Three Brothers Chemical Corporation

Three Brothers Chemical Corporation

Share

Our main goal is to bring or manufacture great products where our prime concern will be to achieve excellence in product quality which last and never ends.

Our aim is to produce high quality products and will provide the best customer service.

28/09/2025

Using the control key in combination with other keys.

27/09/2025
13/08/2023

"شانِ بے نیازی"

سرائیکی علاقے کا ایک شخص اپنی جُگتوں کی وجہ سے مشہور تھا ساتھ کے لوگ اکثر اسکی غیر سنجیدگی کی وجہ سے اس سے نالاں رہتے تھے. ایک مرتبہ اپنے مرشد کے پاس بیٹھا تھا کہ نہ جانے سوچ میں کیا آیا، کہنے لگا۔۔ "مُڑ سائیں ،تُساں جے میں کوں حج تے گَھل دیو، تے کیا ہی بات ہو"۔۔ مرشد نے جواب دیا، "ول تُؤ اُوتھاں وَنج کے وِی ایہائی کُجھ کریِسیں" (یعنی وہ مقام ادب ہے، اور تم وہاں بھی اپنی جُگت لگانے کی عادت سے باز نہیں آؤ گے اور سنجیدگی سے مناسک اور عبادت وغیرہ نہیں کرو گے)۔ اس نے التجا کی ۔۔ "مُرشد ،میں اّوس تھاں ایسا کُجھ نہ کریساں، میں وِعدہ کرینداں" مرشد نے کہا۔ "فیر حلف اٹھا، تے میں کوں لکھ کے دے" اس وقت اس شخص سے ایک کاغذ پر حلف نامہ پر دستخط کروائے گئے کہ وہ وہاں صرف عبادت کرے گا، سنجیدہ رہے گا اور کوئی فالتو بات نہیں کرے گا، کسی پہ فقرہ نہیں کسے گا، کسی کو جگت نہیں مارے گا اور حج کرکے واپس آجائے گا۔ اس نے باقی مریدوں کی موجودگی میں حلف نامے پر خوشی خوشی دستخط کردیے۔ مرشد نے ایک مرید سے کہا کہ اسے قافلے میں شامل کر کے اپنےساتھ حج پہ لے جاؤ اور اس کا خیال رکھنا۔

اب حج ہوگیا۔ سر منڈوانے کی باری آئی تو سر جھکا کے عاجزی سے سر بھی منڈوا لیا۔ طواف وداع کے بعد قافلے نے واپسی کی راہ لی تو وہ بھی سب کے ساتھ واپس ہو لیا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب حج کا سفر اونٹوں، گدھوں اور خچروں پر طے کیا جاتا تھا۔۔ روزہ کیا ہوتا ہے یہ کسی خوش خوراک سے پوچھیے اور "چُپ کا روزہ" کیا ہوتا ہے یہ کسی محفلیں آباد کرنے والے بسیار گو اور باتوں کے دھنی خوش گفتار سے پوچھیے۔۔
گفتگو پہ لگی قدغن اور مرشد کو دیے گئے حلف نے طبعیت کس قدر مکدر اور بوجھل کر دی تھی اس کا تصور کرنا بجائے خود اک دشوار اَمر ہے۔

واپسی کے سفر پر اب اس کا سر مُنڈا ہوا تھا۔ بے وقتی کے عجیب سے احساس اور بوجھل دل کے ساتھ وہ گدھے پر بیٹھا اللہ کریم سے راز و نیاز میں مصروف ہوگیا۔۔۔کہنے لگا۔۔ " اللہ سائیں! ساڈے علاقے وچ کوئی چور جے پھڑیا ونجے، تے اُن دی ٹِنڈ کرا کے تے کھوتے تے بھا کے سارے علاقہ پھراندے نے ، مولا! ہُن ٹِنڈ وی کرا لئی اے، تے ول کھوتے تے وی بیٹھ گئے آں، اور شہر شہر وی پھر دے پئے ہاں، جے ہُن وی جاں بخشی نہ ہوئی تے فیر گَل تے نہ بنی نا"۔۔۔۔۔۔ وہ گدھے پر بیٹھا دنیا و مافیہا سے بےنیاز اپنی دھن میں مست، اللہ سے باتیں کرتا چلا جا رہا تھا کہ قافلہ اک پڑاؤ پہ رکا۔ وہاں موجود ایک صاحب نظر بزرگ نے پاس موجود شخص سے پوچھا کہ قافلے میں یہ شخص کون ہے؟ بتایا گیا یہ فلاں فلاں شخص ہے اور اپنی جملہ بازی اور جگتوں کی وجہ سے بدنام ہے۔ ابھی اس کی بات مکمل نہ ہوئی تھی کہ اُن بزرگ نے اسے خاموش کروا دیا۔ فرمانے لگے۔۔ "خاموش۔۔ اسے بلانا مت، وہ تو اس وقت وہاں ہے جہاں ہم بھی نہیں۔۔ میں دیکھ رہا ہوں، وہ اللہ سے قریب ہے، وہ مانگ رہا ہے اور اللہ اسے عطا کر رہا ہے۔ وہ ایسے انداز سے مانگ رہا ہےکہ اُسی وقت پا رہا ہے"۔

