Somi Social Welfare Organization - SSWO

Somi Social Welfare Organization - SSWO

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Somi Social Welfare Organization - SSWO, Educational consultant, Village & P/O Deolai, tehsil Kabal, district Swat KPK, Swat.

The Swat English Education School is an organisation which work with research based advanced teaching techniques and and learning environment to improve child’s potential with community based learning environment

Photos from Somi Social Welfare Organization - SSWO's post 09/01/2018

Chairman SSWO Dr. Muhammad Yousaf Khan and COs members during the Leadership Management Skills Training

Photos from Somi Social Welfare Organization - SSWO's post 24/12/2017

الحمدُللّٰہ گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر۲ دیولیئ میں تعمیراتی کام آخری مرحلات تک پہنچ چکا ہے۔ وایس چیرمین ھارون رشید چھت کی معائنہ کر رہے ہیں۔

Photos from Somi Social Welfare Organization - SSWO's post 10/12/2017

گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر۲ دیولئ میں کلاس رومز کی تعمیر، چیرمین اور وائس چیرمین کام کے معائنا ئنہ کررہے ہیں
Chairman
Dr. Muhammad Yousaf Khan

Vice Chairman
Haroon Rashid

Photos from Somi Social Welfare Organization - SSWO's post 14/10/2017

چیرمین اور وائس چیرمین گورنمنٹ پرائمری سکول نمــبر2 دیولئ میں معائنے کے دوران

Photos from Somi Social Welfare Organization - SSWO's post 02/10/2017

الحمداللہ گورنمٹ پرائمری سکول نمبر2 دیولئ میں تعمیراتی کام شروع ہوا ھے۔ وائیس چیرمین ھارون الرشید معاینے کے دوران سکول کے بچوں کے ہمراء گروپ فوٹو۔

شکریہ

Chairman Dr. Muhammad Yousaf Khan
Vice Chairman Haron Rashid
G.S Umar sahib
Naseem Afghan
And Team SSWO

Photos from Somi Social Welfare Organization - SSWO's post 22/08/2017

The meeting regarding additional rooms in GPS 2 Deolai held tody.
Thanks to respected participants

Chairman SSWO Dr. Muhammad Yousaf Khan
Vice chairman Haroon Rashid
G. Secretary Umar sahib
Sub engineer DC Swat Fawad khan

And other team

Photos from Somi Social Welfare Organization - SSWO's post 03/08/2017

گورنمنٹ پرائمری سکول دیولئ میں سروے کی گئ. جن میں طلبا کے لیے کمرے نہ ہونے کے وجہ سے بچے برآمدے میں بیٹھنے پر مجبور ہیں. Team SSWO بہت جلد تعمیراتی کام شروع کریگی. انشاء الله

Thanks to Vice Chairman Haroon Rashid sb
And team SSWO

Photos from Somi Social Welfare Organization - SSWO's post 26/05/2017

آمد رمضان پر آو مل کر غریب اور بے بس لوگوں میں خوشیاں بانٹے.

رمضان کے مقدس مہینے میں غریبوں اور بے سہارا لوگوں میں سومی سوشل ویلفیر ارگنایزیشن کے طرف سے راشن پیکجز کا سلسلہ جاری هے اپ سب سے چندہ کی اپیل کی جاتی هیں. اپنی عطیات SSWO کو دے کر ثواب دارین حاصل کریں. 66 خاندانوں میں پیکجز تقسیم کی گئ.

Bank account
HBL mingora swat

Tital of account:
Somi Social Welfare Organization

Account number:
PK18-HABB 000221 7901957103

Chairman
Dr. Muhammad Yousaf Khan
03325005047

Vice Chiarman
Haroon Rashid
03429191954

G. Secretary
Umar Sahib
03466757393

Photos from Somi Social Welfare Organization - SSWO's post 26/05/2017

الحمداللہ آج سومی سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن دیولئ کے جانب سے 66 گھرانوں کو رمضان پیکج دے دیگئ..... مخئیر ح حضرات سے اپیل ھیے کہ اس کار خیر میے ھمارا ساتھ دیے......03466757393..........03449757557.......03429191954.

