31/12/2025
Heartiest congratulations to all our students on achieving excellent results.
Your hard work, dedication, and perseverance have truly paid off.
Welcome to our school's official page - a vibrant space where learning, creativity, and achievement are shared and celebrated every day!
31/12/2025
Heartiest congratulations to all our students on achieving excellent results.
Your hard work, dedication, and perseverance have truly paid off.
23/12/2025
1st day of final term examination 2025
19/12/2025
Today the provincial director of HIRA National education foundation Pakistan Mr.khalid farooq visited our school and inspected classes and also motivated students and also taught them about the importance of education. He also gave instructions about the final term exam.2025
07/12/2025
ایک بادشاہ نے درویش سے کہا: "مجھے بھی وہ ورد سکھا دو جو تم پڑھتے ہو۔"
درویش نے انکار کر دیا۔ بادشاہ نے کسی اور سے وہ ورد سیکھ لیا، مگر جب پڑھا تو کوئی اثر نہ ہوا۔ بادشاہ نے درویش کو دربار میں بلا کر کہا:
"میں نے ورد سیکھ تو لیا ہے لیکن اثر نہیں ہوا، بتاؤ غلطی کہاں ہے؟"
درویش مسکرایا اور بادشاہ کے سپاہی کو حکم دیا کہ بادشاہ کو گرفتار کرے۔ سپاہی خاموش رہا۔ پھر بادشاہ نے غصے میں حکم دیا: "اس درویش کو گرفتار کرو!"
فوراً پورا دربار حرکت میں آ گیا اور درویش کو گھیر لیا۔
درویش نے کہا:
"دیکھ! الفاظ تو ایک جیسے تھے، حکم بھی ایک ہی تھا، لیکن فرق صرف ہماری حیثیت کا ہے۔
تیرا حکم سب پر اثر کر گیا اور میرا حکم کسی پر نہ ہوا.۔
اسی طرح تیرے ورد میں اثر اس لیے نہیں کہ روحانی دنیا میں تیری کوئی حیثیت نہیں۔"
الفاظ نہیں، بلکہ کردار، نیت اور قربِ الٰہی ہی اعمال کو اثر بخشتے ہیں۔.
سوال یہ نہیں کہ قرآن میں شفا ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ پڑھنے والا کس ایمان، کس نیت اور کس کردار کے ساتھ پڑھتا ہے۔.
"عمل کی طاقت الفاظ میں نہیں بلکہ کردار، نیت اور قربِ الٰہی میں ہے۔.
قرآن اور اذکار شفا ہیں، مگر اثر صرف نیک نیت اور مخلص دل کو ملتا ہے.۔"
01/12/2025
Teachers gathering at Dewan.E.Hareem
01/12/2025
Prize distribution among students of school on occasion of 2nd term examination 2025.
استاذ صیب! "دا خپے لاسونه ورله مات کړه" زما درتــــه اجازت دے-
په سکول کې چی کله والدین مونږه ډېر په سوال منت، ټيليفونو، او په جرګو سکول ته راغواړو او ده ماشوم مسايل ورته بيان کړو چی ستاسو ماشوم سکول ته نه راځی، ده سکول نه پټيږی، کتاب کاپی نه لری، ده سکول کار نه کوی وغیره وغیره-
نیمه، یوه ګهنټه ورته مونږ خپل زړه ستړی کو-
زیاتره والدین به سر راوچت کی او سينه به راوباسی چی
استاذ صیب! "دا خپے لاسونه ورله مات کړه" " شولګ ورله اوباسه" زما درتــــه اجازت دے-
ګورئ! ماشوم وهلو ټکولو سره نه دا مسئله ختمیږی او نه ده اجازت ورکولو سره ستاسو ذمه واري ختمیږی-
ده تعليم مقصد ده ماشوم په خوئی کې مثبت بدلون راوستل دی- دا یو اجتماعی عمل دی چی ده استاد، شاګرد او ده والدینو پکې خپل خپل کردار دی-
سزا ورکول ده مسئله اخری حل دی، د دی نه مخکی ١٠٠ حالونه نور دی خو دا زمونږ بدقسمتي ده چی مونږه سزا اولنی حل ګنړو او په کور او سکول کې یی استعمال کوو چی ده هغه وجه نه ده ماشوم په ذهن ډېر منفی اثر کيږی او معاشره کي تشدد سیوا کيږی-
والدینو له پکار ده چی ده خپل ماشومانو ده ښه تربیت او مستقبل ده پاره ده استاد سره باقاعده ملاوېږي-
منقول
30/08/2025
الوداع الوداع!
