MaaB Online Solution

MaaB Online Solution

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from MaaB Online Solution, Educational consultant, Charbagh, Swat.

MaaB Online Solution Deliver quality services and problems solution, it includes
Data Entry
Data Collection
Microsoft Word
Microsoft Excel
Microsoft Power Point (PPT Presentation)
Documents Conversion
Accounting and Finance

20/08/2023
21/07/2023

جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا گیا تو ان کے لیے دودھ لایا گیا، جیسے ہی آپ نے دودھ پیا تو وہ آپ کی پسلیوں کے زخم سے بہہ نکلا۔ طبیب نے ان سے کہا: اے امیر المومنین! وصیت فرما دیں، آپ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔

تو انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا اور کہا کہ حذیفہ بن الیمان کو میرے پاس کو بلاؤ۔
حذیفہ بن الیمان حاضر ہو گئے۔ یہ وہ صحابی ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے منافقین کے ناموں کی فہرست عطا کی تھی اور ان ناموں کے بارے میں اللہ پاک، اس کے رسول ﷺ اور حذیفہ بن الیمان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔

حضرت عمر نے پوچھا جبکہ خون ان کی پسلیوں سے بہہ رہا تھا۔ کہ اے حذیفہ بن الیمان میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں! کیا اللہ کے رسول ﷺ نے میرا نام منافقین کے ناموں میں لیا ہے یا نہیں؟

یہ سن کر حذیفہ بن الیمان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور فرمایا! یہ میرے پاس رسول اللہﷺ کا راز ہے جو میں کسی کو نہیں بتا سکتا۔
آپ نے پھر پوچھا! خدا کے لیے مجھے اتنا بتادیں، اللہ کے رسول ﷺ نے میرا نام شامل کیا ہے یا نہیں؟

حذیفہ بن الیمان کی ہچکی بندھ گئی اور کہتے ہیں!
اے عمر! میں صرف آپ کو بتا رہا ہوں اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو میں کبھی بھی اپنی زبان نہ کھولتا اور وہ بھی صرف اتنا بتاتا ہوں کہ رسول اللہﷺ نے اس میں آپ کا نام شامل نہیں کیا۔

حضرت عمر نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا!
کہ دنیا میں میرے لیے ایک چیز باقی رہ گئی ہے۔
حضرت عبداللہ نے پوچھا! وہ کیا ہے ابا جان؟

حضرت عمر نے فرمایا! بیٹا میں جوار رسول ﷺ میں دفن ہونا چاہتا ہوں۔
لہذا ام المؤمنین حضرت عائشہ کے پاس جاؤ، ان سے یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنین عمر بلکہ کہنا کہ کیا آپ عمر کو اپنے ساتھیوں کے قدموں میں دفن ہونے کی اجازت دیتی ہیں؟ کیونکہ آپ اس گھر کی مالکن ہیں۔
تو ام المؤمنین نے جواب دیا کہ یہ جگہ تو میں نے اپنے لیے تیار کر رکھی تھی لیکن آج میں اسے عمر کے لیے ترک کرتی ہوں۔

عبداللہ ابن عمر شاداں و فرحاں واپس آئے اور عرض کی، اجازت مل گئی ہے۔
عبداللہ ابن عمر نے دیکھا کہ حضرت عمر کا رخسار مٹی پر پڑا ہے تو انہوں نے آپ کا چہرہ اٹھا کر اپنی گود میں لے لیا۔
حضرت عمر نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ کیوں تم میرا چہرہ مٹی سے بچانا چاہتے ہو۔
عبداللہ ابن عمر نے کہا ابا جان۔
لیکن حضرت عمر نے بات کاٹتے ہوئے فرمایا کہ اپنے باپ کا چہرہ مٹی سے لگنے دو۔ بربادی ہے عمر کے لیے اگر کل اللہ پاک نے اسے نہ بخشا۔

حضرت عمر اپنے بیٹے کو یہ وصیت فرما کر موت کی آغوش میں چلے گئے!
اے میرے بیٹے میری میت مسجد نبوی میں لے جانا اور میرا جنازہ پڑھنا اور حذیفہ بن یمان پر نظر رکھنا، اگر وہ میرے جنازے میں شرکت کریں تو میری میت روضہ رسولﷺ کی طرف لے جانا۔
اور میرا جنازہ روضة الرسولﷺ کے دروازے پر رکھ کر دوبارہ اجازت طلب کرنا اور کہنا!
اے ام المؤمنین آپ کا بیٹا عمر یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنین، ہو سکتا ہے میری زندگی میں مجھ سے حیا کی وجہ سے اجازت دی گئی ہو، اگر اجازت مرحمت فرما دیں تو دفن کرنا ورنہ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔

