01/08/2024
اگر آپ چائے نہیں پیتے
گنگناتے نہیں ہیں
بارش میں نہیں بھیگتے
محبت نہیں کرتے
اور کتاب نہیں پڑھتے
تو پھر آپ کو موت کا کوئی ڈر نہیں ہونا چاہئے
کیونکہ
آپ پہلے ہی مر چکے ہیں.
اردو زبان و ادب کی ترویج کے لیے کوشاں۔ Urdu Instructor for All types of Urdu Language and Literature Exams.
01/08/2024
اگر آپ چائے نہیں پیتے
گنگناتے نہیں ہیں
بارش میں نہیں بھیگتے
محبت نہیں کرتے
اور کتاب نہیں پڑھتے
تو پھر آپ کو موت کا کوئی ڈر نہیں ہونا چاہئے
کیونکہ
آپ پہلے ہی مر چکے ہیں.
24/07/2024
دوران ، انٹرویو ۔۔
آپ اس جاب کے لئے کتنی سیلری کی توقع رکھتی ہیں ۔۔؟
کم از کم نوے ہزار ۔۔۔ خاتون نے پر اعتماد انداز میں جواب دیا ۔۔
کسی کھیل سے دلچسپی ؟؟؟
باس نے پوچھا ۔۔
جی ہاں ۔۔ شطرنج کھیلتی ہوں ۔۔
آہاں ۔۔چلیں اسی حوالے سے بات کرتے ہیں ۔۔
شطرنج کی کون سی گوٹی آپکو زیادہ پسند ہے ۔۔۔ یا یوں کہہ لیں کہ کس گوٹی سے متاثر ہیں ۔۔۔
خاتون نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔ وزیر ۔۔
زبردست ،لیکن کیوں ؟ جبکہ میرے خیال میں گھوڑے کی چال سب سے منفرد ہے ۔۔ باس نے تجسس سے پوچھا ۔۔
بیشک ۔لیکن میں سمجھتی ہوں کہ وزیر میں وہ تمام خوبیاں شامل ہیں جوسب گوٹیوں میں الگ الگ سے پائی جاتی ہیں ۔ وہ پیادے کی طرح ایک قدم چل کر بادشاہ کو بچا لیتا ہے اور کبھی فيلے کی طرح ترچھا چل پڑتا ہے اور کبھی توپ بن کر بچا لیتا ہے ۔
ویری انٹرسٹڈ۔۔ باس نے متاثرکن انداز میں پوچھا ۔ بادشاہ کے متعلق آپکی کیا رائے ہے۔؟؟
سر ، بادشاہ کو میں سب سے زیادہ کمزور سمجھتی ہوں ،کیوں کہ وہ خود کو بچانے میں صرف ایک قدم چل سکتا ہے جبکہ وزیر اسے چاروں اطراف سے بچا سکتا ہے ۔۔ خاتون کا جواب ۔
نہایت متاثر کن ۔۔ چلیں یہ بتائیے ان تمام گوٹیوں میں سے آپ خود کو کون سی گوٹی تصور کرتی ہیں ۔۔
خاتون نے جھٹ سے جواب دیا ۔۔
بادشاہ ۔۔
لیکن وہ تو آپکے مطابق مجبور ہوتا ہے ،خود کو بچا نہیں پاتا اور وزیر کا مرہون منت ہوتا ہے ۔۔ باس نے حیرانی سے پوچھا ۔۔۔
جی ہاں ،میرے مطابق یہی ہے ۔ میں بادشاہ ہوں اور وزیر میرے شوہر جو میری حفاظت مجھ سے بڑھ کر، کر سکتے ھیں ۔۔۔
ویری نائس ۔ انٹرویو لینے والے نے باقاعدہ ہلکے ہاتھوں تالی بجاتے ہوئے کہا ۔۔
اچھا ایک آخری سوال ، آپ یہ جاب کیوں کرنا چاہتی ہیں ۔ باس نے دلچسب انٹرویو کا
احتتام کرتے ہوئے پوچھا ۔۔
خاتون نے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا ۔۔۔
کیوں کہ میرا وزیر اب اس دنیا میں نہیں رہا ۔۔
🌷
25/06/2024
ایک قیدی نے جیل کی انتظامیہ سے ایک مخصوص کتاب پڑھنے کی درخواست کی، اور انہیں کتاب کا نام لکھ کر دیا-
جیل انتظامیہ نے جواب دیا کہ درخواست کردہ کتاب تو موجود نہیں ہے
لیکن اگر آپ اس کتاب کے مصنف سے ملنا چاہتے ہیں تو وہ ہمارے پاس اسی جیل میں قید ہے !!