Photos 19/05/2017
Photos 03/11/2016

Adorable. Community-based kindergartens in Kyrgyzstan are helping to make sure children like these little ones have a chance to learn and fulfill their potential: http://uni.cf/2eGy3gd

Photos 05/10/2016

معاشرے کی تعمیر

کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتا جب تک ہر فرد اپنی ذمے داری سمجھتے ہوئے اپنی سطح پر معاشرے کی بہتری کے لیے کردار ادا نہ کرے۔ ہم میں سے ہر فرد معاشرے کو ایک مثالی معاشرہ بنانے کی خواہش اپنے سینے میں لیے ہوئے ہے، لیکن سب کی یہ خواہش محض خواہش ہے،کیونکہ ہم عملی طور پر اپنی خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کردار ادا نہیں کرتے، بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم صرف خواہش کریں اور کوئی دوسرا آکر ہماری تمناؤں کوپایہ تکمیل تک پہنچا دے، جب کہ ہم اپنا زیادہ زور دوسروں پر تنقید کرنے میں گزاردیتے ہیں۔
ہم میں سے ہرکوئی اپنی ذمے داری ادا کرنے کے بجائے دوسروں کو بدلنے کی فکر میں ہے ، حالانکہ کسی بھی معاشرے کی تعمیروترقی کا راز معاشرے کے افراد کے احساس ذمے داری میں پنہاں ہوتا ہے،اگر معاشرے کا ہر فرد اپنی ذمے داری ادا کرے تو معاشرہ دنیا میں ہی جنت کا روپ دھار لیتا ہے، چار سو اطمینان ہی اطمینان کی فضا ہوتی ہے اور بے سکونی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ امن، سکون، عدل و انصاف، تعلیم وصحت اورروزگار سمیت چھوٹی سے لے کر بڑی تک بے بہا قابل مدح صفات معاشرے کو میسرآجاتی ہیں، یہی صفات معاشروں کے عزت اور وقار میں اضافے کا سبب بنتی ہیں اور معاشرے کو بام عروج پر پہنچا کر چھوڑتی ہیں اور اگرکوئی معاشرے ان صفات سے محروم ہوجائے تو گویا وہ تعمیروترقی سے کوسوں دور ہے۔
کسی بھی معاشرے کا ہر فرد،گروہ، طبقہ یا جماعت یہ چاہتے ہیں کہ معاشرے میں اچھی صفات کا نفاذ ہو،لیکن اس کے باوجود ہمارا معاشرہ ان تمام عناصر سے خالی نظر آتا ہے۔ یہاں نہ تو کسی کی عزت محفوظ ہے اور نہ ہی جان کی امان ہے۔ عدم برداشت کا یہ حال ہے کہ چھوٹی چھوٹی بات پر بات خون خرابے تک پہنچ جاتی ہے۔ عدل وانصاف کا نفاذ دور دور تک نظر نہیں آتا۔ غریب طبقہ عدل و انصاف سے یکسر محروم ہے۔ بدعنوانی کو اپنا حق سمجھا جاتا ہے۔ قومی خزانے پر مامور لوگ ہی خزانے کو لوٹنے میں مشغول ہیں۔
عوام کو ٹیکس ادائیگی کا درس دینے والا حکمران طبقہ ہی خود ٹیکس چوری میں ملوث ہے۔اقربا پروری مذہب سے لے کر سیاست تک تمام شعبوں میں سرایت کرچکی ہے۔ قوم کے مسیحا ڈاکٹر خدمت خلق کے بجائے عوام کی کھال اتارکر دولت کمانے کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔ قوم کے معماروں کو تیار کرنے والے اساتذہ کرام اپنی ذمے داریوں سے پہلے تہی برتنے میں مگن ہیں۔نوجوانوں کے علم حاصل کرنے کا مقصد محض بھاری آمدنی کا حصول ہے۔ کئی علماء مذہب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں مشغول ہیں اوراپنا مقصد نکالنے کے لیے قرآن و حدیث کو اپنے ہی من کی تشریح میں ڈھال دیا جاتا ہے۔ بھکاری سے لے کر مملکت کے اعلیٰ مناصب تک اکثریت اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کو جائز حق سمجھتی ہے۔
انفرادی طور پر کوئی بھی فرد معاشرے کو نقصان پہنچانے والی قبیح صفات کو نہ صرف برا جانتا ہے، بلکہ برملا ان کی مذمت بھی کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود مجموعی طور پر یہ تمام حقائق اپنی تمام برائیوں کے ساتھ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں، جس کی وجہ وہ معاشرتی رویہ ہے جس میں ہم پروان چڑھتے ہیں۔ عملی طور پر ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جس میں اپنی ذمے داریوں کی احساس نہیں ہے اور یہ کسی طور پر قابل تعریف نہیں ہے۔ المیہ یہ ہے کہ معاشرے کا ہر فرد معاشرے میں بہتری کا خواہاں ہے، لیکن چاہتا ہے کہ بہتری کے لیے کردار دوسرے ہی ادا کریں اور سوچ یہاں تک بن چکی ہے کہ جب ہم میں سے کوئی کہتا ہے کہ معاشرے کے تمام لوگوں کو اپنی ذمے داری ادا کرنی چاہیے تو شاید بات کرنے والا خود کو مستثنیٰ خیال کرتا ہے۔
