مدرسہ سیدنا عمر فاروق رض سوڈھیر-صوابی

مدرسہ سیدنا عمر فاروق رض سوڈھیر-صوابی

Share

مدرسہ عمر فاروق سوڈھیر(صوابی) دینی تعلیم و تربیت کا مرکز ❤❤❤

03/03/2025
12/02/2025

سن 1971 کئ بات ہے۔صوابی کی دیہات سے ایک نوجوان کراچی کی طرف عازم سفر ہوتے ہیں وہاں پر عظیم علمی درسگاہ بنوری ٹاؤن کی طرف چل پڑھتے ہیں اسی غرض سے کہ معلوم ہوا تھا کہ حضرت بنوری رحمہ اللہ نے تخصص شروع کیا ہے۔وہاں اساتذہ مدرسے کی اصول کے مطابق امتحان لیتے ہیں وہ عربی زبان میں مذکورہ سوالات کے جوابات دینے لگتے ہیں بات حضرت بنوری رحمہ اللہ تک پہنچتی ہیں کہ حضرت ایک تو کم سن ہے دوسرا امتحان میں دئے گئے سوالات بھی کسی سے حل کروائے ہے(اساتذہ کا یقین نہیں ہوررہا تھا)ایک تو 20 (بیس سال) کا نوجوان دوسری بات تخصص میں داخلہ اور پھر عربی میں پرچہ حل کرواتے ہیں حضرت بنوری رحمہ اللہ اور جامعہ کے دیگر اساتذہ یہ بات اپنے سامنے رکھ مشورہ کرنے لگتے ہیں کہ معاملہ کیا ہے۔
آخر کار یہ طے پاتا ہے کہ پرچہ تبدیل کرکے اساتذہ اور حضرت بنوری رحمہ اللہ کے سامنے بیٹھ کر یہ کم عمر طالبعلم پرچہ حل کرے گا۔بس بات ہوئی پرچہ بھی تبدیل طالبعلم وقت کے امام شاہ ولی اللہ حضرت بنوری رحمہ اللہ کے سامنے بیٹھ کر پرچہ حل کرنے لگتے ہیں تھوڑی دیر بعد پرچہ استاذہ کے حوالے کردیاجاتا ہے۔مگر اس بار اساتذہ دیکھ کر یقین نہیں کرتے کہ پرچہ صرف عربی میں نہیں بلکہ جوابات عربی زبان میں شاعری میں دئے گئے ہیں یہ طالبعلم جو جسم سے کمزور مگر حافظہ اور ذہانت میں امام غزالی و امام بخاری رحمہم اللہ کی یاد تازہ کردیتی ہے۔حضرت بنوری رحمہ اللہ تو اتنے متاثر ہوئے کہ صرف یہ نہیں کہ تخصص میں داخلہ دیا بلکہ ساتھ یہ درخواست بھی کی آپ پڑھائی کے ساتھ ساتھ جامعہ میں درس و تدریس کے فرائض بھی انجام دینگے پہلے تو نوجوان نے معذرت کرکے بتایا کہ میں چاہتا ہوں صرف پڑھائی کروں مگر حضرت بنوری رحمہ اللہ کے خواہش اور محبت کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرلیا اور ساتھ ساتھ درس و تدریس بھی جاری رہا۔یہ نوجوان کوئی اور نہیں بلکہ صوابی کے معروف گاؤں شاہ منصور کے علمی گھرانے سے تعلق رکھنے والے اور محدث کبیر شیخ المشائخ قطب العالم مولانا شمس الہادی نوراللہ مرقدہ کے بڑے صاحبزادے مفتی اعظم افریقہ شیخ مفتی رضاءالحق صاحب حفظہ اللہ ورعاہ تھے۔
حضرت بنوری رحمہ اللہ جب درس سے فارغ ہوتے تھے تو جس راستے سے آپ گھر تشریف لے جاتے تھے اسی راستے میں حضرت مفتی صاحب دامت برکاتھم العالیہ کے کلاس ہوتا۔تو حضرت بنوری رحمہ اللہ مفتی صاحب کا درس سن کر تھوڑی دیر دیوار سے تکیہ لگاکر درس سنتے اور ساتھ ساتھ یہ کہتے کہ کاش میں اسی درس میں شامل ہوتا۔اکابر کی شفقت اور عقیدت تھی ساتھ میں مفتی صاحب دامت برکاتھم العالیہ کے عظیم الشان انداز تدریس کہ بڑے بڑے اکابر آپ کے درس سے متاثر ہوتے تھے۔
درس و تدریس کا زمانہ آگے چلتا تھا۔کچھ ہی سالوں میں مفتی صاحب دامت برکاتھم العالیہ کا نام کراچی بھر میں پھیلا۔بڑے بڑے اکابر اپنے مجالس اور مشوروں میں بلاتے تھے۔حضرت ٹونکی رحمہ اللہ کے ساتھ پاکستان کے نائب مفتی اعظم بھی مقرر ہوئے۔
سن 1986 کا سال چل رہا تھا۔افریقہ کے عظیم علمی درسگاہ اور دنیا کے دس ٹاپ یونیورسٹیز می سے ایک دارالعلوم زکریا لینیشیا سے ایک وفد نے کراچی کا دورہ کیا۔اور یہ خواہش ظاہر کی کہ ہمارے جامعہ کو ایک مدرس کی ضرورت ہے اسی وقت بنوری ٹاؤن کا شمار پاکستان کے بڑے مدرسے ہوتا تھا اور الحمداللہ تاحال ہے۔جامعہ کے شوری نے مشورے پر مفتی صاحب دامت برکاتھم العالیہ کا نام پیش کیا مگر اسی شرط پر کہ جب بھی ہم کو مفتی صاحب کے ضرورت پیش آئی ہم آپ سے رابطہ کرینگے کیونکہ مفتی صاحب دامت برکاتھم العالیہ کا شمار جامعہ کے عظیم و قابل مدرسین میں ہوتا تھا۔
آخر کار مفتی صاحب نے مہتمم بنوری ٹاؤن مفتی احمد الرحمن صاحب رحمہ اللہ کی اجازت سے افریقہ کا رخ کیا اور وہاں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا تخصص کا نگران بھی منتخب ہوئے اور کچھ ہے سالوں میں آپ کا شمار براعظم افریقہ کے سب سے بڑے مفتی میں ہوتا تھا۔
مفتی صاحب درحقیقت ایک عظیم مدرس کے ساتھ ساتھ ایک عظیم مصنف محقق،مدقق شاعر اور ایک بڑے صوفی بزرگ بھی ہے۔آپ کا شمار دنیا کے چند ایسے شخصیات میں ہوتا ہیں جن کے متوسلین و تلامذہ دنیا کے کونے کونے میں موجود ہے آپ کے درجنوں کتب مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئی ہے آپ کے دنیا بھر میں معروف کتاب آپ کے فتاوی ہے جو دارالعلوم زکریا کے نام سے منسوب ہے ادرو انگریزی عربی سمیت کئی زبانوں میں ٹرانسلیٹ(translate) ہوچکی ہے۔آپ کے تلامذہ تو دنیا بھر میں لاکھوں میں ہے مگر ہم اپنے ملک پاکستان کی بات کرے تو بہت بڑے بڑے علماء مصنفین و معروف شخصیات نے آپ سے شفا تلمذ حاصل کیا۔جس میں____
شیخ الحدیث مفتی زرولی خان صاحب رحمہ
شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم صاحب رحمہ اللہ
شیخ الحدیث مولانا عبد العزیز صاحب ۔لال مسجد اسلام آباد
شیخ الحدیث مولانا عبد الغفار صاحب حفظہ اللہ۔اسلام آباد
ناظم تعلیمات جامعہ بنوری ٹاؤن مفتی امداد اللہ صاحب حفظہ اللہ
مولانا مسعود ادھر صاحب حفظہ اللہ
مفتی فضل محمد صاحب حفظہ اللہ۔بنوری ٹاؤن
مولانا قاضی محمودالحسن آذاد کشمیر ، مولانا عطاءالرحمان شھید بنوری ٹاون،مولانا قاری اسداللہ رح مردان ،مولانا خلیل احمد شیخ ملتوں مردان،،مولانا عطاءالرحمان امیر جمعیت علماء اسلام کے پی کے،مولانا مفتی ابرار پرسنل سیکرٹری قائد جمعیت،،مولانا انعام اللہ بابوزئ،مولانا محمد ابراہیم بامجی ساتھ افریقہ،مولانا درویش ساتھ افریقہ،مولانا افضل زنبیہ،مولانا عمر مذنبیق،مولانا یاسر امریکہ،مولانا یہی ممبی،مولانا زکریا فرانس۔مولانا امدادللہ فرانس،مولانا زبیر کراچی، مولانا شبیر سالوجی مہتمم دارالعلوم زکریا ساتھ افریقہ،مولانا حنیف کراچی، مولانا رفیق کراچی،مولانا عبدالوحید انڈونیشیا،مولاناعبدالرحمان شکور انڈونیشیا،مولانا عدنان پٹیل،مولانابلال باٹیا،مولانا برھان میاں،مولانا احمد ،مولاناعامر،(ساتھ افریقہ،)مولانا اشرف کنیڈا،مولانا فاروق نیپالی،مولانا محمد یو کے،مولانا شبیر حسن امریکہ،
مولانا صادق حسین ٹل، مولانا عبداللہ سندھی . مولانا عبدالقیوم کویٹہ.
سمیت ہزاروں تلامذہ شامل ہیں۔
ام المدارس دارالعلوم دیوبند میں بہت سے اساتذہ آپ کے شاگرد ہے۔بنگلہ دیش سری لنکا، برونائی، مزمبیق، آسٹریلیا،امریکہ،یورپ،میں کثیر تعداد میں آپ کے تلامذہ موجود ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے فنون کے کچھ کتب اپنے آبائی گاؤں شاہ منصور میں اپنے والد ماجد اور اپنے نانا صاحب اور تایا صاحب رحمہم سے پڑھی۔اور باقی فنون،عربی،منطق،فقہ،اصول اور احادیث مبارکہ جامعہ اسلامیہ اکوڑہ خٹک میں پڑھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اساتذہ کرام۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
استاد العلماء شیخ الحدیث علامہ عبدالرزاق شاہ منصوری رحمہ اللہ
شیخ الحدیث مولانا سید بادشاہ گل بخاری رحمہ اللہ
شیخ الحدیث مولانا فضل الٰہی شاہ منصوری رحمہ اللہ
شیخ الحدیث مولانا شمس الہادی شاہ منصوری رحمہ اللہ ؔشیخ الحدیث مولانا امین گل صاحب کوہی برمول
شیخ الحدیث مفتی محمد فرید صاحب رحمہ اللہ
شامل ہے۔
اللہ کریم مفتی صاحب دامت برکاتھم العالیہ کو کامل صحت مع عمر دراز عطاء فرمائے اور حضرت کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم رکھے۔آمین۔آپ جیسے شخصیت لاکھوں میں سے ایک ہوتا ہے۔
فیضان الحق شاہ منصوری خادم مفتی رضاءالحق شاہ منصوری 03009084775_03219896990

