Al-Qalam Children Academy Tordher Swabi

Al-Qalam Children Academy Tordher Swabi

Share

Al Qalam children academy Tordher Swabi

11/12/2025

Talented child

08/12/2025

یہ تحریر مَردوں کے لیے ہے۔!

تیس چالیس برس پہلے کی یاد ہے۔ ایک اخبار میں
ایک خاتون کا کالم نظر سے گزرا۔ کالم مختصر تھا مگر اس کے الفاظ اتنے بھاری تھے کہ پڑھتے ہی پیشانی پر پسینہ آ گیا اور دل میں شرمندگی نے جگہ بنا لی۔ وہ خاتون کسی تلخ الفاظ یا الزام کے بغیر، نہایت مبہم مگر گہرے انداز میں مردوں سے مخاطب تھیں۔

انہوں نے لکھا تھا کہ مرد حضرات خواتین سے
کتنی ساری توقعات باندھ لیتے ہیں۔ لباس کا خیال رکھا جائے، حجاب ہو، نشست و برخاست میں احتیاط ہو، چلنے پھرنے میں وقار ہو، ہر بات سوچ سمجھ کر کی جائے۔ یہ سب مطالبات اپنی جگہ، مگر سوال یہ ہے کہ خود مرد کیا کرتے ہیں۔ جہاں دل چاہا بیٹھ گئے، سڑک کنارے یا دیوار کی آڑ میں پیشاب، اور چلتے پھرتے قمیض کے نیچے ہاتھ ڈال کر خارش۔ وہ حرکات جن پر شاید خود مرد کبھی غور بھی نہیں کرتے، مگر انہی کے آس پاس بچے ہوتے ہیں، جو وہی کچھ سیکھتے ہیں جو دیکھا جاتا ہے۔

یہ بات خاص طور پر اس وقت اور زیادہ اہم ہو جاتی ہے جب مرد گھر سے باہر نکلتا ہے۔ بازار، مارکیٹ، محفل، مسجد کا صحن یا کوئی عوامی جگہ، یہ سب سوسائٹی کا حصہ ہیں۔ یہاں ہر حرکت، ہر اشارہ، ہر عادت شخصیت کا تعارف بن جاتی ہے۔ ایسی جگہوں پر مرد کو اور زیادہ محتاط ہونا چاہیے، کیونکہ یہاں صرف اُس کی ذات نہیں دیکھی جا رہی ہوتی، بلکہ تربیت، تہذیب اور سوچ نمایاں ہو رہی ہوتی ہے۔

اگر واقعی کسی کو جسم کے کچھ مخصوص حصوں
میں خارش ہے تو اس کا حل بے پروائی نہیں بلکہ درست علاج ہے۔ آخر میں اسی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے۔ بعض لوگ underarms، underlegs کھجانے جیسی عادتوں کا شکار ہوتے ہیں، جو نہ صرف دوسروں کے لیے ناگوار بلکہ خود اپنی شخصیت کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔ اگر خارش کا مسئلہ ہے تو طب میں اس کے حل موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ivermectin کے نام سے ointment اور lotion دستیاب ہیں، بعض لوگ اسے coconut oil میں ملا کر نہانے کے بعد استعمال کرتے ہیں۔ مناسب احتیاط اور صفائی کے ساتھ اکثر اوقات مسئلہ کافی حد تک بہتر ہو جاتا ہے۔ اگر افاقہ نہ ہو تو ماہر معالج سے رجوع کرنا ہی بہتر راستہ ہے۔

اصل بات علاج سے زیادہ رویے اور شعور کی ہے۔
اگر مسئلہ موجود ہو تب بھی سوسائٹی میں اپنے آپ کو قابو میں رکھنا، حرکات پر نظر رکھنا اور دوسروں کا لحاظ کرنا ہی اصل اخلاقیات ہیں۔ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ والدین کو چاہیے کہ اطمینان سے اپنے بچوں کو یہ باتیں سمجھائیں۔ یہ پیغام آگے پہنچایا جائے۔ اسکول اور مدارس کے اساتذہ اگر شروع ہی میں نوجوان بچوں کو یہ سادہ مگر اہم اخلاقی تقاضے سمجھا دیں کہ مرد ہونے کے ناتے گھر کے اندر اور باہر کچھ ذمہ داریاں لازماً ادا کرنی ہوتی ہیں، تو بہت سی خرابیاں جڑ پکڑنے سے پہلے ہی ختم ہو سکتی ہیں۔

یہ بات دل سے نکلی ہے امید ہے اور دل تک پہنچے گی۔
اگر ہم نے اپنی ناگوار عادات پر توجہ دے لی تو نہ صرف خود کو شرمندگی سے بچا سکتے ہیں بلکہ اپنی شخصیت میں گہری بہتری بھی لا سکتے ہیں۔

اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے
اور ہمیں حکمت کی بات اپنے احباب تک پہچانے
کی توفیق عطا فرمائے. آمین ثم آمین

