان ملتوں ہی میں سے کسی کے دین میں داخل ہوئے ہو..؟"

انہوں نے جواب دیا.. "ہم نے اپنے آبا و اجداد کے بُت پرستی کے دین کو چھوڑ کر دین اسلام کو اختیار کر لیا ہے جسے ہمارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکھایا ہے جن پر بذریعہ وحی اللہ کے احکام نازل ہو رہے ہیں.."

یہ سن کر نجاشی نے دربار میں راہبوں , مذہبی پیشواؤں اور علماء کو جمع کرکے ان سے پوچھا.. "کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور روزِ قیامت کے درمیان کوئی اور نبی آئے گا..؟"

انہوں نے کہا.. "قسم ہے اللہ کی ! ایک رسول ضرور آئے گا جس کی آمد کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی ہے اور فرمایا کہ جو اس رسول پر ایمان لائے گا وہ مجھ پر ایمان لائے گا اور جو ان کے ساتھ کفر کرے گا وہ مجھ سے کفر کرے گا.."

یہ سن کر نجاشی نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے پوچھا.. "مجھے بتاؤ کہ وہ کس بات کا حکم دیتا ہے اور کن چیزوں سے منع کرتا ہے..؟"

حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے ایک برجستہ تقریر کی جس میں عرب جاہلیت کی حالت اور اسلامی تعلیمات کا بہترین خلاصہ پیش کیا جسے اہلِ بلاغت نے "ابلغ الخطبات" کا نام دیا ہے.. حضرت جعفر نے کہا..

"اے بادشاہ ! ہم لوگ ایک جاہل قوم تھے.. بتوں کو پوجتے تھے , مردار کھاتے تھے , بدکاریاں کرتے تھے , ہمسایوں کو ستاتے تھے , بھائی بھائی پر ظلم کرتا تھا , قوی لوگ کمزوروں کو کھا جاتے تھے..

ہم اسی حال میں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جس کی شرافت اور صدق و دیانت سے ہم لوگ پہلے سے ہی واقف تھے.. اس نے ہم کو اسلام کی دعوت دی اور یہ سکھلایا کہ ہم پتھروں کو پوجنا چھوڑدیں , سچ بولیں , خونریزی سے باز آئیں , یتیموں کا مال نہ کھائیں , ہمسایوں کو چین سے رہنے دیں , عفیف عورتوں پر بدنامی کا داغ نہ لگائیں , نماز پڑھیں , روزے رکھیں , زکوٰۃ دیں , صرف ایک خدا کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں..

ہم اس پر ایمان لائے , شرک اور بت پرستی چھوڑ دی اور تمام بُرے کاموں سے باز آئے.. اس پر ہماری قوم ہماری جان کی دشمن ہوگئی اور ہم کو مجبور کر رہی ہے کہ اُسی گمراہی میں پھر واپس آجائیں.. آخر ہم مجبور ہوکر آپ کے ملک میں نکل آئے.. دوسروں کے بجائے آپ کے پاس آنا پسند کیا اس امید پر کہ اے بادشاہ ! یہاں ہم پر ظلم نہ ہو گا.."
نجاشی نے کہا.. "جو کلام الہٰی تمہارے پیغمبر پر اترا ہے اس کا کچھ حصہ سناؤ.."

حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے سورۂ مریم کی چند آیات کی خوش الحانی سے تلاوت کی جسے سن کر نجاشی پر رقت طاری ہوگئی اور آنسوؤں سے اس کی داڑھی تر ہو گئی.. پھر کہا.. "خدا کی قسم ! یہ کلام اور انجیل دونوں ایک ہی چراغ کے پرتو ہیں.."

یہ کہہ کر نجاشی نے سفرائے قریش سے کہا.. "تم واپس چلے جاؤ.. میں ان مظلوموں کو ہرگز ہرگز تمہارے حوالے نہ کروں گا.." مسلمان مہاجروں سے مخاطب ہو کر بولا.. 'جاؤ ! میری مملکت میں امن کے ساتھ زندگی بسر کرو.." پھر تین بار کہا.. "اگر تمہیں کوئی گالی بھی دے گا تو اس پر تاوان لگے گا.."