12/02/2025

شبِ برأت 13 فروری بروزِ جمعرات، یعنی شبِ جمعہ کو ہوگی تمام احباب کل شام کو اھتمام فرمالیں

07/01/2025

شدیدسردی میں چھٹیوں کا مطالبہ کئے بغیر تعلیم وتعلُّم
میں مصروف عمل
مدارس کے اساتذہ وطلباء کی استقامت کو صد سلام❤

Photos from ‎مدرسہ سیدنا عمر فاروق رض سوڈھیر-صوابی‎'s post 26/12/2024

سالانہ ختم القرآن ودستار بندی
مدرسہ سیدنا عمر فاروق رضی سوڈھیر صوابی۔۔۔۔

22/12/2024

انشاءاللہ❤❤❤26 دسمبر بروز جمعرات 👇👇

10/12/2024

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ۔
الحمدللہ مدرسہ سیدنا عمر فاروق رض سوڈھیر-صوابی میں سالانہ تقریب بسلسلہ ختم القرآن ودستاربندی کا انعقاد ہواہے۔ جس میں فصیح السان حضرت مولانااکبرعلی حقانی صاحب دامت براکاتہم العالیہ کا خصوصی آمد ہوگا۔ سب مسلمانوں کی خدمت میں درخواست ہے کہ اس بابرکت عظیم الشان پروگرام میں شرکت کرکے ثواب الدارین حاصل کریں۔بیان ٹائم صبح 10 بجے۔
پروگرام انشاءاللہ بتاریخ 26دسمبر 2024 بروز جمعرات
صبح 9 بجے۔
منجانب: مدرسہ سیدنا عمر فاروق رض سوڈھیر-صوابی

Photos from ‎مدرسہ سیدنا عمر فاروق رض سوڈھیر-صوابی‎'s post 19/09/2024

17ستمبر2024 مدرسہ سیدنا حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) سوڈھیر میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر پروگرام منعقد ہوا۔ جس میں مختلف بچوں نے پر جوش انداز میں حصہ لیا۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ کچھ بچوں نے تلاوت کلام پاک کیا۔ کچھ بچوں نے نعت مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھی۔ جبکہ کچھ بچوں نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر تقاریر کیے۔ پروگرام کے آخر مہتمم مدرسہ حضرت مولانا ہدایت اللہ صاحب دامت براکاتہم العالیہ نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مضوع پر کچھ اہم گفتگو کیا۔ اور پھر کامیاب طلباءکرام کو انعامات دیا۔ اور آخر میں دعا کیا اور یوں پروگرام اختتام پزیر ہوا۔ اللہ ہمارے مدارس کو قائم و دائم رکھیں۔ آمین......

