Mufti Sayyed Mahmood

Mufti Sayyed Mahmood

Share

He is Sheikh-ul-Hadith at Jamia Haqqania, Sangota, Swat. This page is run by his students.

20/03/2026

اختلافِ مطالع کا مسئلہ سید محمود فاروقی)
سوال22: رؤیت ہلال میں اختلاف مطالع کا اعتبار ہے یا نہیں؟
جواب: دین اسلام میں عبادات کو ایسی علامتوں سے متعلق کر دیا گیا ہے جن کا معلوم کرنا آسان ہے۔ نماز کے اوقات سورج کے طلوع و غروب وغیرہ سے وابستہ کیے گئے ہیں تا کہ تعلیم یافتہ اور ان پڑھ اور شہری و دیہاتی ہر ایک ان کا ادراک کرسکے۔
اسی طرح اسلامی شریعت میں رمضان، عیدین اور حج کو چاند دیکھنے سے متعلق رکھا گیا ہے۔قال النبی ﷺصومُوالِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لرُؤْيَتِهِ۔ ’’نبی کریم ﷺ نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار (عید) کرو‘‘۔
اس بنا پر اس مسئلے میں علم فلکیات اور علم نجوم کا حساب معتبر نہیں ۔ رؤیت ہلال کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ اختلاف مطالع کا ہے۔ مطالع کا اختلاف تو ایک بدیہی حقیقت اور واضح مشاہدہ ہے کہ دنیا میں جس طرح ہر مقام پر سورج کا طلوع و غروب ایک وقت پر نہیں ہیں اسی طرح چاند کے طلوع و غروب میں بھی اختلاف ہے۔ مگر کیا شریعت مطہرہ میں مطالع کا یہ اختلاف معتبر ہے یا نہیں، اس میں فقہا ء کا اختلاف ہے۔
بعض فقہاء اختلاف مطالع کا اعتبار نہیں کرتے ۔ ان کے نزدیک دنیا میں کسی جگہ بھی چاند نظر آجائے تو دنیا کے باقی مقامات میں بھی اس کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔ البتہ محققین کا موقف یہ ہے کہ اختلاف مطالع کا اعتبار کیا جائے گا۔ یہ موقف عقلاً و نقلاً ہر لحاظ سے مستند اور مضبوط ہے۔
امام ترمذیؒ نے جامع ترمذی میں ’’باب ما جاء لكل اهل بلد رؤیتہم‘‘ کے تحت اپنی سند متصل کے ساتھ کریب کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس کی یہ حدیث نقل کی ہے:
أخبرني كريب: أن أم الفضل بنت الحارث بعثته إلى معاوية بالشام قال فقدمت الشام فقضيت حاجتها واستهل على هلال رمضان وأنا بالشام فرأينا الهلال ليلة الجمعة ثم قدمت المدينة في آخر الشهر فسألني ابن عباس ثم ذكر الهلال فقال متى رأيتم الهلال؟ فقلت رأيناه ليلة الجمعة فقال: أأنت رأيته ليلة الجمعة؟ فقلت رآه الناس وصاموا وصام معاوية قال لكن رأيناه ليلة السبت فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين يوما أو نراه فقلت ألا تكتفي برؤية معاوية وصيامه؟ قال لا هكذا أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم۔
’’ کریب نے مجھے بتایا ہے کہ ان کو ام الفضل بنت الحارث ( زوجہ حضرت عباسؓ )نے شام میں حضرت معاویہ ؓکے پاس بھیجا۔ میں شام پہنچا اور کام سے فارغ ہو کر ابھی شام میں ہی تھا کہ رمضان کا چاند نظر آگیا۔ ہم نے جمعہ کی رات چاند دیکھا تھا۔ میں رمضان کے آخر میں (واپس) مدینہ آیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: تم نے چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے کہا: جمعہ کی رات کو ۔ فرمانے لگے : جمعہ کی رات تم نے خود چاند دیکھا تھا؟ میں نے کہا: لوگوں نے دیکھا تھا جس پر انھوں نے بھی اور معاویہؓ نے بھی روزہ رکھا۔ حضرت ابن عباسؓ فرمانے لگے : مگر ہم نے تو چاند ہفتہ کی رات کو دیکھا تھا۔ ہم تو اس وقت تک روزہ رکھیں گے جب تک تیس کی گنتی پوری نہیں کر لیں یا پھر ہمیں (اس سے پہلے ) چاند نظر نہ آجائے ۔ میں نے کہا: کیا آپ کو معاویہ کی رؤیت اور روزہ کافی نہیں؟ فرمانے لگے نہیں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اسی طرح حکم فرمایا ہے‘‘۔
پھر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے امام ترمذیؒ لکھتے ہیں :
حدیث ابن عباس حدیث حسن صحیح غریب والعمل على هذا الحديث عند أهل العلم أن لكل أهل بلد رؤيتهم.
