Jamia Najaf Skardu

Jamia Najaf Skardu

Share

The Official Page of Jamia tun Najaf باب مدینۃ العلم کے ماننے والوں ۔۔ علم دین حاصل کرو...

20/01/2026

https://www.facebook.com/100063841582650/posts/1366101355527904/?mibextid=cr9u03

ایمان اور جدید انسان
تحریر: ایس ایم شاہ

اللہ تعالی ہر انسان کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہے۔ کامیابی یعنی جس مقصد کے لیے انسان کو خلق کیا گیا ہے اس مقصد تک رسائی۔ ایمان یعنی دل سے اللہ، رسولوں اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام پر کامل یقین رکھنا۔ اسی ایمان کی بنیاد پر دیگر اعمال انجام پاتے ہیں۔ ایمان کے بغیر عمل روح کے بغیر جسم کی مانند ہے۔ جس طرح روح دکھائی دینے والی چیز نہیں کیونکہ یہ غیر مادی وجود ہے۔ انسان کے حرکات و سکنات سے آثار حیات کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ایمان بھی قابل مشاہدہ مادی وجود نہیں، بنابریں ہر ایک کے اعمال کے ذریعے اس کی سطح ایمانی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ گویا ایمان انسان کے لیے موٹیویٹر کی حیثیت رکھتا ہے۔
اکیسویں صدی کا انسان بظاہر ترقی کی بلندیوں پر کھڑا ہے۔ سائنس نے کائنات کے راز کھول دیے ہیں، ٹیکنالوجی نے فاصلے سمیٹ دیے ہیں اور معلومات انسان کی انگلیوں کے اشارے پر موجود ہیں، مگر اس ظاہری ترقی کے باوجود ایک سوال پوری شدت کے ساتھ ابھر رہا ہے: کیا جدید انسان واقعی مطمئن ہے؟ مفکرین اور دانشور اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ آج کا سب سے بڑا بحران معاشی یا سائنسی نہیں بلکہ فکری اور روحانی ہے اور اس بحران کی جڑ ایمان سے دوری ہے۔
مغربی تہذیب نے انسان کو مادّی آسائشیں تو دیں، مگر اسے اس کے باطن سے کاٹ دیا۔ زندگی کو محض نفع و نقصان، خواہش اور لذت کے پیمانے پر پرکھا جانے لگا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سہولتیں بڑھتی گئیں مگر سکون کم ہوتا چلا گیا۔ جدید انسان کے پاس سب کچھ ہے، مگر وہ خود کو تنہا، بے مقصد اور غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ مادر پدر آزاد ملک ہونے کے نتیجے میں 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں ٹوٹل پیدائشوں کی تعداد تقریبا 3.6 ملین تھی۔ ان میں سے تقریبا 40% شادی کے بغیر متولد ہوئے تھے۔ یعنی ہر سال تقریبا 1.5 ملین بچے ناجائز طریقے سے یعنی غیر قانونی طریقے سے وجود میں آتے ہیں۔ شادی شدہ خواتین میں سے بھی 15٪ خواتین اپنے شوہروں سے خیانت کرتی ہیں۔ جبکہ 25٪ مرد اپنی بیویوں سے خیانت کرکے دوسری لڑکیوں سے غیر قانونی روابط برقرار کرلیتے ہیں۔ 1970 میں 54٪ خاندانوں میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچے ہوتے تھے جو 2024 میں کم ہوکر صرف 39% خاندانوں کے ہاں اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچے موجود ہیں۔ یعنی ہر 100 فیملی میں سے صرف 39 فیملی کے ہاں بچے ہیں باقی 61٪ جوڑوں کے ہاں بچے ہے ہی نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان کی ضرورت ایک بار پھر شدت کے ساتھ محسوس ہوتی ہے، کیونکہ ایمان ہی انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ زندگی محض اتفاق نہیں بلکہ یہ بامقصد امانت ہے۔
ایمان جدید انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ ترقی کا اصل معیار دولت یا طاقت نہیں بلکہ اخلاق اور ذمہ داری ہے۔ جب ایمان دل میں راسخ ہوتا ہے تو انسان سائنس کو خدا بننے نہیں دیتا بلکہ اسے خدمتِ انسانیت کا ذریعہ بناتا ہے۔ ایمان عقل کی نفی نہیں کرتا بلکہ اسے حدود اور سمت عطا کرتا ہے، تاکہ علم انسانیت کے لیے رحمت بنے، زحمت نہیں۔ اسی ایمان کے فقدان نے آج دنیا کو اسلحے کی دوڑ، ماحولیاتی تباہی اور اخلاقی انحطاط کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
معاصر مفکرین اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ ایمان کے بغیر آزادی بے لگام ہو جاتی ہے۔ جب انسان خود کو کسی اعلیٰ اخلاقی قانون کا پابند نہیں سمجھتا تو طاقتور کمزور کو روند ڈالتا ہے اور مفاد حق پر غالب آ جاتا ہے۔ ایمان انسان کے اندر جواب دہی کا وہ احساس بیدار کرتا ہے جو کسی قانون، عدالت یا نگرانی کے بغیر بھی اسے ظلم سے روکے رکھتا ہے۔ یہی احساس فرد کو امانت دار، حکمران کو عادل اور تاجر کو دیانت دار بناتا ہے۔
جدید دور کی ذہنی بیماریاں، اضطراب اور ڈپریشن کے بڑھتے ہوئے واقعات بھی اس بات کی خاموش گواہ ہیں کہ انسان کا دل ایمان سے خالی ہو چکا ہے۔ امریکہ میں 2017 میں اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کی ڈپریشن کی سطح 7.1 تھی جو 2025 میں امریکہ کے دو قومی سطح کے سروے NHIS اور NHANES، یعنی نیشنل ہیلتھ انٹرویو سروے اور نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزامینیشن سروے کے مطابق اس وقت بالغ افراد میں ڈپریشن کی سطح 19 فیصد ہوگئی ہے۔ یعنی امریکی مجموعی آبادی میں سے 66 ملین یعنی سات کروڑ کے لگ بھگ افراد ذہنی ڈپریشن کا شکار ہیں۔ یعنی ہر پانچ افراد میں سے ایک شخص ڈپریشن کا شکار ہے۔ یہ حال ہے اس امریکا کا جو پوری دنیا کے امن و سکون کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے وہ خود اندر سے کتنا کھوکھلا ہے۔ پھر 14 وہ ممالک جن میں سب سے زیادہ Anti depration استعمال کیے جاتے ہیں ان میں بھی امریکہ سرفہرست ہے۔ پھر بالترتیب آئس لینڈ، پرتگال، کینیڈا، سویڈن، سپین، چلی، نیوزی لینڈ، فن لینڈ، ڈنمارک، یونان، اسرائیل، ناروے اور لکسمبرگ ہیں۔ یعنی کوئی بھی اسلامی ملک اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔
عرفاء کے نزدیک ایمان دل کی وہ غذا ہے جس کے بغیر روح کمزور ہو جاتی ہے۔ جب انسان خدا سے جڑتا ہے تو وہ حالات کا اسیر نہیں رہتا، بلکہ مشکلات کو معنی کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ ایمان اسے سکھاتا ہے کہ ناکامی انجام نہیں بلکہ آزمائش ہے اور تکلیف بے معنی نہیں بلکہ تربیت کا ذریعہ ہے۔
آج کے فکری انتشار میں ایمان کی طرف واپسی کسی رجعت پسندی کا نام نہیں بلکہ ایک شعوری انتخاب ہے۔ یہ واپسی انسان کو ماضی میں نہیں لے جاتی بلکہ اسے مستقبل کے لیے متوازن، بااخلاق اور باوقار بناتی ہے۔ ایمان جدید انسان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ترقی وہی پائیدار ہے جس کے ساتھ انسانیت محفوظ رہے اور وہی تہذیب زندہ رہتی ہے جس کی بنیاد یقین، اخلاق اور روحانی اقدار پر ہو۔
مختصر یہ کہ ایمان آج بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کل تھا، بلکہ شاید اس سے بھی کہیں زیادہ۔ مادیت کے شور میں دبتی ہوئی انسانی روح کو اگر دوبارہ زندگی دی جا سکتی ہے تو وہ صرف ایمان کے نور سے ممکن ہے۔ یہی ایمان جدید انسان کو خودی کی پہچان، زندگی کو مقصد اور دنیا کو عدل و انصاف کا گہوارہ بنا سکتا ہے۔