رخصتی اختتام نہیں، بلکہ ایک نئے سفر کی شروعات ہے جو ہمیشہ محبت اور احترام سے یاد رکھی جائے گا۔
حراء ہائی سکول سجبن میں آج ایک شاندار اور پروقار الوداعی ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ تقریب ان معزز اساتذہ کرام کے اعزاز میں منعقد کی گئی جو عرصۂ دراز تک ادارے کے ساتھ وابستہ رہنے کے بعد رخصت ہو رہے تھے ۔ ان اساتذہ میں محترم جہان گل، عرفان انجم، سعیداللہ، نعمان خان اور سلیم اللہ شامل تھے۔
اس موقع پر اساتذہ کرام اور ساتھیوں نے خوشگوار لمحات ایک ساتھ گزارے۔ ماضی کی حسین یادوں کو تازہ کیا گیا اور تعلیمی سفر کی دلچسپ جھلکیوں کا ذکر بھی ہوا۔ ظہرانے کے دوران باہمی گپ شپ اور قہقہوں نے محفل کو مزید خوشگوار بنا دیا اور یہ تقریب محض کھانے کی محفل نہیں رہی بلکہ رفاقت اور محبت کے ایک یادگار دن کی شکل اختیار کر گئی۔
شرکاء نے اپنے تاثرات میں کہا کہ یہ معزز اساتذہ ادارے کے وقار اور طلبہ کی تربیت کے لیے سنہری خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کی رخصتی ایک خلا پیدا کر رہی ہے، تاہم ان کی یادیں اور خدمات ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گی۔
اختتامی لمحات میں ان اساتذہ کرام کو بھرپور عزت و احترام کے ساتھ رخصت کیا گیا اور سب نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں آئندہ زندگی میں بے شمار خوشیاں، کامیابیاں اور صحت عطا فرمائے۔ آمین۔
🔔🔔Notification🔔🔔
It is notified that Hira High School Sijban will remain closed from 19th August 2025 to 24th August 2025.
The school will reopen on (Monday) 25th August 2025, Insha Allah.
Regards,
Principal
Hira High School Sijban Matta
26/07/2025
26/07/2025
میٹرک کا رزلٹ آ گیا ہے۔ دل دھڑکا ہوگا، امیدیں بھی تھیں، ڈر بھی تھا۔
نمبر اچھے آئے ہیں تو شکر کرو، کیونکہ یہ تمہاری بنیاد تھی اور بنیاد اچھی بن گئی ہے۔ آگے کی عمارت اسی پر کھڑی ہوگی۔
نمبر کم آئے ہیں اور وجہ لاپرواہی تھی تو یہ ایک الارمنگ بات ہے جاگ جاؤ۔
لیکن اگر جتنی تیاری کی تھی اتنا ہی ملا ہے، تو کوئی قیامت نہیں ٹوٹی۔ زندگی کا فیصلہ آج کے نمبرز پر نہیں، کل کے اچھے کھیل پر ہوگا۔
اب اصل بات سنو:
آگے کا راستہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔
زندگی بدلنی ہے؟ اپنی مرضی کے مطابق جینے کے قابل ہونا ہے؟ والدین کے لیے قابلِ رشک بننا ہے؟
تو یہ چار بڑے ستون یاد رکھو۔
اوّل: آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ٹولز، خاص طور پر لارج لینگوئج ماڈلز جیسے ChatGPT کو اپنا دوست بناو۔
تم ChatGPT سے اپنی personality سمجھو۔