17/05/2024

مدرسہ سیدنا عمر فاروق رض سوڈھیر-صوابی
دروان درس ایک 😍💓خوبصورت
منظر🥀🥀🥀

07/09/2023

سر زمین جھنگ سے تعلق رکھنے والے ولی کامل، محبوب العلماء والصّلحاء، حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی ومجددی دامت براکاتہ
دنیا اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ جھنگ کی زمین ایسی زرخیز زمین ہے کہ جس نے اپنے بطن سے بہت سے ” بے باک، نڈر، مجاھد، موحّد، اولیاء، علماء، خطباء، صوفیا، شعراء، توحید و سُنّت کے پروانوں، اصحاب و اہلبیتِ عُظّام کے دیوانوں “ کو جنم دیا جن کے اسماء و اوصاف کی تفصیل کا یہ مختصر مضمون متحمل نہیں،
مذکورہ تمام اوصاف کو اپنے اندر سموئے ہوئے (سن1953ء) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر جھنگ میں کھرل برادری میں ایک بچے نے جنم لیا کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اس بچے نے بڑے ہو کر کے جھنگ کے اندر دین احمد ﷺ کا مظہر بننا ہے،اور ہزاروں لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بننا ہے۔
آپ کے والدین نہایت دین دار اور عبادت گزار تھے، گھر میں نماز ، تلاوت کا بڑا اہتمام تھا، یہاں تک کہ تہجد کی بھی پابندی ہوتی تھی، اپنی والدہ محترمہ کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’والدہ ماجدہ بھی پابند صوم و صلوٰۃ تھیں، راقم جب تین برس کی عمر کا تھا تو رات کے آخری پہر میں والدہ صاحبہ کو بستر میں موجود نہ پا کر اٹھ بیٹھتا ، دیکھتا تھا کہ وہ سرہانے کی طرف مصلّٰی بچھا کر نماز تہجد پڑھنے میں مشغول ہیں، راقم منتظر رہتا کہ نماز کب ختم ہوگی، والدہ صاحبہ نماز کے بعد دامن پھیلا کر اونچی آواز سے رو رو کر دعائیں مانگتیں، راقم نے اپنی زندگی میں تہجد کے وقت جس قدر اپنی والدہ صاحبہ کو روتے دیکھا ہے کسی اور کو اس قدر روتے نہیں دیکھا ، بعض اوقات والدہ صاحبہ راقم کا نام لے کر دعائیں کرتیں تو راقم خوشی سے پھر بستر پر سو جاتا۔‘‘ (حیات حبیب ص 744)
یقینا یہ والدہ محترمہ کی دعائے سحر گہی اور نالۂ نیم شبی کا نتیجہ ہے کہ آج ان کے بیٹے کا نام پورے عالم میں گونج رہا ہے اور ان سے دلوں کی اصلاح کا کام لیا جارہا ہے۔
مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی کی تعلیم اسکولوں اور کالجوں میں ہوئی۔ انہوں نے کئی عصری کورس کئے 1972ء میں بی ایس سی الیکٹریکل انجینئر کی ڈگری حاصل کرکے اسی شعبے سے وابستہ ہوگئے، پہلے اپرنٹس الیکٹریکل انجینئر ، پھر اسسٹنٹ الیکٹریکل انجینئر بنے ، اس کے بعد چیف الیکٹریکل انجینئر بن گئے ، جس زمانے میں وہ انجینئر بن رہے تھے اس زمانے میں جمناسٹک ، فٹ بال ، سوئمنگ کے کیپٹن اور چمپیئن بھی رہے۔ ان حالات میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ یہ طالب علم دین کی طرف مائل بھی ہوسکتا ہے، مگر یہ معجزہ ہوا، انہوں نے عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ ناظرہ بھی پڑھا ، ابتدائی دینیات ، فارسی اور عربی کی کتابیں بھی پڑھیں ، قرآن کریم بھی حفظ کیا، یہاں تک کہ جب وہ لاہور یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے ان کا تعلق عمدۃ الفقہ کے مصنف حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ صاحبؒ سے ہوگیا، جو نقشبندیہ سلسلے کے ایک صاحب نسبت بزرگ تھے، شیخ ذوالفقار احمد نے ان سے مکتوبات مجدد الف ثانی سبقاً پڑھی، ان کی وفات کے بعد وہ حضرت مرشد عالم خواجہ غلام حبیب نقشبندی مجددی ؒ کے دامن سے وابستہ ہوگئے، یہ 1980ء کی بات ہے، 1983ء میں خلافت سے سرفراز کئے گئے، اس دوران انہوں نے جامعہ رحمانیہ جہانیاں منڈی اور جامعہ قاسم العلوم ملتان سے دورۂ حدیث کی اعزازی ڈگری بھی حاصل کی ، اپنے مرشد کی وفات کے بعد وہ پوری طرح دین کے کاموں میں لگ گئے ، کئی سال امریکہ میں گزار کر اب مستقل طور پر جھنگ میں مقیم ہیں، لڑکوں اور لڑکیوں کے متعدد دینی ادارے ان کی سرپرستی اور اہتمام میں چل رہے ہیں، جن میں مشہور ترین ادارہ معھدالفقیرالاسلامی ٹوبہ روڈ جھنگ اور دارالعلوم جھنگ اور دارالسکینہ للبنات شامل ہیں۔ پچاس سے زائد ملکوں کے اصلاحی و تبلیغی دورے بھی کرچکے ہیں، ہر وقت سرگرداں رہتے ہیں، دینی و عصری علوم کی جامعیت حضرت والا کی امتیازی خصوصیت ہے، انگلش زبان پر عبور حاصل ہے انہیں دینی علوم کو عصری اسلوب میں اور مخاطب کی زبان میں پیش کرنے کا غیر معمولی طور پر ملکہ حاصل ہے، آپکا اکثر ہر سال رمضان المبارک کا مہینہ (صرف آخری عشرہ) افریقی ملک زمیبیامیں گزرتا تھا، جہاں حضرت اپنے مریدین اور خلفاء کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ اعتکاف فرماتے تھے۔ہر سال حج کے ایام میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مجلسیں لگتیں اور بے شمار عقیدت مند،ان مجلسوں میں ان سے استفادہ کرتے، گویا سال کے بارہ مہینے ان کا فیض جاری رہتا ہے۔
