Muzaffar Baloch

Muzaffar Baloch (اِنّٙ اللہٙ مٙعٙ الصّٰبِرِینٙ) (البقرہ)

08/11/2025
05/11/2025

لالچ یا عزم؟
(قاسم علی شاہ)
ایڈورڈ ڈیس اور ریچرڈریان انسانی نفسیات پر دسترس رکھتے ہیں اور اس میدان میں بہترین خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ انھوں نے یہ بات جاننے کی کوشش کی کہ انسان کے اندر موٹیویشن (تحریک) کیسے پیدا ہوتی ہے۔ وہ کون سا جذبہ ہے جس کے تحت انسان مشکل ترین کام کرنے کے لیے بھی راضی ہوجاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک تجربہ کیا۔ انھوں نے لوگوں کی دو جماعتیں بنائیں اور دونوں کوایک ہی پہیلی حل کرنے کا ہدف دیا۔ پہلی جماعت کو کہا گیا کہ پہیلی حل کرنے کے بعد آپ کو انعام دیا جائے گا جب کہ دوسری جماعت کو کہا گیا کہ یہ ایک دلچسپ سرگرمی ہے، اگر آپ اس میں شرکت کرلیں تو بہت اچھا رہے گا۔ پہلے دن دونوں جماعتوں نے لگن کے ساتھ کام کیا، حسب وعدہ پہلی جماعت کو انعام دیا گیا۔ اگلے روز پہلی جماعت کو کہا گیا کہ آج آپ نے ایک اور پہیلی حل کرنی ہے مگر آپ کو انعام نہیں ملے گا۔ یہ سن کر ان لوگوں کی ہمت جواب دے گئی جب کہ دوسری جماعت نے دوسرا ہدف بھی دلچسپی سے مکمل کیا۔ اس تجربے سے ایڈورڈ ڈیس اور ریچرڈریان نے یہ نتیجہ نکالا کہ بیرونی انعام انسان کو وقتی تحریک دیتا ہے مگر اندرونی دلچسپی سے پیدا ہونے والی تحریک طویل اور دیرپا ہوتی ہے۔ اس تجربے کو Self-determination تھیوری کا نام دیا گیا، جس نے تعلیمی نظام اور قیادت کے نظریات کو بدل دیا۔ یہ تھیوری بتاتی ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی شخص واقعی محنت کرے تو اسے صرف انعام کا لالچ نہ دیں بلکہ اسے مقصد دیں۔ مقصد اتنی طاقتور چیز ہے کہ وہ انسان سے ہر طرح کے حالات میں کام کروا سکتا ہے۔

معروف فلسفی فریڈرک نطشے بھی کہتاہے کہ جس کے پاس جینے کی وجہ ہو وہ کسی بھی مشکل کو برداشت کر سکتا ہے۔
یہ جملہ واضح کرتا ہے کہ انسان کی قوت دراصل اس کے مقصد سے جڑی ہے، جب کوئی فرد مقصدکی اہمیت سے باخبر ہوجائے تووہ بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہوجاتاہے۔مثال کے طورپرطالب علم جب یہ جان لے کہ میری محنت سے میرا خواب مکمل ہوگاتو وہ راتوں کی نیند قربان کر دیتا ہے۔ مزدور کو جب یہ یقین ہوجائے کہ میری مشقت سے میرے بچوں کی زندگی میں بہتری آئے گی تووہ کام کی سختی اور گرمی کی شدت کی بھی پروا نہیں کرتا۔

”تحریک“(Motivation)عارضی کیفیت نہیں بلکہ ایک روحانی قوت ہے جو مقصد سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ دل سے اٹھنے والا وہ جذبہ ہے جو انسان کو تھکنے نہیں دیتا،جو ناکامی کے بعد اسے نئے عزم کے ساتھ اٹھنے کاحوصلہ دیتاہے۔زندگی کا بڑا سبق یہی ہے کہ حقیقی ”تحریک“کسی کتاب، تقریر یا موقع سے نہیں آتی،یہ صرف اس وقت جنم لیتی ہے جب انسان کے سامنے Motive(مقصد)ہو، جب اسے معلوم ہو کہ وہ کیوں جی رہا ہے اور کس خواب کے لیے کوشاں ہے۔

