Mufti Ihsan Swati

Mufti Ihsan Swati

Share

24/11/2023

صلی اللہ علی النبی الامی وعلی آلہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا

27/07/2023

*دس محرم کو اپنے اہل وعیال پر نان نفقہ میں وسعت کرنے کی شرعی حیثیت:

متعدد احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ جو شخص اپنے آپ پر اور اپنے اہل وعیال پر عاشورا کے دن (کھانے پینے اور دیگر اخراجات وغیرہ میں) وسعت اور فراخی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر پورا سال وسعت فرمائیں گے۔
یہ احادیث اگرچہ انفرادی طور پر ضعیف ہیں لیکن ایک دوسرے کے لیے تقویت کا سبب بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اس لیے مجموعی طور پر ان احادیث سے ثابت شدہ مذکورہ بات قابلِ قبول ہے، امت کے جلیل القدر اہلِ علم اور حضرات اکابر نے بھی ان روایات کو قبول فرمایا ہے۔ روایات ملاحظہ فرمائیں:
*حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت:*
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جو اپنے آپ پر اور اپنے گھر والوں پر عاشورا کے دن (کھانے پینے اور دیگر اخراجات وغیرہ میں) وسعت اور فراخی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر پورا سال وسعت فرمائیں گے۔‘‘
الاستذکار میں ہے:
14294- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ قَاسِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَكَمٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «مَنْ وَسَّعَ عَلَى نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللهُ عَلَيْهِ سَائِرَ سَنَتِهِ».
امام بیہقی رحمہ اللہ نے ’’شعب الایمان‘‘ میں متعدد صحابہ کرام سے اس مضمون کی روایات نقل فرمائی ہیں:
*حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت:*
3512- أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغِفَارِيُّ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ابْنُ أَخِي مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ وَسَّعَ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللهُ عَلَى أَهْلِهِ طُولَ سَنَتِهِ».
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ كَمَا:

*حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت:*
3513- أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي عَلِيٍّ الْحَافِظُ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ كَزَال: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُهَاجِرٍ الْبَصْرِيُّ: حَدَّثَنَا هَيْصَمُ بْنُ شُدَّاخٍ الْوَرَّاقُ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ح: وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ خُشَيْشٍ التَّمِيمِيُّ الْمُقْرِئُ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ الْجُرْجَانِيُّ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رَجَاءٍ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: حَدَّثَنَا هَيْصَمُ بْنُ شُدَّاخٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «مَنْ وَسَّعَ عَلَى عِيَالِهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللهُ عَلَيْهِ فِي سَائِرِ سَنَتِهِ». تَفَرَّدَ بِهِ هَيْصَمٌ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ’’المعجم الکبیر للطبرانی‘‘ میں بھی ہے۔

*حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت:*
وأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عِيسَى: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ الْمَدَنِيُّ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مِينَاء، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِنَحْوِهِ.
3514- أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مِينَاء عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ وَسَّعَ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللهُ عَلَيْهِ سَائِرَ سَنَتِهِ».
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اس مضمون کی روایت ’’المعجم الاوسط للطبرانی‘‘ میں بھی موجود ہے۔

*حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت:*
3515- أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ: أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ: حَدَّثَنَا الْحسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَهْوَازِيُّ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «مَنْ وَسَّعَ عَلَى عِيَالِهِ وَأَهْلِهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللهُ عَلَيْهِ سَائِرَ سَنَتِهِ».

📿 *مذکورہ روایات سے متعلق امام بیہقی رحمہ اللہ کا فیصلہ:*
یہ تمام احادیث نقل کرنے کے بعد امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تمام روایات اگرچہ ضعیف ہیں لیکن چوں کہ ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں اس لیے مجموعی اعتبار سے ان میں قوت آجاتی ہے:
هَذِهِ الْأَسَانِيدُ وَإِنْ كَانَتْ ضَعِيفَةً فَهِيَ إِذَا ضُمَّ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ أَخَذَتْ قُوَّةً، وَاللهُ أَعْلَمُ.

*حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثبوت:*
▪️ الاستذکار میں ہے:
14297- حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ أَصْبَغَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَضَّاحٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْعَابِدُ عَنْ بُهْلُولِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَنْ وَسَّعَ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللهُ عَلَيْهِ سَائِرَ السَّنَةِ.

*امام ابراہیم بن محمد بن منتشر تابعی رحمہ اللہ سے ثبوت:*
الاستذکار میں ہے:
14299- وَرَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ وَإِبْرَاهِيمُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ قَالَ: مَنْ وَسَّعَ عَلَى أَهْلِهِ فِي عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللهُ عَلَيْهِ سَائِرَ السَّنَةِ.

*حضرت جابر رضی اللہ عنہ، امام یحیی بن سعید اور امام سفیان رحمہم اللہ کا تجربہ:*
’’الاستذکار‘‘ میں ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ، امام یحیی بن سعید اور امام سفیان رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کا تجربہ کیا تو اسے حق ہی پایا۔
14295- قَالَ: جَابِرٌ: جَرَّبْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ كَذَلِكَ.
14298- قَالَ: يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: جَرَّبْنَا ذَلِكَ فَوَجَدْنَاهُ حَقًّا.
14300- قَالَ سُفْيَانُ: جَرَّبْنَا ذَلِكَ فَوَجَدْنَاهُ كَذَلِكَ.

اس تمام تفصیل سے معلوم ہوا کہ دس محرم کو اپنے اہل وعیال، ملازمین وغیرہ پر عام دنوں کے مقابلے میں نان نفقہ، کھانے پینے، لباس پوشاک اور دیگر ضروریات اور اخرجات سے متعلق وسعت اور فراخی کرنا اچھی بات ہے، یہ ایک مباح عمل ہے، البتہ اس کو باقاعدہ عمومی دعوت کی شکل نہ دی جائے کہ محلے میں اسے تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے، اسی طرح اس کو ضروری بھی نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اس کو شرعی حدود سے آگے بڑھایا جائے۔

24/07/2023

*نوحہ اور ماتم کرنے کا شرعی حکم:*

ماہِ محرم خصوصًا عاشورا کے دن سیدنا حسین اور دیگر اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی شہادت کے غم میں نوحہ اور ماتم کرنے کا رواج عام ہوچکا ہے،مرثیے پڑھے جاتے ہیں، نوحے اور ماتم کے پروگرام اور مجالس منعقد کی جاتی ہیں، پوسٹیں بناکر شیئر کی جاتی ہیں، الغرض غم پھیلانے، غم بڑھانے، خود رونے اور دوسروں کو رُلانے کا بھرپور مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام کام شریعت کی تعلیمات اور مزاج دونوں کے خلاف ہیں۔ قرآن وسنت سے واقف اور ان کے پیروکار اہل السنۃ والجماعۃ نے کبھی ان کو جائز قرار نہیں دیا، حالاں کہ اہل السنۃ والجماعۃ سے زیادہ حضرت حسین اور شہدائے کربلا رضی اللہ عنہم کے مقام اور مرتبے کو سمجھنے والا کون ہے؟؟
نوحے اور ماتم سمیت مذکورہ تمام کاموں کے ناجائز ہونے کی وجوہات درج ذیل ہیں:

