Jamia Najaf Skardu

Jamia Najaf Skardu The Official Page of Jamia tun Najaf باب مدینۃ العلم کے ماننے والوں ۔۔ علم دین حاصل کرو...

*جامعۃالنجف اپڈیٹ* بروز: بدھ  تاریخ: 23 ستمبر 2026ء  رپورٹر: حافظ حامد حسین  سکردو:جامعة النجف سکردو میں بروز بدھ بعد از...
24/09/2026

*جامعۃالنجف اپڈیٹ*

بروز: بدھ
تاریخ: 23 ستمبر 2026ء
رپورٹر: حافظ حامد حسین

سکردو:جامعة النجف سکردو میں بروز بدھ بعد از نمازِ ظہرین مدیرِ جامعہ شیخ محمد علی توحیدی نے طلابِ کرام کو درسِ اخلاق دیا۔ آپ نے مستقبل کی بہترین منصوبہ بندی (Future Planning) کے موضوع پر مفصل گفتگو کی۔

آپ نے امام علی علیہ السلام کے فرمان "*«مَنْ لَمْ يَعْرِفِ الْمَوَارِدَ أَعْيَتْهُ الْمَصَادِرُ»*
*ترجمہ:* جو شخص مواقع اور وسائل کو پہچانتا نہیں، وہ اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام اور درماندہ رہتا ہے۔"
کو سرنامۂ کلام قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس شخص یا قوم کے پاس منصوبہ بندی نہ ہو، وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ آج دنیا میں جن افراد اور اقوام نے دنیاوی یا معنوی کامیابی حاصل کی ہے، وہ بہترین منصوبہ بندی کا ہی نتیجہ ہے۔ دنیا میں جن لوگوں نے تعلیمی، معاشی، سیاسی اور فکری میدانوں میں ترقی کی ہے، وہ ماہر منصوبہ سازوں کی منصوبہ بندی کی بدولت ہے۔
آپ نے منصوبہ بندی اور دین کے مابین گہرے تعلق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگوں کے خیال میں آئمہ طاہرین کے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا، حالانکہ اس کے برعکس سب سے بہترین منصوبہ ہمارے آئمہ معصومین کے پاس تھا۔ وہ ایسا منصوبہ تھا جس نے دشمنوں کی راتوں کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں۔ آئمہ کے انہی منصوبوں کی وجہ سے امام علی علیہ السلام اور دیگر آئمہ معصومین کو شہید کیا گیا۔ امام علی علیہ السلام کے بارے میں مشہور روایت ہے کہ آپ کو آپ کی *شدتِ عدل* کی وجہ سے شہید کیا گیا۔ دنیا میں عادلانہ نظام قائم کرنا ہمارے آئمہ معصومین کا منصوبہ تھا۔

دورِ جدید میں یورپی ممالک، چین اور روس نے ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، کیونکہ ان کا نظریہ یہ ہے کہ آخرت نامی کوئی زندگی نہیں، سب کچھ یہی دنیا ہے۔ اسی لیے انہوں نے منصوبہ بندی کے ساتھ دنیاوی زندگی میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ لیکن اسلام کا منصوبہ کچھ اور ہے۔

آج اگر دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ و اسرائیل نے امام خامنہ ای اور ان کے رفقاء کو نشانہ بناکر شہید کیا ہے تو اس کی اصل وجہ ان کی منصوبہ بندی ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ دنیا میں عدل و انصاف کا پرچار ہو، یہ منصوبہ استکبار کے لئے سخت نقصان دہ تھا، اسی لیے انہوں نے آپ کو شہید کیا۔ امریکہ و اسرائیل ایران سے جنگ اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ایران کے پاس ایسا منصوبہ ہے جو ان کے نظریے کے خلاف ہے۔ اسی لیے آج کفر، کلِ ایمان کے مقابلے میں برسرِ پیکار ہے۔کسی اور ملک کے ساتھ امریکا واسرائیل کا جنگ نہیں ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسا جھان گیر منصوبہ نہیں جو ان کے استعماری ایجنڈے اور آرڈر کیلئے حقیقت میں نقصان کا باعث ہو۔

جب تک کسی قوم کے پاس بہترین منصوبہ ساز اور منصوبے نہ ہوں، تب تک وہ قوم ترقی نہیں کر سکتی۔

*بہترین منصوبہ بندی کے لیے چار چیزوں کی پہچان ضروری ہے:*
1. قوت و وسائل کی پہچان
2. کمزوریاں اور خامیوں کی پہچان
3. دستیاب مواقع اور امکانات کی پہچان
4. لاحق خطرات اور چیلنجز سے آگہی