اس دورِ قحطِ الرجال میں حضرت مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی کا وجود کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں وہ اس امت کا ایک زندہ معجزہ ہیں انہیں دیکھ کر خدا یاد آتا ہے اور ان کی باتیں سن کر دلوں میں سوز اور تڑپ پیدا ہوتی ہے ۔ یہ صرف میں ہی نہیں کہہ رہا بلکہ تقریباً یہی جملے ہر اس شخص کی زبان پر ہیں جس نے ان چار دنوں میں سے کوئی ایک لمحہ بھی ان کے ساتھ گزار لیا ہے یا ان کی باتیں دل کے کانوں سے سن لی ہیں۔ واقعی کوئی زمانہ ﷲ کے نیک بندوں سے خالی نہیں رہتا ، اس کے ساتھ یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ﷲ اپنے بندوں میں سے جس سے چاہے بڑے سے بڑا کام لے لیتا ہے، ماضی قریب میں جو کام سید الطائفہ حضرت حاجی امداد ﷲ مہاجر مکیؒ نے تھانہ بھون کی خانقاہ میں کیا، ان کے بعد جو کام ان کے باکمال خلفاء حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ، فقیہ النفس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ پھر ان حضرات کے خلفاء شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن گنگوہیؒ ، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ اور ان حضرات کے بالواسطہ یا بلاواسطہ جانشینوں نے کیا آج وہی کام پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی انجام دے رہے ہیں، اصل میں تو یہ کام حضرت حاجی امداد ﷲ مہاجر مکی ؒ کی روحانی اولاد کا تھا جو دار العلوم دیوبند سمیت ہزاروں مدارس میں بکھری ہوئی ہے لیکن انجام دے رہے ہیں شیخ ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی جو اصطلاحی معنوں میں اس روحانی سلسلے سے وابستہ نہیں اور نہ اس سلسلۂ زریں کے باقاعدہ فیض یافتہ ہیں۔ ہوسکتا ہے شیخ کی آمد اسی بھولے ہوئے سبق کو یاد دلانے کے لیے ہو ، جس طرح لوگ ان کی مجلسوں میں ٹوٹ کر پڑے اور جس طرح ذوق و شوق کے کانوں سے ان کے مواعظ کا ایک ایک لفظ انہوں نے سنا اور دل میں اتارا اس سے پتہ چلتا ہے کہ راہ حق کے طلب گاروں کی کمی نہیں ہے تشنگان شوق بھی بے شمار ہیں بس ایک راہنما کی ضرورت ہے جو ہاتھ پکڑ کر منزل پر پہنچا دے اور ایک صاحب دل ساقی کی ضرورت ہے جو ’’مئے حق‘‘ پلا کر تشنہ کاموں کی پیاس بجھا دے۔
بلند قد و قامت اور معتدل جسامت کے مالک ہیں۔ ہم نے اپنے بہت سے بزرگوں کو دیکھا ہے جن پر نگاہ پڑتی تھی تو ہٹنے کا نام نہیں لیتی تھی، بعینہٖ یہی کیفیت پیر صاحب کی ہے، چہرہ ایسا منور تر وتازہ اور شاداب کہ نگاہ پڑے تو ہٹنا بھول جائے ، لبوں پر کھیلتی مسکراہٹ آنکھوں میں یاد الٰہی کا سوز اور تڑپ ، طبیعت میں حد درجہ انکسار اور تواضع ، اپنی ہر ادا سے گہری چھاپ چھوڑنے والی شخصیت ، اہل دیوبند کو مدتوں یاد رہے گی۔
مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی کو علماء دیوبند سے بڑی عقیدت ہے اور یہ عقیدت ان کی ہر تقریر اور تحریر سے جھلکتی ہے آپ ان کی کوئی بھی تقریر سن لیں، یا کوئی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو علماء دیوبند کا ذکر ضرور ملے گا، یہ عقیدت ہی ان کے ہندوستان آنے کا سبب بنی ، افسوس انہیں بعض مقامات کا ویزہ نہیں مل سکا ، ورنہ تھانہ بھون ، گنگوہ، نانوتہ، رائے پوراور سہارن پور جیسے مقامات پر جہاں کبھی بزرگوں کی خانقاہیں ہوا کرتی تھین ان کا دل جانے کے لیے بڑا بے چین رہا، جب کوئی سبیل جانے کی نہ نکل سکی تو دہلی سے دیوبند کا سفر انہوں نے شاملی اور تھانہ بھون کے راستے کیا تاکہ اگر ان بستیوں میں اندر نہ جاسکیں تو کم از کم ان بستیوں کے باہر سے تو گزر جائیں۔ علماء دیوبند کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے جذبات قابو میں نہیں رہتے ، خود بھی روتے ہیں اور سننے والوں کو بھی رلا دیتے ہیں وہ باربار کہتے ہیں کہ اکابر علماء دیوبند تو صحابۂ کرام ؓ کی مقدس جماعت کے وہ افراد ہیں جنہیں ﷲ نے چودہ سو سال بعد پیدا فرمایا تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ میرے حبیب ﷺ کے صحابہؓ ایسے ہوا کرتے تھے۔
حضرت کی زبان میں تاثیر بہت ہے ، تقریریں تو بہت لوگ کرتے ہیں ، گھنٹوں گھنٹوں کرتے ہیں، الفاظ کا سماں باندھ دیتے ہیں لیکن جب لوگ مجلسوں سے اٹھتے ہیں تو ان کے پلے کچھ بھی نہیں ہوتا ، جیسے آئے تھے ویسے ہی رخصت ہوجاتے ہیں۔ حضرت پیر صاحب کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ عام سی، سادہ سی باتیں اس سوز کے ساتھ کرتے ہیں کہ دل پر اثر انداز ہوتی ہیں، ہرچہ از دل خیزد بردل ریزدکا صحیح مشاہدہ حضرت پیر صاحب کی تقریریں سن کر ہوا، وہی باتیں جو باربار کتابوں میں پڑھیں ، وہی قصے جو زندگی بھر پڑھتے اور سنتے رہے ان کی زبان سے سنے تو بالکل نئے محسوس ہوئے ، ان کی آواز کا سوز ، اور دل کا اخلاص سننے والے کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ہزاروں کامجمع تقریر کے دوران بالکل ساکت و صامت ہوجائے اور ماحول پر ایسا سناٹا طاری ہوجائے کہ سوئی گرے تو اس کے گرنے کی آواز سنائی دے ، حضرت پیر صاحب جب تقریر شروع کرتے ہیں تو ایسا ہی ہوتا ہے اور بدشوق سے بدشوق انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب تقریر شروع ہوئی اور کب ختم ہوگئی، دو ڈھائی گھنٹے کس طرح منٹوں میں گزر گئے۔
تقریریں تو بہت سنی ہیں ، لیکن اتنی جامع ، مرتب، حسب حال اور پر اثر تقریریں کم ہی سنی ہیں۔ حضرت کے ایک خلیفہ نے راقم کے استفسار پر بتلایا کہ حضرت پیر صاحب ہر تقریر سے پہلے مکمل تیاری کرتے ہیں، نوٹس تیار کرتے ہیں ، احادیث کا متن نوٹ کرتے ہیں، حوالے تلاش کرتے ہیں، حسب حال واقعات اور اشعار کے ذریعے اپنی ہر تقریر کو سجاتے سنوارتے ہیں، تقریر سے کچھ دیر پہلے تنہائی اختیار کرلیتے ہیں اور رب کریم سے رو رو کر دعا کرتے ہیں کہ اے ﷲ میری تقریر میں اثر دے ، میری زبان میں حق بات کہنے کی صلاحیت پیدا فرما ، حضرت پیر صاحب خود فرماتے ہیں کہ میں الہامی تقریر نہیں کرسکتا، رات رات بھر مطالعہ کرنے کے بعد سامعین کو مخاطب کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی تقریر موضوع کے دائرے میں رہتی ہے ، حشو و زوائد سے پاک اور نہایت مرتب، حضرت پیر صاحب کی تقریروں میں حکیم الامت حضرت تھانویؒ کا رنگ جھلکتا ہے، جن کے وعظ ہم نے سنے نہیں ہیں پڑھے ضرور ہیں، جو حضرت کے باکمال شاگردوں نے کئی کئی گھنٹے بیٹھ کر من و عن نقل کئے، ماضی قریب میں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب ؒ کی تقریریں بھی سادگی، پرکاری، شگفتگی، اثر انگیزی اور برجستگی کے لحاظ سے بے نظیر تھیں، راقم کو حضرت ؒ کی مجلسوں میں بیٹھنے اور ان کی تقریریں سننے کی سعادت حاصل رہی ہے، حضرت پیر صاحب کی تقریریں سن کر مجھے اپنے ان دونوں بزرگوں کی یاد آگئی، ﷲ نے آج حضرت پیر صاحب کو یہ خصوصیت عطا کی ہے بلاشبہ یہ کوئی کسبی ملکہ نہیں ہے بلکہ خالص وہبی چیز ہے ﷲ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔
حضرت پیر صاحب جدید تعلیم یافتہ طبقے کو متاثر کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں، ان کا مطالعہ بڑا وسیع ہے، مشاہدہ گہرا ہے، وہ مغربی تہذیب کے مظاہر دیکھ چکے ہیں ، اس کی برائیوں سے اچھی طرح واقف ہیں اور دینی تعلیم کی برکت سے ان برائیوں کا علاج بھی خوب جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے استفادہ کرنے والوں میں ایک بڑی تعداد ڈاکٹروں ، انجینئروں اور عصری علوم سے وابستہ لوگوں کی بھی ہے۔ یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ جس قدر جدید تعلیم یافتہ طبقہ ان کی طرف بڑھ رہا ہے اسی قدر دینی تعلیم سے وابستہ لوگ بھی ان کے دامن سے وابستہ ہورہے ہیں۔ آج سے چند سال پہلے انہیں کوئی جانتا بھی نہیں تھا،خاص طور پر ہندوستان میں تو ان سے کوئی واقف بھی نہیں تھا ، دس پندرہ سال پہلے وہ کسی کے ساتھ دیوبند آئے اور گھوم پھر کر چلے گئے نہ کسی نے ان کی آمد کا نوٹس لیا اور نہ نظر بھر کے ان کی طرف دیکھا ، اچانک ان کی شہرت کا سفر شروع ہوا ،اور جس طرح مشک کی خوشبو مہکتی ہے اسی طرح ان کے وجود کی خوشبو مہکنے لگی۔ یہ خوشبو سرحدوں سے نکلی اور دور دور تک پھیل گئی ، آج شاید ہی کوئی جگہ ایسی ہو جہاں یہ خوشبو نہ پہنچ رہی ہو اور مشام جاں کو معطر نہ کررہی ہو۔ اس میں بہت کچھ دخل ان تقریروں کا ہے جو مولانا صلاح الدین سیفی کے ذریعے مرتب ہو کر پوری دنیا میں پھیل چکی ہیں۔ ہندوستان کے گجرات سے تعلق رکھنے والے مولانا صلاح الدین نے ان کو کس طرح دریافت کیا، بقول ان کے وہ ہند میں سب سے پہلے بکنے والوں میں ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ دس بارہ سال قبل وہ تقریروں کا مجموعہ لے کر میرے پاس تشریف لائے اور اس کو دار الکتاب سے شائع کرنے کی خواہش ظاہر کی، میں نے مقرر کا نام دیکھ کر معذرت پیش کردی ۔ دراصل میرے لیے یہ نام بالکل اجنبی تھا ، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تصوف کے موضوع پر ہمارے اکابر کے علاوہ بھی کسی کی تقریر یا تحریر قابل اشاعت ہوسکتی ہے مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ جس مجموعے کو میں مقرر کا نامانوس نام دیکھ کر واپس کررہا ہوں وہی مجموعہ اور اس جیسے بیسیوں مجموعے خود دیوبند سے شائع ہوں گے اور ان کو عوام و خواص میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوگی۔ حضرت پیر صاحب دوسری بار جب ہندوستان آئے تو ان کی شہرت و عظمت کاسکہ لوگوں کے دلوں پر بیٹھ چکا تھا، آج وہ جہاں جا رہے ہیں عقیدت مندوں کی بھیڑ انہیں سر آنکھوں پر بٹھا رہی ہے۔
دیوبند میں ان کے تین بڑے اجتماعات ہوئے، تینوں میں حاضرین کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے اگر یہ کہا جائے کہ اجتماع گاہوں میں سر سے سر بج رہا تھا تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا ، تینوں جگہ انہوں نے الگ الگ موضوع پر خطاب کیا لیکن تینوں موضوع کا تعلق ایک ہی موضوع سے تھا جسے ہم تصوف و طریقت ، سلوک اور احسان کہتے ہیں، یہ ایک ہی مفہوم کے مختلف عنوانات ہیں۔ عام طور پر تصوف کے بارے میں بڑی غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے، بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ تصوف کا مقصود محض ذکر ہے، آپ جب کسی شیخ سے بیعت کرتے ہیں تو وہ آپ کو کچھ اذکار و اور اد بتلا دیتا ہے آپ ان اذکار و اوراد کا اہتمام کرتے ہیں ، صرف یہ چیز تصوف نہیں ہے، بعض لوگ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہتے ہیں کہ تصوف مراقبے ، مجاہدے ا ور چلہ کشی کرنے کا دوسرا نام ہے، یہ بھی بڑی غلط فہمی ہے، ذکر اور مجاہدہ اصلی نہیں ہے اصل مقصود وہ ہے جس کو ﷲ تعالیٰ نے اپنی اس آیت میں بیان فرمایا ہے:
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا (الشمس 9)
’’وہ شخص کامیاب ہوا جس نے نفس کا تزکیہ کرلیا۔‘‘
اور جس کا ذکر ہمیں اس ارشاد ربانی میں ملتا ہے:
وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ (البقرۃ 129)
’’اور وہ رسول ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا تزکیہ کرتے ہیں۔‘‘
