13/03/2026
#معہدالفکرالاسلامی #رمضان
Welcome to Ma'had ul Fikr Islami, where knowledge merges with purpose.
13/03/2026
#معہدالفکرالاسلامی #رمضان
13/03/2026
آج کا دن ایسا ہے کہ اس میں کئی عظمتیں ایک ساتھ جمع ہو گئی ہیں:
دو زمانوں کی فضیلت: جمعہ اور رمضان۔
دو مبارک اذکار کی فضیلت: نبی کریم ﷺ پر درود شریف اور قرآنِ مجید۔
اور دو قبولیت والی دعاؤں کی فضیلت: افطار کے وقت کی دعا اور جمعہ کے آخری لمحے کی دعا۔
یعنی یہ دن رحمتوں، برکتوں اور قبولیت کا خزانہ ہے پس ضرورت ہے کہ ہم اسے غفلت میں نہ گنوائیں، بلکہ درود، تلاوت اور دعا سے اپنے نامۂ اعمال کو روشن کرلیں۔
#معہدالفکرالاسلامی #جمعةمباركة #رمضان #درودشریف
10/03/2026
*درور بھیجنے والے کی سب سے بڑی سعادت*
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ میری قبر پر مقرر کر رکھا ہے جس کو ساری مخلوق کی باتیں سننے کی قدرت عطا فرما رکھی ہے۔ جو شخص مجھ پر قیامت تک درود بھیجتا رہے گا وہ فرشتہ مجھ کو اس کا اور اس کے والد کا نام لے کر درود پہنچاتا رہے گا کہ فلاں کا بیٹا ہے، اس نے آپﷺ پر درود بھیجا ہے۔"
(مجمع الزوائد)
*انسان کی اس سے بڑی کیا سعادت ہوگی کہ حضور اقدسﷺ کی بارگاہِ اقدس میں اس کا نام پہنچ جائے۔*
#مہدالفکرالاسلامی
#درودشریف
09/03/2026
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*
{معہد الفکر الاسلامی تاریخ کے اس اہم دور میں اپنا فرض ادا کرنے کے لیے ایک تاریخی اور معلوماتی سلسلہ شروع کررہا ہے جس میں ارضِ فلسطین کی فضیلت و اہمیت سے لے کر حرمِ قدسی کے مکمل تعارف اور تاریخ تک اور فلسطین میں ی۔ہ۔و۔د۔ی ریاست کی داغ بیل ڈالنے کے نا۔پا۔ک منصوبے اور ی۔ہ۔و۔د۔ی سازشوں کا مکمل بیان کیا جائے گا۔ مندرجہ ذیل مضامین مشہورِ زمانہ کتاب اقصیٰ کے آنسو کے جدید ترین ایڈیشن سال 2023 سے منقول ہیں جنہیں ہماری ٹیم ممبر نے براہِ راست کتاب سے من و عن پیش کیا ہے۔}
*کتاب: اقصیٰ کے آنسو*
*مصنف: مفتی ابو لبابہ شاہ منصور*
`مضمون نمبر ۲۲`
`عنوان: کہیلا کی کہانی (حصہ چہارم)`
*یہودن عورتوں کے شوہر:*
یہاں پر قارئین کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ ذلت کے مارے ی۔ہ۔و۔د کو اس قدر عروج کیسے مل گیا کہ وہ پسِ پردہ رہ کر سپر پاور کی ڈور کھینچتے اور ڈھیلی چھوڑتے ہیں؟ اس کے جواب کے لیے ہمیں "کتابِ حقیقت" کی طرف رجوع کرنا پڑے گا جو ہمارے اور خالقِ کائنات کے درمیان رابطے کے دو مستند ذرائع میں سے پہلا ذریعہ ہے اور کائنات کے حقائق کی گرہ کشائی کرتا ہے۔ اللہ پاک نے قرآن کریم میں ی۔ہ۔و۔د کی ذلت کے جو اسباب بیان فرمائے تھے، لگتا ہے صدیوں تک زمانے بھر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد انہوں نے ان کا کسی حد تک تدارک کیا ہے اور افسوس ہے کہ مسلمانوں نے صدیوں تک ان ملعون صفات سے بچنے کے بعد اب ان کو مکمل طور پر اپنا لیا ہے۔ لہٰذا صفحۂ کائنات پر نتائج برعکس پیدا ہورہے ہیں۔ مثلاً ایک سبب یہ تھا کہ ی۔ہ۔و۔د میں اتفاق نہیں، مگر اب ی۔ہ۔و۔د۔ی۔و۔ں کا حال یہ ہے کہ عملاً سب ی۔ہ۔و۔د۔ی ایک اور ان کی تمام تنظیمیں متحدہ مقاصد کے حصول کے لیے یکجان ہیں۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ ان میں اتنا تعلق اور تعاون نہ رہے مگر غیر ی۔ہ۔و۔د سے ان کی نفرت ہرحال میں قائم رہتی ہے اور یہی چیز ان کو متحد رکھنے کے لیے کافی ہے۔
پھر ان کی سرکردہ تنظیموں اور دانشوروں کے دستور میں ایک بات یہ بھی شامل ہے کہ وہ ی۔ہ۔و۔د۔ی عوام یا ی۔ہ۔و۔د۔ی تنظیموں کے باہمی تنازعات کا فیصلہ کروائیں اورا نہیں باہم دست و گریبان ہو کر اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں ایک دوسرے کے خلاف خرچ کرنے سے بچائیں۔ خدا لگتی کہیے کہ کیا مسلمانوں میں بھی ایسا کوئی نظم موجود ہے؟ قرآن کریم نے ی۔ہ۔و۔د کے بارے میں جو فرمایا تھا "تم انہیں متحد سمجھو گے، مگر در حقیقت ان کے دل جدا ہیں۔" یہ آیت آج ہم پر صادق آتی ہے یا ی۔ہ۔و۔د پر؟ پھر اگر کوئی معاملہ ایسا ہو جو ان تنظیموں کے بس میں نہ رہے تو فریقین متفقہ طور پر کسی ایک بزرگ ی۔ہ۔و۔د۔ی شخصیت کو اپنا ثالث تسلیم کر لیتے ہیں جیسے کہ مصر کے صدر انور سادات کی ی۔ہ۔و۔د۔ن بیوی، جہاں سادات کو ی۔ہ۔و۔د کی دو بڑی تنظیموں کے مشہورِ زمانہ اختلافات کے وقت متفقہ طور پر ثالث تسلیم کر لیا گیا تھا۔ (ی۔ہ۔و۔د۔ی بیویاں رکھنے والے مسلم اور غیر مسلم حکمرانوں مثلاً یاسر عرفات، شاہ حسین، عمران خان (اب خان صاحب نے اپنی ی۔ہ۔و۔د۔ی بیوی جمائما کو طلاق دے دی ہے۔ یہ خاتون ی۔ہ۔و۔د۔ی۔و۔ں کے دس بڑے آدمیوں میں سے ایک سر جیمز گولڈ سمتھ کی بیٹی تھی۔) وغیرہ کی فہرست اور کارنامے ایک مستقل مقالے کا موضوع ہیں۔ ہمارے تحقیق کار اس پر دلجمعی سے کام کریں تو دنیا کے سامنے حیرت انگیز انکشافات ہوں گے)
*وادئ طور میں گریہ و زاری:*
قرآن شریف کے مطابق ان کی پسماندگی اور خواری کا ایک سبب بُخل تھا۔ آج کا ی۔ہ۔و۔د۔ی اجتماعی مقاصد کے لیے خرچ کرنے والوں میں سب سے آگے ہے اور ی۔ہ۔و۔د۔ی تنظیموں کو سرمائے کی کمی کبھی بھی مسئلہ نہیں رہی۔ اس میدان میں اگر کوئی پیچھے ہے تو مسلمان کہ دینی اداروں اور تنظیموں کو سب سے بڑا اور گمبھیر مسئلہ مالیات کے حوالے سے ہوتا ہے۔ ی۔ہ۔و۔د۔ی۔و۔ں کے خوار ہونے بلکہ خواری میں ضرب المثل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ بزدل اور کم حوصلہ تھے۔ بزدل تو وہ آج بھی ہیں ليکن ان کےحوصلے کو دیکھیے کہ خدائی سزا کے طور پر مسلط کردہ اقوام کے ہاتھوں صدیوں تک مار کھانے کے بعد پھر اپنے مقرر کردہ راستے پر چلنا شروع ہو گئے ہیں۔ وہ ذلت کا طویل دور گزارنے کے باوجود ذہنی الجھاؤ یا بےحوصلگی کا شکار نہیں ہوئے۔ انہوں نے اپنا مقصد ایسا معین اور ذہن ایسا صاف رکھا کہ ہر افتاد کے بعد جرأت مندانہ قدم اٹھا لیتے ہیں۔ اے میری قوم! کیا تجھ سے ایسا ہو نہیں سکتا؟ کیا ہم ی۔ہ۔و۔د کو دیکھ کر بھی غیرت نہ پکڑیں گے؟؟؟
ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ اللہ اور اس کے پیغمبروں کے گستاخ و بےادب تھے اور پھر بھی خود کو اللہ کا بیٹا اور محبوب سمجھتے تھے۔ قران شریف میں ان پر لگائی گئی "مُہرِ جباریت" سے نکلنے کا ایک راستہ ''اِلاَّ بحبل مّن اللہ'' تھا، یعنی اللہ تعالیٰ سے کسی نوع کا تعلق و رشتہ، (اس آیت میں بہت غور و فکر کے بعد ذہن اسی مطلب کی طرف جاتا ہے۔ قبولِ جزیہ کی تفسیر کو دل اس لیے نہیں مانتا کہ یہ تو خود بدترین ذلت ہے، اس کا ذلت سے استثناء کیسے درست ہوگا؟ اہلِ علم رہنمائی فرمائیں تو انتہائی مشکور ہوں گا) اور ندامت و پشیمانی سے بڑھ کر انسان کا اللہ تعالیٰ سے رشتہ اور کیا ہوگا؟ آج دیوارِ براق کے نزدیک اور صحرائے سینا میں واقع وادئ طور میں ی۔ہ۔و۔د۔ی۔و۔ں کے اجتماعات کے دوران ان کی گریہ و زاری کو کوئی دیکھےتو تعجب ہوتا ہے، دوسری طرف شبِ قدر میں مسلمانوں کی غفلت اور دنیا میں مشغولیت ملاحظہ کرکے سینہ پھٹنے لگتا ہے۔
*نظریۂ دائمی جدلیت:*
ممکن ہے قارئین یہ سوال کریں کہ ی۔ہ۔و۔د کے اتنے تذکرے اور قصہ خوانی سے کیا مقصد ہے؟ اس کا جواب بھی قرآن کریم سے ملتا ہے کہ مسلمانوں کو دو گروہوں سے ابدی اور دائمی دشمنی کا سامنا رہے گا۔ (سورۂ مائدہ: آیت نمبر ۸۲) یہ دو گروہ ی۔ہ۔و۔د اور ہنود ہیں، ان سے مسلمانوں کی عظیم معرکہ آرائی نوشتۂ تقدیر ہے، جسے آپ تیسری یا آخری جنگِ عظیم بھی کہہ سکتے ہیں۔ اور انہی دو سے لڑنے والوں کو صحیح حدیث شریف میں عظیم بشارتیں دی گئی ہیں لہٰذا مسلمانوں کو ہمہ وقت ان کی نفسیات، منصوبوں اور کارکردگی پر نظر رکھنے اور ان سے معرکے کی تیاری کیے بغیر چارہ نہیں۔
افسوس کہ ی۔ہ۔و۔د۔ی۔و۔ں نے مار کھانے کے بعد خود کو سنبھال لیا مگر مسلمان کا حال ناگفتہ بہ ہے۔ ی۔ہ۔و۔د تو جھوٹے مسیح د۔جا۔ل کے ظہور کے لیے جملہ شرائط پوری کرکے اس کے ظہور کے منتظر ہیں حالانکہ وہ یہ سب کچھ کرنے کے باوجود اس انجام کا شکار ہوں گے جو د۔جّا۔ل کے لیے مقدر ہے مگر مسلمان سچے مسیح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام (جن کے ہاتھ پر تمام عیسائی مسلمان ہوکر مسلمانوں کے ساتھ ہوجائیں گے بلکہ بعض ی۔ہ۔و۔د بھی جو د۔جّا۔ل کے لشکر سے نکل آئیں گے، ان کے مبارک ہاتھ پر مسلمان ہو جائیں گے) کی ہمراہی کے لیے اپنے اعمال کی درستگی اور معرکۂ عظیم کی تیاری سے غافل ہیں۔ ان احوال کو دیکھ کر لگتا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے علاوہ کسی اور کو مسلمان بنا کر کھڑا کریں گے جو اس کے نیک بندوں کی ہمراہی کا حق ادا کریں گے اور ہم یونہی منہ تکتے رہ جائیں۔
