Sedola

Sedola

Share

Students Educational Development & Online Learning Academy

21/01/2026

فیثا غورث (Pythagoras) نے تاریخ کا سب سے عجیب و غریب فرقہ بنایا۔ فیثا غورث کے بارے میں آپ جانتے تو ہوں گے؟
ہاں وہی فیثا غورث جس نے فیثا غورث تھیورم (Pythagorean Theorem ) بنایا تھا جو ہم نے 6 کلاس میں پڑھا تھا۔ a2 + b2 = c2

فیثا غورث قائمتہ الزاویہ مثلث (right angle triangle) پر اپنے تھیورم کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کی نمبرز کے ساتھ دلچسپی بچپن سے ہی شروع ہو گئی تھی۔ چھوٹی عمر میں ہی وہ مصر چلے گئے اور 22 سال پادریوں سے خفیہ علم سیکھتے رہے۔ اسے یقین ہو گیا تھا کہ نمبرز ہی کائنات کو سمجھنے کی چابی ہیں۔ مصر کے بعد فیثا غورث کو قیدی بنا کر بائبل (عراق) میں لایا گیا۔ وہاں پر اس نے پادریوں اور نجومیوں سے علم سیکھا، جنہوں نے اسے اعلیٰ ریاضی اور خفیہ علوم سکھائے۔ وہ ریاضی کا جادوگر بن گیا تھا۔ لیکن اس کا روحانی پہلو بھی بڑھ رہا تھا۔ اپنے گھر سموس، یونان (Samos)، واپس آ کر فیثا غورث نے ایک سکول بنایا جو نصف دائرہ یا سیمی سرکل کہلاتا تھا۔ وہ فلسفے، ریاضی اور پاکیزہ زندگی پر بات کرنے کے لیے طلبہ کو خود منتخب کرتا تھا۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ ایک فرقے میں شامل ہو رہے ہیں جس کے بہت سخت قوانین اور وفاداری کی سخت ٹیسٹ ہیں۔ فیثا غورث کے سکول میں داخل ہونے کے لیے طلبہ کو عجیب امتحانات پاس کرنا پڑتے تھے۔
وہ امتحانات یہ تھے؛
👈 5 سال خاموشی کی قسم کھانا
👈 تمام جائیداد کو ترک کر دینا
👈 خاندان سے رابطہ ختم کر دینا
👈 فیثا غورث کے اقوال کو زبانی یاد کرنا

صرف انتہائی وفادار لوگ اس سکول میں داخل ہو سکتے تھے۔
فیثا غورثی فرقے کا ایک سخت درجہ بندی کا نظام تھا
وہ درجہ بندی اس طرح سے تھی؛
👈 اکوسماتکوئی (Akousmatikoi): (سننے والے)؛ یہ رسم و رواج اور پاکیزگی پر توجہ دیتے
👈 میتھاماتکوئی (Mathematikoi): (سیکھنے والے)؛ یہ سائنس اور فلسفے میں مشغول رہتے تھے۔

طلباء کو خاموشی، اطاعت اور رازداری کے سخت قوانین کی پیروی کرنی پڑتی تھی۔
فیثاغورثی طرز زندگی بہت سخت تھا؛
👈 سبزی خور غذا (کوئی دالیں نہیں)
👈 صرف سفید کپڑے پہننا
👈 صبح اٹھتے وقت بستر پر سے جسم کے نشانات کو مٹانا