’’ابن عباس ؓ کی یہ حدیث حسن ،صحیح اور غریب ہے ، اور اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ ہر علاقے کے لوگوں کے لیے ان کی اپنی رؤیت (چاند دیکھنا ) معتبر ہے‘‘ ۔
اسی حدیث کو امام مسلم ، نسائی اور ابو داؤد نے بھی نقل کیا ہے۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ عبد اللہ بن عباس نے شام والوں کی رؤیت کو کریب کی خبر واحد ہونے کی بنا پر معتبر نہیں کیا، مگریہ توجیہ صحیح نہیں ہے۔ امام نووی شرح مسلم میں لکھتے ہیں :
وانما رده لان الرؤية لا تثبت حكمها في حق البعيد۔
’’یعنی حضرت ابن عباس ؓ نے اس وجہ سے اہل شام کی رؤیت کا اعتبار نہیں کیا کہ رؤیت کا حکم دور والوں کے لیے ثابت نہیں ہوتا‘‘۔
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’تختلف المطالع باتفاق أهل المعرفة بهذا فإن اتفقت لزمه الصوم وإلا فلا وهو الأصح للشافعية وقول في مذهب أحمد‘‘
"مطالع (چاند طلوع ہونے کی جگہوں) کا اختلاف اہلِ علم کے اتفاق سے ثابت ہے۔پس اگر مطالع میں اتفاق ہے ، تو روزہ رکھنا لازم ہوگا،اور اگر مختلف ہوں (یعنی ایک علاقے میں چاند نظر آئے اوردوسرے میں نہ آئے) ، تو دوسرے علاقے میں لازم نہیں ہوگا۔اور یہی شافعیہ کے نزدیک صحیح قول ہے، اور امام احمد کے مذہب میں بھی ایک قول یہی ہے۔"
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :
وَقَدِ اخْتَلَفَ الْعَلَمَاء فِي ذَلِكَ عَلَى مَذَاهِبَ أَحَدُهَا لِأَهْلِ كُلِّ بَلَدٍ رؤيتهُمْ وَفِي صَحِيح مسلم من حديث ابن عباس ما يشهد لَهُ وَحَكَاهُ ابن المُنْذِرِ عَنْ عِكْرِمَةَ وَالْقَاسِمِ وَسَالِمَ وَإِسْحَاق۔
’’علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے (کہ ایک علاقے میں چاند نظر آئے تو کیا دوسرے علاقوں کے لیے بھی لازم ہوگا یا نہیں) اور اس بارے میں کئی اقوال ہیں ،پہلا قول ہر علاقے کے لیے ان کی اپنی رؤیت (چاند دیکھنا) معتبر ہے۔صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث اس کی تائید کرتی ہے۔ ابن منذر نے یہ قول عکرمہ، قاسم، سالم، اور اسحاق رحمہم اللہ سے بھی نقل کیا ہے‘‘۔
فقہ شافعی کے مشہور محدث اور فقیہ علامہ نووی لکھتے ہیں :