📿 *مصائب کے آنے پر صبر ہی دینی تعلیم ہے:*
شریعت نے غم لاحق ہونے یا عزیزو اقارب کے فوت ہونے پر صبر کی تلقین کی ہے کہ دل کو اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رکھتے ہوئے صبر کا مظاہرہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر صبر کا حکم دیا ہے اور اس کے فضائل وانعامات بیان فرمائے ہیں، احادیث میں بھی حضور اقدس ﷺ نے مصائب پر صبر کرنے کی تلقین فرمائی ہے، یہ ساری صورتحال کسی مسلمان سے مخفی نہیں۔ اس لیے نوحہ اور ماتم کرنا صبر اور رضا بالقضا جیسی عظیم دینی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔
☀ چنانچہ صبر کی تلقین کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سورۃ البقرہ میں فرماتے ہیں:
وَلَنَبۡلُوَنَّكُم بِشَيۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَالۡجُوعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡأَمۡوَالِ وَالۡأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِۗ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَآ أَصٰبَتۡهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوآ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّآ إِلَيۡهِ راجِعُونَ (156) أُولٰٓئِكَ عَلَيۡهِمۡ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمۡ وَرَحۡمَةٌ وَأُولٰٓئِكَهُمُ الۡمُهۡتَدُونَ (157)
▪️ ترجمہ: ’’اور دیکھو ہم تمھیں ضرور آزمائیں گے کبھی خوف سے، اور کبھی بھوک سے، اور کبھی مال وجان اور پھلوں میں کمی کرکے۔ اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں تو ان کو خوشخبری سنا دو، (155) یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ’’ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے،‘‘ (156) یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی جانب سے خصوصی عنایتیں ہیں اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہدایت پر ہیں۔ (157)‘‘ (آسان ترجمہ قرآن)

⬅️ *اسی طرح صبر کی فضیلت سے متعلق چند احادیث ملاحظہ فرمائیں:*
1⃣ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’مؤمن کا معاملہ بہت ہی اچھا ہے، اس کا ہر معاملہ خیر والا ہے، اور یہ مؤمن کے علاوہ کسی اور کے لیے نہیں ہے، مؤمن کو جب کوئی خوشی ملتی ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے، تو یہ بھی اس کے لیے خیر کا ذریعہ ہے، اور اس کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے خیر کا ذریعہ ہے۔‘‘
☀ صحیح مسلم میں ہے:
7692- عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ: «عَجَبًا لأَمْرِ الْمُؤْمِنِ! إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ: إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ».
2️⃣ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم! اگر تو مصیبت پہنچتے وقت ہی سےصبر سے کام لے اور ثواب کی امید رکھے تو میں تیرے لیے جنت سے کم بدلہ دینے پر راضی نہیں ہوں گا۔‘‘
☀ سنن ابن ماجہ میں ہے:
1597- عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «يَقُولُ اللّٰہُ سُبْحَانَهُ: ابْنَ آدَمَ، إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأُولَى لَمْ أَرْضَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ».
3️⃣ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ: ’’بندے کے لیے اللہ کے ہاں ایک مقام ومرتبہ مقرر ہوتا ہے لیکن یہ بندہ اپنے عمل کی وجہ سے اس تک پہنچ نہیں پاتا، تو اللہ اس کو اس کی جان، مال یا اولاد کے معاملے میں آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے، پھر وہ اس پر صبر کرتا ہے، حتی کہ وہ اس مرتبے تک پہنچ جاتا ہے جو اس کے لیے مقرر کیا گیا ہوتا ہے۔‘‘
☀ سنن ابی داود میں ہے:
3092- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ -وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ- قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلاهُ اللهُ فِى جَسَدِهِ أَوْ فِى مَالِهِ أَوْ فِى وَلَدِهِ -قَالَ أَبُو دَاوُدَ: زَادَ ابْنُ نُفَيْلٍ:- ثُمَّ صَبَّرَهُ عَلَى ذَلِكَ -ثُمَّ اتَّفَقَا- حَتَّى يُبْلِغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِى سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللهِ تَعَالَى».

📿 *نوحہ اور ماتم کرنا رِضا بالقضاء کے خلاف ہے:*
ایک مؤمن کی شان یہی ہونی چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے پر راضی رہے کہ یہی ایک بندے کےلیے مناسب ہے، اس لیے غم کے موقع پر نوحہ کرنا، چیخنا چلانا اور ماتم کرنااللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی نہ ہونے کی نشانی ہے جو کہ نہایت ہی سنگین غلطی ہے!