اللہ کو آپ کی کب کون سی ادا بھا جائے، یہ آپ بھی نہیں جانتے، اس لیے اس سے مانگیں، اپنی زبان، اپنے انداز میں۔۔ وہ سب زبانیں سمجھتا ہے، سب انداز ، ساری ادائیں جانتا ہے۔ وہاں سِکے نہیں، نیتی٘ں چلتی ہیں، وہ بخشنے پر آئے تو ایک معمولی شکوے پر بھی بخش دے۔۔۔۔۔

10/08/2023

Lab work in progress 😍💞💕💗

08/08/2023

علماء کو کاروبار اور ہنرمند ہونا چاہے
آج جب بھی کوئی عالم دین کاروبار کا سوچتا ہے تو ہر کوئی اسے دین کے منافی قرار دیتا ہے “ اگر یہی کرنا تھا تو مدارس میں کیوں رہے؟؟ “

*اور اگر ہمت کرکے کوئی پہلا قدم اٹھا بھی لے تو ہم عصر یہ طعنہ دے کر خون جلاتے ہیں “ تدریس کے لئے قبولیت شرط ہے قابلیت نہیں ، اللہ نے قبول نہیں کیا انتہائی افسوس* “
اس پر محترم نسیم حسین لکھیم پوری بہت اہم جانب توجہ دلاتے ہوئے لکھتے ہیں
اگر تاریخ اسلام پہ نگاہ دوڑائی جائے تو کاروبار کی شروعات اسلام کی شروعات سے ہی نظر آتی ہے ۔
پیغمبر کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریاں پال کر فروخت کیں ، حضرت ابوبکر نے کپڑا ، حضرت عمر نے اونٹ ، حضرت عثمان نے چمڑا اور حضرت علی نے خَود اور زر ہیں فروخت کرکے اپنے گھر کے کچن کو سہارا دیا ۔۔
حضرت عبدالرحمان بن عوف نے کھجوروں سے ، حضرت ابو عبیدہ نے پتھروں سے ، حضرت سعد نے لکڑی کے برادے سے ،حضرت امیر معاویہ نے اون سے ، حضرت سلمان فارسی نے کھجور کی چھال سے ، حضرت مقداد نے مشکیزوں سے
اور حضرت بلال نے جنگل کی لکڑیوں سے اپنے گھر کی کفالت کا فریضہ سرانجام دیا ۔۔

امام غزالی کتابت کرتے ، اسحاق بن رہوے برتن بنا تے ، حضرت امام بخاری ٹوپیاں بناتے ، ، امام مسلم خوشبو بیچتے ، امام نسائی بکریوں کے بچے فروخت کرتے ، ابن ماجہ رکاب اور لگامیں مہیا فرماتے رہے ۔۔

امام قدوری نے مٹی کے برتنوں کا ، امام بخاری کے استاد حسن بن ربیع نے کوفی بوریوں کاکاروبار سنبھالا ۔
حضرت امام احمد ابن خالد قرطبی نے جبہ فروش (بوتیک)قائم کی ،حضرت امام ابن جوزی نے (کباڑ خانہ )تانبا بیچا ، حافظ الحدیث ابن رومیہ نے دواخانہ ، حضرت ابو یعقوب لغوی نے چوبی لٹھا(کلاتھ ہاوس) ، حضرت محمد ابن سلیمان نے گھوڑے(بیوپار ) اور مشہور ومعروف بزرگ سری سقطی نے(سکریپ) ٹین ڈبے بیچ کر اپنی معیشت کو مضبوط کیا ۔

المختصر ہر دور کے علماء نے اپنے وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے رائج کاروبار کرنے کو ترجیح دی یے

*محترم علماء کرام* !
*مدرسہ میں پڑھانا ، مسجد میں امامت کروانا یا تصنیف و تالیف میں مشغول ہونا اچھی بات ہے لیکن ہمارے اکابرین نے انہی کاموں کے ساتھ ساتھ کاروبار بھی کیا ہے تاریخ اٹھا کر دیکھئے ۔۔ دور نبوت سے لے کر دور صحابہ تک ، تابعین سے آئمہ کرام اور مجتہدین تک سبھی لوگ کاروبار سے وابستہ رہے* ۔۔