وَالصَّحِيحُ عِنْدَ أَصْحَابِنَا أَنَّ الرُّؤْيَةَ لَا تَعُمّ النَّاسَ بَلْ تَحْتَصُّ بِمَنْ قرُب۔ "ہمارے اصحاب (شافعیہ) کے نزدیک صحیح قول یہی ہے کہ رؤیت تمام لوگوں کے لیے عام نہیں ہوتی،بلکہ صرف ان کے لیے ہوتی ہے جو اس علاقے کے قریب ہوں۔"
مالکیہ کے مشہور محقق قاضی ابن رشد مالکی نے لکھا ہے:
و اجمعوا على انه لا يراعى ذلك فى البلدان النائية كالاندلس والحجاز۔ "علماء کا اج**ع ہے کہ دور دراز کے علاقوں (جیسے اندلس اور حجاز) کے لیے ایک دوسرے کی رؤیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔"
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : حكى ابن عبد البر الإج**ع ... وَقَالَ أَجْمَعُوا عَلَى أَنَّهُ لَا تُرَاعَى الرُّؤْيَةُ فِيما بَعُدَ مِنَ الْبِلَادِ كَخُرَاسَانَ وَالْأَنْدَلُسِ ...وَفِي ضَبْطِ الْبُعْدِ أَوْجَهٌ أَحَدُهَا اخْتِلَافِ المَطَالِعِ قَطَعَ بِهِ الْعِرَاقِیونَ وَالصَّيْدَلَانِي وَصَحَّحَهُ النَّوَوِي فِي الرَّوْضَة وشرح المهذب۔
"امام ابن عبد البر نے اج**ع نقل کیا ہے،اور فرمایا، علماء کا اس پر اج**ع ہے کہ چاند کی رؤیت ان علاقوں میں معتبر نہیں ہوتی جو ایک دوسرے سے بہت دور ہوں، جیسے خراسان اور اندلس۔اور فاصلہ کے تعین میں مختلف آراء ہیں،ان میں سے ایک یہ ہے کہ مختلف مطالع (یعنی چاند کے طلوع ہونے کی جگہوں میں فرق) کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا،اسی قول پر عراقی علماء اور صیدلانی نے قطع کیا ہے،اورامام نووی رحمہ اللہ نے بھی اسے روضۃ الطالبین اور شرح مہذب میں صحیح قرار دیا ہے"۔
فقہ حنفی کے مشہور محقق فقیہ، ملک العلماء علامہ کا سانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے :
هَذَا إِذَا كَانَتْ المسَافَةُ بَيْنَ الْبَلَدَيْنِ قَرِيبَةٌ لَا تَخْتَلِف فِيهَا المَطَالِعُ، فَأَمَّا إِذَا كَانَتْ بَعِيدَةً فَلَا يَلْزَمُ أَحَدَ الْبَلَدَيْنِ حُكْمُ الْآخَرِ لِأَنَّ مَطَالِعَ الْبِلَادِ عِنْدَ المسَافَةِ الْفَاحِشَةِ تَختَلِف فَيَعْتَبر فِي أَهْلِ كُلِّ بَلَدٍ مَطَالِع بَلَدِهِمْ دُونَ الْبَلَدِ الْآخَرِ.
