Way Of Prophet Muhammad And His Followers

Way Of Prophet Muhammad And His Followers

Share

Assalam o alaykum To Everyone let us to share the Right information about Islam and u Follow it.

Aalmi Majlis Tahaffuz Khatm-e-Nubuwwat is an international, religious.preaching and reform organization of Islamic Millat (Millat means a global Islamic nationality irrespective of geographical boundaries). Its sole aim has been and is to unite all the Muslims of the world to safeguard the sanctity of Prophet hood and the finality of Prophet hood and to refute the repudiators of the belief in the

25/09/2025

In front of GOD, Humans and the Creation
of Humans Being in Nothing Ā
Oh Allah Guide us to straight path which
is swirat-e-Mustaqeem
Which is true Which is called Islam. Read
the next
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ ۗ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ.

"Indeed, the religion in the sight of Allah is Islam. And those who were given the Scripture did not differ except after knowledge had come to them—out of jealous animosity between themselves. And whoever disbelieves in the verses of Allah, then indeed, Allah is swift in [taking] account"

22/08/2022
13/01/2020

لکى مروت۔۔۔ سالانہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ اللہ وسایا صاحب نے فرمایا:
کہ ملین مارچ سے پہلے مرزا مسرور قادیانی سے کسى نے پوچھا کہ پاکستان میں کب تک آپ پر پابندی ختم ہو گی تو مرزا مسرور قادیانی نے پراعتماد انداز سے جواب دیا کہ بہت جلد پاکستان کے آئین میں ترمیم ہونے والا ہے پهر ہم عزت سے پاکستان میں زندگی گزاریں گے لیکن جب مولانا فضل الرحمن صاحب ملین مارچ کا آغاز کیا ،
کراچی سے لے کر خیبر تک جس طرح انہوں نے ختم نبوت کا دفاع کیا اس کی مثال آپ کے سامنے ہیں ملین مارچ کے بعد مرزا مسرور قادیانى کا نیا بیانیہ آیا ہے کہ جب تک علماء (خاص کر مولانا فضل الرحمن) پاکستان میں موجود رہیں گے تب تک ہمارا کوئی چانس نہیں ہے کہ ہم پاکستان میں عزت سے زندگی گزار سکے

تاج و تخت ختم نبوت زنده باد

14/12/2019

::: کھلا خط :::

محمد فیاض خان سواتی

بخدمت جناب محترم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان ۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔

جناب عالی

عرضِ خدمت ہے کہ ہمارے پاکستان کے موجودہ وزیرِ اعظم صاحب بار بار مسلمانوں کی مقدس شخصیات کے بارہ میں توہین آمیز کلمات اپنے بیانات میں دہرا رہے ہیں ، جن سے بالعموم عالمِ اسلام اور بالخصوص پاکستان کے بائیس کروڑ عوام الناس کے جذبات سخت مجروح ہو رہے ہیں ، ان کی وجہ سے باہم کشیدگی کی فضا تیزی سے ہموار ہو رہی ہے ، اس لئے ہم آپ کی خدمتِ عالیہ میں یہ درد مندانہ اپیل کرتے ہیں کہ آپ اس معاملہ میں از خود خصوصی نوٹس لیتے ہوئے جناب عمران احمد خان نیازی صاحب پر ایسے دل شکن بیانات کے حوالہ سے پابندی عائد کریں ، اگر وہ پھر بھی اپنے اس متنازعہ رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں لاتے تو جس ریاستِ مدینہ کے قیام کا وہ دعویٰ کر رہے ہیں ، اسی میں اس قسم کے جرائم اور ان پر سزا کا ایک عبرتناک واقعہ ہم آپ کی خدمت میں بطورِ نمونہ پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں ، اس لئے کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے اور اس کے آئین میں قرآن و سنت کو بالا دستی حاصل ہے ، اور اسے قانونی تحفظ صرف سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہی فراہم کرنا ہے ، اس لئے اگر ہمارے ملک کا سربراہ ہی اس قانون کو بار بار تاراج کرے گا تو یہ وطنِ عزیز کے لئے کسی بھی حوالہ سے نیک شگون نہیں ہے ، حال ہی میں انہوں نے جناب نبی اکرمؐ کے بارہ میں اپنی ایک تقریر میں جو توہین آمیز کلمات کہے ہیں ، اس پر وہ خدا تعالیٰ سے اور تمام عالمِ اسلام سے برملا معافی مانگیں اور اگر خدانخواستہ وہ اپنے ایسے دل فگار بیانات پر مصر رہتے ہیں تو وہ پاکستان کے وزیرِ اعظم کے منصب پر فائز رہنے کے قانونی اور جمہوری ہر دو لحاظ سے بالکل بھی اہل نہیں ہیں ، بلکہ وہ مندرجہ ذیل سزا کے زیادہ مستحق ہیں ، جسے امام ابو عبد اللہ محمد بن ابراھیم اللواتی البربری المعروف بابن بَطّوطۃ والملقّب بشمس الدینؒ المتوفٰی سن 779ھ نے اپنے عربی " سفر نامہ " میں یوں درج کیا ہے ۔