فیثا غورث کے مطابق ریاضی اور موسیقی روح کی پاکیزگی کےآلات ہیں۔ اس کو یقین تھا کہ مکمل اعداد (whole numbers) کا تناسب موسیقی، تعمیرات اور بذات خود کائنات کو کنٹرول کرتا ہے۔ لیکن اس کے نظریے کو اس وقت دھچکا لگا جب ایک ممبر ہیپاسس (Hippasus) نے غیر ناطق اعداد (irrational numbers) دریافت کیے۔ ہیپاسس نے یہ دریافت کیا کہ دو کا جزر ( 2√ ) مکمل اعداد (whole numbers) کہ تناسب سے ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ ان غیر ناطق اعداد (irrational numbers) نئے فیثا غورث کے مکمل اعداد (whole numbers) پر یقین کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ فیثا غورث اتنے غصے میں آگیا تھا کہ اس نے ہیپاسس کو اس دریافت کی وجہ سے پانی میں ڈبو دیا تھا۔
جیسے جیسے فیثاغورث کا فرقہ زیادہ انتہا پسند ہوتا گیا اسے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ غصے سے بھرے ہجوم نے فیثا غورث کے سکول کو جلا دیا اور بہت سے ارکان کو قتل کر دیا۔ فیثا غورث وہاں سے بھاگ گیا اور چھپ گیا تھا۔ اس کا 75 سال کی عمر میں انتقال ہوا لیکن اس کے پیروکار اس کی تعلیمات کو پھیلاتے رہے۔
فیثا غورث کی خیالات نے صدیوں تک مغربی فلسفے کو شکل دی۔ افلاطون اس کے روح اور ریاضی کے نظریات سے بہت متاثر تھا اور ارسطو نے اس کے میٹا فزکس کے نظریات پر لکھا۔

Photos from Sedola's post 10/01/2026

Anatomy & Physiology: EASY TO UNDERSTAND || Shoulder Anatomy - EASY To Simplified Overview 🩺🧑🏻‍⚕️👇🏻❤️👍🏻

The shoulder is a complex ball-and-socket joint designed for a wide range of motion, making it the most mobile joint in the human body. This flexibility is achieved through a coordinated system of bones, joints, and soft tissues.

1. Skeletal Structure and Joints
The shoulder complex is composed of three primary bones that form four distinct articulations:

Bones:

Humerus: The upper arm bone; its spherical head serves as the "ball".

Scapula (Shoulder Blade): A flat triangular bone featuring the glenoid cavity (socket).

Clavicle (Collarbone): An S-shaped bone connecting the arm to the trunk.

Articulations:

Glenohumeral (GH) Joint: The "true" shoulder joint where the humerus meets the scapula.

Acromioclavicular (AC) Joint: Where the clavicle meets the acromion process of the scapula.

Sternoclavicular (SC) Joint: The only skeletal connection between the upper limb and the axial skeleton (at the sternum).

Scapulothoracic Joint: A "functional" joint where the scapula glides against the rib cage.

2. Musculature and Rotator Cuff
Muscles provide the "dynamic stability" required to keep the large humeral head in its small, shallow socket.

Rotator Cuff (SITS): A group of four muscles and their tendons that surround the joint:

Supraspinatus: Initiates abduction (lifting the arm).

Infraspinatus: Facilitates external rotation.

Teres Minor: Also assists in external rotation.

Subscapularis: Located on the front of the scapula; enables internal rotation.

Prime Movers: Larger muscles like the deltoid (lifts the arm), pectoralis major (chest), and latissimus dorsi (back) provide power for major movements.

3. Support Structures (Soft Tissue)
Because the bony socket is shallow, the shoulder relies heavily on other structures for stability:

Glenoid Labrum: A fibrocartilaginous ring that deepens the socket and provides a "suction" effect to secure the humerus.

Joint Capsule: A fibrous sheath that encloses the joint and is thickened by the glenohumeral ligaments.

Bursae: Small, fluid-filled sacs that reduce friction between moving parts. The subacromial bursa is a common site of inflammation.

4. Range of Motion
The shoulder allows movement in multiple planes:

Flexion/Extension: Moving the arm forward and backward.

Abduction/Adduction: Moving the arm away from or toward the body.

Internal/External Rotation: Turning the arm inward or outward.

Circumduction: A full 360-degree circular motion.