*لیکن افسوس ہم ذریعہ معاش کے لئے کچھ سوچنا بھی توکل کے برعکس سمجھتے ہیں*
*ہمارے محترم استاد فرمایا کرتے تھے صوفی محلے کی ایک مسجد پر نظر نہیں رکھنی نہ ہی امام کے مرنے کا انتظار کرنا ہے بلکہ محلے کی پچاس دکانوں پر نظر رکھنی ہے.یعنی ان کی اس بات کا مقصد تھا کہ علماء اپنے آپ کو صرف مسجد و مدرسہ تک جام کر کے نہ رکھیں بلکہ دین کے اور میدان بھی ہیں.وہاں جا کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر خدمات سرانجام دیں*ویسے بھی علماء کرام ماشاء اللہ کثیر تعداد میں فراغت حاصل کر رہے ہیں لیکن ہنرمندی سے بلکل نا آشنا ہیں*.
*شیخ سعدی شیرازی کا قول ہے اپنی اولاوں کو ہنر سیکھاؤ لوگ تمھارے پیچھے چلیں گے.لیکن افسوس آج ہنر سیکھنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے *
آج مارکیٹوں میں سود عام ہونے کی اک وجہ علماء کرام کا مارکیٹوں میں موجود نا ہونا بھی ہے۔
الحمد للہ زمانہ طالب علمی سے اللّٰہ پاک نے ہمیں بھی مختلف قسم کی مزدوریاں کر کہ صحابہ و اہل بیت کی سنت پر اپنے عیال کی خدمت میں مصروف رکھا ہے۔
دعا کیجئے اللہ کریم ہمارے کاروبار میں برکت عطاء کرے آمین۔
#منقول #علماء #ہنر #مسجد #مدارس #مزدور #معاش #تدریس #پتھر #اسلام #سود #صحابہ #سنت

07/08/2023

رضائے الہی اور قضائے الہی میں فرق !
بعض لوگ میت کا اعلان کرتے وقت کہتے ہیں فلاں شخص رضائے الہی سے فوت ہوگیا حالانکہ کہنا یہ چاہیے کہ فلاں شخص قضائے الہی سے فوت ہوگیا ہے۔ اس لیے کہ قضا اور رضا میں بڑا فرق ہے ۔
قضا کا معنی: تقدیر الہی . نوشتہ تقدیر .فیصلہ۔اتفاق یا حادثہ( فیروز اللغات فارسی)
جب کہ رضا کا معنی :مرضی خوشنودی اور خوشی. لہذا جب اللہ تعالی کسی کے بارے فیصلہ نافذ کرتا ہے .
اس کو قضا کہتے ہیں
اور جب کسی کسی کام کی وجہ سے راضی ہوتا ہے تب اس وقت اس بندے پر رضائے الہی کا ظہور ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے۔
رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ
اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ۔(مجادلہ 22)
ایک اور مقام پر فرمایا۔
لَقَدۡ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ۔
بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے(الفتح 18)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ
اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا (مائدہ3)
مزید فرمایا۔
وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ رَضُوۡا مَاۤ اٰتٰىہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ۔
اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ و رسول نے ان کو دیا۔(توبہ 59)
یہ رہا قرآن مجید میں رضا کا استعمال جہاں تک قضا کا تعلق ہے تو متعدد آیات میں رب کریم میں لفظ قضا کو استعمال فرمایا ہے ان کو دیکھ کر پتہ چلتاہے کہ لفظ قضا کا معنی و مفہوم کیا ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا۔
وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ۔
اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو (بنی اسرائیل 23)
اورفرمایا
وَ اللّٰہُ یَقۡضِیۡ بِالۡحَقِّ۔
اور اللہ سچا فیصلہ فرماتا ہے۔(مومن 20)
مزید فرمایا۔
فَلَمَّا قَضَیۡنَا عَلَیۡہِ الۡمَوۡتَ۔
پھر جب ہم نے اس پر موت کا حکم بھیجا(سبا 14)
ان تمام آیات بینات سے رضا اور قضا کامعنی کھل کر سامنے آ گیا۔ رضا سے اللہ تعالی کی مرضی ۔رضا مندی اور خوشنودی مراد ہے جب کہ قضا سے تقدیر فیصلہ اور موت مراد ہے ۔
قرآن مجید کی متعدد آیات میں موت کو لفظ قضا سے یاد فرمایا گیا لیکن کچھ لوگ موت کو رضائے الہی کی طرف منسوب کرتے ہیں اور ببانگ دہل کہتے ہیں کہ فلاں رضائے الہی سے فوت ہوگیا حالانکہ موت رضائےالہی سے نہیں قضائے الہٰی سے واقع ہوتی ہے۔
رضا اور قضامیں بڑا فرق ہے۔
#منقول #قضاء #رضا

Want your school to be the top-listed School/college in Swabi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Swabi

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 20:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00