Concept Counselling Academy - CCA

Concept Counselling Academy - CCA

Share

Join Us Where Everyone is Star★

30/09/2024

پراپرٹی ڈیلر نے اشتہار پڑھا
"مکان براۓ فروخت"
اس نے مکان کا وزٹ کیا اور ہمراہ ایک پارٹی کو لے کر گیا جو مطلوبہ مکان خریدنا چاہتی تھی جیسے ھی یہ لوگ اس گھر کے دروازے پر پہنچے ایک عمر رسیدہ بزرگ نے انھیں اندر آنے کی دعوت دی اور ڈرائنگ روم میں بیٹھنے کا کہا کچھ دیر بعد ایک عمر رسیدہ خاتون خانہ چاۓ کی ٹرالی ٹیبل سجاۓ ہوۓ ان لوگوں کی طرف آ رہی تھی جس پر چاۓ کے علاوہ گاجر کا حلوہ ،نمکو ،بسکٹ اور کچھ مٹھائی رکھی ہوئی تھی
وہ دونوں میاں بیوی ہمارے سامنے بیٹھ گئے اور ہمیں چاۓ نوش کرنے کی اجازت دینے لگے میں نے ان سے کہا ہماری آج پہلی ملاقات ہے اور ہم مکان کی بات چیت کرنے آئے ہیں اور آپ نے اتنا تکلف کیوں کیا ؟
بابا جی نے دھیمے سے لہجے میں کہا بیٹا آپ چاۓ نوش فرمائیں مکان کی بات بعد میں ہوتی رہے گی ہم سب لوگ چاۓ سے لطف اندوز ہوتے رھے اور ساتھ کچھ گفتگو کرتے رھے کچھ دیر بعد چاۓ وغیرہ پی کر میں نے بابا جی سے پوچھا آپ مکان کی بات کریں یہ مکان آپ کتنے میں دیں گے ؟ تو بابا جی نے کہا مکان کی قیمت پچاس لاکھ روپے ہے میں حیران ہو کر بولا بابا جی آپ کا مکان تو تیس لاکھ روپے کا بھی نہیں اور آپ پچاس لاکھ مانگ رہے ہیں؟ حیرت کی بات ہے آپ نے ہمیں چاۓ پلا کرہم پر احسان کیا ہے اور مکان کی قیمت بھی بہت زیادہ مانگی ہے لہٰذا ہمارا سودا نہیں ہو سکتا تو بابا جی نے کہا کوئی بات نہیں یہ کھانا پیناکچھ نہیں انسان اپنے نصیب کا کھاتا ہے ۔ خیر ہم دو تین گھنٹے وہاں گزار کر خالی ہاتھ واپس لوٹ آئے ۔
تین مہینے بعد میں نے اخبار میں پھر سے اسی مکان کی فروخت کا اشتہار پڑھا اور تعجب ہوا کہ ابھی تک بابا جی کا مکان نہیں بکا دوبارہ رابطہ کرنے کے لئیے ایک دوسری پارٹی کو ساتھ لے کر بابا جی کا مکان دیکھنے چلا گیا جیسےہی دروازہ کھٹکھٹایا تو بابا جی نے پر تپاک طریقے سے اندر آنے کی دعوت دی اور ہمیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور کچھ دیر بعد وہی خاتون خانہ چاۓ کی ٹرالی ٹیبل لے کر ہماری طرف آ رہی تھی
میں نے بے ساختہ لہجے میں کہا بابا جی آپ اتنا تکلف کیوں کرتے ہیں آپ مکان کتنے میں بیچنا چاھتے ہیں بابا جی نے کہا آپ چاۓ نوش فرمائیں مکان کی بات بعد میں کرتے ہیں ۔ پہلے کی مرتبہ اس بار بھی چاۓ وغیرہ پینے کے بعد کچھ گفتگوہوئی اور بابا جی سے مکان کی بات کرنا چاہی تو بابا جی نے پھر پچاس لاکھ کی ڈیمانڈ کر دی مجھے غصہ بھی آیا اور حیرت بھی ہوئی کہ یہ بابا جی دماغی مریض لگتےہیں ہم نے اجازت طلب کی اور وہاں سے واپس آ گئے ۔
اس بات کو کافی ماہ گزر گئے میرا ایک دوست جو پراپرٹی ڈیلر تھا اس کا مجھے فون آیا اور اس نے کہا ایک مکان مل رھا ہے کافی سستا ہے اگر ارادہ ہے تو چلو ساتھ تمہیں مکان دکھا دوں میں نے کہا چلو چلتے ہیں جب میں اس کے ساتھ گیا تو وہ وہی مکان تھا جو بابا جی کا تھا میں نے اپنے دوست کو ہنستے ہوے بتایا یہ بابا جی کا مکان ہے اور وہ بابا جی پاگل ہیں شاید- پھر میں نے اپنے دوست کو پچھلے دونوں واقعیات سناۓ تو اس دوست نے کہا اس بات میں کچھ نہ کچھ راز تو ضرور ہے چلو پتا کرتےہیں
ہم نے دروازہ کھٹکھٹایا تو بابا جی کی نظر مجھ پر پڑی انہوں نے مجھے گلے سے لگایا اور پہلے کی مرتبہ اس بار بھی اندر آنے کی دعوت دی اور ڈرائنگ روم میں لے گئے کچھ دیر بعد وہی خاتون چاۓ کی ٹرالی ٹیبل ہماری طرف لاتی ہوئی دکھائی دیں بابا جی نےہمیں چاۓ نوش کرنے کا کہا ۔ میرے دوست نے کہا بابا جی آج ھم چاۓ تب تک نہیں پئیں گے جب تک آپ ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ آپ مکان کی فروخت کا اشتہار دیتے رہتے ہیں لیکن مکان فروخت نہیں کرتے اور جو مکان خریدنے آتا ہے اس کی تواضح کر کے اسے بھیج دیتےہیں آخر ماجرا کیا ہے ؟
یہ بات سن کر بابا جی نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور اداسی والی نگاہوں سے میری طرف پلٹے اور کہا ھم نے مکان نہیں بیچنا ھم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے گھر کوئی آتا جاتا رہے ہم کسی سے بات چیت کرتے رہیں اور کوئی ھم سے باتیں کرے ہم بوڑھےہیں لاچار ہیں ھمارے 3 بیٹے ہیں جنھیں ہم نے اچھی تعلیم دلوائی وہ ملک سے باہر ہیں لیکن ہمارے لئیے نہ ہونے کے برابر ہیں ہم اکیلے پن کی وجہ سے اپنے آپ کو اس گھر کی دیواروں کو دیکھ دیکھ کر اکتا گئے ہیں اس لئیے ہم نے سوچا ھم اپنی اس اداسی کو لوگوں کی تواضح سے ختم کریں ان کی باتیں سن کر میرا دل پسیج گیا اور میں نےسوچا بڑھاپا اور اکیلا پن ان دونوں چیزوں کے ساتھ زندگی کس قدر کٹھن ہے بابا جی نے کہا بیٹا دنیا کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئیے سب کچھ پاس ہے لیکن بڑھاپے میں اولاد کا سہارا ہی ساتھ دیتا ہے-