゚viralシ

08/01/2026
09/09/2025

دنیا کے سب سے بڑے اور سب سے پرانے برفانی تودے A-23A کا سفر اب اپنے اختتام کے قریب ہے۔ یہ وہی عظیم برفانی تودہ ہے جو کراچی سے بھی بڑا تھا اور جس نے تقریباً چالیس سال تک دنیا کے سب سے بڑے منجمد ذخیرے کی حیثیت قائم رکھی۔
یہ تودہ سن 1986 میں انٹارکٹیکا کے ساحلی علاقے سے الگ ہوا اور بحیرہ ودل (Weddell Sea) کی تہہ میں رک گیا جہاں اس نے ایک برفانی جزیرے کی شکل اختیار کرلی۔ اس کا رقبہ لگ بھگ 1500 مربع میل اور وزن ایک ہزار ارب ٹن تھا۔ رقبے کے اعتبار سے یہ کراچی (1360 مربع میل) سے بھی بڑا تھا۔ دہائیوں تک یہ ایک ہی جگہ جما رہا اور ماہرین کے لیے حیرت انگیز معمہ بن گیا کہ اتنا بڑا برفانی ٹکڑا بغیر حرکت کے اتنی طویل مدت تک کیسے قائم رہ سکتا ہے۔
سن 2020 میں یہ پہلی بار اپنی جگہ سے ہلا اور آہستہ آہستہ شمال کی جانب بہتے ہوئے South Orkney Islands تک پہنچا۔ پھر کچھ عرصے کے لیے یہ وہیں رکا رہا اور کئی مہینوں تک ایک ہی جگہ پر سست روی سے گھومتا رہا۔ دسمبر 2024 میں اس نے دوبارہ حرکت شروع کی اور مارچ 2025 میں یہ جنوبی بحرِ اوقیانوس میں واقع South Georgia نامی جزیرے کے قریب جا پھنس گیا۔
اس مقام پر سائنسدانوں کو شدید خدشات لاحق ہوئے کہ یہ برفانی دیوار مقامی سمندری حیات کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ لاکھوں پینگوئنز اور سیلز اپنی خوراک کے لیے روزانہ سمندر کا رخ کرتے ہیں، اور اتنے بڑے تودے کا راستے میں حائل ہونا ان کی بقا کو خطرے میں ڈال سکتا تھا۔ مگر قدرت کا نظام کچھ اور تھا، یہ تودہ مئی 2025 میں وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا اور گرم پانیوں میں داخل ہوتے ہی تیزی سے پگھلنے لگا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ اس کا حجم پچاس فیصد سے زیادہ کم ہو چکا ہے اور وہ صرف 683 مربع میل پر محیط رہ گیا ہے۔ اس سے بڑے بڑے برفانی ٹکڑے الگ ہو رہے ہیں جن میں سے بعض کا سائز 400 مربع کلومیٹر تک ہے۔ یہ ٹکڑے اب آزادانہ طور پر سمندر میں بہہ رہے ہیں اور ان میں سے کئی کو بحری جہازوں کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
برٹش انٹارکٹک سروے (BAS) کے اوشین گرافر اینڈریو مائیجرز کے مطابق یہ تودہ اپنی آخری منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کے بقول:
“یہ شمال کی طرف بہتے ہوئے ڈرامائی انداز سے ٹوٹ رہا ہے۔ یہاں پانی اتنا گرم ہے کہ یہ مزید قائم نہیں رہ سکتا اور مسلسل پگھل رہا ہے۔ میری رائے میں یہ اگلے چند ہفتوں تک بہتا رہے گا مگر اس کے بعد قابلِ شناخت نہیں رہے گا۔”
ماہرین کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر یہ تودہ اتنی طویل مدت تک قائم کیسے رہا؟ عام طور پر اتنے بڑے برفانی تودے چند سالوں میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں، مگر A-23A نے چار دہائیوں تک اپنے وجود کو برقرار رکھا اور دنیا کے سمندروں میں کسی بھی تودے کے مقابلے میں زیادہ فاصلے تک سفر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سائنسدانوں کے لیے ایک قدرتی تجربہ گاہ بن گیا ہے۔
لیکن اس تودے کی پگھلاوٹ محض ایک دلچسپ مظہر نہیں بلکہ ماحولیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کا براہِ راست ثبوت ہے۔ زمین کے اوسط درجہ حرارت میں معمولی اضافہ بھی برفانی خطوں پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔ انٹارکٹیکا اور بحرِ جنوبی کے پانی مسلسل گرم ہو رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ A-23A جیسے بڑے برفانی دیو بھی اب زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ پا رہے۔
اس کے پگھلنے کے نتائج دو سطحوں پر نمایاں ہوں گے۔ پہلا یہ کہ اربوں ٹن تازہ پانی سمندر میں شامل ہو رہا ہے جو سمندری نظام اور درجہ حرارت کو متاثر کرے گا، اس سے نہ صرف سمندری جاندار بلکہ دنیا بھر کے موسم بھی بدل سکتے ہیں۔ دوسرا اور زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ اگر مستقبل میں اس جیسے بڑے تودے بڑی تعداد میں ٹوٹنے لگے تو سمندر کی سطح بلند ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں دنیا کے ساحلی شہر جیسے کراچی، ڈھاکہ، نیویارک اور میامی شدید خطرے کی لپیٹ میں آجائیں گے۔
یہ برفانی تودہ حقیقت میں ایک قدرتی الارم ہے جو ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر ہم نے ماحول دشمن سرگرمیوں اور کاربن کے بے تحاشہ اخراج کو کنٹرول نہ کیا تو آنے والے برسوں میں ہماری زمین پر بڑے پیمانے پر تباہی آسکتی ہے۔ گلوبل وارمنگ محض ایک سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے مستقبل کو گھیر رہی ہے۔