31/12/2023
" اردو ہے جس کا نام "
۱۔ کان میں سرگوشی… جب سرگوشی کہا گیا تو *کان میں* کہنے کی ضرورت نہیں۔
۲۔ انڈے کی طرح بیضوی… جب بیضوی کہا جائے تو *انڈے کی طرح* کہنے کی ضرورت نہیں۔
۳۔ پھولوں کا گلدستہ… جب گلدستہ کہا جائے تو *پھولوں کا* کہنے کی ضرورت نہیں۔
۴۔ آب زم زم کا پانی… جب *آبِ زم زم* کہا جائے تو *پانی* کہنے کی ضرورت نہیں۔
۵۔ شب قدر کی رات… جب *شب قدر* کہا جائے تو *رات* کہنے کی ضرورت نہیں۔
۶۔ حجر اسود کا پتھر… جب *حجراسود* یا سنگ مرمر کہا جائے تو *پتھر* کہنے کی ضرورت نہیں۔
۷۔ نوشتہ دیوار پر لکھا ہے…جب *نَوِشْتَہ* کہا جائے تو *لکھا ہے* کہنے کی ضرورت نہیں۔ (نوشتہ کا درست تلفظ بروزن فرشتہ ہے)...
۸۔ ہونٹوں پر زیرلب مسکراہٹ… جب *زیرلب* کہا جائے تو *ہونٹوں پر* کہنے کی ضرورت نہیں۔
۹۔ گندے پانی کا جوہڑ… جب *جوہڑ* کہہ دیا تو *گندے پانی* کہنے کی ضرورت نہیں۔
۱۰۔ پانی کا تالاب… تالاب میں خود آب موجود ہے۔ *پانی کا* کہنے کی ضرورت نہیں۔
۱۱۔ صبح تا شام تک، دس تا بارہ سال تک!… جب *تا* کہا جائے تو *تک* کہنے کی ضرورت نہیں۔
۱۲۔ بہترین نعم البدل… جب *نعم البدل* کہہ دیا تو *بہترین* کہنے کی ضرورت نہیں۔
۱۳۔ نمک پاشی چھڑکنا… جب *نمک پاشی* کہہ دیا تو مزید نمک *چھڑکنے* کی کوئی ضرورت نہیں۔
۱۴۔ زیادہ بہترین… جب بہتر یا بہترین کہا جائے تو *زیادہ* یا *بہت* کہنے کی ضرورت نہیں۔
۱۵۔ فی الحال ابھی میں نہیں آ سکوں گا!… جب *فی الحال* کہہ دیا تو *ابھی* کہنے کی ضرورت نہیں۔
۱۶۔ ناجائز تجاوزات… جب *تجاوزات* کہہ دیا تو *ناجائز* کہنے کی ضرورت نہیں۔
۱۷۔ایصال ثواب پہنچانا… جب *ایصال* کہہ دیا تو *پہنچانا* کہنے کی ضرورت نہیں۔
۱۸۔ قابلِ گردن زَدنی… صرف *گردن زَدنی* کہنا کافی ہے، قابل کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
۱۹۔ ابھر کر سامنے آئے ہیں… جب *ابھر* ہی گئے ہیں تو *سامنے آنے* کی کوئی ضرورت نہیں۔
۲۰۔ تا ہنوز… جب *ہنوز* کہا جائے تو *تا* کہنے کی ضرورت نہیں۔
۲۱۔ آنکھیں نمدیدہ ہو گئیں!…جب *نم دیدہ* کہا جائے تو *آنکھیں* کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
۲۲۔ روز افزوں بڑھنا… جب *افزوں* کہا جائے تو *بڑھنا* کہنے کی کچھ ضرورت نہیں۔
۲۳۔ نئی جدت… جب *جدت* کہا جائے تو *نئی* کہنے کی ضرورت نہیں۔
24/12/2023
قتیل شفائی کا تعارف
تخلص :'قتیل
اصلی نام :اورنگ زیب خاں
پیدائش :24 دسمبر 1919ع ہزارہ, خیبر پختنخوا
وفات :11 جولائی 2011ع
جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