یہ سنتے ہی قریش کے دونوں سفراء بڑے بے آبرو ہو کر دربار سے نکل گئے لیکن پھر عمرو بن عاص نے عبداللہ بن ربیعہ سے کہا.. "اللہ کی قسم ! کل ان کے متعلق ایسی بات لاؤنگا کہ ان کی ہریالی کی جڑ کاٹ کر رکھ دونگا.." عبد اللہ بن ربیعہ نے کہا.. "نہیں ! ایسا نہ کرنا.. ان لوگوں نے اگرچہ ہمارے خلاف کیا ہے لیکن ہیں بہرحال ہمارے اپنے ہی کنبے قبیلے کے لوگ.." مگر عَمرو بن عاص اپنی رائے پر اَڑے رہے..

دوسرے دن عمرو بن العاص نے دربار میں رسائی حاصل کی اور نجاشی سے عرض کیا.. "حضور ! کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کیا اعتقاد رکھتے ہیں..؟"

نجاشی نے مسلمانوں کو دربار میں طلب کیا.. تمام راہب اور علماء بھی دربار میں بلائے گئے.. مسلمانوں کو تردد ہوا کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ابن اللہ ہونے سے انکار کرتے ہیں تو نجاشی ناراض ہو جائے گا , اس لئے کہ وہ عیسائی ہے.. مسلمانوں کو گھبراہٹ ہوئی لیکن انہوں نے طے کیا کہ سچ ہی بولیں گے , نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو..

نجاشی نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے پوچھا.. "عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں تم لوگوں کا کیا عقیدہ ہے..؟"

حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا.. "ہم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں وہی بات کہتے ہیں جو ہمارے نبی ﷺ لے کر آئے ہیں.. یعنی حضرت عیسیٰ اللہ کے بندے , اس کے رسول , اس کی روح اور اس کا کلمہ ہیں جسے اللہ نے کنواری پاکدامن حضرت مریم علیہا السلام کی طرف القا کیا تھا.."

یہ سن کر نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا.. "واللہ ! جو تم نے کہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس تنکے کے برابر بھی اس سے زیادہ نہیں ہیں.."

پادری اور راہب جو دربار میں موجود تھے نہایت برہم ہوئے.. ان کے نتھنوں سے خرخراہٹ کی آواز آنے لگی.. نجاشی نے ان کے غصہ کی کچھ پرواہ نہ کی اور قریش کے سفیر ناکام نکل آئے.. نجاشی نے حکم دیا کہ قریش کے وفد کے تمام تحائف واپس کردئے جائیں اور وہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں..

حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا جنہوں نے اس واقعے کو بیان کیا ہے , فرماتی ہیں کہ اس کے بعد ہم لوگ اس بہترین ملک میں بہترین پڑوسی کے ساتھ مقیم رہے۔۔۔۔۔۔۔۔

============(باقی آئندہ ان شآءاللہ
سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی..
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..

11/03/2025

*سیرت النبی ﷺ*
*(قسط نمبر 54)*

پہلی ہجرت حبشہ سے واپس ہونے کے بعد مسلمانوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی کی پناہ میں تھا.. اس کے باوجود کفّار قریش نے مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا کیونکہ قریش کو ان کے ساتھ نجاشی کے حسن وسلوک کی جو خبر ملی تھی اس پر وہ نہایت چیں بہ جبیں تھے.. یہ حال دیکھ کر اوائل 6 نبوی میں آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو دوبارہ حبشہ کو ہجرت کرنے کی اجازت دی..

دوسری ہجرت پہلی ہجرت کے بالمقابل اپنے دامن میں زیادہ مشکلات لئے ہوئے تھی کیونکہ اب کی بار قریش پہلے سے ہی چوکنا تھے اور ایسی کسی کوشش کو ناکام بنانے کا تہیہ کئے ہوئے تھے.. کفار مکہ نے مسلمانوں کو ہجرت کرنے سے روکنے کی مقدور بھر کوشش کی لیکن اس کے باوجود بھی 83 مرد اور 18 عورتیں حبشہ پہنچ گئے..
پہلی مرتبہ ہجرت کرنے والے صحابہ میں سے بعض اس دوسرے قافلہ میں بھی شریک ہو گئے.. دوسری بار بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ معہ زوجہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اُبوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ معہ زوجہ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے ہجرت کی.. ان کے علاوہ عبیداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ معہ زوجہ حضرت اُم حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا بھی مہاجرین میں شامل تھے.. حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد یہ دونوں خواتین یعنی حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا آنحضرت ﷺ کی زوجیت میں داخل ہوئیں..