عبداللہ ابن عمر کی نظریں حذیفہ بن الیمان پر تھیں. وہ کہتے ہیں کہ میں حذیفہ بن یمان کو ابا جان کی نماز جنازہ پر دیکھ کر بہت خوش ہوا اور ہم جنازہ لے کر روضہ رسول کی طرف چلے گئے۔ دروازے پر کھڑے ہو کر میں نے کہا۔ "يا أمنا! ولدك عمر في الباب
هل تأذنين له"؟ اے ہماری ماں، آپ کا بیٹا عمر دروازے پر ہے، کیا آپ تدفین کی اجازت دیتی ہیں؟
ام المؤمنین نے جواب دیا! مرحبا یا عمر۔ عمر کو اپنے ساتھیوں کی ساتھ دفن ہونے پر مبارک ہو۔ ام المؤمنین نے اپنی چادر سمیٹی اور روضہ رسولﷺ سے باہر نکل آئیں۔ رضي الله عنهم و رضو عنه.
اللہ پاک راضی ہو حضرت عمر سے، زمین کا چپہ چپہ جن کے عدل کی گواہی دیتا ہے، جن کی موت سے اسلام یتیم ہو گیا، جن کو اللہ کے رسول ﷺ نے زندگی میں جنت کی خوشخبری دی ہو پھر بھی اللہ کے سامنے حساب دہی کا اتنا خوف! ہمارا کیا بنے گا؟
#منقول

19/07/2023

‏عقیدہ ایک ایسی خطرناک چیز ہے جو انسان کو دودھ
ضائع کرنے اور پیشاب پینے پر مجبور کر دیتا ہے۔۔۔!!
رب کائنات کا شکر ہے کہ ہمیں مسلمان پیدا کیا اور محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کا امتی بنایا۔اس بات پہ جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔۔۔!!

