14/03/2024
ابوجہل کا اصل نام عمرو بن ہشام تھا، اور مکہ میں اپنی ذہانت کی وجہ سے”ابو الحکم“ (یعنی ذہانت والا) کے لقب سے مشہور تھا۔ مگر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے دعوت پیش کی تو اس نے ’نسلی تعصب‘ کی بنا پر اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم سے ہیں اور ہم بنو ہاشم کے نبی پر کبھی ایمان نہ لائیں گے، حالانکہ وہ جانتا تھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کہہ رہے ہیں وہ سچ کے سوا کچھ نہیں۔۔ جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ”ابو جہل“ کا لقب دیا اور آج دنیا اس کو ابو الحکم اور عمر بن ہشام کے بجائے ابو جہل کے نام سے ہی جانتی ہے۔
اس بات سے ہمیں 2 سبق سیکھنے کو ملتے ہیں۔
پہلا: ہم کتنے ہی ذہین، ہوشیار، انٹیلیکچوئل کیوں نہ ہوں، اگر ہماری یہ ذہانت ہمیں حق قبول کرنے میں رکاوٹ ہے تو ہم سے بڑا کوئی جاہل نہیں۔
دوسرا: اگر ہم نسلی، علاقائی، قومی، قبائلی بنیادوں کی وجہ سے کسی کو خود سے کمتر مانتے ہیں اور اپنی "قوم" اور نسل کو دوسروں سے بہتر اور برتر جانتے ہیں, یعنی اگر ہمیں لگتا ہے ہمارا سندھی، پنجابی، پٹھان، پاکستانی، ترک، افغان ہونا ہمارے کے لیے برتری اور دوسروں کے لیے کمتری کا باعث ہے تو ہم میں اور ابو جہل میں کوئی فرق نہیں۔