Big shout out to my newest top fans! Ferqan Khan Ferqan
Zoology
It is Just for Medical Students.Here You can Know only about Zoology.
09/09/2025
13/05/2025
*پرندے بولتے نہیں مگر ان کی بھی دعا ملتی ہے*💓😇
*گرمیاں عروج پر ہیں اپنے گھروں کی چھتوں یا صحن میں ان بے زبان پرندوں کے لیے پانی اور خوراک کا بندوبست کرنا نہ بھولیں*💖😊
*یہ بے زبان پرندے آپ کو دعائیں دیں گے / اور یہ ایک صدقہ جاریہ بھی ہے*🙂🕋
*💐*
11/05/2025
حجرے پر چھاپہ.....
ڈپٹی کمشنر بنوں، محمد فہیم کی خفیہ اطلاع پر اسسٹنٹ کمشنر بنوں، اللہ نواز خان نے متعلقہ پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں کے ہمراہ کل صبح 9:30 بجے نے پولیس سٹیشن میرا خیل کے حدود میں ---------- کے حجرے پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران انکشاف ہوا کہ وہاں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت ایٹا (ETEA) کے زیر اہتمام آج منعقدہ اساتذہ کی بھرتیوں کے امتحان کے پرچے حل کیے جا رہے تھے۔
کارروائی کے دوران آج کے پیپرز، جوابی شیٹس (Answer Sheets)، ایک لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، اور پرنٹر برآمد کیے گئے۔ موقع پر موجود 10 افراد کو موقع سے گرفتار کیا گیا، جو کہ اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پائے گئے۔
تمام گرفتار شدگان کو قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ پولیس اسٹیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ ایٹا حکام کو بھی فوری طور پر مطلع کر دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی سطح پر مزید کارروائی عمل میں لا سکیں۔
یہ کارروائی امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور میرٹ کی بنیاد پر بھرتیوں کو ممکن بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
06/05/2025
تعلیم کا حاصل کرنا بہت ضروری ہے🙏🏻🙏🏻
آپ اپنی اولادوں کو تعلیم لازم دلائیں ورنہ آپ کی نسلیں جاگیر داروں کے بچونگڑوں کے آگےننگے پاؤں اور ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہوتی رہینگی اپنی نسلوں کو جہالت سےنکالنا ہے تو ایک وقت بھوکا رہ کر وہ پیسے اپنے اولاد کے تعلیم پر خرچ کر
🔭 ❣️
15/04/2025
Today Mardan board class 10 biology paper
04/04/2025
آرٹیکل پڑھنے سے پہلے تصویر پر ایک نظر ڈالیں، جہاں ایک 11 سالہ افغان لڑکی اپنی منگنی کی تقریب میں اپنے منگیتر کے ساتھ بیٹھی ہے، جس کی عمر چالیس پچاس کے لگ بھگ ہے۔ لیکن بات عمر کی نہیں، اس ناگواری کی ہے، جو اس بچی کے چہرے سے عیاں ہے۔
------- ----------- --------- ---------
The Natural Order of Mate Selection..
Why Societies Defy Female Choice?
شریک حیات کا انتخاب اور فطری رجحانات !!
معاشرے خواتین کے "انتخاب شریک حیات" کو کیسے دیکھتے ہیں؟
------- ----------- --------- ---------
عالم حیوانیات (Animal Kingdom) کے وسیع تناظر میں، فطرت (Nature) ایک واضح اور مستقل اصول کی پیروی کرتی ہے، اور وہ یہ کہ خواتین (مادہ) کو اپنے شریک حیات (Mate) کے انتخاب کا اختیار زیادہ ہوتا ہے، بہ نسبت مرد کے۔
ارتقائی اصولوں Evolutionary) Principles) کے مطابق مادہ، جو تولیدی عمل (Reproduction) کا زیادہ بوجھ اٹھاتی ہے، اپنے ساتھی (Partner) کا انتخاب خود کرتی ہے۔ یہ دعوی مختلف انواع (Species) میں پائے جانے والے فطری رجحانات سے تقویت لیتا ہے، کہ مادہ انتخاب کرتی ہے اور نر مقابلہ کرتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ تولیدی سرمایہ کاری (Reproductive Investment) ہے۔ مادہ، چاہے وہ حمل (Gestation) کے ذریعے ہو، انڈے دینے کے عمل (Egg-laying) میں یا بچوں کی پرورش (Nurturing) میں، زیادہ حیاتیاتی حصہ ڈالتی ہے، اس طرح اس کے لیے صحیح شریک حیات کا از خود انتخاب ضروری ہو جاتا ہے۔
مزید سمجھنے کے لئےچند حیاتیاتی مثالیں ملاحظہ ہوں!!