17/07/2023

خود پر خرچ بھی کیجئے

17/07/2023

ایسی تحریر جس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے ایک تیس سال پرانے دوست ہیں‘ پڑھے لکھے اور دانش ور ہیں‘ ملک سے باہر رہتے ہیں لہٰذا ملاقاتیں نہ ہونے کے برابر ہیں ‘ فون پر بھی بہت کم بات ہوتی ہے‘ دو دن پہلے ان کا آڈیو پیغام آیا ’’میرا بھائی ملتان سے اپنے کسی دوست کو آم بھجوا رہا ہے‘ میں نے سوچا میں اسے کہہ دوں وہ تمہیں بھی بھجوا دے‘ کیا تم بس کے اڈے سے لے لو گے اور یہ بھی بتائو کیا تم آم کھاتے بھی ہو یا پھرنہیں‘‘۔
میں پیغام سن کر ہنس پڑا اور مجھے وہ لطیفہ یاد آگیا جس میں میزبان نے مہمان سے کہا تھا‘ آپ کھانا نوش فرمایے‘ ہم نے ویسے بھی ڈسٹ بین میں ہی پھینکنا تھا‘ میں نے ان کو جوابی پیغام بھجوایا جناب آپ کا بہت شکریہ‘ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا‘ میں آم نہیں کھاتا لہٰذا آپ ہرگز تکلیف نہ کریں‘ دوسرا اسلام آباد سے ہر چیز مل جاتی ہے تاہم میں آپ کو صرف سمجھانے کے لیے عرض کرنا چاہتا ہوں تحفہ ایک نفیس چیز ہوتی ہے‘ اس کے بھی آداب ہوتے ہیں۔
آپ جب کسی کو کہتے ہیں میرا بھائی کسی کو بھجوا رہا تھا تو میں نے سوچا میں آپ کو بھی بھجوا دوں یا آپ فلاں جگہ جا کر اپنا تحفہ وصول کر لیں گے یا آپ یہ کھاتے بھی ہیں یا نہیں تو یہ دوسرے کی بے عزتی ہوتی ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے آپ دوسرے کو کم تر سمجھ رہے ہیں‘ تحفے عزت افزائی ہوتے ہیں‘ ان میں دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے‘ میرے دوست مائینڈ کر گئے‘ ان کا خیال تھا میں ان کے خلوص‘ ان کی محبت کو نہیں سمجھ سکا چناں چہ انھوں نے میرے ساتھ قطع تعلق کا اعلان کر دیا۔
میں اس کے بعد دیر تک افسوس کرتا رہا‘ میرا خیال تھا مجھے یہ نہیں کہنا چاہیے تھا‘ چپ چاپ سہہ جانا چاہیے تھا لیکن پھر سوچا اگر سب لوگ ایسی غلطیوں پر خاموش رہیں گے‘ تعلقات بچانے کی فکر کرتے رہیں گے تو پھر ہم اپنی اصلاح کیسے کریں گے؟
آپ اس مثال ہی کو لے لیجیے‘ میرے دوست یہ بھی کہہ سکتے تھے آپ اپنا ایڈریس دے دیجیے میں آپ کو آم بھجوانا چاہتا ہوں‘ یہ ایک باعزت طریقہ ہوتا‘ تین جوتے مارنے کیا ضرورت تھی لیکن سوال یہ ہے کیا یہ غلطی صرف میرے اس دوست نے کی ؟ جی نہیں! ہم میں سے زیادہ تر لوگ عموماً ایسی ’’چول‘‘ مار دیتے ہیں‘ میں خود بھی ایسی غلطیاں کرتا تھا اور میرے سینئر میری اصلاح کرتے تھے‘ مثلاً میں 1996ء میں لالہ موسیٰ سے اسلام آباد آ رہا تھا‘ میں نے نئی نئی مہران گاڑی خریدی تھی اور خود کوٹاٹا اور برلا سمجھتا تھا‘ چوہدری فضل حسین میرے استاد تھے۔
یہ زمین دار کالج گجرات کے پرنسپل رہے تھے‘ ان کے شاگرد پوری دنیا میں پھیلے ہوئے تھے اور میں نے زندگی میں ان سے زیادہ نفیس اور شان دار شخص نہیں دیکھا‘ وہ سرتاپا حس مزاح بھی تھے‘ ان کی ہر بات پھلجھڑی ہوتی تھی‘ وہ کالج میں روز صبح اسمبلی کے وقت چھوٹی سی تقریر کرتے تھے‘ پورا کالج اور گردونواح کے لوگ ان کی تقریر سننے صبح آٹھ بجے کالج پہنچ جاتے تھے اور پیٹ پکڑ کر لوٹ پوٹ ہو جاتے تھے‘ چوہدری صاحب جہلم میں رہتے تھے‘ وہ کسی فنکشن کے لیے لالہ موسیٰ آئے ہوئے تھے‘ میں نے انھیں راستے میں ڈراپ کی پیش کش کر دی۔
چوہدری صاحب خوش دلی سے میرے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئے‘ وہ گاڑی میں سوار ہونے لگے تو میں نے شوخی میں آ کر نیچ حرکت کر دی‘ میں نے ہنس کر کہا ’’سر آپ کہاں بس پر خوار ہوں گے‘ میں جہلم سے گزر کر جا رہا ہوں‘ میں آپ کو راستے میں چھوڑ دوں گا‘‘ چوہدری صاحب نفیس اور شان دار انسان تھے‘ وہ مسکراکر بولے ’’بیٹا میں پوری زندگی بسوں پر خوار ہوا ہوں‘ میں آج بھی خوار ہو سکتا ہوں لیکن میں نے سوچا‘ میں ایک گھنٹہ آپ جیسے پڑھے لکھے نوجوان کی کمپنی سے لطف لے لیتا ہوں‘‘۔
میری کمر تک پسینے میں تر ہوگئی‘ مجھے آج بھی جب یہ واقعہ یاد آتا ہے تو میں شرمندہ ہو جاتا ہوں لیکن وہ دن ہے اور آج کا دن میں نے زندگی میں جب بھی کسی کو لفٹ دی یا کسی کے لیے گاڑی بھجوائی تو ہمیشہ عاجزی سے عرض کیا‘ سر آپ اگر میرے ساتھ جائیں گے تو یہ میری عزت افزائی ہو گی‘ مجھے آپ سے سیکھنے کا موقع ملے گا یا پھر سر میرا ڈرائیور وہ جگہ اچھی طرح جانتا ہے‘ یہ آپ کو آسانی سے لے جائے گا یا لے آئے گا‘ اس سے آپ کا بہت سا وقت بچ جائے گا۔
ہم میں سے اکثر لوگ یہ غلطی بھی کرتے ہیں‘ یہ کسی کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں ’’میں ادھر سے گزر رہا تھا میں نے سوچا آپ سے بھی مل لوں‘‘ آپ ذرا فقرے کے اندر جھانک کر دیکھیے یعنی یہ بڑے آدمی ہیں‘ انھوں نے یہاں سے گزر کر اور آپ کے دفتر یا گھر تشریف لا کر بہت احسان فرمایا اور دوسرا یہ آپ کو اتنا فارغ اور فضول سمجھ رہے ہیں یہ آپ کے پاس جب چاہیں آ جائیں اور آپ پر فرض ہے آپ دروازے اور باہیں کھول کر کھڑے ہو جائیں‘ آپ کوشش کریں یہ غلطی نہ کریں۔