14/01/2026
12/01/2026

اے امریکہ و اسرائیل! تمہیں کیا معلوم کہ ایران کیا ہے؟
تحریر: ایس ایم شاہ

ایران محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر فکری، تہذیبی اور اعتقادی نظام کا نام ہے۔ یہ وہ ملک ہے جو کسی زمینی طاقت کو سپر پاور تسلیم نہیں کرتا، بلکہ صرف اور صرف خدا کو طاقتِ مطلق مانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی سیاسی فکر، دفاعی حکمتِ عملی اور سماجی ڈھانچہ سب اسی توحیدی نظریے کے گرد گھومتے ہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر کسی مخصوص سرحد کے حاکم نہیں، بلکہ دنیا بھر کے کمزور، مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں، کیونکہ وہ طاقت کی نہیں، حق کی آواز ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قوم خدا کو طاقت کا سرچشمہ مان لے، اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی، کیونکہ تمام قوتوں کی اصل بنیاد ذاتِ الٰہی ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ رہبر انقلاب کے ایک فتویٰ کی طاقت تمہارے ایٹم بم سے کہیں زیادہ ہے۔
ایران کی مقاومتی آئیڈیالوجی کا نقطۂ آغاز کربلا ہے اور اس کا انجام امام مہدی علیہ السلام کے عادلانہ عالمی نظام پر یقین ہے۔ کربلا نے ایران کو سکھایا کہ ظاہری قوت معیار نہیں ہوتی اور انتظارِ امام مہدی علیہ السلام نے یہ درس دیا کہ نااُمیدی کفر کے مترادف ہے۔ قرآنِ مجید کے حکم «وَأَعِدّوا لَهُم مَا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ» اور ان (کفار)کے مقابلے کے لیے تم سے جہاں تک ہو سکے طاقت مہیا کرو"
پر عمل کرتے ہوئے ایران نے دفاع، سائنس اور ٹیکنالوجی میں خودانحصاری کو اپنا شعار بنایا ہے۔
اگر دشمن کی عسکری اور ظاہری طاقت سے مرعوب ہونا ہوتا تو مقاومت کا چراغ کربلا ہی میں بجھ چکا ہوتا۔
آج ایران کی آبادی تقریباً ساڑھے نو کروڑ نفوس پر مشتمل ہے اور یہ ملک پانچ دہائیوں سے دنیا کے سب سے بڑے ظالم نظام امریکہ، اور قبلۂ اول مسلمانان جہاں پر قابض صہیونی ریاست اسرائیل کے سامنے سینہ سپر ہے۔ دنیا کے ہر مظلوم کی حمایت اور ہر ظالم سے ٹکرانا ایران کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔
انقلاب اسلامی کے بعد جمہوری اسلامی ایران نے ہر شعبے میں ناقابل یقین حد تک ترقی کی ہے۔ نانو ٹیکنالوجی، اسٹیم سیلز، بایو ٹیکنالوجی، جدید انجینئرنگ اور میڈیکل سائنس میں ایران نے علم کو صرف کتابوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے کارخانوں، لیبارٹریوں اور ہسپتالوں میں نافذ کر کے دکھایا ہے۔
ایران میں 97 فیصد ادویات مقامی طور پر تیار ہوتی ہیں، جو طبی خودمختاری کا واضح اعلان ہے۔ اعضا کی پیوندکاری، کینسر کا جدید علاج، بانجھ پن کے حل اور بایوٹیک ادویات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایرانی ہسپتال اب محض علاج گاہیں نہیں بلکہ تحقیق کے مضبوط قلعے بن چکے ہیں۔ اوسط عمر کا 55 سال سے بڑھ کر 76–78 سال تک پہنچ جانا اس پیش رفت کا زندہ ثبوت ہے۔ 1980ء میں ایران سے شائع ہونے والے تحقیقی مقالات کی تعداد محض 284 تھی، مگر آج یہی ایران سالانہ 75 ہزار سے زائد تحقیقی مقالے شائع کر کے دنیا کے پندرہ بڑے علمی ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ دفاعی زاویے سے اگر دیکھا جائے تو ایران خطے کے طاقتور ترین اور مکمل طور پر مقامی میزائل پروگرام کا حامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بہترین بحری حکمتِ عملی، تیز رفتار کشتیاں، سمندری بارودی سرنگیں اور اینٹی شپ میزائل ایران کی دفاعی قوت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