اورنگ زیب خاں نام اور قتیل تخلص تھا۔۲۴؍دسمبر ۱۹۱۹ء کو ہری پور، ضلع ہزارہ (صوبہ سرحد) میں پیدا ہوئے۔ حکیم یحییٰ خاں شفا کے شاگرد تھے۔اسی مناسبت سے شفائی کہلاتے تھے۔’’ادب لطیف‘‘ اور ’’سنگ میل‘‘ کے مدیر رہے۔ انھوں نے گیت بھی لکھے، نظمیں بھی اور غزلیں بھی۔ ان کی فلمی گیتوں نے برصغیر کے سامعین کو بہت متأثر کیا۔تمغا برائے حسن کارکردگی او رآدم جی ادبی ایوارڈ کے علاوہ کتنے ہی اعزازات حاصل کیے۔ اس کے علاوہ متعدد ایوارڈ بہترین نغمہ نگاری پر ملے جن میں نیشنل فلم ایوارڈ، نگار ایوارڈ،مصور ایوارڈ وغیرہ شامل ہیں۔۱۱؍جولائی ۲۰۰۱ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’ہریالی‘، ’گجر‘، ’جلترنگ‘، ’روزن‘ ، ’جھومر‘، ’مطربہ‘، ’گفتگو‘، ’چھتنار‘، ’آموختہ‘، ’پیراہن‘، ’ابابیل‘، ’برگد‘، ’گھنگرو‘، ’رنگ ،خوش بو، گیت‘(شاہ کار گیت) ، ’مونالیزا‘، ’سمندر میں سیڑھی‘۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:105
اقتباس۔۔ مشمولہ #آوازِدوست از
بچوں کی کہانیوں میں مجھے جرات اور قربانی کا نشان ملا اور لڑکوں کی کتابوں سے مجھے حکمت اور خدمت کا پتہ چلا۔ پہلے گروہ کے لوگ شہید کہلاتے ہیں اور اس دوسرے گروہ میں جو لوگ شامل ہیں انہیں محسنین کہا جاتا ہے۔ اہلِ شہادت اور اہل احسان میں فرق صرف اتنا ہے کہ شہید دوسروں کے لیے جان دیتا ہے اور محسن دوسروں کے لیے زندہ رہتا ہے۔ ایک کا صدقہ جان ہے اور دوسرے کا تحفہ زندگی۔ ایک سے ممکن وجود میں آتا ہے اور دوسرے سے اس وجود کو توانائی ملتی ہے ۔ ان کے علاوہ ایک تیسرا گر وہ بھی ہوتا ہے جو اس توانا وجود کو تا بندگی بخشتا ہے ۔ جو لوگ اس آخری گروہ میں شامل ہوتے ہیں انہیں اہلِ جمال کہتے ہیں ۔ اہلِ جمال کی پہچان یہ ہے کہ یہ لوگ مسجد قرطبہ تعمیر بھی کرتے ہیں اور تحریر بھی ۔ یہ الحکم کی طرح بادشاہ بھی ہو سکتے ہیں اور اقبال کی طرح درویش بھی ۔ انہیں تخلیق حسن پر مامور کیا جاتا ہے۔ نثر ہو کہ شعر ،نقش ہو کہ نغمہ، رنگ ہو کہ خشت و سنگ ، یہ خونِ جگر سے اسے یوں تمام کرتے ہیں کہ جو نظر ان کی تخلیق پر پڑتی ہے وہ روشن ہو جاتی ہے، اگر ان کی تخلیق میں حُسن صورت ہے تو خود ان کی اپنی ذات میں بھی ایک حُسن ہوتا ہے جسے حُسن سیرت کہتے ہیں ۔ حُسن کی دولت اہلِ جمال کو اتنی وافر ملتی ہے کہ وہ اسے دوسروں میں تقسیم کرتے رہتے ہیں ۔ یہ تقسیم ان کی زندگی کے بعد بھی جاری رہتی ہے اور اس کی بدولت بدی اور بدنمائی کو پھلنے پھولنے کا موقع ہی نہیں ملتا ۔
زندگی کو ایک گروہ نے ممکن بنایا ، دوسرے نے تو انا اور تیسرے نے تابندہ ۔۔
جہاں یہ تینوں گروہ موجود ہوں وہاں زندگی موت کی دسترس سے محفوظ ہو جاتی ہے اور جس ملک یا عہد کو یہ گروہ میسر نہ آئیں اسے موت سے پہلے بھی کئی بار مرنا پڑتا ہے۔ جس سرحد کو اہلِ شہادت میسر نہ آئیں وہ مٹ جاتی ہے۔ جس آبادی میں اہلِ احسان نہ ہوں اسے خانہ جنگی اور خانہ بربادی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس تمدن کو اہل جمال کی خدمات حاصل نہ ہوں وہ خوشنما اور دیر پا نہیں ہوتا ۔۔۔
حاضر جوابی اور حاضر دماغی: 🙂 🙂
٭ ایک شخص نے مشہور شاعر متنبی سے کہا: میں نے دور سے آپ کو دیکھ کر عورت سمجھا
متنبی نے جواب دیا: میں نے جب دور سے آپ کو دیکھا تھا آپ کو مرد سمجھا تھا۔
