Mahadul Fikr Al-Islami

Mahadul Fikr Al-Islami Welcome to Ma'had ul Fikr Islami, where knowledge merges with purpose.

15/08/2026

#معہدالفکرالاسلامی #پاکستان

نبیﷺ کے حقوق جاننا پہچاننا بہت ضروری ہیں۔ #معہدالفکرالاسلامی    #محمدﷺ
15/08/2026

نبیﷺ کے حقوق جاننا پہچاننا بہت ضروری ہیں۔

#معہدالفکرالاسلامی #محمدﷺ

*واہ کیا بات اس مہینے کی!!*ماہِ ربیع الاول ہجری تقویم کا تیسرا مہینہ ہے۔ ربیع الاول کا مطلب ہے پہلی بہار۔  تخلیق کے اعتب...
15/08/2026

*واہ کیا بات اس مہینے کی!!*

ماہِ ربیع الاول ہجری تقویم کا تیسرا مہینہ ہے۔ ربیع الاول کا مطلب ہے پہلی بہار۔ تخلیق کے اعتبار سے سب سے پہلے اور بعثت کے اعتبار سے سب آخری پیغمبرِ اسلام، سردارِ انبیاؑء، اللہ کے محبوب، ہمارے آقا و مولاﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں اس مہینے کی بڑی اہمیت ہے۔ آپﷺ کی پیدائش اسی ماہ میں ہوئی، اسی ماہ میں آپﷺ کی بعثت بھی ہوئی، آپﷺ نے اسی ماہ میں مدینہ منورہ ہجرت فرمائی، اسی ماہ میں مسجدِ نبویﷺ کی اساس رکھی گئی اور اسی ماہ میں آپﷺ اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملے۔

ماہِ پرنور کے اس اہم موقع پر ان شاء اللہ عزوجل ہم آپ کے لیے مولانا منیر احمد علوی حفظہ اللہ کی کتاب حقوقِ جمالِ مصطفیٰﷺ سے نبی کریمﷺ کے اپنی امت پر حقوق سے آگاہی کے حوالے سے سلسلہ وار تحاریر پیش کرنے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس ماہ میں خاتم النبیین سیدنا محمد مصطفیٰ شفیع الوریٰﷺ کے حوالے سے معلوماتی اور احساس و محبت جگانے والی دیگر ایمان افروز تحاریر اور نعتیہ کلام بھی پیش کیے جائیں گے۔
آئیے، اس محبت بھرے سفر میں ہمارے ساتھ قدم بہ قدم شامل ہو کر اپنے ایمان کو مہمیز اور قلوب و اذہان کو روشن کریں۔

ہمارا چینل جوائن کریں اور دیگر احباب کو بھی دعوت دیں:
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8iNBA5K3zUdxlUrH46

منجانب معہد الفکر الاسلامی آنلائن اکیڈمی

*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*{معہد الفکر الاسلامی تاریخ کے اس اہم دور میں اپنا فرض ادا کرنے کے لیے ایک تاریخی اور معلوماتی س...
08/08/2026

*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*

{معہد الفکر الاسلامی تاریخ کے اس اہم دور میں اپنا فرض ادا کرنے کے لیے ایک تاریخی اور معلوماتی سلسلہ شروع کررہا ہے جس میں ارضِ فلسطین کی فضیلت و اہمیت سے لے کر حرمِ قدسی کے مکمل تعارف اور تاریخ تک اور فلسطین میں ی۔ہ۔و۔د۔ی ریاست کی داغ بیل ڈالنے کے نا۔پا۔ک منصوبے اور ی۔ہ۔و۔د۔ی سازشوں کا مکمل بیان کیا جائے گا۔ مندرجہ ذیل مضامین مشہورِ زمانہ کتاب اقصیٰ کے آنسو کے جدید ترین ایڈیشن سال 2023 سے منقول ہیں جنہیں ہماری ٹیم ممبر نے براہِ راست کتاب سے من و عن پیش کیا ہے۔}

*کتاب: اقصیٰ کے آنسو*

*مصنف: مفتی ابو لبابہ شاہ منصور*

`مضمون نمبر ۳۲`

`عنوان: بچھوؤں کا ایکا (حصہ سوم)`

جب یہ سازش بے نقاب ہوگئی تو قومِ ی۔ہ۔و۔د نے اپنی روایتی کِذب بیانی سے کام لیتے ہوئے یہ گھڑا گھڑایا عذر پیش کر کے معذرت کر لی کہ یہ حملہ شناخت کی غلطی کے باعث ہوا تھا۔ اس وقت امریکی وزیرِ مملکت ڈین رسک اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل تھامس مورر نے واضح بیان دیا کہ یہ حملہ ہرگز اتفاقی نہ تھا بلکہ یہ عمدًا کی گئی کاروائی تھی۔ اس لیے کہ حملے کے وقت دن بہت روشن تھا، لبرٹی پر امریکی پرچم لہرا رہا تھا اور جہاز پر بین الاقوامی شناخت کے مقرر شدہ نشانات اور اعداد واضح طور پر لکھے ہوئے تھے۔ مگر امریکا کے ی۔ہ۔و۔د۔ی میڈیا نے مذکورہ حملے کے خلاف کوئی رد عمل ظاہر نہ کیا۔