یہ سیدھی سادی چول ہے‘ آپ اگر کسی سے ویسے ہی گزرتے گزرتے ملنا چاہتے ہیں تو بھی فون کریں اور یہ کہیں میں اگر ابھی آپ کے پاس آ جائوں تو کیا آپ سے ملاقات ہو سکتی ہے اور وہ اگر اجازت دیں تو آپ مل لیں ورنہ کسی دوسرے دن خصوصی طور پر ان سے ملنے کے لیے چلے جائیں یوں ہی چلتے چلتے یا گزرتے گزرتے کسی سے ملنا زیادتی ہے۔
ہم میں سے بے شمار لوگ کسی کو کپڑے یا جوتے دیتے ہوئے بھی فرمادیتے ہیں میں نے یہ سوٹ‘ یہ شرٹ یا پتلون خریدی تھی لیکن یہ تنگ یا ڈھیلی نکلی‘ میں نے سوچا یہ میں آپ کو دے دوں یا نیا جوتا نکالیں گے اور کہیں گے یہ میں نے لندن سے خریدا تھا‘ یہ مجھے تنگ ہے‘ یہ آپ لے لیں‘ یہ بھی دوسرے شخص کی سیدھی سادی بے عزتی ہے‘ آپ اس کے بجائے وہ کپڑے یا جوتے پیک کرا کر اپنے کسی ورکر یا کسی ضرورت مند کو دے دیں‘ آپ کو ثواب بھی ملے گا اور دل کو تسلی بھی ہو گی اور آپ نے اگر واقعی غلط سائز کے جوتے یا کپڑے خرید لیے ہیں اور آپ نے یہ استعمال نہیں کیے اور یہ آپ اپنے کسی دوست ہی کو دینا چاہتے ہیں تو آپ اسے ’’ری پیک‘‘ کرائیں اور اپنے دوست یا عزیز رشتے دار کو دے دیں‘ وہ خوش ہو جائے گا۔
یہ چول مارنے کی کیا ضرورت ہے یہ مجھے تنگ یا ڈھیلا تھا لہٰذا تم لے لو‘ اس رویے سے آپ کی چیز بھی ضایع ہو جاتی ہے اور دوسرے کا دل بھی ٹوٹ جاتا ہے‘ میرے سامنے ایک بار میرے ایک جاننے والے نے اپنے ایک دوست کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا‘ اس نے اسے ’’رسل اینڈ براملے‘‘ کا نیا جوتا دیا اور کہا یہ میں نے لندن سے پانچ سو پائونڈ کا خریدا تھا‘ یہ مجھے تنگ ہے‘ میں نے ایک دن بھی نہیں پہنا‘ یہ تمہیں آ جائے گا‘ تم لے لو‘ یہ سن کر سامنے موجود شخص کا چہرہ سرخ ہو گیا‘ اس نے جوتا لیا‘ اپنا ڈرائیور بلایا اور اسے جوتے دے کر بولا ’’بیٹا یہ نوید صاحب آپ کے لیے لندن سے لائے ہیں۔
آپ انھیں پہن کر دکھائو‘‘ ڈرائیور خوش ہو گیا‘ اس نے اپنے میلے جوتے اتارے‘ نیا جوتا پہنا‘ چل پھر کر تسلی کی اور جھک کر نوید صاحب کو سلام پیش کیا‘ نوید صاحب کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا‘ ہم پنجابی قیمت پوچھنے کی علت کا شکار بھی ہیں‘ ہمیں اگر کسی کی شرٹ‘ کرسی‘ میز‘ گھر یا گاڑی پسند آ جائے گی تو ہم اس سے فوراً اس کی قیمت پوچھ لیں گے‘ ہم اس سے گھر یا فلیٹ کا رقبہ بھی پوچھیں گے مثلاً یہ کتنے مرلے میں ہے‘ بنانے میں کتنا ٹائم لگا اور کتنا خرچ ہوا؟ اور یہ شرٹ کہاں سے لی اور کتنے میں لی‘ یہ بھی دوسرے کی بے عزتی ہوتی ہے۔
آپ کو اگر کسی کے کپڑے اچھے لگ رہے ہیں تو آپ کھل کر ان کی تعریف کریں‘ وہ اگر مناسب سمجھے گا تو وہ آپ کودرزی یا برینڈ کا نام بتا دے گا‘ آپ وہ یاد رکھ لیں اور واپس جا کر درزی یا دکان دار سے تفصیل پوچھ لیں اگر یہ ممکن نہ ہوتو آپ کھل کر تعریف کریں‘ گھر جائیں‘ وہاں سے فون کریں اور اس سے برینڈ یا درزی کے بارے میں پوچھ لیں لیکن قیمت اس وقت بھی نہ پوچھیں‘ کیوں؟ کیوں کہ قیمت پوچھنے کا مطلب ہوتا ہے آپ چیزوں کو جمالیاتی حس کے بجائے بیوپاری یا قصائی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور آپ کی نظر میں چیز کی نہیں قیمت کی ویلیو ہے اور یہ حرکت ناشائستہ بھی ہے اور چیپ بھی۔
میں ایک بار روم میں کسی کا مہمان تھا‘ میرا میزبان شان دار کلچرڈ انسان تھا‘ میں اس کی شرٹ کا عاشق ہو گیا‘ میں نے جی بھر کر اس کی تعریف کی‘ وہ خوش ہو گیا‘ کھانے کے دوران اس نے میری فضول سی شرٹ کی تعریف کی اور باتوں ہی باتوں میں پوچھا‘ مجھے اس کا کالر 40 لگ رہا ہے‘ میں نے فوراً جواب دیا نہیں یہ41 ہے اور یہ قطعاً اچھی نہیں‘ اس نے کہا ‘مجھے تو یہ بہت اچھی لگ رہی ہے‘ ہم نے کھانا کھایا‘ میں ہوٹل واپس آ گیا‘ اگلی شام میرے میزبان کا ڈرائیور آیا اور مجھے اس کی طرف سے ایک گفٹ پیک دے گیا۔
میں نے کھولا تو وہ اسی طرح کی شرٹ تھی جیسی اس نے رات پہن رکھی تھی‘ میں خوش ہو گیا‘ میں نے اگلے دن اس کو دو برینڈڈ ٹائیاں بھجوا دیں‘ وہ بھی خوش ہو گیا جب کہ میں زمانہ جاہلیت میں کیا کیا کرتا تھا؟ میں فوراً چیز کی قیمت اور دکان پوچھ لیتا تھا اور دوسرے بے چارے کا منہ بن جاتا تھا۔
یہ یاد رکھیں تحفہ سنت ہے‘ یہ ایک مقدس اور نفیس چیز ہوتا ہے لہٰذا ہمیں چاہیے ہم جب کسی کو تحفہ دیں تو سنت سمجھ کر‘ عبادت سمجھ کر دیں‘ عزت اور احترام کے ساتھ دیں‘ اسے خیرات نہ بنا دیں‘ اس سے دوسروں کے دل ٹوٹ جاتے ہیں۔