"اور اگر تم (اپنے عہد سے) پھر جاؤ گے تو وہ تمہاری جگہ دوسری قوم لا کھڑی کرے گا، جو تمہاری طرح نہ ہوں گے۔"
ان شاء اللّٰہ جاری ہے
#مہدالفکرالاسلامی
#غزہ
#مسجدالاقصی
#القدس
08/03/2026
*درود شریف سے پہلے استغفار پڑھنے کا راز*
ایک دفعہ بنوری ٹاؤن میں حضرت مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا شاہ عبدالغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا ابرار الحق رحمۃ اللہ علیہ صاحب موجود تھے، مصر کے علماء اور غیر عرب کے علماء بھی تھے،
وہاں ایک سوال چلا کہ صاحب پہلے ہم استغفار پڑھیں یا پہلے درود شریف پڑھیں، اس میں کیا ترتیب رکھیں ؟؟
چوں کہ ہمارے شیخ سب سے بڑے تھے لہٰذا مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ اور سب نے میرے شیخ حضرت مولانا شاہ عبدالغنی رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ حضرت آپ بیان کیجیے، آپ ہم سب میں بڑے ہیں اور حکیم الامت کے خلیفہ ہیں۔
تو حضرت نے جواب دیا کہ اس کا جواب میں وہی دے رہا ہوں جو حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے دیا تھا جب ان سے کسی نے ایسا ہی سوال کیا تھا تو حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
کہ تم کپڑا پہلے دھوتے ہو یا عطر پہلے لگاتے ہو؟ یعنی گندا کپڑا پہلے دھوؤ گے یا عطر پہلے لگاؤ گے تو اس نے کہا کہ پہلے کپڑا دھوئیں گے۔
تو فرمایا کہ اسی طرح پہلے استغفار کر کے اپنی روح دھولو پھر درود شریف کا عطر لگاؤ۔
`(نگاہ نبوت میں محبت کا مقام)`
#درودشریف
#معہدالفکرالاسلامی
08/03/2026
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*
{معہد الفکر الاسلامی تاریخ کے اس اہم دور میں اپنا فرض ادا کرنے کے لیے ایک تاریخی اور معلوماتی سلسلہ شروع کررہا ہے جس میں ارضِ فلسطین کی فضیلت و اہمیت سے لے کر حرمِ قدسی کے مکمل تعارف اور تاریخ تک اور فلسطین میں ی۔ہ۔و۔د۔ی ریاست کی داغ بیل ڈالنے کے نا۔پا۔ک منصوبے اور ی۔ہ۔و۔د۔ی سازشوں کا مکمل بیان کیا جائے گا۔ مندرجہ ذیل مضامین مشہورِ زمانہ کتاب اقصیٰ کے آنسو کے جدید ترین ایڈیشن سال 2023 سے منقول ہیں جنہیں ہماری ٹیم ممبر نے براہِ راست کتاب سے من و عن پیش کیا ہے۔}
*کتاب: اقصیٰ کے آنسو*
*مصنف: مفتی ابو لبابہ شاہ منصور*
`مضمون نمبر ۲۲`
`عنوان: کہیلا کی کہانی (حصہ سوم)`
*دنیا كے بارہ حصے:*
"كہیلا" كے معنی گورنمنٹ كے ہیں، یہ ی۔ہ۔و۔د۔ی۔و۔ں كی زیرِ زمین تنظیم ہے جو جتنی پوشیدہ ہے اتنی ہی طاقتور بھی ہے۔ نیویارک كی سیاسی اور اقتصادی زندگی میں اس كاعمل دخل اتنا زیادہ ہے كہ آپ كہہ سكتے ہیں کہ نیویارک كے باشندے غیر محسوس طریقہ سے اس كے پروگرام پر چلتے ہیں اور اس كا پروگرام كیا ہوتا ہے؟ ی۔ہ۔و۔د، ی۔ہ۔و۔د۔ی۔ت اور ی۔ہ۔و۔د۔ی مفادات۔