اس۔را۔ئی۔ل کی "قریب از حقیقت" معذرت کو آسانی سے قبول کرلیا گیا اور امریکا کے اعلیٰ سرکاری و فوجی عہدیداروں کے واضح الزامات کے باوجود ی۔ہ۔و۔د۔ی لابی نے اس معاملے کی رسمی تحقیقات بھی نہ ہونے دی۔ اس کے مقابلے میں اب تک ایسا کوئی ثبوت بالکل نہیں پایا جاتا کہ افغانستان کی حکومت ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بارے میں کچھ جانتی تھی یا اس نے اس حملے کی منظوری دی تھی، لیکن ان جڑواں ٹاوروں پر حملے کے آدھے گھنٹے کے اندر ایک سابقہ ی۔ہ۔و۔د۔ی وزیرِ خارجہ نے افغانستان کو نامزد ملزم ٹھہرا کر اس پر حملوں کے لیے فضا کو آتش بار بنا دیا تھا۔ کہاں آدھا گھنٹہ اور کہاں 35 سال کا طویل عرصہ؟ لبرٹی پر حملے کو آج 35 سال ہونے کو آئے ہیں لیکن اس کی تحقیقات کا آغاز بھی نہیں ہوسکا۔

امریکی نظامِ حکومت پر ی۔ہ۔و۔د۔ی۔ت کے غلبے کا یہ عالم ہے کہ یو ایس لبرٹی کے کمانڈنگ آفیسر کیپٹن ولیم میک کو اس۔را۔ئی۔لی حملے کے دوران جرأت و ہمت کا شاندار مظاہرہ کرنے پر امریکا کا سب سے بڑا اعزازی ایوارڈ "کانگریس میڈل آف آنر" دیا گیا لیکن اس کی تقریب امریکی نیول یارڈ میں نہایت خاموشی سے منعقد کی گئی حالانکہ قواعد اور روایات کے مطابق یہ کارروائی وہائٹ ہاؤس میں انجام دی جانی چاہیے تھی۔ یہ صرف اس لیے کہ 34 امریکی فوجیوں کو ہلاک اور 174 سے زائد کو زخمی کرنے والے "معصوم دشمن" کے نازک جذبات کو ٹھیس نہ پہنچ جائے۔

یہ ہے وہ انصاف جسے امریکا دنیا پر مسلط کرنے چلا ہے۔ امریکا میں مقیم عربوں، پاکستانیوں اور دیگر مسلمانوں پر ناطقہ بند کرنے والے امریکی حکام اور باشعور امریکی عوام کو سوچنا چاہیے کہ وہ ی۔ہ۔و۔د۔ی امریکی جو اس۔را۔ئی۔لی د۔ہ۔ش۔ت گردی کے ان سنگین واقعات کے بعد بھی اس۔را۔ئی۔ل سے تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، کیا وہ امریکا سے غ۔دا۔ری کے مرتکب نہیں ہو رہے؟ کیا اس۔را۔ئی۔ل کو امداد دلوانے والے ی۔ہ۔و۔د۔ی امریکا کے قانون سے باغی نہیں؟ ان خونیں واقعات کے بعد بھی اگر امریکی حکام اور عوام مسلمانوں کو د۔ہ۔ش۔ت گرد تارکینِ وطن اور ی۔ہ۔و۔د۔ی شہریوں کو پرامن باشندے سمجھتے ہیں تو انہیں سیاہ بچھو کے زہر ناک ڈنک سے کون بچا سکتا ہے؟ اور ی۔ہ۔و۔د کی اس فطرت کو جان لینے اور ہمارے تاریخی دشمنوں سے ان کے حالیہ گرم جوش گٹھ جوڑ کے بعد بھی اگر ہم ان سے "بوجوہ" تعلقات قائم کرنے پر مُصِر ہیں تو خدا کی اس وسیع و عریض خدائی میں ہمارا مددگار اور حمایتی کون ہو سکتا ہے؟؟؟

ان شاء اللّٰہ جاری ہے
#معہدالفکرالاسلامی
#غزہ
#مسجدالاقصی
#القدس

*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*{معہد الفکر الاسلامی تاریخ کے اس اہم دور میں اپنا فرض ادا کرنے کے لیے ایک تاریخی اور معلوماتی س...
06/08/2026

*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*

{معہد الفکر الاسلامی تاریخ کے اس اہم دور میں اپنا فرض ادا کرنے کے لیے ایک تاریخی اور معلوماتی سلسلہ شروع کررہا ہے جس میں ارضِ فلسطین کی فضیلت و اہمیت سے لے کر حرمِ قدسی کے مکمل تعارف اور تاریخ تک اور فلسطین میں ی۔ہ۔و۔د۔ی ریاست کی داغ بیل ڈالنے کے نا۔پا۔ک منصوبے اور ی۔ہ۔و۔د۔ی سازشوں کا مکمل بیان کیا جائے گا۔ مندرجہ ذیل مضامین مشہورِ زمانہ کتاب اقصیٰ کے آنسو کے جدید ترین ایڈیشن سال 2023 سے منقول ہیں جنہیں ہماری ٹیم ممبر نے براہِ راست کتاب سے من و عن پیش کیا ہے۔}