MaaB Online Solution
جاوید چوہدری

03/07/2023

پیدائشی مسلم اور نومسلم۔۔۔۔۔

کچھ عرصہ قبل ایک ویڈیو انٹریو دیکھا تھا۔ ایک غیر مسلم خاتون تین ایسی خواتین کا انٹرویو کر رہی تھیں۔ جنہیں اسلام قبول کئے دس دس سال سے زائد عرصہ ہوچکا تھا۔ دوران انٹرویو اس نے ایک بہت ہی اہم سوال یہ کیا

"ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ نو مسلم مساجد کی سطح تک تو پیدائشی مسلمانوں کے ساتھ گھل مل لیتے ہیں لیکن کمیونٹی کی سطح پر ان سے کنی کتراتے ہیں۔ ان کے ساتھ دوستیاں نہیں رکھتے۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟"

کسی جگہ تین خواتین بیٹھی ہوں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنی اپنی باری پر بولیں۔ خواتین کی نفسیات کچھ ایسی ہے کہ یہ سب ایک دوسرے کو لقمہ دے رہی ہوتی ہیں۔ یوں اختلاف ہو تو کنفیوژن پھیل جاتی ہے۔ اور اتفاق ہو تو ایک مشترکہ موقف سامنے آجاتا ہے۔ ان خواتین نے مل جل کر جو جواب دیا وہ دل دہلا دینے والا تھا۔ اور ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے

"جی ہاں ایسا ہی ہے۔ اور اس کی بہت گہری وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ان کا اسلام باپ سے ملی میراث کی طرح ہے لھذا انہیں اس کی قدر ہی نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی عیسائی تھا تو کوئی ملحد۔ نو مسلموں میں سے کسی نے بھی آنکھیں بند کرکے اسلام قبول نہیں کیا۔ کم سے کم بھی دو سال تک اسلام کا مطالعہ کرنے کے بعد یہاں مغرب میں لوگ اسلام قبول کرتے ہیں۔ ان کا پہلا مطالعہ قرآن مجید اور دوسرا رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا ہوتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں لوگ صحابہ کرام کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تاکہ دیکھ سکیں کہ آخر وہ جماعت کیسی تھی جسے رسول اللہ ﷺ کی براہ راست صحبت اور تعلیم میسر آئی۔ چنانچہ اسلام قبول کرنے والا نو مسلم جب یہ دیکھتا ہے کہ جو اسلام ہم نے قرآن مجید ، سیرت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی زندگیوں میں دیکھا ہے وہ تو ان پیدائشی مسلمانوں میں دور دور تک نظر نہیں آتا تو یہ فورا سمجھ جاتے ہیں کہ اسلام پر زوال کیوں آیا ہوا ہے۔

ہم نو مسلموں میں سے کئی ایسے ہیں جنہوں نے ہالیووڈ کی فلم انڈسٹری ، میوزک اور فیشن انڈسٹری کے کیریئر کو اسلام پر قربان کیا ہے۔ کیونکہ ہم اس کے کلچر اور آمدنی دنوں کو حرام سمجھتے ہیں مگر یہ پیدائشی مسلمان تو یہاں مغرب میں نائٹ کلبوں میں ناچ رہے ہیں۔ یہ کیسی مسلمانی ہے ؟ اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ آپ کسی بھی نو مسلم کا قرآن مجید سے متعلق انٹریو کر سکتی ہیں۔ وہ آپ کو بتا دے گا کہ قرآن مجید کے کن کن مقامات اور تعلیمات نے دوران مطالعہ سب سے زیادہ متاثر کیا۔ یہاں تک کہ آپ کسی بھی موضوع پر اس سے سوال کریں گی کہ اس بارے میں قرآن مجید کیا کہتا ہے ؟ تو وہ آپ کو بتا دے گا کہ یہ کہتا ہے۔ لیکن یہی انٹریو آپ کسی عام پیدائشی مسلمان کا نہیں کرسکتیں۔ کیونکہ اس نے پوری زندگی میں کبھی قرآن کھول کر اس کا مطالعہ نہیں کیا ہوتا۔