تحریک حاصل کرلینے کے بعد ہدف تک بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کے پاس وژن بھی ہو، کیوں کہ اکثرایسا ہوتاہے کہ انسان کو کسی چیز سے تحریک مل جاتی ہے، وہ محنت کرنے لگ جاتاہے لیکن غیر محسوس طریقے سے اس کا شوق لالچ(Greed)میں بدل جاتاہے۔لالچ ایسی کیفیت ہے جس میں انسان کی خواہشات کی کوئی حد نہیں رہتی،وہ ہر چیز زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا چاہتا ہے، چاہے اس کے لیے کسی کا حق مارنا پڑے یا اصول توڑنے پڑیں۔یہی وجہ ہے کہ مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کے باوجود وہ رُکتا نہیں، وہ مزید کی حرص میں مبتلا ہوجاتاہے۔یہ ایسی چیز ہے جس میں مبتلافردنہ صرف اپنے لیے بلکہ معاشرے کے لیے بھی خطرناک بن جاتاہے۔

آج کا انسان سوچتاہے کہ میں نے فلاں گاڑی لینی ہے۔طویل عرصے تک پیسے جوڑ جوڑ کرجب وہ گاڑی لے لیتاہے توکچھ دن بعد اس کے دل میں زیادہ اچھی گاڑی کی خواہش پیداہوجاتی ہے۔وہ اس کے لیے کوشش کرنے لگتاہے۔جب وہ بھی حاصل کرلیتاہے تواس کے بعد مزید اچھی اوراسٹائلش گاڑی چاہتاہے۔وہ خواہشات کے دائرے میں گھومتارہتاہے اوراس کا یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔یہ چیزاسے جھنجھلاہٹ میں مبتلا کردیتی ہے جس کی وجہ سے اس کا سکون اور اطمینان ختم ہوجاتاہے۔

لالچ پر قابو پانا بہت ضروری ہے کیوں کہ انسان کانفس کبھی بھی مادی چیزوں سے سیر نہیں ہوتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی (بھری ہوئی) دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری حاصل کرنا چاہے گا، آدمی کا پیٹ مٹی کے سوا کوئی اور چیز نہیں بھر سکتی۔(صحیح مسلم:2415)

دنیا کاکوئی شخص بھی Wishes Cycle(خواہشات کا دائرہ) کو مکمل نہیں کرسکتا، آپ نے وہ مشہور کہانی سنی ہوگی جس میں ایک شخص کو کہاگیا کہ سامنے موجودکئی ہزارایکٹر زمین میں سے آپ جتنی زمین عبور کرلیں گے، وہ آپ کی ملکیت شمار ہوگی، مگر شرط یہ ہے کہ صبح نکلناہے اور شام تک واپس آنا ہے۔وہ اپناسفر شروع کرتاہے اوردوپہر تک اچھی خاصی زمین عبورکرلیتاہے۔اسے دوپہر کوواپس مڑناچاہیے تھالیکن اس پر لالچ غالب آگیا، اس نے سوچا، میں سہ پہر تک زمین گھیرتاہوں، اس کے بعد واپس چلاجاؤں گا۔ سہ پہر آگئی تو اس نے سوچاابھی میرے جسم میں توانائی موجودہے میں چند مربع زمین مزیدگھیرتاہوں اور اس کے بعد دوڑکرواپس پہنچ جاؤں گا۔ وہ زیادہ سے زیادہ زمین گھیرنے میں مصروف رہااور جب واپسی کا وقت آیاتودیر ہوچکی تھی، وہ دوڑنے لگا،لیکن کچھ دیر میں ہانپنے لگا۔اس کی رفتارآہستہ ہوگئی، ٹانگوں میں توانائی کم ہوگئی، وہ ڈگمگاکر گرپڑا،کچھ لمحے ساکت پڑے رہنے کے بعد وہ اٹھااور تیزرفتاری کے ساتھ دوڑنے لگالیکن جسم نے ساتھ نہیں دیا۔وہ منہ کے بل زمین پر گرگیا،اس میں دوبارہ اٹھنے کی ہمت نہیں تھی۔وہ رینگنے لگالیکن کچھ دیر بعد جسم نے جواب دے دیا۔مایوسی اورتھکن کی وجہ سے اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں اورپھر وہ بے ہوش ہوگیا۔