٭ برطانیہ کے موٹے وزیراعظم " چرچل"نے دبلے " برنارڈشو" سے کہا : تمہیں جو دیکھے گا وہ سوچے گا کہ برطانیہ میں غذائی بحران ہے۔ اس پر شو نے کہا: جو تمہیں دیکھے گا اس بحران کا سبب بھی سمجھ جائے گا۔
٭ ایک عرب بدو گدھے پر بیٹھ کر ایک گاوں میں گیا تو ایک شخص نے اس سے کہا: میں نے تمہارے گدھے کو دیکھ کرتمہیں پہچان لیا۔ اس نے فورا کہا: جی ہاں گدھے کو گدھا ہی پہچان لیتا ہے۔
٭ایک آدمی نے ایک خاتون سے کہا: تم کتنی خوبصورت ہو۔ خاتون نے کہا: کاش تم بھی خوبصورت ہوتے تو میں بھی تم سے یہی کہتی۔ آدمی نے کہا: کوئی مسئلہ نہیں میری طرح جھوٹ ہی بول لو۔
٭ایک خاتون کسی گاوں میں چار گدھوں کو ہانک کر کھیتوں میں جارہی تھی دو نوجوان سامنے سے آئے اور کہا : صبح بخیر گدھوں کی ماں۔ خاتون نے فورا کہا: صبح بخیر میرے بچوں۔
٭ ایک بدو ایک بار ایک عرب شہزادے کے ساتھ بکری کا گوشت کھا رہا تھا ، شہزادے نے ان کی جانب سے جلدی جلدی کھانے کو دیکھ کر کہا: بکری کا گوشت ایسا کھارہے ہو کہ گویا اس کی ماں نے تمہیں سینگ ماری تھی۔ بدو نے فورا کہا: تم ایسا کھا رہے ہو جیسی اس کی ماں تمہاری رضاعی ماں تھی۔
09/12/2023
وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
——
ناصر کاظمی کا یوم پیدائش
(پیدائش: 8 دسمبر 1925ء – وفات: 2 مارچ 1972ء)
——
منتخب کلام
——
آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں
——
اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
——
دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا
——
ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ
اداسی بال کھولے سو رہی ہے
——
آج تو بے سبب اداس ہے جی
عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی
——
کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں
آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں
——
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا
آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست
تو مصیبت میں عجب یاد آیا
دن گزارا تھا بڑی مشکل سے
پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا
تیرا بھولا ہوا پیمان وفا
مر رہیں گے اگر اب یاد آیا
پھر کئی لوگ نظر سے گزرے
پھر کوئی شہر طرب یاد آیا
حال دل ہم بھی سناتے لیکن
جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا
بیٹھ کر سایۂ گل میں ناصرؔ
ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا
——
دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی
کچھ تو نازک مزاج ہیں ہم بھی
اور یہ چوٹ بھی نئی ہے ابھی
شور برپا ہے خانۂ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی
بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی
تو شریک سخن نہیں ہے تو کیا
ہم سخن تیری خامشی ہے ابھی
یاد کے بے نشاں جزیروں سے
تیری آواز آ رہی ہے ابھی
شہر کی بے چراغ گلیوں میں