ان کا تو آسان سا شارٹ کٹ ہے کہ کوئی مسئلہ پیش آگیا تو مولوی سے جا کر پوچھ لیا۔ خود دین سیکھنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کرتے۔ پھر مولوی خود ایک مسئلہ ہیں۔ ان میں سے جو عرب علماء ہیں یہ تو ٹھیک ہیں۔ ان سے آپ جب بھی دین کے حوالے سے بات کریں گے تو یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حوالے سے بات شروع کریں گے۔ آپ اس آیت یا حدیث کے حوالے سے کوئی پیچیدہ سوال پوچھیں گے تو تب وہ آپ کو یہ بتائیں گے کہ مفسرین، محدثین اور فقہاء اس کی کیا تشریح کرتے ہیں۔ لیکن بات شروع قرآن و حدیث سے ہی ہوگی۔ اس کے برخلاف ایشین مولویوں کا سارا زور اپنی کچھ شخصیات پر رہتا ہے۔ آپ کوئی بھی سوال کر دیجئے وہ کہیں گے

"ہمارے حضرت فرماتے ہیں۔۔۔۔"

ارے بھئی ہم نے آپ کے حضرت کا کیا کرنا ہے، ہمیں تو یہ بتاؤ کہ اللہ اور اس کا رسول کیا کہتا ہے ؟ سو ہم ان پیدائشی مسلمانوں سے دور ہی رہتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر لوگ اسلام سے متنفر ہوتے ہیں۔ اور درست طور پر ہوتے ہیں۔ کیونکہ جو عیاشیاں ہم مغربی نو مسلموں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام پر قربان کردی ہیں۔ وہ تمام عیاشیاں یہ پیدائشی مسلمان یہاں مغرب میں کر رہے ہیں۔ شراب یہ پیتے ہیں، زنا یہ کرتے ہیں، دھوکے یہ دیتے ہیں، بارز اور نائٹ کلبوں میں یہ نظر آتے ہیں۔ کوئی ایسی چیز نہیں جس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے منع کیا ہو اور یہ کرتے نہ ہوں۔ ہمیں ڈر ہے کہ ان سے تعلق رکھیں گے تو یہ ہمیں دین سے دور کردیں گے"

پھر ان میں سے ایک نے کہا

"کیا آپ یقین کریں گی کہ ایک پیدائشی مسلمان کولیگ نے مجھے یہ سمجھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا کہ اسلام میں چہرہ چھپانا ضروری نہیں لھذا تم نقاب نہ لیا کرو ؟"

انٹرویو کرنے والی نے پوچھا

"کیا چہرہ چھپانا ضروری ہے ؟"

وہ بولیں

"دیکھئے اس سوال کا سورس ڈھونڈنا چاہئے۔ آپ جب اس کی تلاش میں نکلیں گی تو چلتے چلتے یا تو آپ لندن پہنچ جائیں گی یا واشنگٹن ۔ مسلم معاشروں میں ایسے سوال مغرب نے انجیکٹ کئے ہیں۔ آپ کو یہ بات بالکل صاف نظر آجائے گی کہ مسلم معاشروں میں اس طرح کے سوالات تب پیدا ہوئے جب کسی مغربی ملک نے ان پر قبضہ کرلیا۔ اس طرح کے سولات سے مسلم معاشروں کو تو کنفیوز کیا جاسکتا ہے مگر ہم مغربی مسلمانوں کو نہیں۔ہم چیزوں کا جائزہ سائنٹفک بنیادوں پر لیتے ہیں"

"آپ کے خیال میں سائنٹفک بنیاد پر نقاب کو کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے ؟"

"دیکھئے، ہمیں رسول اللہ ﷺ کے رخ انور کی ایک ایک تفصیل مل جاتی ہے کہ آپ ﷺ دکھتے کیسے تھے۔ خلفائے راشدین اور بڑے صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کے چہروں کی تفصیلات بھی مل جاتی ہیں۔ کیا ازواج مطہرات رضوان اللہ علیھم اجمعین کے چہروں کی تفصیلات بھی دستیاب ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادیوں کی شکل و صورت کیسی تھی ؟ اس کا ڈیٹا کہیں دستیاب ہے ؟۔ نہیں ہے۔ کیوں ؟ کیونکہ وہ چہرے چھپاتی تھیں۔ مرد صحابہ نے دیکھا نہیں، اور خواتین صحابہ نے اس لئے بیان نہیں کیا کہ جس چیز کو نقاب میں چھپانے کا حکم تھا، اسے کتاب میں کیسے ظاہر کیا جا سکتا تھا ؟"

"مگر بہت سی نو مسلم خواتین بھی تو چہرہ نہیں چھپاتیں ؟"