1۔ مور (Peacock):
نر مور کے چمکدار پر (Feathers) محض خوبصورتی کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ یہ جینیاتی مضبوطی (Genetic Fitness) کا اشارہ دیتے ہیں۔ مادہ وہی نر منتخب کرتی ہیں جن کے پر زیادہ چمکدار اور متناسب ہوتے ہیں تاکہ ان کی نسل (Offspring) مضبوط ہو۔
2۔ جنت پرندے (Birds of Paradise):
نر پیچیدہ رقص (Intricate Dance) اور سریلی آوازوں (Songs) کے ذریعے مادہ کو متاثر کرتے ہیں، جو بہترین رقص اور آواز دکھانے والے کو منتخب کرتی ہے۔
3۔ شیر (Lions):
شیرنی ہمیشہ غالب (Dominant) نر کو پسند کرتی ہے جو جھنڈ (Pride) کی حفاظت کر سکے اور اپنی حدود (Territory) کو محفوظ رکھ سکے۔
4۔ ہرن (Deer): نر ہرن کی سینگوں (Antlers) کا سائز اور طاقت اس کے ملاپ (Mating) کے امکانات کا تعین کرتا ہے۔
5۔ مینڈک (Frogs): نر مینڈک کی آواز کی بلندی مادہ کو اپنی طرف راغب کرتی ہے، جو اس کی صحت و توانائی (Health & Vitality) کا اشارہ دیتی ہے۔
یہ رجحان اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ صرف سب سے زیادہ فٹ جینز (Fittest Genes) اگلی نسل میں منتقل ہوں، جو انواع کی بقاء (Survival) اور مضبوطی میں مدد دیں سکیں۔
تاہم، انسانی معاشرے اس اصول سے حیران کن استثنا کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ اور انسانوں نے اس ترتیب کو تقریبا الٹ دیا ہے۔ مرد تاریخی طور پر شادی (Marriage) کی پیشکش کرنے والے رہے ہیں، جبکہ خواتین کے لیے شریک حیات کے انتخاب کو محدود یا بالکل ختم کر دیا گیا ہے۔ آخر انسانیت نے اس فطری رجحان کو کیوں نظر انداز کیا ہے؟
انسانی معاشرے میں قدرتی ترتیب اور حیوانی دنیا کے برعکس، شریک حیات کا انتخاب حیاتیاتی عوامل (Biological Factors) کے بجائے ثقافتی اور سماجی اقتصادی قوتوں (Socio-Economic Forces) سے متاثر ہوتا ہے۔ اس رجحان کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
1. مردانہ غلبہ اور طاقت کے ڈھانچے (Patriarchy and Power Dynamics)
تاریخی طور پر، مردوں نے سماجی ڈھانچے (Social Structures) پر غلبہ قائم رکھا، سیاست (Politics)، معیشت (Economy)، اور خاندانی فیصلوں (Family Decisions) پر کنٹرول حاصل کیا۔ یہ طاقت کا عدم توازن (Power Imbalance) شادی کے میدان تک پھیل گیا، جہاں مرد پیش قدمی کرتے تھے اور خواتین صرف انتظار کرتی تھیں۔
2. معیشت، حیاتیات پر غالب آ گئی (Economics Over Biology)
زراعتی اور جاگیرداری نظام (Agrarian & Feudal Societies) میں شادی محبت (Love) کے بجائے خاندانی اتحاد (Alliances)، زمین (Land)، اور معیشت (Labor & Wealth) پر منحصر تھی۔ چونکہ مرد معاشی وسائل (Resources) کے مالک تھے، وہ شادی کی پیشکش کرنے والے تھے، جبکہ خواتین کی رضامندی اکثر ثانوی حیثیت رکھتی تھی۔ جنوبی ایشیا (South Asia)، مشرق وسطیٰ (Middle East) اور دیگر کئی ثقافتوں میں طے شدہ شادیاں (Arranged Marriages) عام رہیں، جہاں خاندان (Families) دولہا (Groom) کا انتخاب کرتے تھے، اور دلہن (Bride) کی ذاتی پسند کو نظرانداز کیا جاتا تھا۔
3. خواتین کے ذریعہ شادی کی پیشکش پر معاشرتی ممانعت
(Social Stigma Against Female Proposals)
آزاد معاشروں (Liberal Societies) میں بھی، کسی عورت کا شادی کی پیشکش کرنا معیوب (Taboo) سمجھا جاتا ہے اور اسے بے خودی (Desperate) یا ناپسندیدہ (Undesirable) عمل قرار دیا جاتا ہے، جو مردوں کی برتری کو مزید تقویت دیتا ہے۔
---- ---- ---- ---- ----- ---- -----
نوٹ:
یہ مضمون شریک حیات کے انتخاب پر ضرور ایک دلچسپ نقطہ نظر پیش کرتا ہے، جو حیوانوں کے برتاؤ اور انسانی معاشرت کے درمیان مماثلت دکھاتا ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیت ہے کہ انسانی تعلقات اس مماثلت سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ اس لئے یہ موازنہ صرف ایک علمی مباحثہ ہے، قارئین کا متفق ہونا یا کروانا مقصود نہیں۔
تحریر کردہ:
سیف الاسلام
اسسٹنٹ پروفیسر آف زوالوجی
ہائر ایجوکیشن کے - پی
Follow the Educational Info channel on WhatsApp:
07/03/2025
Immunology and Microbiology Alert!!
Breakthrough Discovery: Human Cells Can Fight Superbugs Naturally..
Scientists have discovered a new role of proteasomes, cellular structures previously known for recycling proteins, in the body’s defense against bacterial infections. This groundbreaking research shows that proteasomes can detect bacterial invasions and switch from breaking down proteins to producing antimicrobial peptides—natural antibiotics that can destroy bacteria.
With antibiotic-resistant superbugs becoming a major global threat, this discovery opens new doors for treatment:
Scientists could develop drugs that enhance proteasomes’ ability to fight infections naturally.
Treatments could focus on activating proteasomes instead of relying on external antibiotics.
Unlike traditional antibiotics that harm gut bacteria, proteasome-based therapies may work only where needed.
Since proteasome-derived peptides work differently from existing antibiotics, bacteria may struggle to develop resistance.
This breakthrough offers hope for tackling antibiotic resistance and could reshape how we treat bacterial infections.
More research is needed to develop treatments based on this discovery, but the future looks promising.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Swabi