” ایک فقیر جو شیخ المشائخ ( کے لقب سے ) معروف تھا ، وہ عینتاب شہر سے باہر ایک پہاڑ پر رہائش پذیر تھا ، لوگ اس ( کے پاس جانے ) کا ارادہ کرتے اور اس ( کی دعاؤں ) کے ساتھ تبرک حاصل کرتے تھے ، اس کا ایک شاگرد تھا جو اسی کے ساتھ ہر وقت چمٹا رہتا تھا ، وہ شیخ المشائخ غیر شادی شدہ کنوارا تھا ، اس کی بیوی نہیں تھی ، اس نے اپنے ایک کلام میں یہ کہہ دیا کہ

” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے صبر نہیں کرتے تھے اور میں ان سے صبر کرتا ہوں“

اس ( توہین آمیز ) معاملہ میں اس کے خلاف گواہی طلب کی گئی ، جو قاضی کے پاس ( عدالت میں ) ثابت ہو گئی ، پھر اس کا معاملہ بڑے حاکم کی طرف اٹھایا گیا تو اس کو اور اس کے شاگرد کو بھی لایا گیا ، جو اس کے ساتھ اس کے ( اس توہین آمیز ) قول سے موافقت کرنے والا تھا ، پھر ( جرم ثابت ہو جانے پر چاروں فقہی مسالک کے ) چار قاضیوں (1) شھاب الدین مالکیؒ ۔
(2) ناصر الدین العدیم حنفیؒ ۔
(3) تقی الدین بن الصائغ شافعیؒ ۔
(4) اور عز الدین دمشقی حنبلی رح نے ( متفقہ طور پر ) ان دونوں کو اکٹھا قتل کرنے کا فتویٰ دیا ، پھر دونوں کو قتل کر دیا گیا ۔“
( رحلۃ ابن بطوطۃ عربی ص 652 ، طبع بیروت ، لبنان )
اللّھم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ ۔
آمین بجاہ النبی الامین ۔

22/03/2019

صلوا علیہ و آلہ

12/02/2019

لاہور میں کیبل پر پہلی مرتبہ قادیانی چینل آن ایئر ۔
کیبل پر چینل آن کرانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ۔ ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ کوئی دینی چینل آن کرانا چاہیں تو انتہائی مشکل پیش آتی ہے ۔ کیبل آپریٹر بھاری معاوضہ طلب کرتے ہیں اور ساتھ ہی پیمرا کا لائسنس ۔ پاکستان میں کسی بھی دینی چینل کو ابتک پیمرا کا لائسنس نہیں دیا گیا ۔ اسی وجہ سے کوئی بھی دینی چینل کیبل پر مستقل جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوتا اور اگر منت سماجت سے کوئی دینی چینل آن کرا بھی لے تو کچھ ہی دنوں میں بند کر دیا جاتا ہے ۔بہانہ یہی ہوتا ہے کہ پیمرا کا لائسنس دیکھاؤ اور ساتھ بھاری رقم بھی دو۔سرکاری اثر و رسوخ بھی ضروری ہوتا ہے ۔ زیادہ تر دینی چینل یہ اخراجات افورڈ نہیں کر سکتے اس لئے انہیں کیبل پر جگہ نہیں ملتی
اب سوال یہ ہے کہ قادیانی چینل کو کس لائسنس کے تحت کیبل پر چلایا گیا ہے ؟؟
اس چینل کو آن کرانے کےلئے بھاری رقوم کس نے دیں اور اثر و رسوخ کس کا استعمال ہوا ؟؟
دینی چینلز کو تو اس وجہ سے اجازت نہیں کیونکہ ان کے پاس لائسنس نہیں لیکن قادیانی چینل بغیر لائسنس کے ہی کیبلز پر آن کر دیا گیا ۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہیے کیونکہ یہ حساس معاملہ ہے ۔۔
(محمد عاصم حفیظ )

11/02/2019

07 فروری 1935
بہاولپور کی سرزمین کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ باقاعدہ عدالتی فیصلے میں قادیانیوں کو کافر قرار دیتے ہوئے ختم نبوت کا پرچم بلند کر دیا ۔