📿 *نوحہ اور ماتم نہایت ہی سنگین گناہ اور غیر شرعی عمل ہے:*
شریعت نے اپنے عزیز کی فوتگی پر اعتدال کے ساتھ غم زدہ ہونے کی اجازت دی ہے، اس میں آنسو بہانا صبر وتحمل کے خلاف نہیں بلکہ غم کا طبعی تقاضا ہے، البتہ بلند آواز سے رونا چیخنا، چلانا، اللہ سے شکایات کرنا، تقدیر کے فیصلوں سے خوش نہ ہونا، جسم یا چہرے کو پیٹنا، گریبان چاک کرنا؛ یہ تمام ایسے امور ہیں جن سے شریعت منع کرتی ہے، اس سے متعلق چند احادیث مبارکہ ترجمہ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں تاکہ نوحے اور ماتم کے گناہ کی سنگینی کا اندازہ ہوسکے:
1⃣ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’دو چیزیں ایسی ہیں جو کفر ہیں: ایک تو نسب میں طعنہ دینا، اور دوسری چیز میت پر نوحہ کرنا۔‘‘
☀ صحیح مسلم میں ہے:
236- عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «اثْنَتَانِ فِى النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ: الطَّعْنُ فِى النَّسَبِ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ».
2️⃣ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’تین چیزیں ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کے زمرے میں آتی ہیں: غم میں گریبان چاک کرنا، میت پر نوحہ کرنا اور نسب میں طعنہ دینا۔‘‘
☀ صحیح ابن حبان میں ہے:
1465- كَرِيمَةُ بِنْتُ الْحَسْحَاسِ الْمُزَنِيَّةُ قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ فِي بَيْتِ أُمِّ الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «ثَلَاثٌ مِنَ الْكُفْرِ بِاللهِ: شَقُّ الْجَيْبِ، وَالنِّيَاحَةُ، وَالطَّعْنُ فِي النَّسَبِ».
ان احادیث سے نوحہ کرنے، غم میں گریبان چاک کرنے، کپڑے پھاڑنے کی شدید وعید بیان فرمائی گئی ہے کہ یہ کفر اور اہلِ کفر کے کام ہیں، مسلمانوں کے نہیں، اس لیے یہ کام حرام اور شدید گناہ ہیں، مسلمانوں کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔
3⃣ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب حضور اقدس ﷺ نے مکہ فتح کیا تو ابلیس چیخنے اور واویلا کرنے لگا، اس کا لاؤ لشکر اس کے پاس آکر جمع ہوا تو ابلیس نے کہا کہ تم اس بات سے مایوس ہوجاؤ کہ ہم آج کے بعد امتِ محمدیہ کو شرک میں مبتلا کر پائیں گے، لیکن تم ان کے دین میں ان کو فتنے میں مبتلا کرو اور ان میں نوحہ پھیلا دو۔
☀ المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے:
12149- عَنْ سَعِيدِ بن جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ النَّبِيُّ ﷺ مَكَّةَ رَنَّ إِبْلِيسُ رَنَّةً، اجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ جُنُودُهُ، فَقَالَ: ايْئَسُوا أَنْ نُرِيدَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ عَلَى الشِّرْكِ بَعْدَ يَوْمِكُمْ هَذَا، وَلَكِنِ افْتُنُوهُمْ فِي دِينِهِمْ، وَأَفْشُوا فِيهِمُ النَّوْحَ.
معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں نوحہ پھیلنا ابلیس کی چاہت ہے، اس سے نوحہ کرنے کی شدید مذمت ثابت ہوتی ہے کہ اس سے شیطان خوش ہوتا ہے۔
4️⃣ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’وہ ہم میں سے نہیں جو (مصیبت کے وقت) چہرے کو پیٹے، گریبان کو پھاڑے اور جاہلیت جیسا واویلا اور نوحہ کرے۔‘‘
☀ صحیح بخاری میں ہے:
1294- عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ».
5️⃣ حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جو میری امت نہیں چھوڑے گی: اپنے حسب نسب پر فخر کرنا، دوسروں کے نسب پر طعن کرنا، ستاروں سے بارش طلب کرنا، میت پر نوحہ کرنا۔ نوحہ کرنے والی عورت اگر توبہ کیے بغیر مر جائے تو اسے قیامت کے دن اس حال میں پیش کیا جائے گا کہ اس پر تارکول کا کرتہ اور خارش والی قمیص ہوگی۔‘‘