سماترن کے گھنے اور دور دراز جنگلات میں انڈونیشیا کے تحفظ پسند سیپٹیان اینڈریکی،جو ڈیکی کے نام سے جانے جاتے ہیں،اس وقت بے قابو ہوکر رو پڑے جب انہوں نے دنیا کے نایاب ترین طفیلی پودوں میں سے ایک کی کھلتی ہوئی حالت دیکھ لی۔ چند میٹر کے فاصلے پر ’رافلیسیا ہاسلٹی‘ کا غیر معمولی پھول پوری آب و تاب کے ساتھ کھل رہا تھا۔ ڈیکی نے بتایا، ’’جب میں نے اسے کھلتے دیکھا تو جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ رینجر نے تو سمجھا شاید مجھ پر کچھ وارد ہوگیا ہے۔‘‘ یہ وہ لمحہ تھا جس کیلئے تحقیقاتی ٹیم نے ایک مقامی رینجر کی اطلاع کے بعد گھنے جنگل میں پورا دن پیدل سفر کیا تھا۔ ۱۳؍ سال کی تلاش، ۲۳؍ گھنٹے کے مسلسل سفر، شیروں کے خطرے اور فون کی ختم ہوتی بیٹریوں کے باوجود آخرکار انہیں وہ نایاب پھول مل گیا۔ یونیورسٹی آف آکسفورڈ بوٹینک گارڈن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر کرس تھوروگوڈ نے اس منظر کو کیمرے میں محفوظ کیا، اور یہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہوگئی۔ یہ پھول تقریباً ایک دہائی بعد پہلی بار انسانوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

#InquilabNews #Indonesia #Sumatran #Rafflesiahasseltii #Flower #UrduNews 30/11/2025

سماترن کے گھنے اور دور دراز جنگلات میں انڈونیشیا کے تحفظ پسند سیپٹیان اینڈریکی،جو ڈیکی کے نام سے جانے جاتے ہیں،اس وقت بے قابو ہوکر رو پڑے جب انہوں نے دنیا کے نایاب ترین طفیلی پودوں میں سے ایک کی کھلتی ہوئی حالت دیکھ لی۔ چند میٹر کے فاصلے پر ’رافلیسیا ہاسلٹی‘ کا غیر معمولی پھول پوری آب و تاب کے ساتھ کھل رہا تھا۔ ڈیکی نے بتایا، ’’جب میں نے اسے کھلتے دیکھا تو جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ رینجر نے تو سمجھا شاید مجھ پر کچھ وارد ہوگیا ہے۔‘‘ یہ وہ لمحہ تھا جس کیلئے تحقیقاتی ٹیم نے ایک مقامی رینجر کی اطلاع کے بعد گھنے جنگل میں پورا دن پیدل سفر کیا تھا۔ ۱۳؍ سال کی تلاش، ۲۳؍ گھنٹے کے مسلسل سفر، شیروں کے خطرے اور فون کی ختم ہوتی بیٹریوں کے باوجود آخرکار انہیں وہ نایاب پھول مل گیا۔ یونیورسٹی آف آکسفورڈ بوٹینک گارڈن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر کرس تھوروگوڈ نے اس منظر کو کیمرے میں محفوظ کیا، اور یہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہوگئی۔ یہ پھول تقریباً ایک دہائی بعد پہلی بار انسانوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ #InquilabNews #Indonesia #Sumatran #Rafflesiahasseltii #Flower #UrduNews

27/11/2025

Talented child quiz competition

10/11/2025

Male teacher required for primary section
Contact on Whatsapp 👇
03146939592

29/10/2025

اپنے اساتذہ کرام کی قدر جس نے بھی کی اس کو اللہ تعالیٰ نے بہت کچھ عطا کیا ہے

26/10/2025

‏پاکستان میں اردو کی ایک کتاب KG میں بچوں کو پڑھائی جاتی ھے، جس میں "ڈ" سے ڈاکٹر بتایا گیا ھے۔
حیرت ھے کہ نصاب تیار کرنے والوں کو حرف "ڈ" سے اردو کا کوئی لفظ ھی نہ مل سکا اور "ڈ" سے ڈاکٹر (جو کہ اردو زبان کا لفظ ھی نہیں ھے) پر گزارہ کر لیا گیا۔
اب سوشل میڈیا پر "ڈھول" پیٹ کر‏ اس بات کا "ڈھنڈورا" کرنا پڑ رہا ھے کہ "ڈ" کے الفاظ "ڈالنا" کوئی اتنا مشکل امر بھی نہیں ھے۔
اگر آپ کی ناراضگی کا "ڈر" نہ ھو تو "ڈ" کو ذرا "ڈھونڈنا" شروع کریں
*"ڈانٹ ڈپٹ" سے کام نہ چلے تو "ڈنڈا" بھی قدرت کا ایک تحفہ ھے۔ "ڈ" سے "ڈھول" نہ پیٹیں، "ڈگڈگی" نہ بجائیں، الفاظ کا "ڈھیر"
‏اکھٹا نہ کریں تو بھی اردو کے کنویں سے ایک آدھ "ڈول" ھی کافی ھوگا۔
"ڈبہ" سے "ڈبیا" تک، "ڈراؤنے" قوانین سے لے کر تعلیم کے "ڈاکوؤں" تک، امیروں کے "ڈیروں" سے لے کر غریب کی "ڈیوڑھی" تک اور پھولوں کی "ڈالی" سے لے کر سانپ کے "ڈسنے" تک "ڈ" ہر جگہ دستیاب ھے۔