*کتاب: اقصیٰ کے آنسو*

*مصنف: مفتی ابو لبابہ شاہ منصور*

`مضمون نمبر ۳۲`

`عنوان: بچھوؤں کا ایکا (حصہ دوم)`

آپ دیکھیں کہ ی۔ہ۔و۔د۔ی مصنف ذرائع ابلاغ میں کس طرح بین الاقوامی غلط بیانیاں کرتے اور مطلب کو کچھ سے کچھ کردیتے ہیں، یہ مضمون اس کی ایک زندہ مثال ہے۔

انکارٹا کا دوسرا جملہ کچھ اس طرح ہونا چاہیے:
"پنہاس لیون جسے زبردستی استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا کیونکہ اس کو امریکہ کے خلاف د۔ہ۔ش۔ت گر۔دانہ کارروائیوں کی کھلم کھلا سرپرستی کرتے ہوئے پکڑ لیا گیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ امریکہ کو اس۔را۔ئی۔ل کے دشمن پر حملے کرنے کے لیے اکسایا جائے۔"
اس ناکام سازش میں اس۔را۔ئی۔لی وزیر دفاع کو امریکہ کے خلاف د۔ہ۔ش۔ت گر۔دانہ کارروائیوں کی سرپرستی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود امریکی حکومت نے جوابی ردعمل کے طور پر تل ابیب کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی حتیٰ کہ اس سے سفارتی تعلقات بھی نہ توڑے بلکہ اس کی اربوں ڈالر کی مالی و فوجی امداد میں کمی تک کی کوئی ضرورت بھی محسوس نہ کی۔
سیاہ بچھو کے اپنی فطرتِ بد سے باز نہ آنے کی دوسری مثال "لبرٹی" پر د۔ہ۔ش۔ت گر۔دانہ حملہ ہے۔ یو ایس لبرٹی امریکا کا عظیم الجثہ بحری جہاز تھا جو 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں اس۔را۔ئی۔ل کے تحفظ کے لیے بحرِ احمر میں ڈیوٹی دے رہا تھا۔ 8جون 1967ء کو چند اس۔را۔ئی۔لی لڑاکا طیارے جن پر سے شناختی نشان مٹا کر ان کا رنگ تبدیل کر دیا گیا تھا، یو ایس لبرٹی پر حملہ آور ہو گئے، ان کا ساتھ دینے کے لیے چند غیر نشان شدہ تار پیڈو کشتیاں بھی اپنے اس محافظ پر جھپٹیں اور دم بھر میں 34 "قیمتی" امریکی جانیں تلف ہونے کے ساتھ 174 امریکی زخمی ہو گئے۔ ی۔ہ۔و۔د۔ی ہوا بازوں نے سب سے پہلے لبرٹی کے ریڈیو ٹاور پر حملہ کیا تاکہ امریکا کے چھٹے بحری بیڑے کو علم نہ ہو سکے کہ یہ کارستانی ان کا پروردہ کلوٹا بچھو کر رہا ہے۔ نشانات سے خالی لڑاکا طیارے اس وقت تک خوفناک انداز میں اپنی مدد کو آئے ہوئے امریکیوں پر بمباری کرتے رہے جب تک انہیں اطمینان نہ ہو گیا۔ بقیہ کسر تارپیڈو کشتیوں نے پوری کی اور ان امریکی سپاہیوں کو بھی نہ بخشا جو حفاظتی کشتیوں کے ذریعے جان بچا کر فرار ہو رہے تھے۔ اس۔را۔ئی۔لی کشتیوں پر نصب مشین گنوں سے نکلنے والی گولیاں ان امریکی فوجیوں کو چاٹتی رہیں، تاکہ دنیا کو باخبر کرنے کے لیے کوئی ذی روح زندہ نہ بچے اور "مصر" کی یہ د۔ہ۔ش۔ت گر۔دی امریکا کو غضب ناک کرنے کے لیے کافی ہو جائے۔ اس۔را۔ئی۔لی حملہ آور اپنا کام مکمل سمجھ کر واپس چلے گئے اس موقع پر جہاز کے کپتان اور اس کے معاون عملے نے ایسی غیر معمولی حاضر دماغی اور جرأت مندی کا مظاہرہ کیا کہ اس۔را۔ئی۔ل اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔

یہ سب مل کر جہاز کو کسی نہ کسی انداز میں اس وقت تک چلاتے اور ڈوبنے سے بچاتے رہے جب تک ان کا رابطہ اپنے بحری بیڑے سے نہ ہو گیا۔ انہوں نے اپنی ہائی کمان کو حقیقتِ حال سے آگاہ کردیا کہ یہ حملہ مصر کی نہیں، ان کے اپنے "بچوت" اس۔را۔ئی۔ل کی کارروائی تھی۔ لبرٹی کے کپتان کی جرأت اور فرض شناسی نے اس۔را۔ئی۔ل کے اس منصوبے کو طشت از بام کردیا اور اس۔را۔ئیل۔یوں کو موقع نہ دیا کہ وہ دو دھوکے بازیاں ایک ساتھ کریں۔ اس۔را۔ئی۔لی جیٹ طیارے امریکی عملے کے سروں پر بہت قریب سے گزر کر حملہ آور ہوئے تھے اور ان کے پائلٹوں نے امریکیوں کو دھوکہ میں رکھنے کے لیے دوستانہ انداز میں ہاتھ بھی ہلائے تھے جس کی وجہ سے جہاز کے کپتان اور عملے کو حملہ آوروں کی شناخت میں کوئی غلطی نہ لگ سکتی تھی۔

ان شاء اللّٰہ جاری ہے

#معہدالفکرالاسلامی
#غزہ
#مسجدالاقصی
#القدس

*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*{معہد الفکر الاسلامی تاریخ کے اس اہم دور میں اپنا فرض ادا کرنے کے لیے ایک تاریخی اور معلوماتی س...
05/08/2026

*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*

{معہد الفکر الاسلامی تاریخ کے اس اہم دور میں اپنا فرض ادا کرنے کے لیے ایک تاریخی اور معلوماتی سلسلہ شروع کررہا ہے جس میں ارضِ فلسطین کی فضیلت و اہمیت سے لے کر حرمِ قدسی کے مکمل تعارف اور تاریخ تک اور فلسطین میں ی۔ہ۔و۔د۔ی ریاست کی داغ بیل ڈالنے کے نا۔پا۔ک منصوبے اور ی۔ہ۔و۔د۔ی سازشوں کا مکمل بیان کیا جائے گا۔ مندرجہ ذیل مضامین مشہورِ زمانہ کتاب اقصیٰ کے آنسو کے جدید ترین ایڈیشن سال 2023 سے منقول ہیں جنہیں ہماری ٹیم ممبر نے براہِ راست کتاب سے من و عن پیش کیا ہے۔}

*کتاب: اقصیٰ کے آنسو*

*مصنف: مفتی ابو لبابہ شاہ منصور*

`مضمون نمبر ۳۲`

`عنوان: بچھوؤں کا ایکا (حصہ اول)`

بچھو کے متعلق ماہرینِ حیوانات نے لکھا ہے کہ اس کی پیدائش اس کی فطرت کے مطابق ہوتی ہے یعنی یہ جس طرح ساری عمر اپنے پرائے، دوست دشمن کی تمیز کے بغیر خلقِ خدا کو ڈستا رہتا ہے، اسی طرح بوقتِ پیدائش مادہ بچھو کے پیٹ میں موجود بچے عام جانوروں کی طرح جنم لینے کی بجائے اس کا پیٹ چیر کر دنیا میں آتے ہیں۔ چنانچہ پھر وہ ساری عمر اس حرکت کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں جو دنیا میں آتے ہی محسن کُشی کی بدترین شکل میں ان سے سرزد ہوئی تھی۔ انسانوں کی عادات پر اس حوالے سے غور کیا جائے تو نسلِ انسانی کے دو گروہ، ی۔ہ۔و۔د و ہ۔ن۔و۔د، سیاہ اور سرخ بچھوؤں کی جوڑی دکھائی دیتے ہیں۔ امریکا نے ی۔ہ۔و۔د۔ی۔و۔ں کی اس قدر حمایت کی اور اس کی خاطر ایسے ایسے انسانیت کُش اقدامات کیے کہ آج وہ کرۂ ارض پر سب سے زیادہ نفرت کیا جانے والا ملک ہے لیکن اس کے عوض ی۔ہ۔و۔د۔ی۔ت اس کے ساتھ کیا کرتی رہی؟ یہ بڑی دلچسپ داستان ہے جس کا تذکرہ ہم "آپریشن سوزنا" اور "لبرٹی" پر حملے کے حوالے سے کریں گے۔

پچھلی صدی کی چھٹی دہائی میں جب اس۔را۔ئی۔ل تازہ تازہ صفحۂ ہستی پر نمودار ہوا تھا، مصر میں ج۔ہ۔ا۔د اور رجوع الی الدین کی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔ اس۔را۔ئی۔ل اس سے حد درجہ خائف تھا اور اس کی خواہش تھی کہ مصر سے خود ٹکرانے کی بجائے امریکا کو اس سے بِھڑا دیا جائے۔ اس کے لیے اس نے وقفے وقفے سے دو انتہائی عیارانہ اور انسانیت و اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں کیں۔ یہ الگ بات ہے کہ دونوں بُری طرح ناکام ہوگئیں اور اس۔را۔ئی۔ل بہت ہی شرمناک انداز میں بےنقاب ہوا۔