دیگر مہاجرین میں ابو جہل کے سوتیلے بھائی حضرت عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ , رئیس مکہ عتبہ کے صاحبزادے حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ , حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ , حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ , حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ , حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ , حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ , حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ , حضرت علی کے بڑے بھائی حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت خالد بن حزام ابن خویلد رضی اللہ عنہ (حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے) قابل ذکر ہیں.. حضرت خالد بن حزام رضی اللہ عنہ کی وفات حبشہ جاتے ہوئے راستہ میں سانپ کاٹنے سے ہوئی.. حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بیوی حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا تھیں جن کے بطن سے حبشہ میں تین فرزند پیدا ہوئے..

حبشہ جاتے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جعفر کو نجاشی کے نام ایک تعارفی خط دیا تھا جسے ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے اپنی تصنیف "رسول اکرم کی سیاسی زندگی" میں طبری , ابن القیم اور قسطلانی کے حوالے سے نقل کیا ہے..

تعارفی خط..
"بسم اللہ الرحمن الرحیم..
محمد رسول اللہ
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے نجاشی اصحمہ بادشاہ حبشہ کے نام..
میں اس خدا کی تعریف تمہیں لکھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں.. جو بادشاہ مقدس , سلامتی والا , امان دہندہ اور سلامت رکھنے والا ہے.. اور میں اقرار کرتا ہوں کہ مریم کے بیٹے عیسیٰ روح اللہ اور کلمتہ اللہ ہیں جن کو پاک اور برائی سے محفوظ مریم بتول کی طرف ڈالا گیا تو وہ خداکی روح اور پھونک سے حاملہ ہوئیں.. جیسا کہ خدا نے حضرت آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا..
میں تجھے خدا وحدہٗ لا شریک کی طرف بلاتا ہوں اور یہ کہ تو میری اتباع کرے اور مجھ پر نازل شدہ چیز پر ایمان لائے کیونکہ میں خدا کا رسول ہوں اور میں تجھے اور تیرے لشکروں کو خدائے عزو جل کی طرف بلاتا ہوں..

میں نے پیام پہنچا دیا اور بہی خواہی کی ہے.. اب تم میری بہی خواہانہ نصیحت کو قبول کرو.. اور میں نے تمہارے پاس اپنے چچا زاد بھائی جعفر کو بھیجا ہے جس کے ہمراہ چند مسلمان بھی ہیں.. جب وہ تیرے پاس آئیں تو ان کی مہمان داری کر اور تکبّر چھوڑ دے..

سلام اُس پر جو ہدایت پر چلے.."

ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق اس تعارفی خط کے واقف کارانہ انداز سے گمان ہوتا ہے کہ شاید نبوت سے قبل بھی حضور اکرم ﷺ خود حبشہ بہ سلسلہ تجارت تشریف لے گئے ہوں (دیگر مکی تاجروں کے ساتھ).. اس لئے پہلی بار مسلمانوں کے حبشہ ہجرت کرتے وقت آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ "حبشہ میں ایک ایسے بادشاہ کی حکومت ہے جس کے ملک میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا" واقف کارانہ انداز بتلاتا ہے..

حبشہ کا پایہ تخت اس زمانے میں "اکسوم" تھا.. بعد میں "عدیس ابابا" پایہ تخت بنا.. اس وقت کے نجاشی حکمران کا نام اصمحہ تھا.. یہ فرمانروا اپنے عدل و انصاف کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا..
مہاجرینِ حبشہ کے خلاف قریش کی سازش.

