08/08/2026
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*
{معہد الفکر الاسلامی تاریخ کے اس اہم دور میں اپنا فرض ادا کرنے کے لیے ایک تاریخی اور معلوماتی سلسلہ شروع کررہا ہے جس میں ارضِ فلسطین کی فضیلت و اہمیت سے لے کر حرمِ قدسی کے مکمل تعارف اور تاریخ تک اور فلسطین میں ی۔ہ۔و۔د۔ی ریاست کی داغ بیل ڈالنے کے نا۔پا۔ک منصوبے اور ی۔ہ۔و۔د۔ی سازشوں کا مکمل بیان کیا جائے گا۔ مندرجہ ذیل مضامین مشہورِ زمانہ کتاب اقصیٰ کے آنسو کے جدید ترین ایڈیشن سال 2023 سے منقول ہیں جنہیں ہماری ٹیم ممبر نے براہِ راست کتاب سے من و عن پیش کیا ہے۔}
*کتاب: اقصیٰ کے آنسو*
*مصنف: مفتی ابو لبابہ شاہ منصور*
`مضمون نمبر ۳۲`
`عنوان: بچھوؤں کا ایکا (حصہ سوم)`
جب یہ سازش بے نقاب ہوگئی تو قومِ ی۔ہ۔و۔د نے اپنی روایتی کِذب بیانی سے کام لیتے ہوئے یہ گھڑا گھڑایا عذر پیش کر کے معذرت کر لی کہ یہ حملہ شناخت کی غلطی کے باعث ہوا تھا۔ اس وقت امریکی وزیرِ مملکت ڈین رسک اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل تھامس مورر نے واضح بیان دیا کہ یہ حملہ ہرگز اتفاقی نہ تھا بلکہ یہ عمدًا کی گئی کاروائی تھی۔ اس لیے کہ حملے کے وقت دن بہت روشن تھا، لبرٹی پر امریکی پرچم لہرا رہا تھا اور جہاز پر بین الاقوامی شناخت کے مقرر شدہ نشانات اور اعداد واضح طور پر لکھے ہوئے تھے۔ مگر امریکا کے ی۔ہ۔و۔د۔ی میڈیا نے مذکورہ حملے کے خلاف کوئی رد عمل ظاہر نہ کیا۔
اس۔را۔ئی۔ل کی "قریب از حقیقت" معذرت کو آسانی سے قبول کرلیا گیا اور امریکا کے اعلیٰ سرکاری و فوجی عہدیداروں کے واضح الزامات کے باوجود ی۔ہ۔و۔د۔ی لابی نے اس معاملے کی رسمی تحقیقات بھی نہ ہونے دی۔ اس کے مقابلے میں اب تک ایسا کوئی ثبوت بالکل نہیں پایا جاتا کہ افغانستان کی حکومت ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بارے میں کچھ جانتی تھی یا اس نے اس حملے کی منظوری دی تھی، لیکن ان جڑواں ٹاوروں پر حملے کے آدھے گھنٹے کے اندر ایک سابقہ ی۔ہ۔و۔د۔ی وزیرِ خارجہ نے افغانستان کو نامزد ملزم ٹھہرا کر اس پر حملوں کے لیے فضا کو آتش بار بنا دیا تھا۔ کہاں آدھا گھنٹہ اور کہاں 35 سال کا طویل عرصہ؟ لبرٹی پر حملے کو آج 35 سال ہونے کو آئے ہیں لیکن اس کی تحقیقات کا آغاز بھی نہیں ہوسکا۔
امریکی نظامِ حکومت پر ی۔ہ۔و۔د۔ی۔ت کے غلبے کا یہ عالم ہے کہ یو ایس لبرٹی کے کمانڈنگ آفیسر کیپٹن ولیم میک کو اس۔را۔ئی۔لی حملے کے دوران جرأت و ہمت کا شاندار مظاہرہ کرنے پر امریکا کا سب سے بڑا اعزازی ایوارڈ "کانگریس میڈل آف آنر" دیا گیا لیکن اس کی تقریب امریکی نیول یارڈ میں نہایت خاموشی سے منعقد کی گئی حالانکہ قواعد اور روایات کے مطابق یہ کارروائی وہائٹ ہاؤس میں انجام دی جانی چاہیے تھی۔ یہ صرف اس لیے کہ 34 امریکی فوجیوں کو ہلاک اور 174 سے زائد کو زخمی کرنے والے "معصوم دشمن" کے نازک جذبات کو ٹھیس نہ پہنچ جائے۔
یہ ہے وہ انصاف جسے امریکا دنیا پر مسلط کرنے چلا ہے۔ امریکا میں مقیم عربوں، پاکستانیوں اور دیگر مسلمانوں پر ناطقہ بند کرنے والے امریکی حکام اور باشعور امریکی عوام کو سوچنا چاہیے کہ وہ ی۔ہ۔و۔د۔ی امریکی جو اس۔را۔ئی۔لی د۔ہ۔ش۔ت گردی کے ان سنگین واقعات کے بعد بھی اس۔را۔ئی۔ل سے تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، کیا وہ امریکا سے غ۔دا۔ری کے مرتکب نہیں ہو رہے؟ کیا اس۔را۔ئی۔ل کو امداد دلوانے والے ی۔ہ۔و۔د۔ی امریکا کے قانون سے باغی نہیں؟ ان خونیں واقعات کے بعد بھی اگر امریکی حکام اور عوام مسلمانوں کو د۔ہ۔ش۔ت گرد تارکینِ وطن اور ی۔ہ۔و۔د۔ی شہریوں کو پرامن باشندے سمجھتے ہیں تو انہیں سیاہ بچھو کے زہر ناک ڈنک سے کون بچا سکتا ہے؟ اور ی۔ہ۔و۔د کی اس فطرت کو جان لینے اور ہمارے تاریخی دشمنوں سے ان کے حالیہ گرم جوش گٹھ جوڑ کے بعد بھی اگر ہم ان سے "بوجوہ" تعلقات قائم کرنے پر مُصِر ہیں تو خدا کی اس وسیع و عریض خدائی میں ہمارا مددگار اور حمایتی کون ہو سکتا ہے؟؟؟
ان شاء اللّٰہ جاری ہے
#معہدالفکرالاسلامی
#غزہ
#مسجدالاقصی
#القدس