A-23A کا سفر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قدرت کے بڑے بڑے قلعے بھی اگر انسان کی کوتاہیوں کے سامنے ٹک نہ سکیں تو ہماری بستیاں اور شہر کیسے محفوظ رہ سکیں گے؟ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اگر ہم نے ابھی سے اپنی روش نہ بدلی تو کل کے نقشے سے محض ایک برفانی تودہ نہیں بلکہ پوری کی پوری انسانی آبادی غائب ہوسکتی ہے۔

کاپی پوسٹ۔

29/07/2025

پانی ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ملنے سے وجود میں آیا تو ہائیڈروجن اور آکسیجن کیسے وجود میں آئے؟

یہ ایک اچھا لیکن سائنس کا بالکل ہی بنیادی سوال ہے۔ اگر کسی نے کیمسٹری کی بنیادی معلومات حاصل نہیں کی ہے تو انہیں سائنس میں بہت ساری الجھنوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔
تو پہلے سائنس کی کچھ بنیادی باتیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ علم کیمیا میں ایک چیز ہوتی ہے جسے عنصر یا element کہتے ہیں اور اس کا جمع عناصر ہوتا ہے۔ یہ مادے کی وہ قسم ہے جس میں صرف ایک ہی قسم کا ایٹم ہوتا ہے۔ مثلا آکیسجن گیس، ہائڈروجن گیس، لوہا، چاندی، کلورین وغیرہ۔ ان ایٹموں کو عام طور پر مزید توڑا نہیں جا سکتا۔ انہیں مزید حصوں میں تقسیم کرنے کے لئے نیوکلیر ریکشن کرنا پڑتا ہے جو کہ عام کیمسٹری کے حدود دے باہر ہیں۔ الغرض ہمیں جس عام مادے سے روزانہ کے حساب سے واسطہ پڑتا ہے عناصر ان کی بنیادی اکائی ہے اور ان کے سب سے چھوٹے حصے کو ایٹم کہتے ہیں۔
ایک سے زیادہ ایٹموں سے مل کر جو مالیکیول بنتے ہیں انہیں مرکب یا compound کہا جاتا ہے۔ ان میں ایک سے زیادہ ایٹم آپس میں مل کر مالیکور بانڈ بنا لیتے ہیں یعنی ان میں کسی ایٹمی عمل کے ذریعے جڑاؤ پیدا ہوتا ہے۔ اب کاربن ڈائی آکسائڈ، پانی وغیرہ اسی قسم کے مرکبات ہیں۔ مرکبات کے سلسلے میں اہم بات یاد رکھنے کی یہ ہے کہ جن عناصر سے مل کر یہ بنے ہیں ان مرکبات میں ان عناصر کی طبعی خصوصیات نہیں ہوتی۔ مثلاً پانی میں ہائڈروجن اور آکسیجن کی طبعی خصوصیات نہیں ہوتی اور اگر کوئی طبعی خصوصیت ان میں مشترک ہے تو یہ اتفاقی ہوسکتی ہے لیکن ایسا ہونا ضروری نہیں ہے۔ یہ دونوں عناصر گیسیں ہیں لیکن پانی گیس نہیں ہے۔ دو عناصر کا مل کر ایک مرکب بن جانا یا دو مرکبات کا مل کر کچھ اور مرکبات بن جانا ہے یا کچھ اور مرکبات کے ملنے سے ان میں سے کوئی عنصر کا الگ ہوجانا ان سب کی سٹڈی کو علم کیمیاء کہا جاتا ہے اور ایسے عمل کو کیمیائی ردعمل یا Chemical reaction کہتے ہیں۔