ان میں سے پہلا منصوبہ "آپریشن سوزنا" کا تھا جو 1954ء میں ترتیب دیا گیا۔ یہ اس۔را۔ئی۔لی حکومت کی طرف سے امریکا کے خلاف خفیہ د۔ہ۔ش۔ت گر۔د۔ی کا منصوبہ تھا جس کے مطابق مصر میں قیام پزیر امریکیوں کو ق۔ت۔ل اور امریکی تنصیبات کو دھماکے سے اڑایا جانا تھا اور پھر مستند "قرائن و شواہد" سے یہ ثابت کیا جاتا کہ یہ کارروائی مصریوں نے کی ہے۔ اس طرح امریکا کا مصر سے براہِ راست تصادم شروع ہو جاتا اور اس۔را۔ئی۔ل نہرِ سوئز کے کنارے کھڑے ہو کر تفریحی تماشا دیکھتا جیسے کہ اس نے سقوطِ کابل اور قندھار کے وقت کیا۔ ی۔ہ۔و۔د۔ی ایجنٹ حکم ملتے ہی سرگرم ہو گئے۔ انہوں نے قاہرہ اور اسکندریہ میں کچھ عمارتیں اور امریکی لائبریری د۔ھما۔کے سے اڑانے کی کامیاب کارروائی کی (قارئین اس موقع پر وطنِ عزیز اور دنیا بھر میں مغربی باشندوں اور املاک کے خلاف ہونے والی د۔ہ۔ش۔ت گر۔دانہ کارروائیوں کو ذہن میں رکھیں) لیکن جب وہ ایک امریکی سینما گھر میٹرو گولڈ وائن میئر کو دھماکے سے اڑا رہے تھے تو اس۔را۔ئی۔لی ایجنٹ کے ہاتھ میں وہ بم پھٹ گیا جس کے بارود سے تلف ہونے والی جانوں کو وہ مصر کے بے خبر مسلمانوں کے کھاتے میں ڈالنا چاہتا تھا۔ اس۔را۔ئی۔لی ایجنٹ کے رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے سے طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ دنیا کو علم ہوگیا کہ اس۔را۔ئی۔لی اس قدر پست اخلاق اور کمینگی کے مارے ہوئے د۔ہ۔ش۔ت گر۔د ہیں کہ اپنے محسن کو اپنے دشمن سے بھڑانے کے لیے اس کی جان لینے سے بھی نہیں چُوکتے۔ یہ بلاشبہ بدترین قسم کی ج۔نو۔ن۔ی۔ت تھی اور اس سے اس قدر غبار اٹھا کہ اس۔را۔ئی۔لی وزیرِ دفاع پنہاس لیون کو مجبوراً استعفیٰ دینا پڑا۔ (یاد رہے کہ یہ اتنا اہم شخص تھا کہ اس کی جگہ لینے کے لیے ڈیوڈ بن گوریان جیسے ص۔ہ۔ی۔و۔ن۔ی لیڈر کو سیاست میں داخل ہونا پڑا) بعد میں یہ کہانی "لیون کے معاملات" کے نام سے شائع ہوئی اور اس کا ذکر معروف انسائیکلوپیڈیا انکارٹا میں بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن یہ ی۔ہ۔و۔د۔ی۔ت کے اثر سے خالی نہیں۔ اس کے الفاظ اس موقع پر یہ ہیں:

"بن گوریان وزیرِ دفاع پنہاس لیون کی جگہ لینے کے لیے 1955ء میں سیاست میں داخل ہوا، پنہاس لیون نے مصر کے مغرب کے ساتھ تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔" (انکارٹا انسائیکلوپیڈیا 2001ء، مضمون: بن گوریان)

ان شاء اللّٰہ جاری ہے
#معہدالفکرالاسلامی
#غزہ
#مسجدالاقصی
#القدس

*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*{معہد الفکر الاسلامی تاریخ کے اس اہم دور میں اپنا فرض ادا کرنے کے لیے ایک تاریخی اور معلوماتی س...
04/08/2026

*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*

{معہد الفکر الاسلامی تاریخ کے اس اہم دور میں اپنا فرض ادا کرنے کے لیے ایک تاریخی اور معلوماتی سلسلہ شروع کررہا ہے جس میں ارضِ فلسطین کی فضیلت و اہمیت سے لے کر حرمِ قدسی کے مکمل تعارف اور تاریخ تک اور فلسطین میں ی۔ہ۔و۔د۔ی ریاست کی داغ بیل ڈالنے کے نا۔پا۔ک منصوبے اور ی۔ہ۔و۔د۔ی سازشوں کا مکمل بیان کیا جائے گا۔ مندرجہ ذیل مضامین مشہورِ زمانہ کتاب اقصیٰ کے آنسو کے جدید ترین ایڈیشن سال 2023 سے منقول ہیں جنہیں ہماری ٹیم ممبر نے براہِ راست کتاب سے من و عن پیش کیا ہے۔}