حالیہ عرصے میں پہلا ڈرون بردار بحری جہاز “شہید باقری” متعارف کرایا گیا، جو سمندر سے ڈرونز، ہیلی کاپٹروں اور کروز میزائل لانچ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور طویل مدت تک بغیر بندرگاہ لنگر انداز ہوئے آپریشن انجام دے سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حالیہ برسوں میں ایک ہزار سے زائد جدید ڈرونز مسلح افواج کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ حال ہی میں ایرانی ایئر ڈیفنس سسٹم میں چینی جدید جنگی جہازوں کے اضافے کے بعد ایران کا ائیر دفاعی سسٹم بھی کافی مضبوط ہوگیا ہے۔ ان کی بسیجیوں کی تعداد 25 ملین سے زائد ہے، سپاہ پاسداران 2 لاکھ 10 ہزار اور فوج تقریباً 6 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ گویا ایران کی نصف آبادی دفاعی شعبے سے منسلک ہے۔
ایران رقبے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بیس بڑے ممالک میں سے سترھویں نمبر پر ہے۔ شرحِ خواندگی 97 فیصد، ابتدائی تعلیم میں شمولیت 97 فیصد، اور یونیورسٹیوں کی تعداد 2183 ہے۔ اسلامی آزاد یونیورسٹیوں کی تعداد 440 ہے جن میں تقریباً دو ملین طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ مجموعی طور پر یونیورسٹی طلبہ کی تعداد تین ملین سے زائد ہے۔ اعلی تعلیم کے اعتبار سے ایران عالم اسلام میں پہلے نمبر پر ہے۔ اسکول سطح پر طلبہ کی تعداد 17 ملین ہے۔
ہر سال دو لاکھ تیس ہزار انجینئرز فارغ التحصیل ہوتے ہیں اور انجینئرنگ گریجویٹس کی تعداد کے اعتبار سے ایران دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔
ایران گیس کے ذخائر میں دنیا میں دوسرے اور تیل میں تیسرے نمبر پر ہے۔ بجلی کی پیداوار میں ساتویں، آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں چھٹے اور فلم سازی میں دنیا کے دس اہم ممالک میں شامل ہے۔
ایران پہلا اسلامی اور نواں عالمی ملک ہے جس نے سیٹلائٹ خلا میں بھیجا۔
نام نہاد سپر طاقتیں اس وجہ سے ایران کو سرکوب کرنے کی کوشش کرتی ہیں کیونکہ وہ خدا کے سوا کسی کو سپر پاور نہیں مانتا۔ استعمار کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے۔ مسلم امہ کے اتحاد اور عزتِ رفتہ کی بحالی کی بات کرتا ہے۔ مقاومتی محاذ کی عملی مدد کرتا ہے۔ داعش جیسے استعماری آلۂ کار دہشتگردوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ فلسطین کے مظلوموں کی بے لوث حمایت کرتا ہے۔ اسرائیل کے ناجائز وجود کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرتا ہے اور اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کی بھرپور عملی کوشش کر رہا ہے۔ اپنے وسائل اپنی قوم پر خرچ کرتا ہے۔ نئی نسل کو استعمار مخالف فکر سے آراستہ کرتا ہے۔ یہی ایران ہے نظریہ، مقاومت، علم، خودداری اور استقلال کا زندہ استعارہ۔
اے امریکہ و اسرائیل!
ایران کو سمجھنے کے لیے صرف ہتھیار نہیں، تاریخ، فکر، ایمان اور لوگوں کا انقلاب اسلامی اور رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے حقیقی عشق کو بھی پڑھنا پڑتا ہے۔ جس کا مشاہدہ تم نے اپنے شرپسند ایجنٹوں کے ذریعے ایجاد کردہ حالیہ فسادات میں قریب سے کیا۔ تمہیں اب بھی معلوم ہونا چاہئے کہ جس طرح الٰہی نمائندے کے مقابلے میں آنے والا فرعون اور یزید دنیا کے لیے نشان عبرت بنے آج وقت کا فرعون ٹرمپ اور وقت کا یزید بنیامین نیتن یاہو آئندہ نسلوں کے لیے نشان عبرت بنیں گے اور ان کا ظالمانہ نظام تباہ و برباد ہوگا۔ فرزند زہرا رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کا نام زندہ و جاوید رہے گا اور نظامِ انقلاب جمہوری اسلامی ایران مرکز امید جہاں امام مہدی علیہ السلام کے عالم گیر انقلاب کے لیے بہترین پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

