دوستی اگر سچی ہو تو وہ محض وقت گزارنے کا نام نہیں ہوتی، بلکہ انسان کے وجود کا ایک حصہ بن جاتی ہے۔ اسی لیے طویل رفاقت کے بعد جدائی صرف فاصلہ نہیں، ایک خلا ہوتی ہے—ایسا خلا جو چاہے کتنا ہی مصروف کیوں نہ ہو، محسوس ہوتا رہتا ہے۔
ہم اکثر یہ غلط فہمی پال لیتے ہیں کہ وقت کے ساتھ سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ کچھ رشتے “معمول” میں واپس نہیں آتے، بس ہم ان کے بغیر جینا سیکھ لیتے ہیں۔ یادیں، باتیں، ہنسی کے وہ لمحے—یہ سب ختم نہیں ہوتے، بلکہ ایک خاموش بوجھ بن کر ساتھ چلتے رہتے ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ جدائی کیوں ہوئی، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس رفاقت نے آپ کو بہتر انسان بنایا یا نہیں۔ اگر جواب ہاں ہے، تو پھر یہ جدائی بھی بے معنی نہیں۔ ہر تعلق کا ایک وقت ہوتا ہے، اور ہر اختتام کسی نہ کسی سبق کے ساتھ آتا ہے۔
سچی بات یہ ہے: کچھ لوگ زندگی میں رہنے کے لیے نہیں آتے، بلکہ سکھانے کے لیے آتے ہیں۔ اور جب وہ اپنا کام پورا کر لیتے ہیں، تو چلے جاتے ہیں—چاہے ہم تیار ہوں یا نہیں۔
مولانا سعيداللّه عابد
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
یہ اُتنا ہی اُبھرے گا جتنا کہ دبا دینگے ۔🏡
19/01/2026
جامعہ مفتاح العلوم ہشنغرو کلے شیرگڑھ
شیخ القرآن والحدیث مولانا کلیم اللہ صاحب
شیخ الحدیث جامعہ مفتاح العلوم ہشنغرو کلے شیرگڑھ
آغاز دورہ : 31 جنوری 2026،
اختتام : 25 رمضان المبارک
جامعہ مفتاح العلوم
16/01/2026
“مولانا باچا حسین! درسِ نظامی کی تکمیل دراصل آغازِ سفر ہے، اختتام نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو علم پر عمل کرنے، حق کہنے کی توفیق اور امت کی صحیح رہنمائی کی صلاحیت عطا فرمائے۔ بہت بہت مبارک ہو۔
آج مجھے یہ کہتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ ہمارے عزیز طالبِ علم مولانا باچا حسین نے آٹھ سالہ درسِ نظامی کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے۔ ہم انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے علم کو نافع، عمل کو خالص اور خدمتِ دین کو قبول فرمائے۔”
دعا گو: سعیداللہ عابد کالامی
27/12/2025
👈👈جاوید اختر کے پشت پر آج کوئی ملحد بن بندر نہیں کھڑا۔۔۔یہاں تک اویس اقبال جیسے شتونگڑے بھی خاموش ہیں۔۔۔ وہ پوری دنیا کے سامنے ہار گیا اور اکیلے رہ گیا۔۔۔۔۔
اللہ پاک اسکے دل سے بے ایمانی کا زنگ ہٹا کر ایمان عطا فرمائے آمین ۔۔
کل کی مناظرہ کے کمنٹس میں ایک شخص نے لکھا۔۔۔۔۔۔
“اس مناظرے کے بعد میں اسلام میں داخل ہو گیا ہوں۔”
سب سے دلچسپ اور فیصلہ کن حصہ یہ تھا:
جاوید اختر:
جـ..نـ.سی زیادتی اس لیے غلط عمل ہے کیونکہ لوگ اسے غلط کہتے ہیں۔
مفتی شمایل:
جـ..نـ.سی زیادتی اس لیے غلط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے غلط قرار دیا ہے۔
جاوید اختر:🫏
صحیح اور غلط کا معیار انسان طے کرتے ہیں۔ اگر لوگ کسی عمل کو غلط کہیں تو وہ غلط ہے، اور اگر درست کہیں تو وہ درست ہے۔
مفتی شمایل:🥰
اگر کوئی معاشرہ جـ..نـ.سی زیادتی کو درست قرار دے دے، تو کیا اس معاشرے میں یہ عمل درست ہو جائے گا؟
جرمنی میں نازیوں کی اکثریت تھی، وہ نسل کشی کو درست سمجھتے تھے، تو کیا انہوں نے درست کام کیا؟
جاوید اختر:🫏
نہیں، اگر دنیا کی اکثریت کسی عمل کو درست سمجھے تو وہ درست ہوگا، اور اگر غلط سمجھے تو غلط ہوگا۔
مفتی شمایل:🥰
تو پھر دنیا کی اکثریت اللہ پر ایمان رکھتی ہے،
پھر تم اللہ پر ایمان کیوں نہیں رکھتے؟
اس سوال پر جاوید اختر کے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں،
لبوں سے الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں،
اور گفتگو اس کے قابو سے نکل جاتی ہے۔۔۔۔۔ا
ور چراغوں میں روشنی نہیں رہی۔۔۔
یہ زبردست شارٹ تھا۔۔۔۔۔
#جامعہ
جامعہ صراط الجنۃ بلوگرام سوات میں
الوداعی شب بیداری کے موقع پر
بشکریہ
Asif Zada Shaheen
21/12/2025
مادری علمی: #جامعہ مفتاح العلوم ہشتنغرو کلے شیرگڑھ
کے تمام فضلاء کرام کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Address
Swat
Swat
19200