*کتاب: اقصیٰ کے آنسو*

*مصنف: مفتی ابو لبابہ شاہ منصور*

`مضمون نمبر ۳۱`

`عنوان: تلاش کا سفر (حصہ سوم)`

تو میرے دوستو! یہ ہے ک۔ف۔ر کی تاریخ اور یہ ہے اس کی ذہنیت، یہ ہم لوگوں کی بھول ہے کہ ہم ان کی نظر میں قابلِ اعتراض امور سے بچنا شروع کر دیں تو عزت و تکریم کے مستحق ہو جائیں گے۔ ان کی نظر میں سرخروئی حاصل کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی انفرادیت پر پوری خود اعتمادی کے ساتھ قائم رہیں۔ وہ لوگ بظاہر ایسے شخص کا جتنا بھی مذاق اڑائیں، مگر اندر سے وہ اس سے مرعوب اور متاثر بلکہ خائف ہوتے ہیں۔ عزت، اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کے لیے مقدر ہے، جو مسلمان عزت کے ان دو سرچشموں سے ہٹ کر معزز بننا چاہے گا اس کا حشر ان کم ظرفوں جیسا ہو گا جو سقوطِ غرناطہ کے بعد جان و مال بچانے کے لیے مر۔تد ہوکر عیسائی بن گئے تھے۔ کوئی مسلمان اس سے زیادہ کسی غیر مسلم کی کیا اطاعت کر سکتا ہے کہ نعوذ باللّٰہ اپنا مذہب ہی سرے سے چھوڑ دے مگر مقامِ عبرت ہے کہ ان کو تب بھی امان نہ ملی۔ عیسائی حکمران فرڈیننڈ اور اس کی متعصب ملکہ ازابیلا نے ان کے لیے انکویزیشن (INQUISITION) کا قانون بنایا۔ ان "نو مسیحیوں'' کو Door to Door رجسٹریشن کروائی گئی۔ اس قانون کی رُو سے نئے عیسائیوں کو اذیت دینے کا یہ حربہ اختیار کیا گیا کہ انہیں مذہبی عدالتوں میں پیش کرکے منافقت کا الزام لگایا جاتا اور سرِ عام اذیتیں دے دے کر آخر میں زندہ جلا دیا جاتا۔

اس موقع پر عیسائیوں نے ایسے مظالم ڈھائے کہ آج ان کی ایک جھلک پاکستان میں عیسائیت پھیلانے کے لیے سرگرم عیسائی مشنریوں کو دکھا دی جائے تو انہیں منہ چھپانے کی جگہ نہ ملے۔ ایسے بدنصیب مسلمانوں کا گھر بار اور مال و جائیداد چونکہ گرجاؤں کو مل جاتا تھا اس لیے پادری نامی مخلوق جو دنیا پرستی میں بدنامی کی حدتک شہرت رکھتی ہے، بے دریغ ان مسلمان مسیحیوں کو زندہ نذر آتش کرنے کی سزا دیتے جو اپنا مذہب چھوڑ نے پر آمادگی کا اظہار کرچکے تھے۔ یہی وجہ ہےکہ آج ہسپانیہ کے مذہبی ادارے دنیا کے امیر ترین مذہبی ادارے ہیں کیونکہ ہسپانیہ کے ہر بڑے شہر میں ان کو ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کے مکانات مفت مل گئے۔

آج اسپین اور پرتگال کی وسیع و عریض حدود میں ایک مسلمان کی قبر کا نشان نہیں ملتا البتّہ قرطبہ اور غرناطہ میں مسلمانوں کے 500 سالہ قدیم ہزاروں مکانات اور سینکڑوں مساجد ایسی ہیں جو آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں اور عیسائیوں کے زیرِ استعمال ہیں۔ مساجد کو گرجا گھر بنایا گیا اور مکانات کو لالچی پادریوں نے باہم تقسیم کرلیا۔ آج مراکش کے شمالی ساحل پر رہنے والے مسلمانوں کے پاس ان کے آبائی گھروں کی چابیاں موجود ہیں جو وہ اسپین میں چھوڑ کر آئے تھے اور وہ انہیں عیسائیوں کے تسلط سے آزاد کروانے کے لیے کسی نجات دہندہ کے منتظر ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ نجات دہندہ تو نجات کے طلب گاروں میں پیدا ہوگا، ہم میں اس کی طلب کہاں؟ ہم تو "جیو اور جیتو" کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں۔

ایسے مکانات پر انکویزیشن کی ثبت کردہ مہریں آج بھی دیکھی جاسکتی ہیں اور ان حضرات کو تو ضرور دیکھنی چاہییں جو مسلمانوں کو تنگ نظر اور ع۔یس۔ائ۔یت و ی۔ہ۔و۔د۔ی۔ت کو فراخ دل اور وسیع النظر سمجھتے ہیں۔ یہ مہریں دو قسم کی ہوتی تھیں، ایک کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اس گھر کی تلاشی لی جاچکی ہے۔ دوسری کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اس کا "فیصلہ" ہوچکا ہے، اب اسے نہ کوئی خریدے نہ اس میں رہنے کی جرٱت کرے۔ ان مکانات پر موجود اعلیٰ عیسائی عدالتوں کی لگائی ہوئی یہ مہریں اپنے اندر کئی سبق رکھتی ہیں لیکن مقامِ عبرت ہے کہ ان کی خونی تاریخ سے سبق حاصل کرنے والے مسلمان کم ہیں اور بہکے رہنے کے شوقین کلمہ گو نسبتاً زیادہ ہیں۔