07/01/2026

آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی 110 اہم خصوصیات
تحریر: ایس ایم شاہ

1. جامع الشرائط مجتہد
2. علم اصول فقہ پر کامل گرفت
3. فقہِ اہلِ بیتؑ پر عمیق دسترس
4. فقہِ حکومتی میں صاحب نظر
5. جدید فقہی مسائل پر اجتہادی بصیرت
6. علومِ قرآنی پر وسیع گرفت
7. تفسیرِ قرآن میں گہری مہارت
8. احادیث اہلِ بیتؑ سے دقیق واقفیت
9. تاریخِ اسلام کا گہرا مطالعہ
10. ائمہ معصومین علیہم السلام کے 250 سالہ دور کی جامع فہم اور ان کو عصری تقاضوں کے مطابق پیش کرنے کی بھرپور صلاحیت
11. دین و سیاست میں وحدانی نگاہ
12. دینی عقلانیت کے داعی
13. اسلامِ نابِ محمدی ﷺ کے مبلّغ
14. مشرق و مغرب کے فکری مکاتب سے آگاہی
15. فکری خود مختاری
16. مسائل کا تجزیاتی و منطقی حل نکالنا
17. علمی نظم و استدلال
18. فصیح و بلیغ بیان
19. فکری استقلال
20. مسلسل مطالعہ و تحقیق
21. تقوائے الٰہی سے سرشار
22. خلوصِ نیت
23. سادہ طرزِ زندگی اور دیگر علما کو بھی سادہ زیستی کی تلقین کرنا
24. زہد کا عملی پیکر
25. اقتدار کے باوجود تواضع
26. دیگر مراجع عظام کا احترام
27. صبر و تحمل
28. استقامت اور عالمی نام نہاد سپر طاقتوں کے غرور کو خاک میں ملانا
29. جذبہ شہادت سے سرشار ہوکر عوامی اجتماعات میں حاضری
30. اخلاقی جرأت
31. حق گوئی
32. نڈر مزاج
33. معنویت سے گہرا تعلق
34. دعا اور توسل پر یقین
35. قرآن سے خاص انس
36. سیرتِ اہلِ بیتؑ کی عملی پیروی
37. دنیاوی لالچ سے بے نیازی
38. اللہ کو حقیقی سپر پاور سمجھنا
39. ذمہ داری کو امانتِ الٰہی جاننا
40. امام زمانہؑ سے قلبی تعلق
41. غیر معمولی قائدانہ صلاحیت
42. حکیمانہ فیصلہ سازی
43. دور اندیشی
44. مستقبل نگری
45. بحران مینجمنٹ
46. برمحل فیصلے
47. اسٹریٹجک منصوبہ بندی
48. واضح ریڈ لائنز کا تعین
49. ٹائم مینجمنٹ
50. نظم و ضبط
51. قومی ترجیحات کی درست شناخت
52. حالات کی نزاکت کا عمیق ادراک
53. دو ٹوک موقف
54. لچک کے ساتھ اصول پسندی
55. فرنٹ لائن قیادت
56. ادارہ سازی
57. نخبہ پروری یعنی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے میدان فراہم کرنا
58. ملک کے اعلی عہدوں پر باصلاحیت افراد کا درست انتخاب
59. ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم
60. قومی وسائل کا مؤثر استعمال
61. استکبار دشمنی
62. استعمار مخالف سوچ
63. مظلوموں کا بھرپور دفاع
64. فلسطین کی غیر متزلزل حمایت
65. محورِ مقاومت کی مسلسل پشت پناہی
66. قومی خود مختاری کا ہر فورم پر دفاع
67. غیر ملکی تسلط کی نفی
68. اسلامی اقدار کا تحفظ
69. عوام دوستی
70. عوامی شعور پر اعتماد
71. عوام کے درمیان براہِ راست موجودگی
72. نوجوان نسل پر خصوصی توجہ
73. جوانوں کی فکری تربیت
74. معاشرے کے کمزور طبقات کی حمایت
75. اتحاد بین المسلمین کے علمبردار
76. بصیرت افزائی
77. نفوذ اور دشمن کی دقیق شناخت
78. قوم کو بحرانوں سے آگاہ کرنا
79. بحران سے نکلنے کے راستے دکھانا
80. عالمی پلیٹ فارمز پر مؤثر نمائندگی
81. دینی ثقافت کے محافظ
82. اسلامی طرزِ زندگی کے مروّج
83. ثقافتی یلغار کا مقابلہ
84. متعہد فنون کی سرپرستی
85. علم و تحقیق پر خصوصی توجہ
86. نخبگان اور سائنسدانوں کی سرپرستی
87. سائنسی ترقی پر زور
88. خود کفالت کی حوصلہ افزائی
89. اسلامی، ایرانی شناخت کا تحفظ
90. فارسی زبان و ادب سے گہرا تعلق
91. تمدنی نگاہ
92. مستقبلِ اسلام کا واضح تصور
93. جدید اسلامی تمدن کا ہدف
94. سماجی عدل پر تاکید
95. اخلاقی اقدار کی ترویج
96. معنوی پروگراموں کی سرپرستی
97. قوم کو امید دلانا
98. اعتمادِ نفس کی ترویج
99. رشتہ داروں کو اقتدار سے دور رکھنا
100. عوام کے دلوں پر حکومت
101. عالمی استعماری لیڈروں کی انکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں للکارنا اور ان کے جرائم کو دنیا کے سامنے فاش کرنا
102. ہر اہم مشکل پر حرم امام رضا علیہ السلام، حرم حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام اور مسجد جمکران میں ہنگامی حاضری کے ذریعے وقت کے حجت اللہ سے توسل کرنا
103. مرجعیت کی اہمیت اور طاقت سے دنیا کو روشناس کرانا
104. لوگوں کو اپنی طرف جذب کرنے کی خداد صلاحیت
105. ملکی اہم فیصلوں میں اقدار اسلامی کو ملحوظ خاطر رکھنا
106. مستقبل کے حوالے سے قوم کو باخبر رکھنے کے ساتھ پرامید رکھنا
107. تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی ان کے اپنے شعبے کے مطابق حوصلہ افزائی
108. ملک سے وفاداری
109۔ پوری دنیا سے باصلاحیت طلبہ کا انتخاب کرکے جمہوریہ اسلامی ایران میں ان کی تعلیم و تربیت کا بندوبستی کرکے دنیا میں علم کی ضو فشانی کرنا
110. حالیہ ایران اسرائیل 12 روزہ جنگ میں مکمل اسلامی اور عالمی قوانین کی رعایت کرنا آپ کی چند بارز خصوصیات ہیں۔
آج امریکہ، اسرائیل اور دیگر مغربی استکباری و شیطانی قوتیں عالمِ اسلام کے اس عظیم اور باوقار رہبر کے بالمقابل صف آرا ہیں۔ مگر ہمیں کامل یقین ہے کہ ان شاء اللہ یہ مردِ مجاہد اپنی بصیرت افروز قیادت، ایمانی استقامت اور علوی جرأت کے ذریعے یہود و ہنود کو ایک بار پھر خیبر کی تاریخ یاد دلائیں گے اور فاتحِ خیبر، مولائے متقیان حضرت علی مرتضیٰ علیہ السلام کے حقیقی وارث ہونے کا عملی اور ناقابلِ تردید ثبوت دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔
تاریخ گواہ ہے کہ باطل، ظلم اور استکبار کی قوتوں کے مقدر میں ہمیشہ ذلت، رسوائی اور شکست ہی لکھی گئی ہے۔ ان شاء اللہ اس بار بھی یہی ظالم طاقتیں اس عظیم مردِ حق کے ہاتھوں ایک اور عبرتناک اور ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوں گی اور حق کی فتح ایک بار پھر عالمِ انسانیت پر آشکار ہو جائے گی۔