‏سوچا "ڈبڈباتی" آنکھوں سے یہ "ڈاک"، بغیر کسی "ڈاکیہ" اور "ڈاک خانے" کے آپ تک پہنچا دوں کہ لفظوں کی مالا شاید نصاب کی کوتاہیوں کی "ڈھال" ثابت ھو"۔

18/09/2025

خوبصورت خط کی اہمیت اور ضرورت
تحریر : نجم الاسلام

خطاطی اور خوبصورت لکھائی انسان کی شخصیت کا عکس ہے۔ آج کل بہت سے طلبہ و طالبات کی لکھائی اتنی خراب ہے کہ پڑھنے والے کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ استاد بار بار سمجھاتے ہیں لیکن خاطر خواہ تبدیلی نہیں آتی۔ دراصل، خوشخطی نہ صرف امتحانی کاپی میں مددگار ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں ایک انسان کو نمایاں کرتی ہے۔

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
"خوبصورت لفظ، خوشخط تحریر
انسان کو بناتی ہے باوقار تصویر"

طلبہ کی زندگی میں خوشخطی کی اہمیت بے حد ہے۔ صاف اور واضح لکھائی قاری کو سکون دیتی ہے اور پیغام کو سمجھنا آسان بناتی ہے۔ اس کے برعکس، خراب اور الجھی ہوئی لکھائی پڑھنے والے کو تھکا دیتی ہے اور اکثر امتحان میں نمبر کم ہونے کی وجہ بنتی ہے۔

یہاں والدین کا کردار نہایت اہم ہے۔ اکثر اسکول میں اساتذہ ہدایت دیتے ہیں، مگر گھر پر ان ہدایات پر عمل نہیں ہوتا۔ لہٰذا ہر سرپرست کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی لکھائی پر خصوصی توجہ دیں۔ صرف نصیحت کافی نہیں، بلکہ روزانہ مشق کرانے کی عادت ڈالنی ضروری ہے۔

شاعر کے الفاظ میں:
"محنت کا میٹھا پھل ہمیشہ ملتا ہے
جو مشق کرے وہی کامیاب ہوتا ہے"

تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ باقاعدہ مشق سے ہی لکھائی خوبصورت بنتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہر بچہ روزانہ کم از کم 3 سے 5 صفحات خوشخطی کی مشق کرے۔ اس سے نہ صرف ہاتھ میں روانی پیدا ہوگی بلکہ حروف میں ترتیب اور صفائی بھی آ جائے گی۔

والدین چاہیں تو بچوں کے لیے الگ کاپی رکھیں اور ہر ہفتے اس کا جائزہ لیں۔ بچوں کو حوصلہ دینا بھی ضروری ہے، کیونکہ حوصلہ افزائی کے بغیر کوئی بچہ طویل عرصے تک مشق جاری نہیں رکھ سکتا۔ اگر استاد اور والدین دونوں مل کر توجہ دیں تو بہت جلد شاندار نتائج سامنے آئیں گے۔

خوشخطی کے لیے چند آسان تدابیر یہ ہیں:

حروف کو برابر اور سیدھا لکھنا۔

لائن کا خیال رکھنا۔

الفاظ کے درمیان مناسب فاصلہ رکھنا۔

جلد بازی سے بچنا۔

اچھی قلم اور کاپی کا استعمال کرنا۔

جیسا کہ شاعر کہتا ہے:
"خط میں صفائی ہو، الفاظ میں روشنی
یہی ہے علم کی پہچان، یہی ہے شخصیت کی خوبی"

یہ صرف امتحان کی بات نہیں، بلکہ مستقبل میں نوکری کے درخواست نامے، اہم کاغذات یا کسی بھی جگہ لکھائی کی اپنی پہچان ہوتی ہے۔ خوبصورت لکھائی بعض اوقات انسان کو اضافی عزت اور مقام عطا کرتی ہے۔

اس لیے والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو روزانہ لکھائی کی مشق کرائیں، چاہے کچھ ہی وقت کے لیے کیوں نہ ہو۔ صبر اور محنت کے ساتھ چند ماہ میں فرق نمایاں ہو گا۔ اچھی لکھائی نہ صرف بچے کا اعتماد بڑھائے گی بلکہ اس کی تعلیم میں بھی اسے آگے لے جائے گی۔

جیسا کہ کہا گیا ہے:
"مشق سے بنتی ہے ہر چیز آسان
محنت سے روشن ہوتا ہے انسان"

تحریر : نجم الاسلام

Want your school to be the top-listed School/college in Swabi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Tordher
Swabi
23610

Opening Hours

Monday 08:00 - 17:00
Tuesday 08:00 - 17:00
Wednesday 08:00 - 17:00
Thursday 08:00 - 17:00
Friday 08:00 - 17:00
Saturday 08:00 - 17:00
Sunday 08:00 - 17:00