دو ماہ قبل 10 جولائی 2003ء کو جب غرناطہ میں الحمراء محل سے متصل البائسن (اصل عربی نام البیاضین) پہاڑی کی چوٹی پر 500 سال بعد قائم ہونے والی پہلی مسجد کے افتتاح کے موقع پر اﺫان دی گئی تو اس کی وجد آفرین صدا نے مسلمانوں کو پیغام دیا ہے کہ الله کی نظر میں مقبولیت کی فکر کے بجائے بنده جب اپنے جیسے گندے بندوں کی نظر میں پسندیدگی کی جستجو کرنے لگتا ہے تو قدرت اسے بھٹکنے کے لیے اس وقت تک چھوڑ دیتی ہے جب تک وه خود واپسی پر آماده نہیں ہوتا۔ اسپین کے مسلمانوں نے اپنی اصل کی طرف واپسی کے سفر کا آغاز کردیا ہے، نجانے بقیہ مسلم دنیا کب تلاش کے اس سفر کے لیے سنجیدگی سے آماده ہوگی۔

ان شاء اللّٰہ جاری ہے
#معہدالفکرالاسلامی
#غزہ
#مسجدالاقصی
#القدس

📢*معہد الفکر الاسلامی آنلائن اکیڈمی کی جانب سے اہم اطلاع*📌ہم بہت جلد اپنے پوسٹنگ گروپس کو ختم کرکے صرف چینلز پہ ہی پوسٹن...
04/08/2026

📢*معہد الفکر الاسلامی آنلائن اکیڈمی کی جانب سے اہم اطلاع*
📌ہم بہت جلد اپنے پوسٹنگ گروپس کو ختم کرکے صرف چینلز پہ ہی پوسٹنگ کا سلسلہ جاری رکھیں گے اس لیے چینلز کو فالو اور پروموٹ کیجیے اور صدقۂ جاریہ کا حصہ بن جائیے۔

🖋️عالمِ اسلام اس وقت جس اندرونی خلفشار اور بیرونی سازشوں کا شکار ہے وہ اب کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے لیکن ہمارے عوام و خواص غفلت کے مارے ان خبروں اور اطلاعات سے نگاہ چرا کر اپنی دنیا میں مست مگن ہیں۔ اس افراط و تفریط کے ماحول میں معہد الفکر الاسلامی نے اس بات کا بیڑہ اٹھایا ہے کہ عوام و خواص کو جھنجھوڑنا، انہیں بیدار کرنا ہے۔ انہیں صرف گزشتہ احوال سے ہی آگاہ نہیں کرنا بلکہ آئندہ آنے والے حالات کے لیے خبردار بھی کرنا ہے اور تربیت بھی دینی ہے۔
اخبارِ عالمِ اسلام چینل کا مقصد صرف تازہ اخبار و اطلاعات آپ تک بہم پہنچانا ہی نہیں بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ عالمِ اسلام کے اصل ہیروز اور امتِ مسلمہ کے جانبازوں کا تعارف بھی آپ تک پہنچائیں اور دشمنانِ اسلام کی تخریب کاریاں اور سازشیں بھی آپ کے سامنے بےنقاب کرکے آپ کو سوچنے پر مجبور کردیں۔

آئیے ہمارے چینلز کو فالو کیجیے اور علم و آگہی کے اس سفر کا حصہ بن جائیے۔

*Follow the اخبارِ عالم اسلام | معہدالفکرالاسلامی channel on WhatsApp:* https://whatsapp.com/channel/0029VbCccG89RZAYXHJ2MA17

`منجانب معہد الفکر الاسلامی آنلائن اکیڈمی`

#معہدالفکرالاسلامی #اخبار

📢*معہد الفکر الاسلامی آنلائن اکیڈمی کی جانب سے اہم اطلاع:* 📌ہم بہت جلد اپنے گروپ میں ریگولر پوسٹنگ ختم کرکے اسے صرف اذکا...
03/08/2026

📢*معہد الفکر الاسلامی آنلائن اکیڈمی کی جانب سے اہم اطلاع:*
📌ہم بہت جلد اپنے گروپ میں ریگولر پوسٹنگ ختم کرکے اسے صرف اذکار ریمائنڈرز اور کورسز، سیشنز اور اکیڈمی سے متعلق دیگر اعلانات کے لیے مخصوص کردیں گے۔ معہد الفکر الاسلامی کا پرانا چینل بھی ڈیلیٹ کردیا جائے گا اس لیے مفید تحاریر سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہمارا نیا چینل جوائن کیجیے۔ شکریہ

🖋️معہد الفکر الاسلامی آنلائن اکیڈمی کی جانب سے پیشِ خدمت ہیں *بصائرِ معہد الفکر الاسلامی*