زندگی تجھ کو ڈھونڈتی ہے ابھی
سو گئے لوگ اس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی
تم تو یارو ابھی سے اٹھ بیٹھے
شہر میں رات جاگتی ہے ابھی
وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
——
ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی
برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی
اے دل کسے نصیب یہ توفیق اضطراب
ملتی ہے زندگی میں یہ راحت کبھی کبھی
تیرے کرم سے اے الم حسن آفریں
دل بن گیا ہے دوست کی خلوت کبھی کبھی
جوش جنوں میں درد کی طغیانیوں کے ساتھ
اشکوں میں ڈھل گئی تری صورت کبھی کبھی
تیرے قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا
گزری ہے مجھ پہ یہ بھی قیامت کبھی کبھی
کچھ اپنا ہوش تھا نہ تمہارا خیال تھا
یوں بھی گزر گئی شب فرقت کبھی کبھی
اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
——
کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں
آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں
یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر
سر پر خیال یار کی چادر ہی لے چلیں
رنج سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو
تھوڑی سی خاک کوچۂ دلبر ہی لے چلیں
یہ کہہ کے چھیڑتی ہے ہمیں دل گرفتگی
گھبرا گئے ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں
اس شہر بے چراغ میں جائے گی تو کہاں
آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں
——
پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے
پھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے
پھر کونجیں بولیں گھاس کے ہرے سمندر میں
رت آئی پیلے پھولوں کی تم یاد آئے
پھر کاگا بولا گھر کے سونے آنگن میں
پھر امرت رس کی بوند پڑی تم یاد آئے
پہلے تو میں چیخ کے رویا اور پھر ہنسنے لگا
بادل گرجا بجلی چمکی تم یاد آئے
دن بھر تو میں دنیا کے دھندوں میں کھویا رہا
جب دیواروں سے دھوپ ڈھلی تم یاد آئے
——
نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے
جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی
ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اڑاؤں کس کے لیے
وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا
اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لیے
اب شہر میں اس کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جان غزل ہی نہیں
ایوان غزل میں لفظوں کے گلدان سجاؤں کس کے لیے
مدت سے کوئی آیا نہ گیا سنسان پڑی ہے گھر کی فضا
ان خالی کمروں میں ناصرؔ اب شمع جلاؤں کس کے لیے
.............................................
| Monday | 08:00 - 22:00 |
| Tuesday | 08:00 - 22:00 |
| Wednesday | 08:00 - 13:00 |
| Thursday | 08:00 - 22:00 |
| Friday | 08:00 - 22:00 |
| Saturday | 11:00 - 17:00 |
| Sunday | 11:00 - 05:00 |