’’یہ اس صورت میں ہے جب دو علاقوں کے درمیان فاصلہ کم ہو اور وہاں چاند طلوع ہونے کے مقامات (مطالع) میں فرق نہ ہو۔لیکن اگر دونوں علاقوں کے درمیان فاصلہ زیادہ ہو، تو ایک علاقے کے حکم کا دوسرے پر اطلاق لازم نہیں ہوگا، کیونکہ جب فاصلے بہت زیادہ ہوں تو مطالع مختلف ہو جاتے ہیں،لہٰذا ہر علاقے کے لوگ اپنے علاقے کے مطالع کے مطابق عمل کریں گے، نہ کہ دوسرے علاقے کے مطابق۔"
علامہ زیلعی رحمہ اللہ کہتے ہیں :الاشبه انه يعتبر۔ ’’ زیادہ مناسب بات یہ ہے کے اسے معتبر سمجھاجائے ‘‘۔
استاذ العلماء چراغ ملت حضرت مولانا محمد چراغ رحمہ اللہ نے العرف الشذی تقریر جامع ترندی میں اپنے شیخ محدث العصر علامہ کشمیری رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے :
وقال الزيلعي شارح الكنز : إن عدم عبرة اختلاف المطالع إنما هو في البلاد المتقاربة لا البلاد النائية، وقال كذلك في تجريد القدوري وقال به الجرجاني، أقول: لا بد من تسليم قول الزيلعي وإلا فيلزم وقوع العيد يوم السابع والعشرين أو الثامن والعشرين أو يوم الحادي والثلاثين أو الثاني والثلاثين فإن هلال بلاد قسطنطنية ربما يتقدم على هلا لنا بيومين، فإذا صمنا على هلا لنا ثم بلغنا رؤية هلال بلاد قسطنطنية يلزم تقديم العيد، أو يلزم تأخير العيد ... وكنت قطعت بما قال الزيلعي ثم رأيت في قواعد ابن رشد إج**عاً على اعتبار اختلاف المطالع في البلدان النائية۔
"علامہ زیلعی (شارح کنز) فرماتے ہیں کہ مطالع (چاند کے طلوع ہونے کی جگہوں) کے اختلاف کا اعتبار نہ کرنا صرف قریبی علاقوں کے بارے میں ہے، دور دراز علاقوں میں نہیں۔ اسی طرح کتاب تجريد القدوري میں بھی یہی بات ہے،اور جرجانی نے بھی اس قول کو اختیار کیا ہے۔ میں کہتا ہوں: زیلعی کے قول کو تسلیم کرنا ضروری ہے ورنہ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کبھی عید 27، 28، یا31، 32 تاریخ کو ہو گی ، کیونکہ قسطنطنیہ (استنبول) میں چاند کا طلوع ہمارے ہاں کے چاند سے دو دن پہلے ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے چاند کے مطابق روزہ رکھیں اور پھر قسطنطنیہ کی رؤیت کی خبر پہنچے،تو عید کو مقدم یا مؤخر کرنا لازم آئے گا،جو کہ شرعی اور عقلی اعتبار سے درست نہیں۔میں نے شروع میں زیلعی کے قول پر قطع کیا تھا، پھر ابن رشد کی کتاب قواعد میں اس پر اج**ع دیکھاکہ دور دراز علاقوں میں اختلاف مطالع معتبر ہے"۔
علامہ السید سابق رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:والصحيح عند الاحناف، والمختار عند الشافعية: أنه يعتبر لاهل كل بلد رؤيتهم، ولا يلزمهم رؤية غير هم --- وفي فتح العلام شرح بلوغ المرام الاقرب لزوم أهل بلد الرؤية، وما يتصل بها من الجهات التي على سمتها [حاشية: هذا هو المشاهد، ويتفق مع الواقع.