"یہ ان کی اپنی چوائس ہے۔ ہم کسی کی پرسنل لائف میں دخل دینے کا حق نہیں رکھتے"

ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ نو مسلم لوگ ہدایت یافتہ لوگوں کی جماعت ہے۔ یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی طرح حق کی تلاش میں نکلے اور اسلام تک پہنچے سو ان کی کمٹمنٹ بھی پھر کچھ اور ہی لیول کی ہے۔ اور ہم پیدائشی مسلمان تو واقعی باپ کی میراث پر اترا رہے ہیں، اپنی ذاتی "دینی کمائی" کوئی نہیں..
منقول

11/04/2023

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 🌼
*لیلتہ القدر عام سی رات تھوڑی ھے*🥀✨

*خزانے لوٹنے کا ٹاٸم آگیا*

موجودہ حساب کتاب کے دور میں ، ہمیں وہی چیزیں اچھی طرح سمجھ آتی ہیں جس میں حساب واضح ہو
بچپن سے ہم سب قرآن میں پڑھتے اور بڑوں سے سنتے آئے ہیں کہ لیلة القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے لیکن اسکے ایک ایک لمحے کو اس طرح استعمال نہیں کرتے جو اسکا حق ہے
آئیے ذرا اس رات کی قیمت کو اس تصویر سے سمجھتے ہیں۔

*💜مجھے یقین ہے کہ اس کو سمجھ لینے کے بعد آپ اس سال اس رات کے ایک ایک لمحے کی قیمت سمجھ جائینگے*

یہ *صرف ایک رات* نہیں بلکہ ایسا خزانہ ہے جسکو مل گیا وہ کامیاب ہوگیا

اسکا حساب جو یہاں درج ہے اس سے بھی کچھ زیادہ ہی بنتا ہے

*✨ایک رات = 83 سال*
*✨ایک گھنٹہ = 9.8 سال*
*✨ایک منٹ = 58 دن*
*✨ایک سیکنڈ = 23 گھنٹے*

اللہ اکبر کبیرا .....!!
*اب یہ سارا حساب اپنے ذھن میں رکھیے اور اس مزدور کی طرح اس رات مزدوری میں جان لگادیجیے کہ جو بالکل مفلس ہو اور ایک رات کے لیے اسکو کسی ایک بادشاہ کے پاس مزدوری کا موقع مل گیا جو اسکو ایک ایک سیکنڈ کے لاکھوں دینے والا ہے۔♥️*

‼️تو کیا وہ مفلس مزدور اس رات کی ایک گھڑی بھی ضائع کریگا؟؟ اس کی تو خواہش ہوگی کہ یہ رات کبھی ختم ہی نہ ہو اور وہ محنت کرکے خزانے جمع کرتا رہے

*♦️تو کیا ہم اس رات شدید محنت نہیں کرینگے؟*
یہ رات اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے کہ ہم آخرت کے دن کی مفلسی سے بچ جائیں اور اس ایک رات میں محنت کرکے اپنے لیے خزانے جمع کرسکیں
اللہ تعالیٰ کی بندے سے محبت کا اندازہ کیجیے اسکو غفلت میں ضائع نہ کردیں
اس تصویر کو بار بار دیکھیں تاکہ ذھن نشین ہوجائے اور پھر آنے والی مبارک راتوں میں

‼️ *اگر موبائل پر میسج چیک کرنے کا بھی دل چاہے تو یہ حساب یاد کرلیں کہ سیکنڈوں میں لاکھوں کا خسارہ ہے*
کوئی ایسا کام نہ کیجیے جس میں ایک منٹ بھی ضائع ہو‼️

*کثرت سے استغفار، ذکر، تلاوت، مستقل دعائیں ، عشاء اور فجر باجماعت ادا کیجیے*

▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️

اس مبارک رات کی برکت کو حاصل کرنے کے لیے ابھی سے دعائیں کیجیے اور مصمم ارادہ کرلیجیے

*یاد رکھیے کھانا پینا باتیں موبائل سوشل میڈیا یہ سب بعد میں مل جائیگا ممکن ہے یہ رات دوبارہ نہ ملےحقیقی نقصان سے بچنے کے لیے مغرب کے بعد سے سخت محنت شروع کر دیجیےگا*

💕💞💕💞💕

اللھم ارزقنا لیلة القدر اللھم تقبل منا یاکریم

23/02/2023

Think and learn

29/01/2023

اگر پاکستان بچانا ہے تو تور گل خان کے طرح ہر غلط کام کے خلاف آواز اٹھانا ہے.
کہ چپ پاتي شو نو خخي مو يا خرسې مو.

23/01/2023

*🚫 ہائی الرٹ 🚨*

پورا ملک اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے اس موقع سےجرائم پیشہ افراد بھر پور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ براہ میربانی اپنے چھوٹے بچوں کو باہر نہ نکلنے دیں۔ گھروں کے مین ڈور لاک رکھیں۔ کسی اجنبی کو گھر میں داخل نہ ہونے دیں۔

اللّہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور اپنے حفظ و امان
میں رکھے آمین۔

08/12/2022

میسج کرنے کے آداب۔۔۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!!!