☀ صحیح مسلم میں ہے:
2203- حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ: أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ: حَدَّثَنَا أَبَانٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الأَشْعَرِىَّ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِىَّ ﷺ قَالَ: «أَرْبَعٌ فِى أُمَّتِى مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُونَهُنَّ: الْفَخْرُ فِى الأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِى الأَنْسَابِ، وَالاِسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ، وَالنِّيَاحَةُ»، وَقَالَ: «النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ».
6️⃣ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ: ’’میں نے دو احمق اور فاجر آوازوں سے منع کیا ہے: ایک تو مصیبت کے وقت چیخنا، چہرہ نوچنا اور گریبان پھاڑنا، اور دوسری شیطانی مرثیہ خوانی۔‘‘
☀ سنن الترمذی میں ہے:
1005- عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ ﷺ بِيَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ، فَوَجَدَهُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ ﷺ، فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ فَبَكَى، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَتَبْكِي؟ أَوَلَمْ تَكُنْ نَهَيْتَ عَنِ البُكَاءِ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ نَهَيْتُ عَنْ صَوْتَيْنِ أَحْمَقَيْنِ فَاجِرَيْنِ: صَوْتٍ عِنْدَ مُصِيبَةٍ، خَمْشِ وُجُوهٍ، وَشَقِّ جُيُوبٍ، وَرَنَّةِ شَيْطَانٍ».
7️⃣ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے لعنت فرمائی ہے اُس شخص پر جو مصیبت کے وقت سر منڈوائے، چہرہ پیٹے یا کپڑے پھاڑے۔
☀ سنن النسائی میں ہے:
1866- عَنِ الْقَرْثَعِ قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى صَاحَتِ امْرَأَتُهُ فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ؟ قَالَتْ: بَلَى، ثُمَّ سَكَتَتْ، فَقِيلَ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ: أَيُّ شَيْءٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ؟ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ لَعَنَ مَنْ حَلَقَ أَوْ سَلَقَ أَوْ خَرَقَ.
8️⃣ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’فرشتے اُس عورت کے لیے رحمت کی دعا نہیں کرتے جو مصیبت کے وقت نوحہ کرنے والی ہو اور واویلا کرنے والی ہو۔‘‘
☀ مسند احمد میں ہے کہ:
8746- عَنْ أَبِي مِرَايَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «لَا تُصَلِّي الْمَلَائِكَةُ عَلَى نَائِحَةٍ وَلَا عَلَى مُرِنَّةٍ».
9️⃣ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’دو آوازیں دنیا میں بھی ملعون ہیں اور آخرت میں بھی: خوشی کے وقت موسیقی اور مصیبت کے وقت واویلا اور نوحہ کرنا۔‘‘
☀ مسند البزار میں ہے کہ:
7513- شَبِيب بن بشر البجلي قال: سَمِعْتُ أنس بن مالك يقول: قال رَسُول اللهِ ﷺ: «صوتان ملعونان في الدنيا والآخرة: مزمار عند نعمة، ورنة عند معصيبة».
🔟 حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے نوحہ کرنے والی اور نوحہ سننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
☀ سنن النسائی میں ہے:
3130- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ.
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے بھی وعید ہے جو اپنی رضا ورغبت سے نوحہ سنتے ہیں۔