01/01/2026

مولود کعبہ ایک اصول پسند سیاستدان
تحریر: ایس ایم شاہ

ایک اچھے سیاستدان کی بنیادی خصوصیات میں انصاف پسندی، امانت داری، پرہیزگاری، اخلاقِ حسنہ، علم و بصیرت، حق گوئی، احساسِ ذمہ داری، مشاورت، تواضع، عوام دوستی، غریب پروری، قانون کی پاسداری، ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا، سستا اور فوری انصاف، تحمل مزاجی، وعدہ وفا، مضبوط قوتِ ارادی، بروقت و برمحل فیصلہ سازی اور قائدانہ صلاحیت شامل ہیں۔ اگر تاریخِ انسانی میں ان تمام اوصاف کو کسی ایک شخصیت میں کامل صورت میں تلاش کیا جائے تو وہ بلا شبہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ذاتِ گرامی ہے۔

حضرت علی علیہ السلام رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد انسانیت کی سب سے جامع اور کامل شخصیت ہیں۔ آپ کی عظمت کا احاطہ نہ تاریخ کر سکی ہے اور نہ قیامت تک ممکن ہوگا۔ مولودِ کعبہ ہونے کے ناطے 13 رجب المرجب کی مناسبت سے حضرت علی علیہ السّلام کی سیاسی حیات کے چند روشن پہلو پیش کرنا اس تحریر کا مقصد ہے۔
آپ عدل و انصاف میں "صوت العدالۃ الانسانیۃ"، علم و بصیرت میں" انا مدینۃ العلم و علی بابھا، انا دار الحکمۃ و علی بابھا" آپ علم و حکمت کا دروازہ ہیں۔

تحمل مزاجی میں آپ بے مثال تھے۔ آپ کا حق خلافت چھن جانے اور آپ کے در اقدس کو نذر آتش کرنے کے باوجود آپ نے پچیس سال تک گوشہ نشینی اختیار کی اور کبھی بھی صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ یہ طرزِ عمل Political Tolerance کی اعلیٰ مثال ہے۔

احساس ذمہ داری میں آپ بے مثال تھے۔ آپ کے سامنے جب کھانا لایا جاتا تو فرماتے کہ میں کیسے سیر ہوکر کھانا کھاؤں شاید حجاز اور یمامہ میں کوئی ایک لقمے کے لیے ترس رہا ہو۔

غریب پروری میں راتوں کو اپنے پیٹھ پر غریبوں، مسکینوں اور بیواؤں کے گھروں تک ہر شب خوراک پہنچاتے تھے، حدیث نبوی کی رو سے " اقضی الناس علی" یعنی بہترین فیصلہ کرنے والے علی علیہ السلام ہیں۔
مولا علی علیہ السلام کی امانت داری کے لیے اتنا کہنا کافی ہے کہ رات کے وقت آپ چراغ روشن کرکے امور حکومتی انجام دینے میں مصروف عمل تھے اتنے میں ایک شخص آپ سے ملنے آیا تو آپ نے اس چراغ کو گل کرکے ذاتی چراغ کو روشن کیا۔