جب بھی کوئی قوم تعلیمی، سیاسی، معاشی اور معنوی ترقی کے لیے منصوبہ بندی کرنا چاہتی ہے، تو اسے سب سے پہلے اپنے اندر موجود خامیوں کو پہچاننا چاہیے تاکہ ان خامیوں کو دور کیا جا سکے۔

انسان کو خدا کا بندہ ہونےکے ناطے خدا کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ خداوندِ متعال بہترین منصوبہ ساز ہے۔ وہ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:

*وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُؕ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ*
*ترجمہ:* اور انہوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے بھی تدبیر کی اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔
(سورہ آلِ عمران، آیت: 54)

آخر میں آپ نے خداوندِ متعال سے امتِ مسلمہ کو متحد رہ کر اسلام کی سربلندی اور کامیابی کے لیے بہترین منصوبہ بندی کرنے کی توفیق عطا کرنے کی دعا کے ساتھ درس تذکر کو سمیٹ لیا۔

06/09/2026

حوزہ/آئی ایس او ضلع سکردو بلتستان کے زیرِ اہتمام جامعۃ النجف سکردو میں ’’زاویہ‘‘ پروگرام کے تحت ’’نئے عالمی حالات اور ہماری دینی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر خصوصی ن...

جامعۃ النجف سکردو کا ایک یادگار تفریحی و مطالعاتی سفر:شیلا ویلیتحریر: حسین بشیر سلطانی 3 ستمبر 2026ء بروزِ جمعرات جامعۃ ...
06/09/2026

جامعۃ النجف سکردو کا ایک یادگار تفریحی و مطالعاتی سفر:شیلا ویلی
تحریر: حسین بشیر سلطانی

3 ستمبر 2026ء بروزِ جمعرات جامعۃ النجف سکردو کی طرف سے حسبِ معمول امسال بھی غیر نصابی سرگرمیوں کے سلسلے میں بلتستان کی حسین وادی شیلا ویلی کی طرف سفر کا موقع ملا۔ شیلا ضلع سکردو کا ایک دورافتادہ بالائی علاقہ ہے۔ یہ سفر بظاہر دو ڈھائی گھنٹوں کا تھا مگر حقیقت میں یہ زمین سے آسمانی بلندیوں کی طرف ایک ایسا سفرتھا جس میں آغوشِ مادَر جیسی شفقت، جُنبش برگِ گلاب جیسی تازگی اور بے باکیٔ اطفال کی سی بے ساختہ خوشی ہمارے ساتھ محو سفر تھیں۔ رات ہی کو ناظمِ جامعہ جناب علی احمد نوری صاحب کی جانب سے صبح سات بجے روانگی کی اطلاع ملی، سو صبح ہوتے ہی طلبہ کے دلوں میں ایک عجیب سی شورشِ شوق برپا تھی؛ کسی کی نگاہ سُوئے قمر تھی، کسی کی نظر پہاڑوں پراور کسی کے دل میں آنے والے مناظر کا اشتیاق ۔ آخرکار سات بج کر پچیس منٹ پر استادِ محترم شیخ محمد علی توحیدی، استادِ محترم شیخ حسن جعفری، استادِ محترم شیخ اشرف مظہر، استادِ محترم شیخ جان حیدری اور شیخ امین صاحب کی معیت میں ہم خجستہ پا روانہ ہوئے۔ طلبہ کی حالت یہ تھی کہ گویا پھٹے بادل میں بے آوازِ پا کوئی خواب ہمارے سامنے اترنے والا ہو؛ حیرت خواب تھی یا حقیقت، کہنا دشوار تھا، مگر آنکھ وقفِ دید تھی، لب مائلِ گفتار تھا اور ہر طالبِ علم سراپا ذوقِ استفسار کی تصویر بنا ہوا تھا۔

سر میک نامی بستی تک کی ہموار اور پکی سڑکوں پر سفر آسانی سے جاری رہا۔ سرمیک کے بعد ایک خطرناک اور پر پیچ کچا راستہ شروع ہوا ۔ طلبہ نے شمار کیا تو وادی کی اس راستے میں تقریباً بیس ہوشربا موڑ تھے اور مسلسل چڑھائی تھی۔البتہ راستے کی سختی نے کسی کی خوشی کم نہ کی۔ اس کے برعکس ہر موڑ پر ایک نیا منظر، ہر بلندی پر ایک نیا افق، اور ہر خاموش پہاڑ میں ایک نئی داستان دکھائی دیتی تھی۔ کہیں گھٹائیں خیمہ زن تھیں، کہیں آسمان کی وسعت میں عہدِ کہن کی خاموشی تھی، کہیں پہاڑوں کی پیشانی پر روشنی کا تاج تھا۔ دماغ یہ کہتا تھا کہ انسان اپنی محدود نگاہ کو ان بے کراں مناظر کے سامنے کتنا وسیع کر سکتا ہے۔ پہاڑوں کی فصیل دور تک پھیلی ہوئی تھی اور بعض بلند چٹانوں پر ایسا جلوہ طورِ سینا تھا کہ نگاہ ٹھہرنے کا نام نہ لیتی تھی۔ گردشِ شام و سحر سے بے نیاز وہ پہاڑ اپنی جگہ قائم تھے، جبکہ ہم ان کے دامن سے گزر کر اپنی ہی کم مائیگی کا احساس کر رہے تھے۔