بڑھاپے میں بوڑھے والدین کو آپکے پیسے کے نہیں بلکہ آپکی ضرورت زیادہ ہوتی ھے۔ لہذا والدین کو زیادہ سے زیادہ وقت دیں..

26/09/2024

کچھ اور نہیں تو کم از کم وہ چاند ضرور بنیں جو اندھیری رات کے مسافروں کی راہنمائی کرتا ہے راستہ دکھانے کے ساتھ ساتھ راستے کے حشرات سے بھی آگاہ کرتا ہے اپنی پسند کے انسانوں کی نہیں بلکہ ہر انسان کے لیے روشنی مهیا کرتا ہے جو روشنی کا طلبگار ہوتا ہے
اسی لیے چاند بس محبتیں سمٹتا ہے اور رخصت ہوجاتا ہے
چاند بنیں . روشنی پھیلائیں. محبتیں سمیٹیں اور جنت الفردوس کی میراث کے لیے دعا گو رہیں

14/09/2024

جس طرح روزانہ کام پر جانا ضروری ہوتا ہے
جس طرح بجلی کے بل ادا کرنا ضروری ہوتا ہے
جس طرح اچھی صحت کے لیے روزانہ ورزش ضروری ہوتی ہے
اسی طرح بچوں کو با اخلاق اور باکردار بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر شعوری تربیت ضروری ہے

08/09/2024

وراثت صرف پیسہ ہی نہیں، بعض اوقات آپ کے والد کی نیک نامی بھی کافی ہوتی ہے، اور آپ جہاں جاتے ہیں، آپ کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کے والد کا شمار بہترین لوگوں میں ہوتا ہے.🥰

24/08/2024

اگر تُم باشعور ہو کر بھی شعور نہیں پھیلاتے، تو تم آنے والے نسلوں کےلیے مجرم ہو__!!