ایک اور قسم کا ردعمل ہوتا ہے جس میں عناصر یا مرکبات ایک دوسرے میں حل ہو کر ایک محلول بنا لیتے ہیں۔ لیکن ان میں نئے مالیکول نہیں بنتے بلکہ انہیں کے مالیکول ایک دوسرے سے مل کر نئی چیز بنا لیتے ہیں لیکن اس نئے محلول میں دونوں محلل کی خصوصیات ہوتی ہیں۔ محلول کو انگریزی میں solution کہتے ہیں۔ اس کی ایک مثال نمکین پانی ہے۔ آپ نمک کو پانی میں حل کردیں تو جو چیز بنے گی اس میں نمک اور پانی دنوں کی خصوصیات ہوں گی۔ نمک چونکہ ٹھوس ہے تو اس وجہ سے پانی کچھ گاڑھا ہوجائے گا اور یہ گاڑھا پانی نمکین بھی ہوگا۔ لیکن ہمیں اس پانی میں علیحدہ سے نمک نظر بھی نہیں آئے گا۔
امید ہے کہ یہاں تک آپ کو بنیادی معلومات مل گئی ہوگی۔ اب سوال یہ ہے کہ ہائڈروجن اور آکسیجن کہاں سے آئے۔ اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں کائنات کے بننے کے عمل اور ستاروں کے بننے اور تباہ ہونے کے عمل کو سمجھنا ہوگا۔ خیال رہے کہ عناصر بننے کے عمل میں بہت زیادہ درجہ حرارت اور پریشر کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم عام طور پر بڑے پیمانے پر یہ کام نہیں کر سکتے۔ ہمارے اکثر عناصر کسی بہت بڑے کائناتی واقعے کی وجہ سے وجود میں آئے، جیسے بگ بینگ۔ ستاروں کا فیوژن اور ستاروں کا سپرنوا بن کر پھٹنا وغیرہ۔
قدرتی طور پر مادے کے بنیادی عناصر 92 ہیں۔ بگ بینگ کے نتیجے میں ہائڈروجن، اور کچھ ہیلیم اور معمولی مقدار میں لیتھیم عناصر بنے۔ ہائڈروجن میں صرف ایک پروٹون اور ایک الیکٹران ہوتے ہیں۔ اس لیے ہائڈروجن کا ایٹمی نمبر ایک ہے۔ ہیلیم کا ایٹمی عدد دو اور لیتھیم کا تین ہے۔ بہت سارے عناصر بشمول آکسیجن ستاروں میں نیوکلیر فیوژن کے نتیجے میں بنے۔ اور مزید کچھ عناصر ستاروں کے سپرنوا بن کر پھٹنے کے نتیجے میں بنے۔ یہاں پر ایک تصویر دے رہا ہوں جس سے آپ کو پتہ چلے گا کہ کونسا عنصر کس کائناتی واقعے کے طور پر وجود میں آیا۔