طلبہ فرطِ طرب سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ تعلیمی اداروں میں ایسے مواقع کم ہی میسر آتے ہیں، مگر شاید جامعۃ النجف سکردو کی ایک منفرد خصوصیت یہی ہے کہ یہاں تعلیم کو کتاب اور جامعہ کی چار دیواری تک محدود نہیں سمجھا جاتا۔ گاڑی میں طلباء کی اسلامی دعائیں اور ترانے گونجتے رہے۔ دامنِ موجِ ہوا ہمارے ساتھ تھا، جُنبشِ برگِ درختاں میں ایک خاموش موسیقی موجزن تھی گویا موجِ نسیمِ صبح ہمارے چہروں کو چھوتی ہوئی یہ پیغام دے رہی ہو کہ زندگی صرف ایک ہی رنگ کا نام نہیں؛ بلکہ زندگی کے کئی رنگ ہیں اور ان کے لطیف احساس سے بھی بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ آخرکار تقریباً دس بجے ہم شیلا ویلی میں داخل ہوئے۔وادی سیر میک کے ویو پوائنٹ پر اتر کر ہم نے اس حسین وادی کی تصاویر کیمروں کی آنکھوں سے اچک لیں۔ دو عدد طاقتور ٹویوٹا گاڑیاں چالیس افراد کے قافلے کو لے کر مسلسل طاقت فرسا چڑھائیاں چڑھتی رہیں اور موڑ پر موڑ کاٹتی رہیں۔ تقریباً انیس یا بیس موڑ کاٹنے کے بعد تکلیف دہ موڑ ختم ہو گئے۔کچھ دیر میں ہم وادی ڈورو کی حدود میں داخل ہو گئے۔

وادی نے ہمارا استقبال کسی رسمی دروازے سے نہیں بلکہ اپنی پوری فطری رعنائیوں کے ساتھ کیا۔ باغات محنت کش انسانوں کے ہاتھوں سیراب ہو کر سرسبز تھے یا کٹائی کے مراحل میں تھے، کھیتوں میں زندگی آخری سانسیں لے رہی تھی، چہروں پر سادگی تھی اور ہر طرف قدرت کی بے شمار نشانیاں بکھری ہوئی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا زمین اپنی تازہ صبح کو جھولا جھلا رہی ہے۔ درختوں کی زبانِ برگ، گویا کسی نامعلوم کتاب کا ورق الٹ رہی تھی۔ سبزہ نشّۂ ہستی میں جھوم رہا تھا اور پوری وادی ایک ایسی خلوت میں داخل تھی جہاں خانۂ قدرت ہی اصل کاشانہ معلوم ہوتا تھا۔ شہر کی مصروف اور مصنوعی زندگی سے تھکے ہوئے اعصاب پر تازہ ہوا نے یوں اثر کیا جیسے کسی نے تھکے ہوئے دل پر محبت کا ہاتھ رکھ دیا ہو۔