13/08/2024

ہمیں اختلاف سسٹم سے ہوسکتا ہے سسٹم چلانے والوں سے ہوسکتا ہے لیکن یہ سبز حلالی پرچم ہماری پہچان ہے اور وطن سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ❤️

30/07/2024

جیسے میڈیکل کی کتاب چومنے سے بندہ ڈاکٹر نہیں بنتا ایسے ہی قرآن چومنے سے بندہ مسلمان نہیں بنتا۔ سمجھ کر پڑھنے اور عمل سے بندہ مومن بنتا ہے

29/07/2024

ہر بچہ اپنی زندگی کی کہانی لکھ رہا ہے۔ والدین جو کچھ دیتے ہیں وہ اسے یہ کہانی لکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اپنے بچے کو بہترین تربیت اور اعتماد کا تحفہ دیجیے کہ وہ ایسی کہانی لکھے جس پر انسانیت فخر کرے۔

22/07/2024

آتے جاتے آپ کو کبھی کبھی راستے میں ایسے لوگ ملیں گے.. جو محدود سی چیزیں لیے بیچتے نظر آئیں گے یہ وہ لوگ ھوتے ہیں جو ہاتھ نہیں پھیلاتے اور اپنی تھوڑے سے پیسوں سے اس طرح کی چیزیں لیے آتے جاتے لوگوں کے چہرے دیکھتے رہتے ہیں کہ کوئ خرید لے ایسے لوگوں سے بلا ضرورت بھی لے لینی چاہیے اور بغیر بھاؤ تاؤ کے... اگر دو چار روپے مہنگی بھی دے رہے ھوں تو بھی لے لو.......

27/12/2023

والدین کی بڑی ذمہ داری بچوں کی تربیت کرنا اور احساس ذمہ داری پیدا کرنا ہے ایک وقت تھا جب تعلیم کیساتھ تربیت کا لفظ صرف لکھا ہی نہیں بلکہ عملی طور پر نظر بھی آتا تھا یہی وجہ تھی کے اخلاقیات زندہ تھیں محبت کرنے والے زیادہ اور نفرت کرنے والے کم تھے۔
پھر وقت بدلا سوچ بدلی اور صرف تعلیم کو اہمیت دی جانے لگی لوگ پڑھے لکھے ہونے کے باوجود جاہل رہے برداشت ختم ہو گئی احساس ختم ہو گیا ہر دل میں نفرت نے ڈھیرے ڈال لیے اور ایک پُرفتن دور کا آغاز ہوا جہاں آزادی کا مطلب ننگا رہنا اور سچائی کا مطلب بد تمیزی کرنا سمجھا جانے لگا جہاں حقوق کی طلب بڑھ گئی اور فرائض نظر انداز کیے جانے لگے یوں لوگ ان پڑھ اور پڑھے لکھے جاہل ہوگئے۔
آج پھر سوچ بدلنے کی ضرورت ہے خود میں تحمل مزاجی اور برداشت پیدا کرنے کی ضرورت ہے عملی طور پر کردار میں تضاد ختم کرنے کی ضرورت ہے
تعلیم کیساتھ ساتھ تربیت کرنے کی ضرورت ہے سچائی کیساتھ اخلاق سیکھنے کی ضرورت ہے حقوق کیساتھ فرائض نبھانے کی ضرورت ہے
تاکہ ہم باشعور انسان کہلا سکیں

15/12/2023

‏بچہ جوں جوں بڑا ہوتا چلا جاتا ہے۔۔۔سزاؤں اور دباؤ میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔۔۔

گھر میں والدین یہ کہہ کر گلے لگانا چھوڑ دیتے ہیں کہ ''اب تم بڑے ہوگئے ہو بچوں والی حرکتیں بند کرو''۔
سکول میں استاد کے ''ڈنڈے'' منتظر ہوتے ہیں کہ ''تم شیطان ہو، ہر وقت شرارتیں کرتے ہو''۔

یعنی گلے لگنے کا حق بھی زیادہ تر گھرانوں میں پانچ سے آٹھ سال تک محدود ہوجاتا ہے۔۔۔ اور شرارتوں کا حق تو پہلے ہی دن سکول چھین لیتا ہے۔۔۔

اب بچہ اکیلا ہوجاتا ہے۔۔۔ گلے لگا کر بات سننے والا کوئی نہیں۔۔۔ بات بات پر ماتھا چومنے والا کوئی نہیں۔۔۔ اپنا سب سے اچھا بیٹا یا بیٹی کہنے والا کوئی نہیں۔۔۔ تم ہمت کرو باپ/ماں ساتھ ہے کہنے والا کوئی نہیں۔۔۔
دوسری جانب:
سکول میں ہنسنے پر پابندی۔۔۔ قہقہہ تو ویسے ہی گلا دبوا دے گا۔۔۔ سوال زیادہ کرتے ہو سمجھ کچھ نہیں آتی۔۔۔ نالائق نالائق نالائق ہو تم۔۔۔ زیادہ بولا نہ کرو۔۔۔۔