مُنتَخَب اور مُستَنَد معلوماتی، اصلاحی اور تربیتی مواد پر مشتمل ایک ایسا چینل جس کی ہر تحریر آپ کے ذہن و دل پر ایک دستک ہے۔ جس کا ہر ہر لفظ کسی کے دردِ دل کا نچوڑ ہے تو کسی باشعور ضمیر کی آواز۔ یہ ایک پکار ہے جو آپ کو اپنے آپ سے اور اپنے رب سے ملانے کے لیے لگائی جارہی ہے۔ یہ ایک بلاوا ہے جو آپ کو نیکی کی طرف دعوت دیتا ہے۔ یہ ایک انتباہ ہے جو آپ کے گناہ کی طرف بڑھتے قدموں کو روکنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس سفر میں ہمارا ساتھ دیجیے۔ چینل کو فالو کیجیے اور اپنے پیاروں کو بھی اس کے ساتھ جوڑ کر اپنے لیے صدقۂ جاریہ کی سبیل بنائیے۔

*Follow the بصائرِ معہد الفکر الاسلامی ✍ channel on WhatsApp:* https://whatsapp.com/channel/0029Vb8iNBA5K3zUdxlUrH46

جزاکم اللہ خیراً کثیراً

`منجانب معہد الفکر الاسلامی آنلائن اکیڈمی`

#معہدالفکرالاسلامی

📢*معہد الفکر الاسلامی آنلائن اکیڈمی کی جانب سے اہم اطلاع*📌ہم بہت جلد اپنے پوسٹنگ گروپس کو ختم کرکے صرف چینلز پہ ہی پوسٹن...
03/08/2026

📢*معہد الفکر الاسلامی آنلائن اکیڈمی کی جانب سے اہم اطلاع*
📌ہم بہت جلد اپنے پوسٹنگ گروپس کو ختم کرکے صرف چینلز پہ ہی پوسٹنگ کا سلسلہ جاری رکھیں گے اس لیے چینلز کو فالو اور پروموٹ کیجیے اور صدقۂ جاریہ کا حصہ بن جائیے۔

🖋️آج کے دور میں سب سے خطرناک فتنہ الحاد ہے ۔ یہ انسان کے دل سے اللہ کی پہچان کمزور کر کے اسے شک اور الجھنوں میں ڈال دیتا ہے۔ الحاد کی سوچ پہلے سوال پیدا کرتی ہے ، پھر ان سوالوں کو اس طرح گہرا کرتی ہے کہ انسان آہستہ آہستہ اپنے دین ایمان سے دور ہونے لگتا ہے۔ جب ایمان کی روشنی مدھم ہو جائے تو زندگی بے مقصد محسوس ہوتی جاتی ہے، حدود ٹوٹنے لگتی ہیں اور انسان خود اپنے اندر خالی پن محسوس کرتا ہے۔ معاشرے میں بگاڑ اور جرائم کی شرح بڑھتی ہے، دنیا و آخرت تباہ و برباد ہو کر رہ جاتی ہیں۔

دورِ جدید میں جب فتنے ہر طرف سے ہمیں گھیرے ہوئے ہیں ایسے میں الحاد اور تشکیک کی طرف سے اٹھنے والے گرد و غبار سے دینِ اسلام کے دامن کو بچانا ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا اولین فریضہ ہے۔ اسی فریضے کو اپنے اکابر کےمنہج کے مطابق لے کر چلنے کے لیے ہم نے یہ چینل آپ کے لیے ترتیب دیا ہے تاکہ ہم عوام کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات آسان فہم عوامی انداز میں آپ تک پہنچا سکیں، ایسے جوابات جو اہلِ تشکیک کے ذہن میں پیدا ہونے والے شک کے جالے کو صاف کرسکیں اور ایمان والوں کے ایمان کی مضبوطی کا سبب بن سکیں۔

اگر آپ اپنے نظریات اور ایمان دونوں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو یہ چینل آپ کے لیے ہے۔ خود بھی فالو کیجیے اور اپنے عزیزوں کے ساتھ بھی چینل کا لنک شیئر کریں۔

*Follow the فکری جہاد بمقابل الحاد | معہد الفکر الاسلامی channel on WhatsApp:* https://whatsapp.com/channel/0029VbDGaojAu3aTyLfQq201

جزاکم الله خیراً کثیراً فی الدارین۔

`منجانب معہد الفکر الاسلامی آنلائن اکیڈمی`

#معہدالفکرالاسلامی #الحاد #تشکیک #نظریه #فکر #اسلام

Address

Minara Road Sukkur Sindh
Sukkur
65200

Opening Hours

Monday 09:00 - 15:00
17:00 - 23:00
Tuesday 09:00 - 15:00
17:00 - 23:00
Wednesday 09:00 - 15:00
17:00 - 23:00
Thursday 09:00 - 15:00
17:00 - 23:00
Friday 09:00 - 15:00
17:00 - 23:00

Telephone

+923360832054

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mahadul Fikr Al-Islami posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Mahadul Fikr Al-Islami:

Shortcuts

Share