اس سے بات کرو، پوچھو کہ تمہارے مزاج، دلچسپی اور پازیٹوز کیا ہیں۔
پھر اپنی پوری پروفائل، پس منظر، دلچسپیاں، حتی کہ مالی حالات، اس کے سامنے رکھو
اور کہو: “میرے لیے اگلے پانچ سال کا روڈمیپ بناو، پڑھائی، سکلز، کمائی، سب کچھ۔”
یہ دوست 24/7 موجود ہے، فری ہے، اور تمہاری زبان سمجھتا ہے۔ اسے timepass کے بجائے mentor بناو۔
دوم: ڈیجیٹل سکلز سیکھو، اور صرف ایک پر نہ اٹکو۔
ابھی وقت ہے تجربے کے لیے۔
ویب ڈویلپمنٹ میں ہاتھ ڈالو، SEO سیکھو، ویڈیو ایڈیٹنگ میں کُودو، اے آئی ٹولز ڈویلپ کرو، فری لانسنگ پلیٹ فارمز explore کرو، ڈیٹا اینالیٹکس اور آٹومیشن ٹولز کو چھیڑو۔
اگر ایک سکل میں دل نہیں لگا، دوسری پکڑ لو؛ دوسری میں مزہ نہ آیا، تیسری آ جائے گی۔
کیوں؟
کیونکہ ابھی ذمہ داریاں کم ہیں، اب گرتے سنبھلنا آسان ہے۔
بعد میں یہ آزادی نہیں رہے گی۔
سوم: مستقبل کے شعبے سوچ سمجھ کر چنو۔
دنیا کی ریسرچ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ آنے والے برسوں میں درج ذیل میدان کارزار گرم رہیں گے:
کمپیوٹر سائنسز،
سافٹ ویئر انجینئرنگ،
ڈیٹا سائنس،
سائبر سیکیورٹی،
کلاؤڈ کمپیوٹنگ،
روبوٹکس اور آٹومیشن،
بائیو ٹیکنالوجی،
رینیوایبل انرجی ٹیک،
ڈیزائن تھیٹنگ اور UX/UI،
ڈیجیٹل فنانس
اور بلاک چین،
حتیٰ کہ سائیکالوجی اور ہیومن بیہیوئیئر بھی
کیونکہ AI کے دور میں انسان کو سمجھنا اور اہم ہو جائے گا۔
یاد رکھو، ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کہتی ہے: 2027 تک 44 فیصد بنیادی سکلز بدل رہی ہوں گی۔
میکِنزی گلوبل انسٹی ٹیوٹ نے اندازہ لگایا کہ 2030 تک دنیا بھر میں 800 ملین جابز ختم بھی ہو سکتی ہیں، مگر نئی جابز اُن کے لیے ہوں گی جو نئی اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ چل رہی ہوں گی۔
اس لیے آج جو نوکری تمہیں دلکش لگ رہی ہے، ممکن ہے 15 سال بعد وہ وجود ہی نہ رکھتی ہو۔
چہارم: خود کو بار بار اپڈیٹ کرو۔ ایک بار سکل سیکھ کر “سیٹل” ہو جانے کا زمانہ گیا۔
اب تمہیں “لرن، اَن لرن، ری لرن” کے چکر میں رہنا ہوگا۔
اپنی شخصیت کو جاننا، اپنی ترجیحات بدلتے رہنا، اور مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے حساب سے خود کو reshape کرتے رہنا، یہی تمہیں آگے رکھے گا۔
آخری بات
اگر نمبر کم آئے اور دل ٹوٹا ہے، تو یاد رکھو: یہ آخری دروازہ نہیں تھا۔
تم ابھی بہت چھوٹے ہو، تمہاری سمت ابھی بننی ہے، تمہارے اندر ابھی روشنی جلنی ہے۔ اپنے والدین کے سامنے سر جھکاؤ، لیکن خود کے سامنے سر اٹھاؤ۔
خود سے کہو: “میں دوبارہ کھیلوں گا، بہتر کھیلوں گا، اپنی شرائط پر زندگی گزارنے کے قابل بنو نگا۔”
