08/03/2022
سات دن کی نازک معصوم اور بندوق کی پانچ گولیاں۔😭۔
آج لکھنے کو نہ تو ہاتھ تیار ہیں نہ دل کی دھڑکن ساتھ دے رہی ھے۔
شاید ایک ماں کا، پورے میانوالی کا سارے پاکستان کا کرب میں لفظوں میں ڈھال سکوں۔
سات دن قبل ایک رحمت نے ایک ظالم باپ کے گھر آنکھ کھولی۔۔آپریشن تھیٹر سے نرس معصوم بچی لے کر باپ کو مبارک دیتے ھوۓ اسکے ہاتھ میں تھما دیتی ھے۔
باپ نہیں درندے نے بنا دیکھے بیڈ پہ پھینک دی۔۔۔ مجھے بیٹی نہیں بیٹا چاہئے۔
زخموں سے رِستے خون سے کراہتی ھوئ ماں نے کہا، بیٹی تو روز محشر آپکو جنت میں ساتھ لے کر جاۓ گی۔
ظالم باپ: مجھے نہیں چاہیے۔۔
ماں: اس میں میرا کیا قصور؟ میں نے تو نو ماہ پیٹ میں رکھا۔
مجھے بخار ھوا۔ دوائ نہیں لی کہ بچے پہ اثر نہ ہو۔
جو کھانے مجھے اچھے لگتے تھے چھوڑ دیے تھے کہ بچے کے لیۓ ٹھیک نہیں۔
اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے احتیاط کی کہ بچے پہ اثر نہ ھو۔
درد سے کرلاتی رہتی تھی پر دوائ نہیں کھاتی تھی کہ بچے پہ اثر نہ ھو جاۓ۔۔
بھلا مجھے بتلاؤ تو سہی میرا قصور کہاں ھے؟؟
باپ چند منٹوں کی پیدا ھوئ بچی کو بیڈ پہ پھینک کے روم سے چلا جاتا ھے۔
فرشتے روۓ نہیں چلائے ھونگے جب ظالم باپ نے موقع پاتے ھوۓ پانچ گولیاں ایک معصوم کو مار دیں۔
پہلی گولی پہ بیٹی نے کہا ھو گا۔۔۔
بابا نا مارو۔۔۔ جب آپ کام سے تھکے آؤ گے میں آپکے شوز اتارا کروں گی۔
۔ میں آپ کے کپڑے استری کیا کروں گے۔
میں آپ کے انتظار میں پانی کا گلاس لیۓ روزانہ دروازے پہ آپکا انتظار کیا کروں گی۔
دوسری گولی پہ اٹکتی سانسوں کے ساتھ کہا ھو گا۔۔
بابا نا مارو مجھے۔۔
میری ماں مجھ سے پہلے مر جاۓ گی۔
بابا نا مارو مجھے۔۔
میرے چھوٹے چھوٹے کپڑے میری ماں کو پاگل کر دیں گے۔
بابا نا مارو مجھے۔۔۔
میری ماں میرے پیدا ھونے سے پہلے میرے لیۓ کھلونے لائ تھی۔۔ میرے جانے کے بعد ان کھلونے کی چھن چھن تجھے بہت رلاۓ گی بابا۔
آخری گولی پہ معصوم کلی نے کہا ھو گا۔ کوئ بات نہیں بابا ۔۔۔۔میں آپکو پسند نہیں آئ، میں تو رحمت تھی شاید بوجھ لگی آپکو۔ میں آپکی خوشی میں خوش ھوں بابا۔
اس دنیا میں نا سہی اگلی دنیا میں ساتھ رکھنا بابا۔۔۔ میں تب تک جنت میں نہیں جاؤں گی جب تک آپ ساتھ نہیں ھونگے بابا۔۔
10/02/2022
11/01/2022
29/05/2021
17/05/2021
09/04/2021
09/04/2021