یہ صرف تنظیم نہیں، خفیہ حکومت ہے۔ ایسی خفیہ حکومت جس کا ہر لفظ قانون ہے اور ہر عمل ی۔ہ۔و۔د نوازی، ی۔ہ۔و۔د پروری اور ی۔ہ۔و۔د کی سرپرستی کے گرد گھومتا ہے۔ یہ تنظیم امریکا کے سب سے بڑے تجارتی و سیاسی مرکز میں بیٹھ کر امریکی رجحانات اور پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے ایسے طور طریقے اختیار کرتی ہے کہ ان کا مطالعہ کرنے والا انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ اس نے امریکی طرزِ معاشرت، امریکی فکر اور امریکی سیاست کو اس قدر اپنا تابع بنالیا ہے کہ یہ سب چیزیں ی۔ہ۔و۔د۔ی۔ت زدہ ہوکر رہ گئی ہیں۔ امریکی معاشرے کی کسی چیز کی اپنی کوئی انفرادیت باقی نہیں رہی ہے۔
ی۔ہ۔و۔د۔ی۔و۔ں کے بڑوں نے نیویارک کو چھوٹے چھوٹے بارہ ٹکڑوں میں اور پورے امریکہ کو بارہ حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ہر ٹکڑے اور حصے کا سربراہ ایک طاقتور اور بااثر ی۔ہ۔و۔د۔ی ہے۔ (حضرت موسٰی علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل کے 12 بڑے ی۔ہ۔و۔د۔ی۔و۔ں کی نگرانی میں 12 قبیلے اور ہر قبیلے کا ایک الگ سردار بنایا گیا تھا) امریکہ پر غلبہ پانے کے بعد انہوں نے پوری دنیا کو بھی بارہ بڑے ی۔ہ۔و۔د۔ی۔و۔ں کی نگرانی میں بارہ حصوں میں تقسیم کردیا اور نیویارک کو پوری دنیا کا مرکز مان کر اسے ی۔ہ۔و۔د۔ی دارالخلافہ قرار دے دیا۔ آج کل کے باخبر امریکی بھی نہیں جانتے کہ اگرچہ ان کے ملک کا دارالحکومت واشنگٹن ڈسٹرکٹ آف کولمبیا (واشنگٹن ڈی سی) ہے، لیکن ان کے ملک میں ایک قوم ایسی بھی رہتی ہے جو نیویارک کو اپنا دارالحکومت مانتی ہے اور اس قوم کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے افراد نیویارک کو (جو فلسطین میں واقع اصل یروشلم تک رسائی سے پہلے ی۔ہ۔و۔د۔ی۔و۔ں کے لیے نیو یروشلم تھا) اس طرح احترام سے دیکھتے ہیں جیسے کیتھولک عیسائی روم (ویٹی کن سٹی) کو اور مسلمان مکہ معظمہ کو۔
ریاست کے اندر ریاست کی اصطلاح مشہور تو بہت ہے، لیکن اگر کوئی اس کی عملی مثال دیکھنا چاہے تو نیویارک کو دیکھے کیونکہ یہ ریاست کے اندر ریاست بلکہ عالمی ریاست کا کھلا نمونہ ہے۔ لفظ ''کہیلا'' کے معنی گورنمنٹ کے ہیں اور ی۔ہ۔و۔د نے خفیہ گورنمنٹ بلکہ سپر گورنمنٹ قائم کرکے اس لفظ کی معنویت کو پوری شدت کے ساتھ ثابت کردیا ہے، ی۔ہ۔و۔د۔ی۔و۔ں کی یہ خفیہ تنظیم زیرِ زمین ندی (Underground River) کی طرح اور ی۔ہ۔و۔د۔ی۔ت پر تحقیق کرنے والے ماہرین اسے ی۔ہ۔و۔د۔ی۔و۔ں کی اعلیٰ ترین تنظیم زنجری (Zinjry) کا مضبوط ترین عضو قرار دیتے ہیں۔ یہ "زنجری" بین الاقوامی ص۔ہ۔ی۔و۔ن۔ی ی۔ہ۔و۔د۔ی۔ت (zionist internatinal jewry) کا مخفف ہے۔ یہ ص۔ہ۔ی۔و۔ن۔ی۔ت کے بڑے دماغوں پر مشتمل وہ اعلیٰ ترین باڈی ہے کہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہزاروں ی۔ہ۔و۔د۔ی تنظیمیں اس کے ماتحت کام کرتی ہیں۔
ان شاء اللّٰہ جاری ہے