احساس ذمہ داری کا یہ عالم تھا کہ آپ گم نام طریقے سے کوفے کی گلیوں میں گھومتے تھے تاکہ وہاں کے غریبوں، مسکینوں اور بیواؤں کی داد رسی کی جاسکے۔ حکومتی امور میں آپ کی مہارت کا یہ عالم تھا کہ جب مصر کے حالات خراب ہوگئے تو آپ نے حضرت مالک اشتر کو وہاں کا گورنر بنایا۔ اسے ایک خط تھمایا جو بعد میں عہدنامہ مالک اشتر کے عنوان سے مشہور ہوا۔ اس خط کا ایک جملہ یہ ہے: اپنے دل میں لوگوں کے لیے محبت پیدا کرو کیونکہ وہ یا تو تمہارے دینی بھائی ہے یا تمہارے ساتھ انسانیت میں مشترک ہے۔
آپ کی سادہ زیستی کا یہ عالم تھا کہ پرانے صاف ستھرے پیوند شدہ لباس زیب تن کیے ہوئے تھے۔ کسی نے کہا اے مولا اگر آپ نیا لباس زیب تن کرتے تو آپ کی شخصیت کے مطابق ہوتا۔ فرمایا: یہ لباس دل کو فروتنی عطا کرتا ہے، تکبر سے محفوظ رکھتا ہے اور پرہیزگاروں کے لیے یہی کافی ہے۔
اگرچہ آپ سب سے زیادہ دانا اور عقلمند تھے لیکن حکومتی امور میں آپ بسااوقات لوگوں سے مشورہ بھی لیتے تھے۔ ایک دفعہ آپ نے حکومتی کاموں کی خاطر ایک خاص مقام سے افراد کے چناؤ سے پہلے چند تجربہ کار لوگوں کو بلاکر وہاں کے لوگوں کی امانت داری اور اجتماعی امور میں ان کی کارکردگی کے حوالے سے استفسار کیا۔ ان سے رائے لینے کے بعد فرمایا: جو بھی بغیر کسی مشورے کے کسی ذمہ داری کو اپنے ذمہ لیتا ہے، وہ اپنے آپ کو تباہی کے داہنے تک پہنچا دیتا ہے۔

مساوات کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ آپ مسجد سے نکلے تو ایک عمر رسیدہ فقیر لوگوں سے کچھ مانگ رہا تھا۔ لوگوں نے اہانت آمیز لہجے میں کہا کہ مولا! یہ شخص مسیحی ہے۔ امام علیہ السلام نے ان کی اس بات سے سخت ناراض ہوکے فرمایا: جب یہ جوان تھا تو تم لوگوں نے ان کی طاقت سے استفادہ کیا ہے۔ جب یہ کمزور ہوگیا ہے تو تم لوگ اسے چھوڑ دیتے ہو۔ یہ فرماکر بیت المال سے اس کا خرچہ دینے کا حکم دیا۔
بنابریں حضرت علی بن ابی طالبؑ کی شخصیت محض ایک مذہبی یا تاریخی شخصیت نہیں، بلکہ آپ تاریخِ انسانی میں دانش پر مبنی سیاست (Wisdom-based Politics) کا نادر نمونہ ہیں۔ آپ کی سیاست اقتدار کے حصول کے لیے نہیں، بلکہ حق، عدل، اخلاق اور انسانیت کے قیام کے لیے تھی۔ حضرت علیہ السّلام کی سیاست کا بنیادی ستون اصول پسندی تھا نا کہ مصلحت۔ آپ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ سیاست اگر اصول سے خالی ہو تو فریب بن جاتی ہے۔ آپ نے کبھی بھی حق کو مصلحت پر قربان نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے معاویہ جیسی مکار سیاست کا سہارا نہیں لیا کیونکہ آپ جانتے تھے کہ وقتی طور پر یہ طرزِ سیاست کامیاب ہو سکتی ہے۔ آپ کا مشہور فرمان ہے: اگر دینی اصول مانع نہ ہوتے تو میں سب سے بڑا سیاست دان ہوتا۔ یہ جملہ حضرت علی علیہ السلام کی دانشمندانہ سیاست کی واضح دلیل ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کے نزدیک حکومت غنیمت نہیں، ذاتی حق نہیں، خاندانی میراث نہیں بلکہ الٰہی امانت ہے۔ اسی لیے خلافت قبول کرتے وقت فرمایا: اگر حق کا قیام اور باطل کا خاتمہ مجھ پر لازم نہ کیا جاتا تو میں حکومت قبول نہ کرتا۔ یہ فکر جدید سیاسی فلسفے میں Public Trust Theory سے ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کی سیاست کا مرکز عدلِ مطلق تھا۔ عدل ایسا کہ خلیفہ اور عام شہری برابر، مسلمان اور غیر مسلم قانون کے سامنے مساوی، امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے عہد خلافت میں ایک یہودی کے ساتھ زرہ کا مقدمہ قاضی شریح کے پاس پہنچا۔ آپ کے پاس گواہ نہ ہونے کے باعث فیصلہ یہودی کے حق میں ہوا، مگر علی علیہ السلام نے اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ جس پر یہودی نے متاثر ہوکر آپ کی خلافت کو خلافت الہیہ قرار دے کر زرہ آپ کو واپس لوٹا دیا۔ یہ رویہ آپ کو Rule of Law کا بانی ثابت کرتا ہے۔ حضرت علی علیہ السّلام طاقت کو تلوار یا فوج سے نہیں، بلکہ اخلاقی اتھارٹی سے حاصل کرتے تھے۔ آپ کے نزدیک ظلم وقتی طور پر طاقتور ہوتا ہے مگر عدل دائمی طاقت رکھتا ہے۔ اسی لیے آپ فرماتے تھے: حکومت کفر کے ساتھ باقی رہ سکتی ہے، مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔ یہ جملہ سیاسی حکمت کا شاہکار ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کی سیاسی دیانت داری کا اعلیٰ ترین نمونہ حضرت عقیلؑ کا واقعہ ہے۔ بھائی ہونے کے باوجود بیت المال سے زائد دینے سے انکار کیا۔ دہکتی ہوئی سلاخ تھامنے کا حکم دیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ رشتہ قانون سے بالاتر نہیں، سیاست میں قرابت داری کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ تصور آج کے دور میں Anti-Corruption Governance کی بنیاد ہے۔حضرت علی علیہ السلام اشرافیہ نواز سیاست کے سخت مخالف تھے۔ آپ کی سیاست عوام دوست، غریب نواز اور کمزور طبقے کی محافظ تھی۔ آپ خود راتوں کو اناج اٹھا کر یتیموں اور بیواؤں کے گھروں تک پہنچاتے تھے۔ یہ محض ہمدردی نہیں، بلکہ Social Justice Policy تھی۔ حضرت علی علیہ السلام کا خط مالک اشتر کے نام دنیا کا ایک عظیم سیاسی و انتظامی منشور ہے۔ اس میں انسانی حقوق، گورننس، عدالتی شفافیت، فوجی اخلاقیات، عوامی فلاح و بہبود سب کچھ موجود ہے۔ آج بھی اقوامِ متحدہ اور جدید سیاسی مفکرین اسے Ideal Governance Charter مانتے ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام نے جنگ بھی اصولوں کے تحت لڑی۔ آپ خود سے جنگ کا آغاز نہیں کرتے تھے۔ زخمی پر حملہ نہیں کرتے تھے۔ بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کرتے تھے۔ عورتوں اور بچوں کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی سیاست اخلاقی سیاست (Ethical Politics) کہلاتی ہے۔ مسجد میں حضرت علی علیہ السلام کی شہادت اس بات کی دلیل ہے کہ سچی سیاست اکثر مظلومیت پر ختم ہوتی ہے، مگر تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم مفکر جارج جرداق نے کہا: “قتل علی لشدۃ عدلہ”علیہ السلام کو ان کے شدید عدل کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ بنابریں حضرت علی علیہ السلام فقط سیاست دان نہیں، بلکہ سیاست کے استاد بھی ہیں۔ آپ کی سیاست ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اقتدار مقصد نہیں، ذریعہ ہے۔ اصول کامیابی سے زیادہ قیمتی ہیں۔ عدل سیاست کی روح ہے۔ اگر آج کی دنیا حضرت علی علیہ السّلام کی سیاست سے صرف چند اصول ہی اپنا لے تو ظلم کا خاتمہ، عدل و انصاف کا بول بالا اور انسانیت محفوظ ہو سکتی ہے۔