ان دونوں آیتوں میں تزکیے کا ذکر ہے جس کے معنی ہیں پاک صاف کرنا ۔ شریعت کی اصطلاح میں تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ جس طرح انسان کے ظاہری اعمال و افعال ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں ﷲ تعالیٰ کے اوامر و نواہی ہیں جیسے نماز پڑھو ، روزہ رکھو ،حج کرو، زکوٰۃ دو، جھوٹ نہ بولو ، شراب نہ پیو، زنا نہ کرو، چوری نہ کرو، غیبت اور چغل خوری نہ کرو، ان اوامر و نواہی کا تعلق بندوں کے ظاہری اعمال سے ہے، اسی طرح انسان کے باطن یعنی قلب سے متعلق بھی کچھ اوامر و نواہی ہیں، ان اوامر کو انجام دینا بھی واجب ہے اور ان نواہی سے بچنا بھی واجب ہے، جیسے تواضع ، اخلاص ، توکل، صبر وغیرہ اوامر ہیں، تکبر ، حسد، ریاکاری وغیرہ نواہی ہیں ،ا ن میں سے اول الذکر کو فضائل اور اخلاق فاضلہ کہتے ہیں، ثانی الذکر کو رذائل اور اخلاق رذیلہ کہا جاتا ہے۔ حضرات صوفیاء اور مشائخ کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے مریدین کے دلوں میں اخلاق فاضلہ کی آب یاری کرتے ہیں اور اخلاق رذیلہ کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیتے ہیں یہی تزکیہ ہے۔ اسلامی نظام حیات میں تزکیۂ نفس کی اہمیت اور ضرورت کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے ، عقائد، عبادات ، اخلاق و معاملات ، ہر شعبے میں اس کی ضرورت مسلّم ہے۔
تصوف و سلوک کی تعلیم بھی بہت ضروری ہے، اس تعلیم سے سالک کی زندگی پر بڑا خوش گوار اثر مرتب ہوتا ہے، ﷲ تعالیٰ سے اس کا تعلق مضبوط ہوجاتا ہے ، اس کے اندر اتباعِ سنت کا جذبۂ کامل پیدا ہوجاتا ہے، اس کے شخصی حالات ، اس کے اخلاق ، اس کے معاملات سب شریعت کے دائرے میں آجاتے ہیں، اس کی زندگی کا نصب العین آخرت کی فوز و فلاح بن جاتا ہے، دنیا کی بے وقعتی اس کے قلب و نظر میں سما جاتی ہے اس کے اندر مخلوق کی خیر خواہی کا جذبہ اس حد تک پیدا ہوجاتا ہے کہ مخلوق کو ایذاء دینا تو ایک طرف مخلوق کی ایذاء کے تصور سے بھی اس کی روح کانپ اٹھتی ہے، بالکل ایک نئی شخصیت ابھر کر نکھر کر سامنے آتی ہے۔
سلوک و معرفت کے جتنے بھی سلسلے ہیں سب کے مشائخ یہی ایک کام کررہے ہیں ، یعنی دلوں کی دنیا آباد کررہے ہیں اور انہیں خدا سے قریب کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں سب کا انداز جدا جدا ہے، مگر ایک چیز سب کے یہاں قدر مشترک کے طور پر ہے اور وہ ہے ﷲ کے ذکر پر مداومت اور اس کے ذریعے باطن کی اصلاح و تعمیر، یہ وہ نسخہ ہے جو خود سرکار دو عالم ﷺ نے صحابہؓ کے لیے تجویز فرمایا تھا۔ ترمذی شریف کی ایک روایت میں ہے :حضرت عبدﷲ بن بسر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سرکار دوعالم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول ﷲﷺ نفلی عبادات اتنی زیادہ ہیں کہ میں تمام عبادات انجام دینے کی اپنے اندر ہمت نہیں پاتا آپ میرے لیے کوئی ایسی چیز تجویز فرمادیں کہ میرا شوق بھی پورا ہوجائے اور عباداتِ نافلہ کی ادائیگی میں کمی بھی باقی نہ رہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کا علاج یہ ہے کہ تمہاری زبان ﷲ کے ذکر سے ہمیشہ تر رہے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کریم میں اس طرح فرمائی گئی:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اذْکُرُ ﷲَ ذِکْرًا کَثِیْرًاo وَّ سَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً o
’’اے ایمان والو ﷲ کا بہت زیادہ ذکر کیا کرواور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کیا کرو۔‘‘
کبھی ارشاد فرمایا :
اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اﷲَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدً وَّعَلٰی جُنُوْبِھِمْ (آل عمران 191)
’’یہ وہ لوگ ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور سوتے جاگتے ﷲ کا ذکر کرتے ہیں ۔‘‘
ان آیات مبارکہ سے دو باتیں واضح طور پر سامنے آتی ہیں ، ایک یہ کہ ﷲ کا ذکر ہر حال میں کرو اور دوسرے یہ کہ ہر وقت کرو صوفیائے کرام کا کام ہی یہ ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے لوگوں کو ذکر الہی اور یاد الہی کی طرف مائل کرتے ہیں اور اس راستے سے انہیں قرب الہی تک لے جاتے ہیں جو مومن کا اصل مقصود ہے اور جو دین و دنیا میں فلاح و کامرانی کی دلیل ہے۔ حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی اسی ذکر کا پیغام لے کر آئے اور دے کے چلے گئے ، انہوں نے ہمیں کوئی نیا سبق نہیں دیا بلکہ ہمیں ہمارا بھولا ہوا سبق یاد دلایا ۔ہمارے مدارس کا مقصدِ تاسیس ہی ظاہر کی تعمیر اور باطن کی تطہیر ہے۔ دار العلوم کے اولین معماروں کی اور ان کے بعد آنے والے بزرگوں کی نظر اسی مقصد پر رہی۔ یہی وجہ ہے کہ دارالعلوم کی فضائیں قال ﷲ و قال الرسولﷺ کے نغموں سے بھی گونجا کرتی تھیںاور ﷲ ﷲ کی ضربوں سے بھی۔ دار العلوم کا ایک دور وہ بھی تھا جب یہاں کے شیخ الحدیث سے لے کر دربان تک عابد شب زندہ دار اور تہجد گزار لوگ ہوا کرتے تھے ، یہ وہ سبق ہے جو اب فراموش ہوچکا ہے عجب نہیں کہ ﷲ نے یہ بھولا ہوا سبق یاد دلانے ہی کے لیے شیخ کو یہاں بھیجا ہو۔
شیخ کی مجلسوں میں جس طرح لوگ پہنچے اور جس ذوق و شوق کے ساتھ ان کو سنا اس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں میں تشنگی کا احساس ہے ان کے دل بے چین ہیں، اور ان کی نگاہیں کسی مرشد کامل کے انتظار میں ہیں۔ علماء کی ہمارے ہاں کوئی کمی نہیں مقرر بھی ایک سے بڑھ کر ایک موجود ہیں لکھنے والے بھی بے شمار ہیں مگر اس ہجوم میں کوئی صاحب دل نہیں ہے ﷲ کی حقیقی معرفت رکھنے والا نہیں ہے کوئی ایسی ہستی نہیں جس کا سینہ جذبۂ سوز دروں سے معمور ہو اور جس میں عشق الٰہی کی آگ سلگ رہی ہو ، وہ آئے اور سب کو عشق الٰہی کی روشنی دکھلا کر چلے گئے اب یہ ہم پر موقوف ہے کہ ہم روشنی میں کب تک چلتے ہیں دوسرے لفظوں میں ہم یہ بات اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو سبق شیخ نے ہمیں یاد دلایا اسے ہم کب تک یاد رکھتے ہیں۔
اللہ پاک حضرت جی کا سایہ صحت اور عافیت کے ساتھ امت محمدیہ کے سر پر تادیر قائم و دائم رکھیں ۔۔۔ آمین.