ہر فرد چاہتا ہے کہ ملک میں امن وامان کی فضا قائم ہو، لیکن جب اس کی باری آئے تو جذبات کے نام پر تھوڑا بہت دنگا فساد کرنے کی اجازت ملنے کی خواہش رکھتا ہے۔ ہر شہری تمنا رکھتا ہے کہ پولیس رشوت خوری بند کر کے صحیح طریقے سے اپنے فرائض کی انجام دہی کرے، لیکن جب بات اس تک پہنچے تو وہی پولیس رشوت لے کر اسے آزاد کر دے۔ ہر فرد کی خواہش ہے کہ اس کے ساتھ کوئی دھوکا نہ کرے، لیکن جب اس کی باری آئے تو اس کو دھوکا دہی کی اجازت ہونی چاہیے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ ٹریفک قوانین کی پابندی ہونی چاہیے، لیکن خود سمجھتا ہے کہ اس کو قوانین سے تھوڑی بہت روگردانی کی اجازت ہونی چاہیے۔
ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے غذا خالص ملے، لیکن اگر وہ خود غذائی سوداگر ہے تو اسے منافع کمانے کے لیے بہرحال تھوڑی بہت ملاوٹ کی اجازت دی جانی چاہیے۔ بیماری کی صورت میں ایک اچھا اور اسپیشلسٹ ڈاکٹر اس کا بنیادی حق ہے، لیکن اگر وہ وہ چاہے تو ڈاکٹر نہ ہونے کے باوجود بھی اس کوکلینک کھولنے کی اجازت ہونی چاہیے پھر چاہے۔ ہم میں سے ہرکوئی چاہتا ہے کہ ہمارے مذہب، مسلک، فرقے، جماعت اور رہنما کے خلاف کوئی بھی غیرمناسب زبان استعمال نہ کرے، لیکن ہم کو دوسروں کے مذہب، مسلک، فرقے، جماعت اوررہنما کے خلاف بدزبانی کرنے کی کھلی اجازت ہونی چاہیے۔اگر ہم کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں تو ہم بالکل حق پر ہیں، لیکن اگر کوئی ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچائے تو اس کو سزا ملنی چاہیے۔غرض ہمارے پیمانے اپنے لیے اورہوتے ہیں اور دوسروں کے لیے اور ہوتے ہیں اور یہ دہرا معیار ہی معاشرے کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔
یہ وہ سوچ ہے جو ہم میں سے ہرکوئی معاشرے کی رگوں میں انڈیل رہا ہے، حالانکہ جب تک ہم سب مل کر خود ہی قبیح رویوں سے چھٹکارہ حاصل نہیں کریں گے، اس وقت تک نہ تو یہ معاشرہ ٹھیک ہو گا اور نہ ملک میں کوئی تبدیلی آئے گی۔ کسی قوم کو دنیا کی صف اول میں لا کھڑا کرنے اور عزت و شرف کی قبا پہنانے میں اس قوم کے افراد کا نمایاں کردار ہوتا ہے۔ اگر افراد اپنی ذمے داری سمجھتے ہوئے قبیح صفات سے نجات حاصل کریں اور بہترین صفات کو اپنائیں تو کچھ بعید نہیں کہ ملک دنوں میں ترقی کی منازل طے کر لے اور ہمارا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن سکتا ہے۔
زبانی دعوؤں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، بلکہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ کس نے کتنا عمل کیا ہے، کیونکہ ہمیشہ عمل سے ہی زندگی بنا کرتی ہے، زبانی دعوے کرنے والے ہمیشہ خیالی پلاؤ ہی پکاتے رہتے ہیں۔اگر ہم سب بحیثیت مجموعی اپنے مقام، اہمیت اور معاشرتی ذمے داریوں کو سمجھتے ہوئے ایک مثبت معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں تو بہت جلد منزل آسان ہو جائے گی اور کامیابی ہمارے پاؤں کی دھول بن جائے گی، لیکن اجتماعی مسائل کاحل کسی ایک فرد کے پاس نہیں ہوتا، بلکہ اجتماعی مسائل کو اجتماعی طور پر ہی حل کیا جاتا ہے۔معاشرے کو احساس ذمے داری کی ضرورت ہے، اگر تمام لوگ اپنی ذمے داری ادا کرنا شروع کردیں تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس سے نہ صرف معاشرے کے ہر فرد کے لیے کامیابی حاصل کرنا انتہائی آسان ہو جائے گا، بلکہ ہمارا ملک بھی ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے بہت جلد اوج ثریا پر جا پہنچے گا۔

Dr. Muhammad Yousaf Khan
(m.yousaf094)

Want your school to be the top-listed School/college in Swat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Village & P/O Deolai, Tehsil Kabal, District Swat KPK
Swat