حبشہ کی ہجرت کرنے والے دوسرے قافلہ میں ہر خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد شامل تھا اس لئے مکہ کے ہر گھر میں کہرام مچ گیا.. مسلمان حبشہ میں چین سے رہنے لگے.. یہ خبر سن کر قریش مکہ بہت مضطرب ہوئے.. یہ مسئلہ دارالندوہ میں پیش ہوا اور بعد غور و خوض طےکیا گیا کہ ایک سفارت نجاشی کے پاس بھیجی جائے.. چنانچہ عمرو بن العاص (بعد میں فاتح مصر) اور عبداللہ بن ابی ربیعہ ( ابو جہل کا ماں جایا بھائی) کو جو گہری سوجھ بوجھ کے مالک تھے اور ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے , بہت سے تحفے دے کر حبشہ روانہ کیا گیا..
انہوں نے حبشہ جا کر سب سے پہلے نجاشی کے امرأ اور مذہبی پیشواؤں (بطریقوں) سے ملاقات کی اور ان سے نجاشی کے دربار میں اپنے معروضہ کی تائید کرنے کی درخواست کی.. جب بطریقوں نے اس بات سے اتفاق کرلیا کہ وہ نجاشی کو مسلمانوں کے نکال دینے کا مشورہ دیں گے تو یہ دونوں نجاشی کے حضور حاضر ہوئے اور تحفے پیش کرکے اپنا مُدّعا عرض کیا..
"اے بادشاہ ! آپ کے ملک میں ہمارے کچھ ناسمجھ نوجوان بھاگ آئے ہیں.. انہوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے لیکن آپ کے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں بلکہ یہ ایک نیا دین ایجاد کیا ہے جسے نہ ہم جانتے ہیں نہ آپ.. ہمیں آپ کی خدمت میں انہی کی بابت ان کے والدین , چچاؤں اور کنبے قبیلے کے عمائدین نے بھیجا ہے.. مقصد یہ ہے کہ آپ انہیں ان کے پاس واپس بھیج دیں کیونکہ وہ لوگ ان پر سب سے اونچی نگاہ رکھتے ہیں اور ان کی خامی اور عتاب کے اسباب کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں.."
جب یہ دونوں اپنا مدعا عرض کر چکے تو بطریقوں نے کہا.. "بادشاہ سلامت ! یہ دونوں ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں.. آپ ان جوانوں کو ان دونوں کے حوالے کردیں.. یہ دونوں انہیں ان کی قوم اور ان کے ملک میں واپس پہنچادیں گے.."
لیکن نجاشی نے سوچا کہ اس قضیے کو گہرائی سے کھنگالنا اور اس کے تمام پہلوؤں کو سننا ضروری ہے چنانچہ اس نے مسلمانوں کو بلا بھیجا......

============(باقی آئندہ ان شآءاللہ)

*سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی..*
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..

11/03/2025

*سیرت النبی ﷺ*
*(قسط نمبر 53)*

جور وستم کا مذکورہ سلسلہ نبوت کے چوتھے سال کے درمیان یا آخر میں شروع ہوا تھا اور ابتداءً معمولی تھا مگر دن بدن اور ماہ بماہ بڑھتا گیا.. یہاں تک کہ نبوت کے پانچویں سال کا وسط آتے آتے اپنے شباب کو پہنچ گیا.. حتیٰ کہ مسلمانوں کے لئے مکہ میں رہنا دوبھر ہوگیا اور انہیں ان پیہم ستم رانیوں سے نجات کی تدبیر سوچنے کے لئے مجبور ہوجانا پڑا.. قریش کا ظلم و تعدی اس قدر بڑھ گیا تھا کہ مسلمان حرم کعبہ میں بلند آواز سے قرآن نہیں پڑھ سکتے تھے..

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا جب ایمان لائے تو انہوں نے کہا کہ میں اس فرض کو ضرور پورا کروں گا.. لوگوں نے انہیں منع کیا لیکن باز نہ آئے.. حرم میں گئے اور مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر سورۂ رحمن پڑھنا شروع کیا.. کُفّار ہر طرف سے ٹوٹ پڑے اور ان کے منہ پر طمانچے مارنے لگے جس کی وجہ ان کے چہرے پر زخم کے نشان پڑ گئے..

قریش کا ظلم مسلمانوں پر تو جاری ہی تھا لیکن انہوں نے اس سے ایک قدم اور آگے بڑھ کر مسلمانوں کے قتل کا منصوبہ بنایا.. ان ہی دنوں یہ اطلاع ملی کہ بنی مخزوم اپنے ہی قبیلے کے تین مسلمانوں یعنی حضرت ولید بن الولید , حضرت سلمہ بنت ہشام اور حضرت عباس بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہم کو قتل کرنا چاہتے ہیں.. ان ہی سنگین اور تاریک حالات میں سورۂ عنکبوت کی آیات 56 , 57 نازل ہوئیں..
"اے میرے ایمان والے بندو ! میری زمین بہت وسیع ہے.. سو تم میری ہی عبادت کرو.. ہر جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے.." (سورہ عنکبوت , ۵۷ ۔۵۸)
ہجرت کا اشارہ پا کر حضور اکرم ﷺ نے مسلمانوں سے فرمایا.. "تم روئے زمین میں منتشر ہو جا.. یقینا ً اللہ تعالیٰ تم سب کو عنقریب جمع کرے گا.." صحابہ نے عرض کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "یا رسول اللہ ﷺ ! کہاں جائیں..؟"