⬅️ *احادیث کا حاصل:*
ان تمام احادیث مبارکہ سے واضح طور پر مصیبت کے وقت نوحہ کرنے، چیخنے چلانے، واویلا کرنے، جاہلیت جیسی باتیں کرنے، گریبان اور کپڑے پھاڑنے، سر منڈانے، چہرہ پیٹنے، چہرہ نوچنے اور ماتم کرنے جیسے تمام غیر شرعی کاموں کی شدید مذمت اور ان سے متعلق سخت وعیدیں ثابت ہوتی ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ نوحے پر مشتمل مرثیے پڑھنا، ایسے پروگرام نشر کرنا، ان کاموں کے لیے جلسے منعقد کرنا، ایسی پوسٹیں اور پیغامات شیئر کرنا، ان مجالس میں شرکت کرنا، ان کی تعریف اور حواصلہ افزائی کرنا، ان امور کے لیے چندہ دینا یا کسی اور طرح کا تعاون کرنا؛ سب ناجائز اور گناہ کے کام ہیں۔ ان احادیث کو مدنظر رکھنے کے بعد کوئی بھی مسلمان مرد یا عورت ان مذکورہ بالا امور کی ہمت اور جرأت نہیں کرسکتا۔

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی

22/07/2023

آبِ زم زم کو بیٹھ کر پینا چاہیے کہ کھڑے ہو کر؟

2۔ آبِ زم زم میں عام پانی زیادہ مقدار میں ملانے سے کیا اس کو آبِ زم زم کہا جا سکتا ہے ؟

3۔ آبِ زم زم کو کتنے سانس میں پینا چاہیے؟

جواب

1۔ آبِ زمزم کھڑے ہوکر پینا مستحب ہے، تاہم بیٹھ کر پینے میں کوئی گناہ نہیں۔(1)

2۔ آبِ زمزم میں عام پانی زیادہ مقدار میں ملانے سے اس پانی میں بھی زمزم کی برکت اور فضیلت منتقل ہوجاتی ہے؛ لہذا اسے آبِ زمزم کہاجاسکتا ہے۔(2)

3۔ آبِ زمزم کو بھی تین سانسوں میں پینا چاہیے، مستدرک حاکم میں ہے کہ : ایک شخص حضرت عبد اللہ بن عباس کے پاس آئے تو حضرت نے ان سےدریافت کیا کہ: کہاں سے آرہے ہو؟ ، انہوں نے جواب دیا کہ: میں زمزم پی کر آرہا ہوں، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا کہ: کیا تم نے اس طریقہ پر زمزم پیا ہے جیسا کہ پینا چاہیے تھا؟ انہوں نے سوال کیا کہ وہ طریقہ کیا ہے؟ تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ :جب تم زمزم پیو تو قبلہ رخ ہو جاؤ، اللہ کا نام لو، اور تین سانسوں میں پانی پیو اور پیٹ بھر کر زمزم پیو، جب پانی پینے سے فارغ ہوجاؤ تو اللہ کی تعریف کرو ،اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : ہمارے اور منافقین کے درمیان فرق کرنے والی چیز یہ ہے کہ وہ زمزم سے پیٹ بھر کر پی نہیں سکتے۔(

15/07/2023

*زمزم میں پانی ملاکر تقسیم کرنا*

سوال
حج یا عمرہ کرنے والے کو ایک زمزم کی بوتل دی جاتی ہے, اب یہ شخص گھر میں ایک بڑے سے پانی کے کین میں زمزم کی آدھی بوتل ڈال کر لوگوں میں اس زمزم کو تقسیم کرتا ہے، کیا اس طرح تقسیم کرنا جائز ہے؟

جواب
حج یا عمر ہ سے آنے کے بعد وہاں کے تبرکات مثلاً کھجور، زم زم اور دیگر اشیاء اپنے متعلقین میں تقسیم کرنا درست ہے۔ بہتر یہی ہے کہ رشتے داروں اوردوستوں وغیرہ کو جب زم زم دے تو خالص دے، چاہے مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو۔ البتہ زم زم میں اگر عام پانی ملا دیا جائے تو اس کا ثبوت بھی روایت میں ہے، اور زم زم کی خاصیت یہ ہے کہ عام پانی میں ملانے سے زم زم کی برکات اس میں منتقل ہوجاتی ہیں، اس لیے حصولِ برکت کے لیے ایسا کرنا جائز ہے، لیکن اسے خالص زم زم کہہ کر متعلقین کودینا درست نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