اس سے پہلے برصغیر پاک و ہند کے تمام جید علمائے کرام قادیانیت کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے چکے تھے لیکن یہ پہلی مرتبہ تھا کہ باقاعدہ سرکاری عدالت نے غلام مرزا قادیانی کو کذاب قرار دیتے ہوئے قادیانی گروہ کو کافر قرار دیا ۔

07 فروری 1953 کو تاریخی مقدمہ بہاولپور کا فیصلہ سنایا گیا جو کہ منشی محمد اکبر خان ڈسٹرکٹ جج ضلع بہاولنگر ریاست بہاولپور میں 24 جولائی 1926 کو دائر ہوا تھا ۔

اس مقدمہ کا خلاصہ یہ ہے کہ تحصیل احمد پور شرقیہ ،ریاست بہاول پور میں عبد الرزاق نامی شخص مرزائی ہوکر مرتد ہوگیا اور اس کی منکوحہ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش نے سن بلوغت کو پہنچ کر اپنے باپ کے توسط سے24جولائی1926ء کو احمد پور شرقیہ کی مقامی عدالت میں فسخ ِنکاح کا دعویٰ کر دیا۔یہ مقدمہ بالآخر ڈسٹرکٹ جج بہاول پور کو بغرضِ شرعی تحقیق منتقل ہواکہ آیا قادیانی دائرہٴ اسلام سے خارج ہیں کہ نہیں؟

پہلے تو مسلمانوں کی توجہ اس طرف نہیں تھی لیکن جب قادیانیوں نے بےدریغ پیسہ خرچ کر کے فیصلہ اپنے حق میں کروانے کی کوشش کی تو مسلمانوں نے اس مقدمہ کو ملت اسلامیہ کا مقدمہ بنا دیا ۔اس سلسلے ميں بہاولپور کی انجمن موید الاسلام، مجلس احرار اور انجمن حزب اللہ کی خدمات قابل ذکر ہیں ۔

اس طرح یہ مقدمہ دولوگوں کے بجائے اسلام اور قادیانیت کے مابین حق وباطل کا مقدمہ بن گیا ۔قادیانیت کے خلاف اُمت مسلمہ کی نمائندگی کے لیے سب کی نظر دارالعلوم دیوبند کے مولانا انور شاہ کاشمیری پر پڑی اور وہ مولانا غلام محمد گھوٹوی کی دعوت پر اپنے تمام پروگرام منسوخ کرکے بہاول پور تشریف لائے اور فرمایا:
”جب یہاں سے بلاوا آیا تو میں ڈھابیل جانے کے لیے پابہ رکاب تھا،مگر میں یہ سوچ کر یہاں چلا آیا کہ ہمارا نامہ اعمال تو سیاہ ہے ہی،شاید یہی بات مغفرت کا سبب بن جائے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا جانب دار بن کر یہاں آیا تھا…اگر ہم ختم نبوت کا کام نہ کریں تو گلی کا کتا بھی ہم سے اچھا ہے۔،،

پھر اس مقدمہ میں مسلمانوں کی طرف سے مولانا غلام محمد گھوٹوی،مولانا محمد حسین کولوتارڑوی،مولانا محمد شفیع،مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری،مولانا نجم الدین،مولانا ابوالوفاء شاہ جہانپوری اور مولانا انورشاہ کاشمیری (رحمہم اللہ تعالیٰ) کے دلائل اور بیانات پرمرزائیت بوکھلا اُٹھی۔

مولانا ابوالوفاء شاہ جہاں پوری نے عدالت میں جواب الجواب داخل کرایا جو چھ سو صفحات پر مشتمل تھا،جس نے قادیانیت کے پرخچے اُڑا دیے۔
عدالت میں موجود علماء کا کہنا ہے کہ مولانا انور شاہ کاشمیری جب مرزائیت کے خلاف قرآن وحدیث کے دلائل دیتے تو عدالت کے درودیوار جھوم اُٹھتے اور جب جلال میں آکرمرزائیت کو للکارتے تو کفر کے نمائندوں پر لرزہ طاری ہوجاتا۔

ایک دن مولانا نے جلال الدین شمس مرزائی کو للکار کر کہا:”اگر چاہوتو میں عدالت میں یہیں کھڑے ہوکر دکھا سکتا ہوں کہ مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے“۔یہ سن کر عدالت میں موجود تمام مرزائی کانپ اُٹھے اور مسلمانوں کے چہرے خوشی سے کھل اُٹھے۔خواجہ خان محمد اس بارے میں لکھتے ہیں:”اہل دل نے گواہی دی کہ عدالت میں انور شاہ کاشمیری نہیں‘بلکہ حضور سرورِ کائنات صلی الله علیہ وسلم کا وکیل اور نمائندہ بول رہا ہے۔“