رسول اللہ ﷺ کو معلوم تھا کہ " اَصحَمَہ نجاشی " شاہ حبشہ ایک عادل بادشاہ ہے.. وہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا.. آپ نے حبشہ کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا.. "سر زمین حبشہ میں ایسا بادشاہ حکمران ہے جس کے ہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا.. پس تم اس کے ملک میں چلے جاؤ.. یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اس مصیبت کو رفع کرنے کی کوئی صورت پیدا کردے جس میں تم مبتلاء ہو.."
اس کے بعد ایک طے شدہ تقریب (پروگرام) کے مطابق صحابہ کرام کے پہلے گروہ نے حبشہ کی جانب ہجرت کی.. اس گروہ میں بارہ مرد اور چار عورتیں تھیں.. حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کے امیر تھے اور ان کے ہمراہ
رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں.. رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیہما السلام کے بعد یہ پہلا گھرانہ ہے جس نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی..

*یہ لوگ رات کی تاریکی میں چپکے سے نکل کر اپنی نئی منزل کی جانب روانہ ہوئے.. رازداری کا مقصد یہ تھا کہ قریش کو اس کا علم نہ ہوسکے.. رُخ بحر احمر کی بندرگاہ شُعَیْبَہ کی جانب تھا.. خوش قسمتی سے وہاں دو تجارتی کشتیاں موجود تھیں جو انہیں اپنے دامنِ عافیت میں لے کر سمندر پار حبشہ چلی گئیں.. قریش کو کسی قدر بعد میں ان کی روانگی کا علم ہوسکا تاہم انہوں نے پیچھا کیا اور ساحل تک پہنچے لیکن صحابہ کرام آگے جا چکے تھے.. اس لئے نامراد واپس آئے.. یہ قافلہ رجب 5 نبوی* *(614ء) میں حبشہ روانہ ہوا..
اس پہلے قافلہ میں جو صحابہ اور صحابیات شریک تھے ان کے اسمائے گرامی حسب ذیل ہیں*

*1.. حضرت عثمان بن عفان معہ زوجہ محترمہ حضرت رقیہ (بنی امیہ)*

*2.. حضرت زبیر بن العوام (بنی اسد) حضور ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں..*

*3.. حضرت عبدالرحمن بن عوف (بنی زہرہ)*
*حضور ﷺکے ننھیالی رشتہ دار اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں..*

*4.. حضرت مصعب بن عمیر (بنی عبدالدار)*

*5.. حضرت ابوسلمہ بن عبدالاسد معہ زوجہ حضرت اُمّ سلمہ (بنی مخزوم)*

*6.. حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ معہ زوجہ حضرت سہلہ (بنی عبدالشمس) باپ قریش کا مشہور سردار تھا.. اس کی سختیوں کی وجہ سے گھر چھوڑنا پڑا.*.

*7.. حضرت ابو حاطب بن عمرو.. بدر میں شریک تھے..*

*8.. حضرت عثمان بن مظعون (بنی جمح) مشہور صحابی ہیں.*.

*9.. حضرت عامر بن ربیعہ معہ زوجہ حضرت لیلیٰ.. بنی عدی کے حلیف , سابقین اولین میں سے اور بدر میں شریک تھے..*

*10.. حضرت سہیل بن بیضاء (بنی حارث)*

*11.. حضرت ابوسیرہ بن ابی رہم عامری (بنی عامر) ان کی ماں برہ حضور ﷺ کی پھوپھی تھیں..*

*1.. حضرت رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ (بنی ہاشم) زوجہ حضرت عثمان..*

*2.. حضرت سہلہ بنت سہیل (بنی عامر) زوجہ حضرت ابو حذیفہ..*

*3.. حضرت اُم سلمہ بنت امیہ (بنی مخزوم) زوجہ حضرت ابو سلمہ..*

*4.. حضرت لیلیٰ بنت ابی حشمہ (بنی عدی) زوجہ حضرت عامر..*

رضوان اللہ تعالی' علیہم اجمعین..
*یہ قافلہ حبشہ پہنچا اور سکون سے رہنے لگا لیکن قریش یہ خبریں سن کر پیچ و تاب کھاتے تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو حبشہ سے نکلوا* دیں..
مسلمانوں کے ساتھ مشرکین کا سجدہ اور مہاجرین کی واپسی..*