اب جو بچہ بڑا ہوتا ہے۔۔۔ آپ اس کے جذبات سمجھ ہی نہیں سکتے۔۔۔ وہ بچپن سے کچھ کہنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ بچپن سے ہر بات چھپاتا رہا۔۔۔ اسے بولنے آپ نے نہیں دیا۔۔۔ اسے گلے آپ نے نہیں لگایا۔۔۔ اس کی تعریف آپ نے نہیں کی۔۔۔ آپ معاشرے سے گھبرا کر بچے کا ماتھا نہ چوم سکے۔۔۔

آپ نے چونکہ اس کا درد اور اس کا کرب نہیں سمجھا۔۔۔ بچہ آپ کو اپنی تکالیف سمجھانا چاہتا تھا۔۔۔ آپ کے ڈر سے وہ کچھ بھی شئیر نہ کرسکا۔۔۔ پھر نشہ ہی اس کا سچا دوست بن جاتا ہے۔۔۔ اور یہ اپنی زندگی تباہ کرلیتے ہیں۔۔۔

آپ نے ہمیشہ اسے مارا۔۔۔ چھوٹے نقصان پر بڑی سزا دی۔۔۔ پیسے کے ضیاع پر کان کھینچے۔۔۔ پیالہ ٹوٹنے پر تھپڑ مارے۔۔۔ تب یہ باغی ہوکر معاشرے میں بڑے بڑے نقصان کا ماہر بن جاتا ہے۔۔۔

آپ نے اس کی کمزوری پر حوصلہ نہیں بڑھایا۔۔۔ پہلے چار نمبر تھے اب چھ پر شاباش نہیں دی۔۔۔ پورے نمبر۔۔۔ زیادہ نمبر۔۔۔ اور زیادہ کی رٹ لگائی۔۔۔ دوسرے بچوں سے اس کا مقابلہ کیا۔۔۔ اس کی ٹینشن کو ڈپریشن کا انجیکشن آپ نے لگایا۔۔۔ تب وہ خودکشی کرتا ہے۔۔۔ اور ہم خود کو زمہ دار سمجھتے نہیں۔۔۔

یاد رکھیں۔۔۔ بچہ یا بچی ایک سال کے ہیں۔۔۔ پانچ سال کے ہیں۔۔۔ دس کے یا چاہے تیس سال کے۔۔۔ والدین کی جھپی ایک اہم ضرورت ہے۔۔۔ بڑوں کا گلے لگانا ضروری ہے۔۔۔ کبھی گلے لگا کر رونے تو دیں۔۔۔ اپنے بچے کو یا چھوٹے کو سمجھیں تو سہی۔۔۔ اس کے دکھ، درد، غم، وجہ، ضرورت، پریشانی، احساسات۔۔۔ ان سب کو بھی زبان چاہیے۔۔۔ اظہار چاہیے۔۔۔ وہ سب سنتا سہتا بڑا ہوتا ہے۔۔۔ اندر پھٹ کر بیمار ہوتا ہے۔۔۔ سب کچھ سن کر چھپاتا ہے۔۔۔ تو کیا ہمیشہ دماغ کی ''خوردبین'' لگائیں گے؟؟؟ دل کی ''خوردبین'' لگا ان کے معاملات بھی سمجھیں۔۔۔ خود سے اتنا بھی دور نہ کریں۔۔۔

آدمی تو پچاس سال کا بھی۔۔۔ اپنے دل میں موجود بچے کا گلا گھونٹے بیٹھا ہوتا ہے۔۔۔ وجوہات تک پہنچنا ہوتا ہے۔۔۔ اعمال کو تکڑی میں تولنے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔

21/08/2023

اولاد قیمتی سرمایہ ہے نمبروں کی دوڑ میں پریشان مت کیجیۓ، حوصلہ دیجیۓ. دوسروں سے موازنہ مت کیجیۓ ، ہر بچے کی صلاحيتیں مختلف ہوتی ہے.

Want your school to be the top-listed School/college in Swabi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Daulat Road Khoro Near Tarkanan Masjid Dobian
Swabi

Opening Hours

Monday 14:00 - 19:00
Tuesday 14:00 - 19:00
Wednesday 14:00 - 19:00
Thursday 14:00 - 19:00
Friday 14:00 - 19:00
Saturday 14:00 - 19:00