26/07/2025

ایک آئیڈیل عالم دین!!
ہیں تو وہ ایک مولوی، لیکن بڑے بڑے امریکی ڈاکٹرز انہیں استاذ مانتے ہیں۔ علم طب پر ان کی لکھی گئی کتاب Pathoma ڈاکٹروں کیلئے مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ امریکی میڈیکل طلبہ اور ڈاکٹرز انہیں Sir Husain Sattar کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ مشہور امریکی یونیورسٹی جامعہ شیکاگو (Pritzker School of Medicine University of Chicago) میں Pathology کے ایسوسی ایٹ پروفیسر بلکہ MD مولانا ڈاکٹر حسین عبد الستار ہیں۔ The science of surgery میں پی ایچ ڈی ہیں۔ خاص کر کے امراضِ پستان ونسواں (Diseases of the breast and women) کیلئے یہ مرجع الاطباء شمار ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ میڈیکل کالج میں Pathophysiology اور Clinical Treatments کے بھی استاذ، بلکہ associate director ہیں اور طلبہ کے ایڈوائزر اور سپر وائزر بھی۔ علم الامراض Pathology میں یہ امریکا کے سب سے بہترین پروفیسر شمار ہوتے ہیں۔ ان کی دوسری کتاب Fundamentals of Pathology بھی بہت مقبول ہے، جو 2019ء میں چھپی ہے۔ ان کے کورسز میں امریکا بھر کے ڈاکٹر شریک ہو کر استفادہ کرتے ہیں۔ جبکہ ان کے طبی لیکچر دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر سنے جاتے ہیں۔ مگر ہیں یہ ٹھیٹھ مولوی۔ وہ بھی لال مسجد کے مولانا عبد العزیز کے مدرسے جامعہ فریدیہ اسلام آباد کے فاضل!! ہے ناں بڑی عجیب بات! اپنے اس فن میں دنیا بھر میں شہرت اور اپنے ہم عصروں سے فوقیت انہیں کیسے حاصل ہوئی؟ اس کا جواب مولانا حسین صاحب یہ دیتے ہیں کہ یہ پاکستان کے ایک عالم دین کی دعا کی برکت ہے۔
ڈاکٹر حسین کے کئی مقالات طبی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ جن کا مجموعہ امریکی سرکاری ادارے NCBI نے چھاپا ہے۔ ان کی کتاب Pathoma علم الامراض (Pathology) کا سب سے مشہور مرجع ہے۔ جس سے USMLE STEP 1 کے طلبہ امتحان کی تیاری بھی کرتے ہیں۔ جبکہ ڈاکٹر حسین کی ویب سائٹ PATHOMA بھی میڈیکل کے طلبہ کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس ویب سائٹ پہ ان کے لیکچرز 7 ملین گھنٹے سے زیادہ سنے جا چکے ہیں۔ جبکہ سوشل میڈیا پر بھی دنیا بھر کے تشنگانِ علمِ طب ان سے سال بھر استفادہ کرتے ہیں۔ وہ USMLE کے طلبہ کیلئے الگ کورسز کراتے ہیں۔ اس حوالے سے وہ اس وقت امریکا کے سب سے پسندیدہ استاذ ہیں۔
طب کے ساتھ ڈاکٹر حسین شرعی و عربی علوم کے بھی ماہر ہیں۔ ان کی کتاب Fundamentals of Classical Arabic بہت مشہور ہے۔ ساتھ اسلام کے بہت بڑے داعی بھی ہیں۔ دعوت دین کے لئے انہوں نے اپنا ایک ادارہ Sacred Learning کے نام سے قائم کیا ہے۔ امریکا بھر میں ان کے دعوتی اسفار اور لیکچر ہوتے ہیں اور وہ اسلام کی روشنی پھیلانے میں مصروف ہیں۔
پروفیسر حسین کا اصل تعلق پاکستان سے ہے۔ اگرچہ بعض عرب سوشل میڈیا صارفین، بلکہ مضمون نویس بھی ڈھٹائی سے انہیں مصری ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن یہ درست نہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے مشہور شہر اٹک سے ان کا آبائی تعلق ہے۔ ان کی اہلیہ نے بھی اسلام آباد کے جامعہ سمیہ میں پڑھا ہے۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ عربوں نے ڈاکٹر حسین پہ بہت کچھ لکھا ہے۔ مگر ہم پاکستانی انہیں جانتے بھی نہیں۔ اردو میں آج تک کوئی مضمون میری سے نظر سے نہیں گزرا اور نہ سرچ کرنے پہ گوگل کی گٹھڑی سے کچھ برآمد ہوا۔ یہ تحریر بھی عربی اور انگریزی سائٹس سے ترجمہ کرکے لکھ رہا ہوں۔