"احناف کے نزدیک صحیح قول، اور شافعیہ کے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ ہر علاقے کے لوگ اپنی رؤیت کے پابند ہوں گے،انہیں دوسرے علاقوں کی رؤیت لازم نہیں۔اورفتح العلّام شرح بلوغ المرام میں ہے،اقرب قول یہی ہے کہ جس علاقے میں رؤیت ہوئی ہو،اسی علاقے اور اس کے اطراف کے لوگ اسی رؤیت کے پابند ہوں۔حاشیہ میں ہے: یہی مشاہدہ ہے، اور حقیقت و تجربہ سے ہم آہنگ بھی ہے۔"
علامہ عبدالحئی لکھنوی لکھتے ہیں :
و طحطاوی رحمہ اللہ در حواشی مراقی الفلاح می نویسند: قوله كما ذهب اليه صاحب التجريد وهو الاشبه لان انفصال الهلال من شعاع الشمس مختلف باختلاف الاقطار كما في دخول الوقت وخروجه، وفي القدوري ان كان بين البلدتين تفاوت لا يختلف به المطالع يلزمه، وذكر شمس الائمة الحلوانى انه الصحيح من مذھب اصحابنا۔ وصاحب ہدایہ رحمہ اللہ در مختارات النوازل می آرد ۔۔۔ واما اذا اختلف لا يجب القضاء الخ و زیلعی رحمہ اللہ در تبیین الحقائق می طراز د ... والاشبه ان يعتبر لان كل قوم مخاطبون بما عندهم ۔۔۔۔ والدليل على اختلاف المطالع ما روى کریب ۔۔۔۔۔ قال فى المنتقى رواه الج**عة الا البخاري وابن ماجة خلاصۂ کلام این است کہ مذہب اعتبار اختلاف مطالع مطلقا و عدم لزوم حکم رؤیت یک بلده ببلدۂ دیگر اگر چہ متقارب باشد غیر معتبر است، و مذہب عدم اعتبار اختلاف مطالع مطلقا ولزوم حکم رؤیت یک بلده ببلده دیگر اگر چہ متباعد باشد بغایت بعد، مخالف حدیث ابن عباس ؓ است ۔واصح المذاہب عقلا و نقلا ہمین است کہ ہر دو بلده کہ فیما بین آنہا مسافتی باشد کہ در ان اختلاف مطالع می شود ۔۔ در این صورت حکم رویت یک بلدہ ببلدۂ دیگر نخواہد شد ۔۔
’’طحطاوی رحمہ اللہ مراقی الفلاح کے حاشیہ میں لکھتے ہیں: قوله (کما ذهب إلیه صاحب التجريد) یعنی جیسا کہ تجرید کے مصنف کی رائے ہے، یہی قوی تر اور اقرب ہے، (یعنی اختلاف مطالع )، کیونکہ چاند کا سورج کی شعاع سے جدا ہونا (یعنی رؤیت ہلال) مختلف ہوتا ہے،مختلف علاقوں کے لحاظ سے،جیسے نماز کے وقت کا آغاز اور اختتام مختلف ہوتا ہے۔کتاب قدوری میں ہےاگر دو شہروں کے درمیان اتنا فرق ہو کہ اس سے مطالع میں اختلاف نہ ہو،تو ایک کی رؤیت دوسرے پر لازم ہے۔شمس الأئمہ الحلوانی نے فرمایا: یہی ہمارے اصحاب (احناف) کا صحیح مذہب ہے۔صاحب بدایہ (علامہ کاسانی) نے مختارات النوازل میں نقل کیا اگر مطالع میں اختلاف ہو (یعنی شہروں میں اتنا فاصلہ ہو کہ چاند کی رؤیت مختلف ہو) تو ایک شہر پر دوسرے شہر کی رؤیت لازم نہیں۔زیلعی رحمہ اللہ تبیین الحقائق میں فرماتے ہیں: اصح یہی ہے کہ اختلاف مطالع کا اعتبار کیا جائے، کیونکہ ہر قوم کو ان کے اپنے حالات کے مطابق خطاب کیا گیا ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (جو کُرَیب کے واقعے میں موجود ہے) کہ جب شامیوں نے جمعہ کی رات چاند دیکھا اور ابن عباس نے فرمایا،ہم نے تو ہفتہ کی رات دیکھا، اس لیے ہم اپنی رؤیت پر روزہ رکھیں گے۔ کتاب المنتقی میں ہے،یہ روایت تمام محدثین (الج**عہ) نے بیان کی ہے سوائے بخاری اور ابن ماجہ کے۔" خلاصہ کلام یہ ہے کہ اختلاف مطالع کو مطلقا معتبر قرار دینا اور ایک شہر کی رؤیت دوسرے شہر کے لیے اگر چہ قریب ہو، لازم نہ سمجھنا، یہ موقف درست نہیں ہے۔ اور اختلاف مطالع کا بالکل اعتبار نہ کر کے ایک شہر کی رؤیت دوسرے شہر کے لیے اگر چہ انتہائی دور ہو، لازم قرار دینا، یہ مسلک ابن عباسؓ کی حدیث کے خلاف ہے۔ اور عقلا ونقلا صحیح تر مذہب یہی ہے کہ دو شہر کہ ان کے درمیان اتنا فاصلہ ہو کہ اس میں مطالع کا اختلاف ہو جاتا ہو، تو اس صورت میں ایک شہر کی رؤیت کا حکم دوسرے شہر کے لیے نہیں ہوگا۔
وہمین مذہب محدثین حنفیہ است و موافق حدیث ابن عباسؓ کہ در صحیح مسلم و جامع تر مذی وغیره مروی است۔ ’’اور یہی موقف ہے محدثین حنفیہ کا جو کہ حدیث ابن عباس کے موافق ہے جو صحیح مسلم اور جامع ترمذی وغیرہ میں بھی مروی ہے‘‘۔
علامہ بنوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وذكر اعتباره في الاختيار شرح المختار" عن الفتاوى الحسامية (انظر۱۲۸/۱) قال الراقم: والذى يظهر ان الائمة لم ينقل عنهم الا قول عدم العبرة للاختلاف مطلقا من غير فرق بين قرب وبعد و من غير تفصيل وانما المنقول عنهم قول اجمالي، ومنشأ ذلك ان طي مسافة بعيدة يختلف فى مثلها مطلع الهلال ما كان يمكن في شهر واحد نظرا الى نظام المواصلات فى ذلك العهد ونظرا الى النظام المعهود في قطع المسافة عند ذلك فما كان يمكن ان يرى رجل الهلال ثم يصل قبل تمام الشهر الى بلد يختلف مطلعه فكان الحكم ھو اللزوم بالوجه الشرعي وعدم العبرة للاختلاف فجاء قول عدم العبرة من هذه الجهة، والظاهر ان نفس اختلاف المطالع الشرقية والغربية لم يكن ليخفى على مثل الائمة حكماء الامة ثم اذا جاء من بعدهم فوسعوا دائرة قولهم الى مالم يريدوه واخذوا قولهم با وسع معنى الكلمة عام في كل مطلع وارى ان هذا غير ملائم، ولا بد ان يراعى تلك الظروف المحيطة، والاحوال المحاطة والاغراض الدائرة فى الباب، وليس الجمود على الظاهر من باب التفقه في مثل هذا اصلا ۔۔۔۔۔۔ حكى ابن عبد البر الاج**ع على خلافه وقال اجمعوا على انه لا تراعى الرؤية فيما بعد من البلاد کخراسان والاندلس (آه) ۔والمتبادر من نقل الاج**ع ھو اج**ع العلماء من اھل المذاهب دون المالكية خاصة كما يتوهم، فعلم اذن ان قول الائمة المجمل مخصوص بالبلاد القريبة التي لا يختلف أفقها اختلافا فاحشا، الى آخر ما قال۔
"اورکتاب الاختیار شرح المختار،میں فتاوی حسامیہ کے حوالہ سے اختلاف مطالع کے اعتبار کا ذکر کیا گیا ہے (دیکھیے1/138) راقم (مصنف) کہتا ہے: ظاہر بات یہ ہے کہ ائمہ کرام سے جو قول منقول ہے،وہ مطلق طور پر اختلاف مطالع کے عدمِ اعتبار کا ہےیعنی نہ قریب اور نہ دور کے درمیان فرق کے ساتھ،اور نہ ہی کسی قسم کی تفصیل کے ساتھ۔اور اس کا سبب یہ تھا کہ اس زمانے میں جب لمبی مسافتیں طے کرنا ممکن نہ تھا، اور ایک ہی مہینے میں اتنی دوری طے کرنا مشکل تھاجیسا کہ اُس وقت کے سفری ذرائع اور رفتار کے مطابق تھا تو عملاً یہ ممکن نہ تھا کہ ایک آدمی ایک جگہ چاند دیکھے اور پھر مہینے کے ختم ہونے سے پہلےکسی دوسرے ایسے مقام تک پہنچ جائےجس کا مطلع (چاند کا طلوع ہونے کا مقام) اس سے مختلف ہو۔