اگر نمبر اچھے آئے ہیں تو تم پہ بوجھ بھی آیا ہے: غرور نہیں کرنا، رفتار برقرار رکھنا، آگے کی جنگ پہلے سے زیادہ ٹیکنیکل ہے۔
اب صرف رٹہ نہیں چلے گا، دماغ، ہمت اور مسلسل اپگریڈیشن چاہیے۔
اپنے آس پاس دیکھو: ایک بچہ پاکستانی روپوں میں نوکری کر رہا ہے، دوسرا لیپ ٹاپ پر بیٹھ کر دنیا بھر میں کلائنٹس کو سروس دے رہا ہے۔ فرق صرف ایک چیز کا ہے، کلیریٹی اور ایکشن۔
صبح سے رات تک سکرول کرنے کے بجائے، روز ایک نئی چیز سیکھو۔
کسی ایک استاد، یوٹیوبر، یا انفلونسر کے پیچھے اندھا دھند مت بھاگو، خود سوچو، خود فیصلہ سازی کرو، خود بدلو۔
اپنے اندر کا خوف مانو، ضرور مانو، لیکن اُس پر حکومت تمہاری ہونی چاہئے۔
اپنی کمزوریوں کو پہچانو، مگر اُن کو بہانہ مت بناو۔
اپنی کہانی لکھو، لکھنے والے بنو، صرف پڑھنے والے نہیں۔
آج سے طے کرو:
میں ChatGPT سے روزانہ کم از کم 30 منٹ بات کروں گا، اپنی learning کا پلان لوں گا۔
میں ہر 3 مہینے میں ایک نئی سکل ٹرائی کروں گا۔
میں اپنے مستقبل کی ذمہ داری خود لوں گا، کسی سسٹم، کسی رشتہ دار، کسی استاد پر نہیں چھوڑوں گا۔
میں حقیقی دنیا کے مسائل حل کرنے کے لیے کچھ بناؤں گا، کتنا بھی چھوٹا کیوں نہ ہو، ایک چھوٹا سا ٹول، ایک ویب سائٹ، ایک ایپ، ایک کمیونٹی۔
نمبر تمہارے ہاتھ میں نہیں تھے، لیکن اب جو آنے والا وقت ہے وہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔
یاد رکھو: جو بچہ آج خود کو پہچان گیا، وہی کل کا لیڈر ہے۔ جو آج سکلز سیکھ رہا ہے، وہی کل بے خوف اور اپنی مرضی کی زندگی جینے کے قابل ہوگا۔
جو آج روڈمیپ لے کر چل رہا ہے، وہ کل راستہ خود بنا رہا ہوگا۔
زندگی ابھی شروع ہوئی ہے۔
میدان بہت بڑا ہے۔
دوڑ بہت لمبی ہے۔
جیت اُن کی ہے جو ابھی سے تیاری شروع کر دیتے ہیں۔
پاک به سر زمين وي خو پښتون به وي برباد پکښې
ښاد به وي لاهور او بل اباد اسلام آباد پکښې
دلته کښې قدم په قدم ووتې جامې زما
لوټ شولې بې درېغه د لعلونو خزانې زما
عزمِ عالي شان پکښې په زمکه غورځېدلے دے
قوم او سلطنت د غلامۍ په تار تړلے دے
ستورے او سپوږمۍ د ورځې نۀ وي مطلب نۀ به وي
ټول عمر به شپه وي مطلب ټول عمر تيارۀ به وي
واچوي بلا د ملائيکو لباس سپين پکښې
څنګه به کوي سړے په چا باندې يقين پکښې؟
منزلِ مراد يې قتلؤل دي سرِ عام عوام
ارضِ پاکستان دے دلته ژوند کؤل حرام حرام
هر باچا غدار وي هر قاضي خېژي جلاد پکښې
وير به پکښې بند وي او دهشت به وي ازاد پکښې
تېرې شوې د جبر داسې ښار کښې زمانې زما
غرقې شوې کاروانه! دې وطن کښې استانې زما
| Monday | 07:00 - 13:00 |
| Tuesday | 07:00 - 13:00 |
| Wednesday | 07:00 - 13:00 |
| Thursday | 07:00 - 13:00 |
| Friday | 07:00 - 23:00 |
| Saturday | 07:00 - 13:00 |