پیسہ زندگی کے لیے ضروری ہے لیکن صرف پیسہ ہدف نہیں ہوناچاہیے۔پیسے کے لیے مناسب کوشش ضرور کرنی چاہیے مگر جنونی نہیں بنناچاہیے کیوں کہ جو لوگ صرف مال و دولت کواپنا ہدف بنالیتے ہیں وہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ زندگی کے سات شعبے ہیں۔ روحانیت،صحت،تعلقات، کام، پیسہ، ساکھ اورمعاشرے کی خدمت۔ہمیں ان سب میں کامیاب ہوناچاہیے۔اگرہم صرف ایک چیز پر توجہ دیں اور باقی کو نظرانداز کردیں تو اس کی وجہ سے زندگی غیر متوازن ہوجائے گی۔توازن حسن کی علامت ہے جب کہ بے اعتدالی بدصورتی کوجنم دیتی ہے۔

ہدف حاصل کرنے کے لیے ہمیں لالچ کے بجائے عزم(Grit)سے کام لیناچاہیے۔Gritکا مطلب ہے:”مقصد کے ساتھ طویل مدت تک وابستہ رہنے کا جذبہ“۔یہ محنت، صبر اور مستقل مزاجی سے جنم لیتا ہے۔ لالچ میں انسان اندھااورحریص بن جاتاہے جب کہ Gritمیں فرد مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب چلتارہتاہے۔اس کی منزل نہ صرف اسے فائدہ دیتی ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مفید ہوتی ہے۔

Gritکاتصورامریکی ماہر نفسیات انجیلاڈک ورتھ نے پیش کیا اور اسی نام سے ا س نے ایک بہترین کتاب بھی لکھی۔انجیلا نے اپنے کریئر کا آغاز استادکے طورپر کیا۔اس نے دیکھا کہ بعض طلبہ بھرپور ذہانت رکھنے کے باوجود اوسط کارکردگی دکھاتے ہیں جب کہ اوسط ذہانت کے حامل طلبہ شان دار نتائج حاصل کرتے ہیں۔اس کے اندر سوال پیدا ہوا کہ ایسا کیوں ہے؟

اس کا جواب پانے کے لیے انجیلا نے ”ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی“ اور”نیشنل اسپیلنگ بی“ جیسے بڑے اداروں میں وقت گزارااور اس پر یہ راز آشکار ہوا کہ کامیابی ذہانت سے نہیں مستقل مزاجی سے جنم لیتی ہے۔ ویسٹ پوائنٹ میں اس نے دیکھا کہ اوسط ذہانت مگر مضبوط عزم کے طلبہ سخت ترین تربیت میں بھی کامیاب رہے۔اسی طرح اسپیلنگ بی کے مقابلوں میں اس نے دیکھا کہ جن بچوں نے سب سے زیادہ مشق کی، وہی کامیاب ہوئے۔اس نے مزیدتحقیق کے لیے کاروباری اداروں اور جامعات کا رُخ کیا اوریہاں بھی یہ اسے معلوم ہوا کہ جو لوگ اپنے مقصد کے ساتھ جڑے رہتے ہیں وہی کامیابی پاتے ہیں۔

انجیلاکہتی ہے کہ ہرشخص اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے پُرجوش نظرآتاہے لیکن عزم اور مستقل مزاجی بہت کم لوگوں میں نظرآتی ہے۔حال آنکہ کامیابی کی کنجی یہی ہے۔

جب ہم ”لالچ“ کے بجائے ”عزم“ سے کام لیتے ہیں تویہ ہمیں بے شمار فوائد دیتاہے۔
1۔ مقصد کے ساتھ وابستگی
عزم ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ ہم اپنے مقصد کے ساتھ جڑے رہیں۔ ہمارے ہاں اکثر لوگ وقتی طورپرجوش میں آکر کسی کام کا آغاز کر لیتے ہیں مگرجیسے ہی مشکلات آتی ہیں تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔عزم کاحامل انسان مقصد سے عشق رکھتا ہے۔ وہ ناکامی کواختتام نہیں بلکہ سبق سمجھتا ہے۔ یہی مستقل مزاجی اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔

2۔ ناکامیوں سے سبق
عزم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمیں ناکامی سے ڈرنے کے بجائے اس سے سیکھنا سکھاتاہے۔ لچک دار سوچ رکھنے والا فرد نقصان سے بھی سیکھنے کی کوشش کرتاہے۔اسی لیے جب وہ گرتا ہے تو اٹھنے کا نیا طریقہ ڈھونڈلیتاہے۔یہ رویہ اسے وقت کے ساتھ مضبوط بنا دیتا ہے۔عزم رکھنے والافردمایوسی کے اندھیروں میں بھی امید کی کرن تلاش کر لیتا ہے۔

3۔ خوداعتمادی
عزم انسان کوخوداعتماد بناتاہے۔ مستقل مزاجی سے محنت کرنے والے شخص کو اپنی صلاحیتوں کاعلم ہوجاتاہے۔ جب وہ کسی تجربے میں کامیاب ہوتاہے تویہ کامیابی اس کاحوصلہ بڑھاتی ہے اوراگر وہ ناکام ہوجائے توناکامی اس کا عزم کمزور نہیں کرتی۔ وہ اپنے وقت، توانائی اور ترجیحات کو بہتر انداز میں منظم کرتاہے۔ یوں عزم نہ صرف اسے کامیابی دیتاہے بلکہ اس کی شخصیت سازی بھی کرتاہے۔

4۔ طویل مدتی کامیابی
دنیا میں ہونے والے بڑے بڑے کارنامے راتوں رات نہیں ہوئے بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی محنت اور قربانی تھی۔ عزم انسان کو صبر کی عادت دیتا ہے۔ یہ اسے سکھاتا ہے کہ اصل کامیابی جلد بازی میں نہیں بلکہ مستقل مزاجی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عزم رکھنے والے لوگ دیر سے سہی مگر پائیدار کامیابی حاصل کرتے ہیں اور معاشرے پردیرپا اثرات چھوڑتے ہیں۔

5۔ ذہنی و جذباتی مضبوطی
عزم انسان کو صرف جسمانی یا عملی استقامت نہیں بلکہ جذباتی طاقت بھی دیتا ہے۔ یہ فردکو اندر سے مضبوط بناتا ہے۔ ایسا فرد جب مشکلات کا سامنا کرتا ہے تو گھبرانے کے بجائے سکون سے کام لیتا ہے۔ عزم کے حامل لوگ زندگی کے نشیب و فراز کو عبور کرنا جانتے ہیں۔ عزم انھیں خود پر قابو اور امید دینا سکھاتا ہے۔ اس بنیاد پر یہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں اور دوسروں کے لیے مثال بنتے ہیں۔

17/04/2025

A hardworking teacher is not just an educator — they are a light that guides society towards knowledge, growth, and success.
Their dedication, passion, and commitment transform lives, inspire generations, and build a better future for all.
Let’s honor and appreciate our hardworking teachers — the true heroes behind every achievement

17/09/2024

ایک بھوکے کتے کو اٹھا کر اسے خوشحال بنا دیں تو وہ آپ کو نہیں کاٹے گا۔
یہ ایک کتے اور ایک انسان کے درمیان بنیادی فرق ہے۔

مارک ٹوئن۔

07/05/2024

ایک انگریز مؤرخ آرنلڈ ٹوینبی سے پوچھا گیا کہ
سینکڑوں سالہ پرانے قصے واقعات حادثات جو مشہور ہیں ان میں کتنی سچائی ہے اور آپ اس بارے میں کیا راۓ رکھتے ہیں
تو انہوں نے کہا کہ ایک دن میرے گھر کے سامنے جھگڑا ہوگیا اسکے پانچ گھنٹے بعد ہمسایوں نے 6 مختلف کہانیاں بتائیں آپ تو پھر بھی صدیاں پرانے واقعات کی بات کرتے ہو

30/06/2023

ارے حاجیوں تم حرم جا رہے ہو

بصد احترام اک پیام عرض کرنا

مزارِ مقدس پہ جب حاضری ہو

میرا بھی نبی سے سلام عرض کرنا۔

Address

Sohbatpur

Telephone

+923138084184

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muzaffar Baloch posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Muzaffar Baloch:

Shortcuts

Share

Category