Photos from ‎Agha Syed ALI Rizvi آغا سید علی رضوی‎'s post 16/12/2025
14/12/2025

*ہفتہ تحقیق کے موقع پر کتب میلہ مختلف شخصیات کی جانب سے اپنے ادارے کا تعارفی سلسلہ* 1️⃣

*حوزۂ علمیہ جامعۃ النجف سکردو بلتستان کی تحقیقی و تصنیفی خدمات کے حوالے سے جناب علی نوری کی شعبۂ تحقیق سے گفتگو*

جناب علی نوری صاحب نے شعبۂ تحقیق جامعۃالمصطفیٰ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے حوزۂ علمیہ جامعۃ النجف سکردو کی علمی، تحقیقی اور تصنیفی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ اس حوزۂ علمیہ کے اساتذہ اور طلبہ اب تک سو سے زائد کتابوں کی تصنیف، تالیف اور ترجمہ کا کام مکمل کر چکے ہیں، جن میں سے درجنوں کتب شائع ہو چکی ہیں۔

مزید برآں، حوزۂ علمیہ جامعۃ النجف کے طلبہ کے پانچ سو سے زائد علمی مضامین اور تحقیقی مقالات ملک کے مختلف اخبارات، جرائد اور مجلات میں شائع ہو چکے ہیں، جو اس ادارے کی علمی فعالیت کا واضح ثبوت ہیں۔

انہوں نے اس مادرِ علمی کے ایک نمایاں علمی کارنامے کی جانب بھی توجہ دلائی کہ یہاں سے شائع ہونے والا تحقیقی شش ماہی مجلہ “حیات” دینی مدارس کے مابین اپنی نوعیت کا پہلا تحقیقی مجلہ ہے۔ اس مجلے میں شائع ہونے والے بیشتر مضامین اسی علمی مرکز کے اساتذہ اور طلبہ کی قلمی کاوشوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ، حوزۂ علمیہ جامعۃ النجف کی ایک منفرد علمی خدمت مختلف موضوعات پر تحقیقی تھیسس اور علمی مقالات لکھوانے کا منظم سلسلہ ہے، جو پاکستان میں ایک نمایاں اور منفرد اقدام ہے، جن کا باقاعدہ دفاع (ڈیفنس) بھی کیا جاتا ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Skardu?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Skardu Baltistan
Skardu
03465309955