#مہدالفکرالاسلامی
#غزہ
#مسجدالاقصی
#القدس
07/03/2026
محمدﷺ وہ بابرکت اسمِ گرامی ہے جو شب و روز زندگی کے ہر لمحہ، ہر گھڑی، ہر آن لاکھوں، کروڑوں، اربوں سعادت مند انسانوں کے لبوں کو ملا کر، عظیم سعادتوں سے نواز کر قلب و روح کو مسرتوں، شادمانیوں سے سرشار کر دیتا ہے۔
(درود شریف اور اس کے فضائل)
#درودشریف
#معہدالفکرالاسلامی
05/03/2026
*محسنِ اعظمﷺ کا عظیم حق۔۔۔درود شریف کی کثرت*
حضورِ اقدسﷺ کی ذاتِ مقدس تمام بنی نوع انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دونوں جہانوں کے لیے رحمت للعالمین بنا کر بھیجا جنہوں نے بھٹکی ہوئی انسانیت کو نجات و ہدایت کا ایک ایسا روشن راستہ دکھایا جو رہتی دنیا تک ہر زمانے اور ہر دور کی تمام ضروریات پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے اس کائنات میں ایک مومن کا سب سے بڑا محسن نبی کریم ﷺ کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا۔ آپﷺ کے جتنے احسانات اس امت پر ہیں اتنے کسی کے بھی نہیں ہیں۔ حضورِ اقدس ﷺ کا یہ حال تھا کہ اپنی امت کی فکر میں دن رات گھلتے رہتے تھے۔
ایک صحابی رضی اللہ عنہ حضورِ اقدس ﷺ کی اس حالت کو بیان فرماتے ہوئے کہتے ہیں:
"جب بھی میں آپﷺ کو دیکھتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ کسی فکر میں ہیں اور کوئی غم آپﷺ پر طاری ہے۔"
علماء کرام فرماتے ہیں کہ یہ فکر اور غم کوئی اس بات کا نہیں تھا کہ آپﷺ کو تجارت میں نقصان ہو رہا تھا اور مال و دولت میں کمی آرہی تھی یا دنیا کے اور دوسرے مال و اسباب میں قلت آرہی تھی، بلکہ یہ فکر اور غم اس امت کے لیے تھا کہ میری امت کسی طریقے سے جہنم کے عذاب سے بچ جائے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اس کو حاصل ہو جائے۔
ہر سچے مومن اور مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے محسنِ اعظمﷺ کے احسانِ عظیم کا بدلہ اور شکریہ ادا کرنے کے لیے ایسا طریقہ اختیار کرے جو اللہ تعالیٰ کے پاس مقبول اور پسندیدہ ہو۔ چونکہ ہم اپنے محسن حضورِ اقدسﷺ کے احسانات کا بدلہ چکانے سے عاجز تھے، خداوند تعالیٰ نے ہمارا یہ عجز دیکھ کر ہمیں ایک آسان اور بہترین طریقہ سکھایا کہ ہم حضورِ اقدسﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجیں۔ جو دعا بھی ہے، دوا بھی ہے، سلام بھی ہے، ہدیہ بھی ہے، شکریہ بھی ہے اور اظہارِ محبت بھی۔
(درود و سلام کے فضائل)
#معہدالفکرالاسلامی
#درودشریف
05/03/2026
خواتین کا سوشل میڈیا کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے مگر یہ استعمال شعور، احتیاط اور ذمہ داری کا متقاضی ہے۔ آج کے پُرفتن دور میں سوشل میڈیا آگہی کا ذریعہ بھی ہے اور آزمائش کا میدان بھی۔
سوشل میڈیا نہ مکمل خیر ہے نہ مکمل شر، یہ ایک فتنہ بھی ہے اور جدید دور کا ہتھیار بھی۔
