24/09/2026
*جامعۃالنجف اپڈیٹ*
بروز: بدھ
تاریخ: 23 ستمبر 2026ء
رپورٹر: حافظ حامد حسین
سکردو:جامعة النجف سکردو میں بروز بدھ بعد از نمازِ ظہرین مدیرِ جامعہ شیخ محمد علی توحیدی نے طلابِ کرام کو درسِ اخلاق دیا۔ آپ نے مستقبل کی بہترین منصوبہ بندی (Future Planning) کے موضوع پر مفصل گفتگو کی۔
آپ نے امام علی علیہ السلام کے فرمان "*«مَنْ لَمْ يَعْرِفِ الْمَوَارِدَ أَعْيَتْهُ الْمَصَادِرُ»*
*ترجمہ:* جو شخص مواقع اور وسائل کو پہچانتا نہیں، وہ اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام اور درماندہ رہتا ہے۔"
کو سرنامۂ کلام قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس شخص یا قوم کے پاس منصوبہ بندی نہ ہو، وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ آج دنیا میں جن افراد اور اقوام نے دنیاوی یا معنوی کامیابی حاصل کی ہے، وہ بہترین منصوبہ بندی کا ہی نتیجہ ہے۔ دنیا میں جن لوگوں نے تعلیمی، معاشی، سیاسی اور فکری میدانوں میں ترقی کی ہے، وہ ماہر منصوبہ سازوں کی منصوبہ بندی کی بدولت ہے۔
آپ نے منصوبہ بندی اور دین کے مابین گہرے تعلق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگوں کے خیال میں آئمہ طاہرین کے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا، حالانکہ اس کے برعکس سب سے بہترین منصوبہ ہمارے آئمہ معصومین کے پاس تھا۔ وہ ایسا منصوبہ تھا جس نے دشمنوں کی راتوں کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں۔ آئمہ کے انہی منصوبوں کی وجہ سے امام علی علیہ السلام اور دیگر آئمہ معصومین کو شہید کیا گیا۔ امام علی علیہ السلام کے بارے میں مشہور روایت ہے کہ آپ کو آپ کی *شدتِ عدل* کی وجہ سے شہید کیا گیا۔ دنیا میں عادلانہ نظام قائم کرنا ہمارے آئمہ معصومین کا منصوبہ تھا۔
دورِ جدید میں یورپی ممالک، چین اور روس نے ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، کیونکہ ان کا نظریہ یہ ہے کہ آخرت نامی کوئی زندگی نہیں، سب کچھ یہی دنیا ہے۔ اسی لیے انہوں نے منصوبہ بندی کے ساتھ دنیاوی زندگی میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ لیکن اسلام کا منصوبہ کچھ اور ہے۔
آج اگر دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ و اسرائیل نے امام خامنہ ای اور ان کے رفقاء کو نشانہ بناکر شہید کیا ہے تو اس کی اصل وجہ ان کی منصوبہ بندی ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ دنیا میں عدل و انصاف کا پرچار ہو، یہ منصوبہ استکبار کے لئے سخت نقصان دہ تھا، اسی لیے انہوں نے آپ کو شہید کیا۔ امریکہ و اسرائیل ایران سے جنگ اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ایران کے پاس ایسا منصوبہ ہے جو ان کے نظریے کے خلاف ہے۔ اسی لیے آج کفر، کلِ ایمان کے مقابلے میں برسرِ پیکار ہے۔کسی اور ملک کے ساتھ امریکا واسرائیل کا جنگ نہیں ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسا جھان گیر منصوبہ نہیں جو ان کے استعماری ایجنڈے اور آرڈر کیلئے حقیقت میں نقصان کا باعث ہو۔
جب تک کسی قوم کے پاس بہترین منصوبہ ساز اور منصوبے نہ ہوں، تب تک وہ قوم ترقی نہیں کر سکتی۔
*بہترین منصوبہ بندی کے لیے چار چیزوں کی پہچان ضروری ہے:*
1. قوت و وسائل کی پہچان
2. کمزوریاں اور خامیوں کی پہچان
3. دستیاب مواقع اور امکانات کی پہچان
4. لاحق خطرات اور چیلنجز سے آگہی
جب بھی کوئی قوم تعلیمی، سیاسی، معاشی اور معنوی ترقی کے لیے منصوبہ بندی کرنا چاہتی ہے، تو اسے سب سے پہلے اپنے اندر موجود خامیوں کو پہچاننا چاہیے تاکہ ان خامیوں کو دور کیا جا سکے۔
انسان کو خدا کا بندہ ہونےکے ناطے خدا کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ خداوندِ متعال بہترین منصوبہ ساز ہے۔ وہ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:
*وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُؕ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ*
*ترجمہ:* اور انہوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے بھی تدبیر کی اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔
(سورہ آلِ عمران، آیت: 54)
آخر میں آپ نے خداوندِ متعال سے امتِ مسلمہ کو متحد رہ کر اسلام کی سربلندی اور کامیابی کے لیے بہترین منصوبہ بندی کرنے کی توفیق عطا کرنے کی دعا کے ساتھ درس تذکر کو سمیٹ لیا۔