28/06/2023

د قربانئ د خوخے تقسیم مونگ خلق پہ اولہ کے پہ تلہ او پہ وزن کوو۔۔
خو چہ کلہ آخر ٹائم شی او ستڑی شو جو بیا آٹکل تقسیمول شروع کوو او ھر یو بل تہ وائی کمے زیاتے بہ یو بل تہ بخوو۔
دا خبرہ بالکل غلطہ دہ۔
د خوخے تقسیم بہ ٹول برابر سرابر کیگی کنہ احتمال د سود او ربا پکے رازی۔۔
دا د یو بل پہ بخلوو سرہ نہ بخلے کیگی۔۔
ہاں البتہ کچرے د قربانئ د ساروی نور اعضاء لکہ لرے یا اینہ خپے ورسرہ پہ حصوں کے کیخودے شی نو بیا ھلہ پہ اندازے سرہ تقسیمول صحیح دی ۔۔

23/06/2023

کن لوگوں پر قربانی واجب ہے۔۔۔؟؟؟ ضروری مسائل جانے اس ویڈیو میں۔۔۔۔👇👇

18/06/2023

آج بروز اتور اسلامی تاریخ 28 ہے
آگر آپ قربانی کر رہے ہیں۔ تو ذی الحجہ شروع ہونے سے پہلے ہی ناخن اور بدن کے غیر ضروری بال کاٹے۔تاکہ مستحب پر عمل رہے اور آپ کیلئے باعث آجر و ثواب ہو۔۔
شکریہ

09/06/2023

جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد یہ درود شریف۔۔

’’ أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیمًا ‘‘
اس درود شریف کو عام دن میں بھی چلتے پھرتے بھی پڑھ سکتے ہیں، سب سے افضل درود شریف درود ابراہیمی ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے، اس لیے آپ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ،ہر وقت اس درود شریف کو پڑھ سکتے ہیں، اس کے علاوہ آپ کسی مختصر درود شریف مثلاً ’’ اللهم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد‘‘اور ’’صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کو بھی اپنا معمول بنا سکتے ہیں۔
۔حدیث مبارک ہے:

’’جو شخص جمعہ کے دن عصر کے بعد اپنی جگہ سے کھڑا ہونے سے پہلے یہ درود شریف اَسّی(۸۰)مرتبہ پڑھے:

’’أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیماً‘‘.

اس کے اَسی(۸۰)سال کے گناہ معاف کردیےجاتے ہیں اور اَسی (۸۰)سال کی عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے۔

06/06/2023

قربانی کے احکام و مسائل
فضیلت اہمیت
اور نا کرنے پر وعید ۔۔
قربانی کے متعلق ضروری اور اہم مسائل ۔۔
انشاء اللہ قسط وار شئیر ہونگے۔۔

03/06/2023

سوال۔۔۔
کیا عورت قربانی کا جانور یا دوسری کسی غرض سے جانور ذبح کرسکتی ہے؟ نیز عورت کے ذبیحہ کا حکم کیا ہوگا؟

جواب۔۔۔
عورت اگر ذبح کرنا جانتی ہو تو اس کے لیے قربانی کا جانور یا کسی اور غرض سے کوئی جانور ذبح کرنا جائز ہےذبیحہ کے حلال ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ذبح کرنے والا مردہی ہو ، بلکہ عورت کے ذبیحہ بھی حلال ہے چنانچہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے پتھر (کی نوک) سے بکری ذبح کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیاگیا تو آپ ا نے اس کے کھانے کاحکم دیا۔۔

29/05/2023

بعض لوگ پوچھتے ہے کہ اذان کے وقت اکثر کتے بھونکتے چلاتے ہے تو اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟؟؟

جواب
روایات میں ہے کہ جب مؤذن اذان دیتا ہے تو شیطان اس کی اذان کی آواز سن کر حواس باختہ ہوکر آواز کے ساتھ (تیزونہ)ریح خارج کرتے ہوئے بھاگتا ہے،
تو بعض دفعہ جانوروں کو بھی وہ نظر آتا ہے؛ اس لیے اس سے گھبرا کر اذان کے وقت کتے بھوکتے ہیں۔لھذا یہ اتنی ٹینشن کی بات نہی ہے۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Swat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Swat