اگر آپ کسی کو پرسنل میسج (میسنجر انباکس، وٹس ایپ یا SMS) بھیجنا چاہتے ہیں تو ان باتوں کا خیال رکھیں، آپ کو بھی اچھا لگے گا۔۔۔ اگلے بندے کو بھی بہتر لگے گا۔💌

1۔ کسی آن لائن شاپ کے پروپرائیٹر، کسی گروپ کے ایڈمن کو یا جس سے آپ پہلی بار رابطہ کر رہے ہیں یا ایسے بندے کو جس کے مزاج سے آپ کو واقفیت نہیں یا آپ کا نمبر اس کے پاس محفوظ نہیں، جب میسج کرنا چاہیں تو صرف ہیلو ہائے لکھ کر یا کہہ کر نہ خود انتظار کریں اور نہ جس کو میسج بھیجا گیا ہو اس کا وقت ضائع کریں۔

‏2۔ سب سے پہلے السلام علیکم، کہیں یا موقع اور اس بندے کی مطابقت کے حساب سے، سلام کے ساتھ، مرحبا یا اخی/یا اختی، "
امید ہے آپ ایمان و صحت کی بہترین حالت میں ہوں گے" .

3۔ کوئی بات شروع ہی ایسے کریں کہ اگلے بندے کا موڈ خراب بھی ہو تو ٹھیک ہو جائے۔۔۔ مثلاً میں نے انٹرنیٹ پر آپ کی بہت تعریف سنی ہے یا آپ کی وال وزٹ کرنے سے مجھے پتا چلا آپ بہت اچھے رائیٹر ہیں یا آپ لوگوں کو اچھا گائیڈ کر رہے ہیں یا آپ گروپ کو بہت اچھے سے مینیج کر رہے/رہی ہیں یا آپ کی پروڈکٹس کی خوب دھوم مچی ہوئی ہے وغیرہ۔

4۔ اس کے بعد اپنا مختصر تعارف کروائیں ، پھر اپنا مدعا ، درخواست، سوال یا خواہش پیش کریں۔

5۔ یہ سب ایک ہی میسج میں لکھیں یا وائس میسج کر دیں۔

6۔ اس طرح مطلوبہ شخص کے دل میں آپ کا عزت و وقار جاگزیں ہو جائے گا اور وہ اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر آپ کو ضرور ریپلائے کرے گا۔

7۔ صرف ہیلو پھر دوبارہ ہیلو یا ہائے لکھنے سے یا بار بار ایک ہی میسج کرنے سے یا ناراضی والے ایموجیز بھیجنے سے یا سخت و کرخت لہجے میں وائس میسج کرنے سے ہو سکتا ہے آپ کو ریپلائے بھی نہ ملے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اپنی بداخلاقی کا ثبوت دے کر مطلوبہ شخص کو بلاک کرنے کا موقع فراہم کر دیں۔ یاد رکھیں اخلاق پہلا تعارف ہوتا ہے۔

8۔ بے شک موبائل ہماری زندگیوں میں بہت زیادہ شامل ہو گیا ہے لیکن کوئی بھی بندہ یا بندی ہر وقت موبائل استعمال نہیں کر رہا ہوتا۔ نماز، تلاوت، کھانا، ڈرائیونگ، حوائجِ ضروریہ، فیملی ٹائم، بیٹری ختم، بیماری، گھریلو مصروفیات یا کوئی بھی ایسی بات ہو سکتی ہے کہ فوری جواب دینا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں "فصبراً جمیلا" آپ کے لیے بہت "مفید ثابت" ہوگا۔ ہمیشہ اچھا گمان رکھیں۔

9۔ وٹس ایپ پر صرف یہ نہ دیکھیں کہ دونوں ٹِک نیلے ہوگئے ہیں تو ریپلائے کیوں نہیں کیا۔۔۔ ہو سکتا ہے میسج پڑھ لیا ہو تو فوراً جواب نہ دے سکے ہوں، ڈرائیونگ یا سفر میں ہوں، کوئی ایمرجنسی ہو، یا میسج پڑھ کے یاد بھول گیا ہو۔

10۔ اکثر لوگوں کا وائی فائی یا ڈیٹا پیکج مسلسل چلتا رہتا ہے تو آن لائن شو ہوتے ہیں، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ آن لائن بھی بیٹھے ہیں تو جان بوجھ کر جواب نہیں دے رہے۔ ایسا نہیں پلیز صبر کا دامن تھامے رکھیں، جب واقعی لائن کے اوپر آئیں گے تو جواب مل جائے گا۔🫶

آپ مزید "آدابِ میسج" کا اضافہ کر سکتے ہیں۔
#کاپی

22/11/2022

Turn to Allah before you returned to Allah.

Want your school to be the top-listed School/college in Swat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Charbagh
Swat
19120