ڈاکٹر حسین 1972ء میں امریکا کے دوسرے بڑے شہر شیکاگو میں پیدا ہوئے۔ پھر جامعہ شیکاگو سے ہی تعلیم حاصل کی۔ یہ عجیب طالب علم تھے، قدرت نے انہیں گونا گوں صلاحیتوں سے نوازا تھا، جو بیک وقت بیالوجی اور اسلامی و عربی علوم کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ 1994ء میں وہ عصری تعلیم موقوف کرکے شرعی علوم کی تحصیل میں لگ گئے۔ اس کے بعد پھر جامعہ شیکاگو کے Pritzker School of Medicine میں داخل ہوئے۔ ساتھ دینی علوم کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ اسی دوران انہوں نے جامعہ شیکاگو چھوڑ کر اسلام آباد آنے کا فیصلہ کیا تاکہ علوم شرعیہ میں کامل مہارت حاصل ہو۔ چنانچہ یہ اسلام آباد پہنچ کر جامعہ فریدیہ میں داخل ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں وہ ایک عالم دین سے ملے، جن کے گھر جا کر وہ ان سے تعلیم حاصل کرتے رہے۔ وہ مٹی کے کچے گھر میں رہتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ مجھے جو کچھ بھی ملا ہے، وہ انہی استاذ کی دعاوں کا ثمرہ ہے۔ تاہم ڈاکٹر حسین نے اپنے ان استاذ صاحب کا نام ذکر نہیں کیا۔ (شاید مولانا عبد اللہ شہید ہیں۔ واللہ اعلم) ان کا کہنا ہے کہ میری زندگی پر اس شخص کا سب سے زیادہ گہرا اثر ہوا۔ اس کو قدرت نے عجیب ملکہ عطا کیا تھا۔ جو مشکل بات بھی بڑے آسان طریقے سے سمجھاتے تھے۔
اسلام آباد میں تعلیم مکمل کر کے وہ عربی میں مزید مہارت حاصل کرنے کیلئے شام (سوريا) چلے گئے اور دو سال یہاں پڑھنے کے بعد واپس شیکاگو لوٹ گئے اور Pritzker School of Medicine میں تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ کہتے ہیں کہ مجھے ڈر تھا کہ درمیان میں طویل گیپ آنے کی وجہ سے میں طبی علوم سارے بھول چکا ہوں گا۔ لیکن تھوڑی سی محنت کے بعد میں نے انہیں دوبارہ ازبر کرلیا۔ بہرحال جامعہ شیکاگو سے انہوں نے اعلیٰ نمبروں کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کرلی۔ فراغت کے ساتھ ہی انہیں جامعہ شیکاگو میں ہی امراض پستان کے شعبے کا استاذ مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد کامیابی ان کے قدم چومتی رہی۔
تدریس سے فارغ اوقات ڈاکٹر حسین دعوت دین کی سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں۔ ان کے بیانات اور لیکچرز ان کی مذکورہ ویب سائٹ اور یوٹیوب کے علاوہ HalalTube میں بھی موجود ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں دیکھے اور سنے جاتے ہیں۔ یہ ایک مثالی مسلمان ہیں، دین و دنیا اور عصری و شرعی علوم کے حسین مرقع، علم کے ساتھ میدان عمل کے بھی شہسوار ہیں، جو ہماری نسل نو کیلئے حقیقی آئیڈیل ہیں کہ آپ کسی بھی شعبے سے وابستہ ہوں، اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کریں، اونچے سے اونچے منصب پر بھی فائز ہوں، لیکن آپ کا اصل مقصد دین ہونا چاہئے۔ دنیا تو ویسے بھی حاصل ہو جائے گی، لیکن دین ہاتھ سے گیا تو کچھ بھی نہیں بچے گا۔ اگر دینداری ہو تو دنیا و آخرت دونوں میں کامرانی آپ کا مقدر بنے گی۔
ڈاکٹر حسین عبد الستار کو امریکی یونیورسٹیز کی جانب سے کئی اعلیٰ ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ جن میں Favorite Faculty Award اور Outstanding Basic Science Teaching Award بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ حق تعالیٰ انہیں سلامت رکھے، ان کی کاوشوں کو شرف قبولیت عطا ٕفرماۓ امین
#ڈاکٹر #اچھی #اسلام #پاکستان

Want your school to be the top-listed School/college in Swat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Swat