06/06/2023

دنیا
میں سب سے زیادہ
عہدے رکھنے والی شخصیت
شیخ الاسلام جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی
کون ہیں؟
ایک عہدساز معروف نام:
کون جانتا تھا کہ 27 ’’اُکتوبر‘‘ 1943ء کو ہندوستان کے صوبہ اُترپردیش کے ضلع سہارنپورؔ کے مشہور قصبہ دیوبندؔ میں پیدا ہونے والے اِس فرزند نے عالمِ اِسلام کے اُفق پر کس چمک دمک کے ساتھ طلوع ہو کر چمکنا ہے کہ اِن کے مقابلے میں باقی سب کی چمک دمک ماند پڑجائے گی.
پاکستان بننے سے چار سال پہلے دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث اور بانیانِ پاکستان اور بعداَزاں مفتیٔ اَعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے گھر میں اُن کے سب سے چھوٹے بیٹے محمد تقی عثمانی کی شکل میں ایک ایسا گوہر نایاب پیدا ہوا‘
جس کی چمک سے آج پوری دنیا کی علمی محفلیں پُر رونق ہیں۔
اگرچہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اپنے والد کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیں۔ لیکن اپنی خدمات میں وہ اپنے بڑے بھائی مفتیٔ اَعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب سے بھی بہت آگے ہیں۔ اور اگر حقیقتِ حال کو مدنظر رکھا جائے‘ تو اِس وقت اَہلِ حق میں اِن کی ٹکر کی کوئی دوسری علمی شخصیت پاکستان کیا پوری دُنیا میں دیکھنے کو نہیں ملتی
سات براعظم میں پھیلی پوری اُمتِ مسلمہ میں یہ ایک واحد شخصیت ہیں‘ جن کی بات پر عرب و عجم اور دنیا جہاں میں پھیلی اُمت سرِ تسلیم خم کرتی ہے۔ اور ہر مشکل کی گھڑی میں اُمت کے طبقات کی پہلی اور آخری نظر اِنہی کی طرف جاتی ہے
افریقہ میں قادیانیوں کے غیرمسلم ہونے سے متعلق کیس چل رہا تھا، اور عدالت میں دلائل دینے تھے‘
تو افریقہ کے مسلمانوں کی پوری دُنیا میں اِس مقصد کے لئے جس ہستی کی طرف نظر گئی‘
وہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب تھے۔
جو افریقیوں کی دعوت پر افریقہ گئے،
اور کورٹ مین اپنے دلائل سے قادیانیوں کو کافر قرار دلوانے میں کامیاب رہے
فجی سے لے کر مغرب کے آخری کنارے تک،
اور ناروے سے لے کر جنوب کے آخری کنارے تک پھیلی ہوئی پوری اُمت جس کو اپنا متفقہ مفتیٔ اَعظم مانتی ہے، اور جس کے فتاویٰ کو حرفِ آخر کا درجہ دیتی ہے‘ وہ ہے مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ
جس سے اگر اُمتِ مسلمہ میں کوئی ناواقف ہے‘
تو وہ صرف اور صرف پاکستانی قوم ہے‘
جو چراغ تلے اندھیرے والے محاورے کا عملی نمونہ بنی ہوئی ہے،
اور پاکستان کی اکثر آبادی مفتی صاحب سے یا تو سرے سے واقف ہی نہیں‘
یا پھر صرف نام کی حد تک شناسا ہے
مفتی تقی عثمانی صاحب وہ ہستی ھیں ‘
جسے سعودی عرب عرصۂ دراز سے نیشنیلٹی دے کر مستقل سعودی شہریت اور رِہائش کا اِصرار کررہا ہے‘
مگر یہ درویش اپنی مٹی سے محبت کا قرض چکانے کےلئے حرمین کا پڑوس چھوڑے ہوئے ہے۔
جسے اپنے ملک کے حکام نے بھلے ملک کا سب سے بڑا ایوارڈ نہ دیا ہو‘
مگر اُردن کے بادشاہ نے اُن کی دینی خدمات کے اِعتراف میں اُنہیں اپنے ملک کا سب سے بڑا ایورڈ دیا ہے.
صرف اِسلامی دُنیا کے حکمران نہیں‘
بلکہ برطانیہ (اِنگلینڈ) کے سابقہ وزیراعظم ڈیوڈکیمرون سے لے کر شمالی (لاطینی) اَمریکہ کے صُدُور تک مفتی تقی صاحب سے وقت لے کر اُن سے اِسلام کے نظامِ معیشت پر آگاہی لیتے ہیں،
اور اپنے سودی نظام کے مقابلے میں اپنے ہاں اُسے نافذالعمل کروانے کے لئے مشورے لیتے ہیں.
جنہیں خطابات کےلئے صرف پاکستان یا دیگرممالک کے مدارس سے ہی دعوت نامے نہیں ملتے‘
بلکہ دُنیا کی نامور اور مشہورِ زمانہ یونیورسٹیوں سے لے کر ورلڈ اِکنامک فورم جیسے عالمی فورمز پر معیشت کے موضوع پر خطاب اور آگاہی پروگراموں کےلئے مہمانِ خصوصی کے طور پر بلایا جاتا ہے۔
ڈیڑھ سو سے زائد عربی، اُردو، فارسی اور انگریزی زَبانوں پر مبنی کتابوں کا علمی خزانہ اُمت کو لکھ کر ہدیہ کرچکے ہیں.
اور یہ کوئی ڈیڑھ سو کتابچے نہیں‘
بلکہ ایک کتاب کئی کئی جلدوں پر محیط ہے،
اور ہر ہرجلد میں ہزاروں صفحات ہیں۔
پاکستان کی اَعلیٰ عدالت سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بینچ کے کم و بیش بیس سال چیف جسٹس رہ چکے ہیں
اور اِس دَوران کئی تاریخی اور یادگار فیصلے صادر فرماچکے ہیں۔ جن میں ’’رِبا (یعنی سود)‘‘ کے خلاف تاریخی فیصلہ ہمارے عدالتی فیصلوں کے ماتھے کے جھومر کے طور پر تاقیامت چمکتا دمکتا اور یادگار رہے گا.
سود سے لتھڑی ہوئی آلودہ بینکاری کے مقابلے میں دُنیا کو سود سے پاک اِسلامی اُصولوں پر مبنی بینکاری کا مکمل نظام لکھ کر دے چکے ہیں۔
(نوٹ: موجودہ اِسلامی بینکاری کے نام سے مشہور بینک اِن کے بتائے ہوئے نظام پر عمل کررہے ہیں یا نہیں‘
اِس میں مفتی صاحب کا کوئی دَوش نہیں.
اُنہوں نے مکمل نظام مرتب کر دیا ہے۔
اب اہلِ اِقتدار کی ذمہ داری ہے کہ وہ اِسلامی بینکوں کو مفتی تقی صاحب کے مروج کردہ اُصولوں پر چلانے کےلئے قانون سازی کرے۔
اگر کہیں کوئی کمی کوتاہی ہے‘ تو
اُس میں مفتی تقی صاحب کا کوئی قصور نہیں
اور یہ واحد اِسلامی مصنف ہیں‘
جنہوں نے آسان ترجمہ قرآن کو زمین کی بجائے فضاء میں لکھ کر عالمِ اِسلام میں ایک نئے ریکارڈ کا اِضافہ کیا۔
تین جلدوں پر مبنی آج تک لکھے گئے تراجمِ قرآنیہ میں سب سے سلیس بامحاورہ اور شستہ اُردو سے مزین خوبصورت ’’آسان ترجمۂ قرآن‘‘ سارے کا سارا اپنے عالمی اَسفار کے دَوران جہاز کی پرواز میں لکھا،
اور یوں ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کرگئے.
اِن سے پہلے چند لوگوں نے انگریزی میں قرآن کا ترجمہ کیا تھا‘ مگر وہ لوگ چونکہ باقاعدہ مولوی اور عربی پر اِتنی مہارت نہیں رکھتے تھے‘
بلکہ اُنہوں نے قرآن کے اُردو تراجم کو انگریزی میں نقل کیا تھا؛
اِس لئے اُن انگریزی تراجم میں وہ چاشنی نہ تھی۔
اِس طرح مفتی تقی عثمانی صاحب وہ پہلے عالمِ دین ہیں‘ جنہیں بذاتِ خود عربی پر مادری زُبان جتنا عُبور تھا، اور انگریزی میں بھی مہارتِ تامہ حاصل تھی۔
یوں دونوں زُبانوں پر مکمل عبور کی وجہ سے اِن کا لکھا گیا انگریزی ترجمۂ قرآن پاک آج یورپ کے مسلمانوں کی متاعِ عزیز بنا ہوا ہے،