آئیے، معہد الفکر الاسلامی آنلائن اکیڈمی کے زیرِ اہتمام اس معلوماتی اور تربیتی سیشن میں سیکھتے ہیں کہ ہم خواتین کو سوشل میڈیا کے فتنے سے بچتے ہوئے کیسے اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہے۔
آنلائن سیشن بذریعۂ زوم ایپلیکیشن
10 مارچ 2026 بروز منگل بعد ظہر
رجسٹریشن فیس: 200 روپے
رابطہ کیجیے: 03702355457
#معہدالفکرالاسلامی
04/03/2026
بریرہ فاطمہ ۔🖋️
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
میں شروع میں یہ سوچتی تھی کہ اپنے ادارے کے لیے باقاعدہ فنڈنگ کا نظام قائم نہیں کروں گی، بلکہ اسے مکمل طور پر خودمختار بناؤں گی تاکہ یہ اپنی کمائی سے اپنے اخراجات پورے کرے۔ مُجھے یہ خیال بہت اچھا لگتا تھا اور میں سمجھتی تھی کہ یہی زیادہ باعزت اور مضبوط راستہ ہے۔
لیکن بعد میں احساس ہوا کہ یہ سوچ دراصل سنت کے منہج کے مطابق نہیں تھی اور مُجھے اس کا علم نہ تھا۔ جب میں نے اپنی یہ خواہش اپنی معلمہ باجی رابعہ جان کے سامنے رکھی تو انہوں نے بڑی محبت سے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے مال والوں کو مال اس لیے دیا ہے کہ وہ اسے علم والوں اور ضرورت مندوں پر خرچ کریں اور علم والوں کو علم اس لیے دیا ہے کہ وہ اسے امت تک پہنچائیں۔ یہ ایک باہم مربوط نظام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ طریقہ ہے جس پر دینی نظام ہمیشہ سے قائم رہا ہے اور یہی نبی کریمﷺ کا منہج ہے۔ اس سے ہٹ کر انسان کتنی ہی کوشش کر لے، کوئی نظام مستقل طور پر نہیں چل سکتا۔ ممکن ہے وہ کسی ایک شخص کی زندگی تک چل جائے لیکن اس کے بعد منقطع ہو جانے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے دینی ادارے طویل مدت تک باقی رہیں تو ہمیں اسی نبوی منہج کو اختیار کرنا ہوگا۔
آج کل اس طریقے کو بعض لوگ کمزوری یا محتاجی سمجھتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے ادارے بھی لوگوں کے مالی تعاون ہی سے قائم ہیں۔ البتہ جیسے ہر سفید ریوڑ میں چند کالی بھیڑیں بھی ہوتی ہیں، اسی طرح کچھ لوگوں نے ناجائز طریقوں سے چندہ جمع کر کے اس نظام کو بدنام کیا ہے۔ ایسے حالات میں ہماری ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ امانت اور دیانت کے ساتھ مال داروں کا مال مستحقین تک پہنچائیں اور کسی بدعنوانی کو جگہ نہ دیں۔
اور جس نظام کو بعض لوگوں نے باعثِ شرم بنا دیا ہے، وہ دراصل نبی کریمﷺ کا طریقہ ہے، اس پر شرمانے کی کوئی وجہ نہیں۔ ہمیں تو نبی کریمﷺ کی ہر سنت کو زندہ کرنا ہے اور یہ بھی ایک سنت ہے۔
نبی کریمﷺ مال دار صحابہؓ کے اموال کو ضرورت مندوں اور دین کے کاموں میں صَرف فرماتے تھے۔ مثال کے طور پر عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غزوۂ تبوک کے موقع پر کثیر مال اور سامان پیش کیا تو نبی کریمﷺ نے اسے قبول فرمایا اور لشکرِ اسلام کی تیاری میں استعمال کیا۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