لہٰذا اُس وقت اختلاف مطالع کا اثر نہ ہونے کے برابر تھا،اسی وجہ سے اختلاف مطالع کو نظر انداز کرنے کا قول آیا۔لیکن ظاہر ہے کہ مطلع کے مشرقی و مغربی فرق کا علمی ادراک ایسے عظیم ائمہ اور امت کے حکماء سے مخفی نہیں رہا ہوگا۔پھر بعد کے لوگوں نے ان ائمہ کے اقوال کوان کی اصل مراد سے بڑھا دیا اور ہر مطلع پر ان کے کلام کو عام کر دیا،حالانکہ ایسا کرنا مناسب نہیں۔لہٰذا ضروری ہے کہ ا ن اقوال کو بیان کرتے وقت اس وقت کی صورتِ حال، حالات، مقاصداور گرد و پیش کے اسباب کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔صرف ظاہر پر جمود اختیار کرنا فقاہت نہیں ہے ۔ ابن عبدالبر مالکی نے کہا ہے کہ ‘‘ ا ج**ع ہے کہ دور دراز کے علاقوں جیسے خراسان اور اندلس میں (ایک ہی رؤیت کا) اعتبار نہیں کیا جائے گا۔یہ اج**ع بظاہر تمام اہلِ مذاہب کا ہے، محض مالکیہ کا نہیں جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔پس معلوم ہوا کہ ائمہ کا اجمالی قول بھی صرف ان قریب علاقوں کے لیے تھا جن کے مطالع میں بہت زیادہ فرق نہ ہو۔اللہ بہتر جانتا ہے"۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے لکھا ہے :
بہر حال متأخرین احناف کے نزدیک (ائمہ ثلاثہ کی طرح) بلادِ بعیدہ میں اعتبارِاختلافِ مطالع ہی راجح ہے۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
کچھ لوگوں کا یہ خیال بھی ہے کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کی عید ایک ہی دن ہونی چاہیے۔ لیکن در حقیقت یہ فکر ونظر کی غلطی ہے۔ ایسی باتیں دین سے ناواقفیت کی بنا پر کی جاتی ہیں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کی عید ایک دن ہونی چاہیے وہ تو بالکل ہی لغو بات کہتے ہیں کیوں کہ تمام دنیا میں رؤیت ہلال کا لازما اور ہمیشہ ایک ہی دن ہونا ممکن نہیں ہے۔ رہا کسی ملک یا کسی ایک بڑے علاقے میں سب مسلمانوں کی ایک عید ہونے کا مسئلہ، تو شریعت نے اس کو بھی لازم نہیں کیا ہے۔ یہ اگر ہو سکے اور کسی ملک میں شرعی قواعد کے مطابق رؤیت کی شہادت اور اس کے اعلان کا انتظام کر دیا جائے تو اس کو اختیار کرنے میں کوئی مضایقہ بھی نہیں ہے۔ مگر شریعت کا یہ مطالبہ ہر گز نہیں کہ ضرور ایسا ہی ہونا چاہیے ۔
استاذ محترم شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا گوہر رحمن رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کے درس کے دوران اسی موقف کو ترجیح دی ہے اور استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمالک صاحب کی بھی یہی رائے ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

20/03/2026
07/10/2025

الحمد لله رب العالمين

21/09/2025

چلاسی پند میگوئد لذیذ از قند میگوئد۔ چند سال پہلے میں شیخ چلاسی رح کی ملاقات کے لئے حاضر ہوا تھا۔مولانا مودودی، اور میرے شیخین مولانا گوہر رحمان، و مولانا محمد عنایت الرحمن کے بڑے مداح تھے۔رحمهم الله

20/04/2025

اسلام آباد کے حکمران، پر امن غزہ مارچ کو روکنے کی کوشش نہ کریں

Want your school to be the top-listed School/college in Swat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Al Markaz Islami Sangota
Swat