*لیکن اسی سال رمضان شریف میں یہ واقعہ پیش آیا کہ نبی اکرم ﷺ ایک بار حرم تشریف لے گئے.. وہاں قریش کا بہت بڑا مجمع تھا.. ان کے سردار اور بڑے بڑے لوگ جمع تھے.. آپ ﷺ نے ایک دم اچانک کھڑے ہو کر سورۂ نجم کی تلاوت شروع کردی.. ان کے کانوں میں ایک ناقابل بیان رعنائی ودلکشی اور عظمت لئے ہوئے کلام الٰہی کی آواز پڑی تو انہیں کچھ ہوش نہ رہا.. سب کے سب گوش بر آواز ہوگئے.. کسی کے دل میں کوئی خیال ہی نہ آیا.. یہاں تک کہ جب آپ نے سورہ کے اواخر میں دل ہلا دینے والی آیات فرما کر اللہ کا یہ حکم سنایا..*

*فَاسْجُدُوْا لِلَّہِ وَاعْبُدُوْا O*

*''اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو.." (۵۳: ۶۲ )*

*اور اس کے ساتھ ہی سجدہ فرمایا تو کسی کو اپنے آپ پر قابو نہ رہا اور سب کے سب سجدے میں گر پڑے.. حقیقت یہ ہے کہ اس موقع پر حق کی رعنائی وجلال نے متکبرین ومستہزئین کی ہٹ دھرمی کا پردہ چاک کردیا تھا.. اس لئے انہیں اپنے آپ پر قابو نہ رہ گیا تھا اور وہ بے اختیار سجدے میں گر پڑے تھے.. صحیح بخاری میں اس سجدے کا واقعہ ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مختصراً مروی ہے..*

*بعد میں جب انہیں احساس ہوا کہ کلامِ الٰہی کے جلال نے ان کی لگام موڑدی اور وہ ٹھیک وہی کام کر بیٹھے جسے مٹانے اور ختم کرنے کے لئے انہوں نے ایڑی سے چوٹی تک کا زور لگا رکھا تھا اور اس کے ساتھ ہی اس واقعے میں غیر موجود مشرکین نے ان پر ہر طرف سے عتاب اور ملامت کی بوچھاڑ شروع کی تو ان کے ہاتھ کے طوطے اُڑ گئے اور انہوں نے اپنی جان چھڑانے کے لئے رسول اللہ ﷺ پر یہ افتراء پردازی کی اور یہ جھوٹ گھڑا کہ آپ نے ان بتوں کا ذکر عزت و احترام سے کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ*

*"تلک الغرانیق العلی وان شفاعتھن لترتجی ___ یہ بلند پایہ دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے..*

*حالانکہ یہ صریح جھوٹ تھا جو محض اس لئے گھڑ لیا گیا تھا تاکہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سجدہ کرنے کی جو "غلطی'' ہو گئی ہے اس کے لئے ایک ''معقول'' عذر پیش کیا جاسکے اور ظاہر ہے کہ جو لوگ نبی ﷺ پر ہمیشہ جھوٹ گھڑتے اور*
*آپ ﷺ کے خلاف ہمیشہ دسیسہ کاری اور افتراء پردازی کرتے رہے تھے وہ اپنادامن بچانے کے لئے اس طرح کا جھوٹ کیوں نہ گھڑتے..*

*بہرحال مشرکین کے سجدہ کرنے کے اس واقعے کی خبر حبشہ کے مہاجرین کو بھی معلوم ہوئی لیکن اپنی اصل صورت سے بالکل ہٹ کر.. مہاجرین حبشہ کو اس واقعہ کی اطلاع اس طرح پہنچی کہ آپس میں مصالحت ہو گئی ہے اور سب قریش مسلمان ہو گئے.. چنانچہ انہوں نے ماہ شوال میں مکہ واپسی کی راہ لی لیکن مکہ کے قریب پہنچے تو حقیقت حال آشکارا ہوئی.. وہاں سے واپس جانا بڑا دشوار تھا.. کچھ لوگ تو سیدھے حبشہ پلٹ گئے اور باقی چھپ چھپا کر یا حسب دستور کسی نہ کسی کی پناہ میں مکہ میں داخل ہوئے تاکہ ظلم سے محفوظ رہیں۔۔۔۔۔۔*
============(باقی آئندہ ان شآءاللہ)

سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی..
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..

Want your school to be the top-listed School/college in Swat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Koz Cham Waliabad
Swat
19200