جب مرزائیوں کو اس مقدمہ میں اپنی شکست سامنے نظرآنا شروع ہوئی تو انہوں نے دسمبر1934ء میں عبدالرزاق کے مرجانے کی وجہ سے یہ درخواست دائر کردی کہ اب اس مقدمے کے فیصلہ کی ضرورت نہیں ہے ‘لہٰذا اس مقدمہ کو خارج کردیا جائے…

بعض شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ شکست سے بچنے کے لیے مرزائیوں نے از خود عبدالرزاق کو قتل کرادیا،تاکہ مقدمہ خارج ہوجائے،مگر ہوتا وہی ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔لہٰذایہ مقدمہ جاری رہا اور حق وباطل کے اس مقدمہ کا فیصلہ جناب محمد اکبر خان(اللہ تعالیٰ اُن کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے)نے 3 ذیقعد 1353 بمطابق 7فروری1935ء کو سنایا،جس کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکار اپنے عقائد واعمال کی بنا پر مسلمان نہیں،بلکہ کافر اور خارج از اسلام ہیں اور اس ضمن میں عبدالرزاق مرزائی کاغلام عائشہ کے ساتھ نکاح فسخ قرار دے دیا گیا۔

مرزائیوں نے اپنے نام نہاد خلیفہ مرزابشیر الدین کی سربراہی میں سر ظفر اللہ مرتد سمیت جمع ہو کر اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی سوچ بچار کی، لیکن آخرکار اس نتیجے پر پہنچے کہ فیصلہ اتنی مضبوط اور ٹھوس بنیادوں پر صادر ہوا ہے کہ اپیل بھی ہمارے خلاف جائے گی۔

کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔جب مولانا انوار شاہ کشمیری عدالت میں بیان دے کر پلٹ رہے تھے تو بہت بیمار تھے۔انہوں نے مولانا محمد صادق (جو اس مقدمے کے پیروی کرنے والوں میں سے ایک تھے) کو وصیت کی کہ" اس مقدمے کا فیصلہ اگر میری زندگی میں ہوگیا تو میں سن لو گا، اگر میری وفات کے بعد ہوا تو میری قبر پر آ کر سنا دینا تاکہ میری روح کو تسکین پہنچے۔"

مولانا انور شاہ کشمیری نے 2، صفر، 1352ھ بمطابق 28 مئی 1933ء کو شب کے آخری حصہ میں تقریباً 60 سال کی عمر میں دیوبند میں داعئ اجل کو لبیک کہا۔اور یہ فیصلہ آپ کی وفات کے 2 سال بعد آیا۔

1945 میں اس فیصلے کو آئے دس سال بیت گئے تھے ۔مولانا محمد صادق دیوبند میں مولانا حسین احمد مدنی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ مولانا انور شاہ کشمیری کی قبر کی نشاندہی کی خاطر کوئی طالب علم ساتھ بھیج دیں مولانا مجاہد الحسینی ساتھ چلے ۔
قبر پر پہنچ کر مولانا محمد صادق نے پہلے سلام عرض کیا ۔پھر مقدمے کے فیصلے کی اطلاع دیتے ہوئے مقدمہ کا فیصلہ مکمل پڑھ کر سنایا ۔

یہ عجب لوگ تھے ۔یہ عجب داستان عشق ہے جو تاجدار ختم نبوت کے دامن سے جڑی ہے۔

ایک اور بات وہ لڑکی جس کا نکاح فسخ قرار دیا گیا تھا، اس کی شادی سلطان محمود جلال پور پیر والا کے ساتھ ہوئی جو بعد میں وقت کے بہت بڑے عالم بنے اور محدث جلال پوری مشہور ہوئے
اللہ نے اس جوڑی کو بیٹا دیا جو بہت بڑا عالم و فاضل بنا۔ عربی انگلش میں ایم اے کیے بہاول پور یونیورسٹی کے پروفیسر بنے پھر مکتبہ دارالسلام نے ان سے انگلش میں صحیح مسلم کا ترجمہ کرایا اور بے شمار کتب تصنیف کیں۔ان کا نام ہے پروفیسر محمد یحی جلالپوری حفظہ اللہ تعالی ۔

آخر میں مولانا انور شاہ کشمیری کی ہی ایک بات۔گلی کا کتا بھی ہم سے بہتر ہے اگر ہم ختم نبوت کا تحفظ نہ کریں ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Swabi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Swabi
23430