*"خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا"*
"آپ ان کے اموال میں سے صدقہ وصول کیجیے، جس کے ذریعے آپ انہیں پاک اور پاکیزہ بنائیں۔" (سورۃ التوبة:103)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مال داروں کا مال دین اور اہلِ حاجت پر خرچ کرانا نبوی نظام کا حصہ ہے، نہ کہ کوئی کمزوری۔ اب ہم ہر سال زکوٰۃ ادا تو کر دیتے ہیں، مگر کیا کبھی یہ سوچا کہ ہماری زکوٰۃ کس دل کو زندہ کر رہی ہے؟ کس ذہن کو روشنی دے رہی ہے؟ اور کس نسل کو دین سے جوڑ رہی ہے؟
معہد الفکر الاسلامی میں آپ کی زکوٰۃ اور صدقات صرف ضرورت مندوں تک نہیں پہنچتے بلکہ علمِ دین، اصلاحِ عقیدہ اور امت کی فکری بیداری کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہاں ایسے طلباء و طالبات تیار ہو رہے ہیں جو دین کو سمجھیں، اس پر عمل کریں اور آگے پہنچائیں اور آنے والے وقتوں میں بطور سچے مسلماں اپنا کردار ادا کریں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
*"إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ ...... وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ"*
بےشک صدقات فقراء، مساکین ...... اور اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والوں کے لیے ہیں۔ (سورۃ التوبة: 60)
اہلِ علم علماء و فقہاء نے "فی سبیل اللہ" میں دینی علم کی خدمت اور اشاعت کو بھی شامل کیا ہے اور یہی وہ میدان ہے جہاں ایک صدقہ نسلوں کو بدل سکتا ہے۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا:
"جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، نفع بخش علم یا نیک اولاد جو دعا کرے۔" (مسلم)
معہد الفکر الاسلامی میں دی گئی زکوٰۃ اور صدقات ان شاء اللہ صدقۂ جاریہ اور علمِ نافع دونوں بن سکتے ہیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زکوٰۃ صرف خرچ نہ ہو بلکہ امت کی اصلاح کا حصہ بنے تو اپنی زکوٰۃ و صدقات معہد الفکر الاسلامی کو دیں۔
یہ صرف مالی تعاون نہیں
یہ ایک فکر، ایک نسل اور مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔
#معہدالفکرالاسلامی #زکوٰۃ #صدقة
04/03/2026
*درود شریف کے خواص*
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ دعا آسمان و زمین کے درمیان معلق رہتی ہے اوپر نہیں جاتی جب تک کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھو۔
زاد السعید
#معہدالفکرالاسلامی
#درودشریف
| Monday | 09:00 - 15:00 |
| 17:00 - 23:00 | |
| Tuesday | 09:00 - 15:00 |
| 17:00 - 23:00 | |
| Wednesday | 09:00 - 15:00 |
| 17:00 - 23:00 | |
| Thursday | 09:00 - 15:00 |
| 17:00 - 23:00 | |
| Friday | 09:00 - 15:00 |
| 17:00 - 23:00 |