اور بلاشبہ اُردو کی طرح انگریزی میں بھی اِن کے جیسا ترجمہ قرآن دوسرا نہیں ملتا۔
زندگی کے ایک لمحے کو قیمتی بنانے والے اور اُسے ذریعۂ آخرت بنانا کوئی مفتی تقی صاحب سے سیکھے۔ کہ جہاز کی پرواز کے دوران کے وقت کو بھی ضائع ہونے سے بچایا،
اور اُردو کا سب سے خوبصورت، مستند ، بامحاورہ آسان ترجمۂ قرآن لکھنے جیسے خوبصورت کام میں لگاکر ذخیرۂ آخرت بنا لیا.
سن 2009 میں پی آئی اے
(پاکستان اِنٹرنیشنل اِئیرلائن)
پر پوری دُنیا میں سب سے زیادہ ٹریولنگ کرنے والے مفتی تقی عثمانی صاحب تھے۔
جس پر پی آئی اے نے اِنہیں بطور اِعزاز عمر بھر کےلئے پی آئی اے پر سفر کرنے کی صورت میں اِن کو ایک تہائی یا آدھے کرائے میں سفر کرنے کی سہولت دے رکھی ہے.
مفتی تقی عثمانی صاحب اپنی مادری زُبان اُردو کے ساتھ دیگر چار زُبانوں ’’عربی، انگریزی، فارسی، اور ہسپانوی (Spanish)‘‘ پر بھی مکمل عبور رکھتے ہیں۔ خاص کر عربی اور انگریزی میں بہت ہی زیادہ مہارت رکھتے ہیں۔
چنانچہ اُن کے اُردو سے زیادہ عربی اور انگریزی کے بیانات سے اِنٹرنیٹ بھرا پڑا ہے.
اِس کے علاوہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب پاکستان کے علاوہ دُنیا بھر میں کن کن عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں ؟
یا ابھی تک فائز ہیں‘
اُن کی تفصیل ذیل میں ملاحظہ فرمائیں
تادم تحریر جن عہدوں پر فائز ہیں:
1: چیئرمین شریعہ بورڈ آف اسٹیٹ بینک پاکستان۔
2: نائب مہتمم، اور شیخ الحدیث جامعہ دارالعلوم کراچی۔
3: چیئرمین اِنٹرنیشنل شریعہ اسٹینڈرڈ کونسل، اَکاؤنٹنگ اینڈ ایڈیٹنگ آرگنائزیش آف اِسلامک فائنانشل اِنسٹیٹیوشن، بحرین۔
4: مستقل ممبر، اور نائب صدر اِنٹرنیشنل فقہ الاسلامی اکیڈمی، جدہ، سعودی عرب۔
5: آرگن آف آرگنائزیشن آف اِسلامک کانفرنس (OIC)۔
6: ممبر رابطۃ العالم الاسلامی فقہ اکیڈمی مکہ، سعودی عرب۔
7: مستقل ممبر، اور نائب صدر اِنٹرنیشنل فقہ الاسلامی اکیڈمی، جدہ،سعودی عرب، (اسپانسرڈOIC)۔
8: چیئرمین سنٹرآف اِسلامک اِکنامکس، پاکستان (1991)۔
9: چیئرمین شریعہ بورڈ، سنٹرل بینک بحرین۔
10: چیئرمین شریعہ بورڈ، ابوظہبی اِسلامی بینک،
یواے ای(UAE)۔
11: چیئرمین شریعہ بورڈ، میزان بینک لمیٹڈ کراچی پاکستان۔
12: چیئرمین شریعہ بورڈ اِنٹرنیشنل اِسلامک ریٹنگ ایجنسی، بحرین۔
13: چیئرمین شریعہ بورڈ، پاک کویت تکافُل کراچی۔
14: چیئرمین شریعہ بورڈ، پاک قطر تکافُل کراچی۔
15: چیئرمین شریعہ بورڈ ’’JS‘‘ اِنویسٹمنٹ اِسلامک فنڈز، کراچی۔
16: چیئرمین شریعہ بورڈ ’’JS‘‘ اِسلامک پینشن سیونگ فنڈز۔
17: چیئرمین شریعہ بورڈ عارف حبیب اِنویسٹمنٹ پاکستان اِنٹرنیشنل اِسلامک فنڈ، کراچی۔
18: چیئرمین ’’Arcapita‘‘ اِنویسٹمنٹ فنڈز، بحرینْ
19: ممبر متحدہ شریعہ بورڈ اِسلامک ڈیویلپمنٹ بینک، جدہ، سعودی عرب۔
20: ممبر شریعہ بورڈ، گائیڈنس فائنانشل گروپ،
یو۔ایس۔اے (USA)۔
ماضی_میں_جن_عہدوں_پرفائزرہ_چکے:
21: جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان، (’’1980‘‘تا، مئی’’1982‘‘)
22: چیف جسٹس، شریعت ایپلٹ بینچ، سپریم کورٹ آف پاکستان، (’’1982‘‘تا، مئی’’2002‘‘)۔
23: چیئرمین سنٹرآف اِسلامک اِکنامکس، پاکستان (1991)۔
24: ممبر سنڈیکیٹ یونیورسٹی آف کراچی،(’’1985‘‘تا’’1988‘‘)۔
25: ممبر بورڈ آف گورنمنٹ اِنٹرنیشنل اِسلامی یونیورسٹی، اِسلام آباد، (’’1985‘‘تا’’1989‘‘)۔
26: ممبر اِنٹرنیشنل اِنسٹیٹیوٹ آف اِسلامک اِکنامکس ،(’’1985‘‘تا’’1988‘‘)۔
27: ممبر کونسل آف اِسلامک آئیڈیا لوجی،(’’1977‘‘تا’’1981‘‘)۔
28: ممبر، بورڈ آف ٹرسٹیز اِنٹرنیشنل اِسلامک یونیورسٹی، اِسلام آباد،(’’2004‘‘تا’’2007‘‘)۔
29: ممبر، کمیشن آف اِسلامائزیشن آف اِکانومی، پاکستان آف پاکستان۔
۔جس کو دُنیا جہان نے اِعزازاً اِس قدر بڑے بڑے عہدے دے رکھے ہیں،
اور اپنے نیشنل لیول کے اِداروں کا چیئرمین بنا رکھا ہے، اُسے پاکستانی حکومت ایک بلٹ پروف گاڑی دینے کو تیار نہیں۔
اور وجہ صرف اِسلام دُشمنی ہے،
اور کچھ نہیں
مفتی تقی عثمانی صاحب کو صرف مسلم ہی نہیں‘
بلکہ دُنیا جہان کے تعلیم یافتہ اور باشعور لوگ بہت عزت اور قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
لیکن نہ تو پاکستانی قوم اُن کو صحیح سے جانتی ہے، اور اُس قدر کی۔ اور نہ ہی پاکستان کی حکومتوں نے کبھی اُن سے اُن کی صلاحیتوں کے بقدر کوئی بڑا کام کیا
جو شخص امریکہ اور طالبان جیسی دو متحارب طاقتوں کو مذاکرات کی میز پر لاسکتا ہے‘
اُس شخص سے اگر حکومتِ پاکستان چاہے‘
تو دینی چھوڑ دُنیاوی اِعتبار سے کتنے فوائد حاصل کرسکتی ہے۔ اور ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں کس قدر گراں مایہ خدمات لے سکتی ہے ؟
مگر افسوس ہمارے دولت پرست حکمرانوں پر‘
جنہوں نے کبھی پاکستان کے گوہر نایاب کو جاننے اور پہچاننے کی کوشش نہ کی۔
ضیاءالحق مرحوم نے اُن کی صلاحیتوں کا معترف ہوکر اُنہیں سپریم کورٹ کی شریعت ایپلٹ کا چیف جسٹس لگایا تھا‘
مگر جنرل نامشرف نے ’’سود‘‘ کو حرام قرار دینے کے فیصلے سے پیچھے نہ ہٹنے پر زبردستی قبل اَز وقت معزول کردیا
مفتی تقی صاحب کی تعریف میں دیوان بھی لکھ دیے جائیں‘ تو وہ بھی کم ہیں۔
بس اِتنا کہنا چاہوں گا کہ اگر آج کی دُنیا میں اِقبال کے شعر کی کوئی زندہ مثال ہے‘ تو
وہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے سوا کوئی دوسرا نہیں۔
یوں لگتا ہے کہ اِقبال اپنی قبر سے اُٹھ کر دوبارہ سے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی خدمات کو سراہتے ہوئے پھر سے اپنے شعر کو ترکیبِ لفظی دیتے ہوئے مفتی تقی صاحب کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہہ رہا ہے :
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور تقی جیسا پیدا
۔۔۔۔پیج لائک کریں
دوستوں کو پیج میں انوائیٹ کریں

Want your school to be the top-listed School/college in Swabi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Swabi