وادی کے اندر بہتا ہوا صاف، میٹھا پانی اس سفر کا شاید سب سے دل آویز باب تھا۔ ندّی فرازِ کوہ سے اترتی ہوئی کبھی نرم لہجے میں گنگناتی اور کبھی چٹانوں سے ٹکرا کر اپنا لہجہ بلند کر دیتی۔ اس کی آواز میں کوثر و تسنیم کی موجوں جیسی پاکیزگی محسوس ہوتی تھی۔ پانی سنگِ رہ سے گاہے بچتی گاہے ٹکراتی ہوئی آگے بڑھتا، کبھی کسی سبز گوشے میں چھپ جاتا اور کبھی چھوٹی چھوٹی آبشاروں کی صدا میں اپنی موجودگی کا اعلان کرتا۔ رنگِ شفق کُہسار کی چوٹیوں اور دم تک پھیلتا تو یوں محسوس ہوتا کہ آسمان نے پہاڑوں کے چہروں پر اپنے خواب لکھ دیے ہوں۔ اس منظر میں تفکّر کا سماں تھا؛ انسان گردشِ ایّام کو بھول کر صرف اس لمحے کی حقیقت میں زندہ ہو جاتا ہے۔ پانی کی روانی نے ہمیں زندگی کی وہ ابجد یاد دلائی کہ ہر زندہ شے کی بنیاد پانی سے وابستہ ہے؛ پتھر، سبزہ، درخت، جانور اور انسان، سب اسی عظیم نظامِ حیات کے مختلف مظاہر ہیں۔
کچھ آگے بڑھے تو بلندی نے ہمیں اپنے حصار میں لے لیا۔ پہاڑوں کے درمیان فلک بوس نشیمن تھے، کہیں دُرافشاں گُلزار اپنی رنگینی بکھیر رہے تھے اور کہیں رونقِ بزمِ جوانانِ گُلستاں کی طرح طلبہ کی آوازیں فضا میں گھل رہی تھیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے گیسوئے ہستی ہوا کے ہاتھوں کھل گئے ہوں اور دیدۂ امیّد کو ہر طرف نئی زندگی دکھائی دے رہی ہو۔ لبِ جُو بیٹھ کر انسان پانی کی روانی میں اپنے ہی دل کی دھڑکن سننے لگتا۔ پرندوں کی آوازیں ہمیں محوِ ترنّم رکھ رہی تھیں ۔دامنِ کُہسار میں یہ دنیا واقعی ہنگامۂ عالم سے دُور معلوم ہوتی تھی۔ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ علامہ اقبال کی روح بھی ہمارے باطن میں گھس کر یوں گنگنا رہی ہو:
پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغِ چمن
پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار اودھے اودھے ،نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن

حسنِ فطرت کا ہر ذرہ آئینہ الہی بن کر ہمیں عالم لاہوت و عالم ملکوت کی سیر کرا رہا تھا۔ ہم نے وادی کے محنت کش لوگوں کو دیکھا؛ وہ دہقانوں کی سادگی لیے اپنی زمین، جانوروں اور متحرک زندگی کا سامان کر رہا تھے۔ ان کے چہروں پر وہ سکون تھا جو مصنوعی آسائشوں میں کم ہی ملتا ہے۔ یہاں ایسے لوگ بھی تھے جو زمانے کی دوڑ سے قدرے دور، اپنی خاموش دنیا میں آباد تھے، مگر ان کی زندگی میں پیکارِ عناصر کے باوجود ایک عجیب استقامت تھی۔ ان لوگوں کو دیکھ کر دل نے کہا: تھم ذرا بے تابیِ دل! زندگی کی اصل عظمت شاید آسائش میں نہیں، اپنے حصے کی زمین کو محبت سے آباد کرنے میں ہے۔ یہاں انسان اگر مفسِّر کتابِ ہستی بننا چاہے تو اسے کسی ضخیم کتاب کی ضرورت نہیں؛ ایک کسان، ایک چشمہ، ایک درخت اور ایک پہاڑ کافی ہے۔ یہ سب سِدرہ آشنا اشاروں میں کائنات کا راز بیان کرتے ہیں۔ یہاں کی محنت میں غیرتِ لعلِ بے بہا تھی اور ہر چہرہ وجود و عدم کی نمود کے بیچ انسانی زندگی کی ایک خاموش دلیل تھا۔

کچھ ٹیلوں کے بعد ہم ایک ایسے میدان میں پہنچے جہاں وادی شیلا کے مومنین گرمیوں کے موسم میں اپنے مال مویشی رکھتے ہیں۔ جانوروں کے لیے بنائی گئی منفرد جگہیں، پرندے، مویشی اور ان سے وابستہ روزمرہ زندگی دیکھ کر محسوس ہوا کہ یہ لوگ جانور پالتے ہیں اور اپنی معیشت، روایت اور بقا کا ایک پورا نظام سنبھالے ہوئے ہیں۔ ہر جاندار اپنے حصے کا کردار ادا کر رہا تھا اور قدرت اپنی جلوہ گری سے ثبات بخش رہی تھی۔ جو شخص چشم خرد سے دیکھے، اسے یہاں ضیائے شعور کے بے شمار چراغ دکھائی دیں گے۔ یہاں کے لوگ، جانور، درخت، ندیاں،جھرنے، چراگاہیں اور پہاڑ سب گویا زائیدگانِ نور ہیں اور ایک ہی خالقِ بے ہمتا کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔یہ سب ایک ہی زنجیرمیں بندھے ہوئے عالمِ وجود کی مختلف کڑیاں ہیں۔

اس وادی میں وقت جیسے اپنی رفتار بھول گیا تھا۔ ایک طرف بزمِ عیش کی سی خوشی تھی، دوسری طرف پہاڑوں کی خاموشی میں رنگِ شفق جیسی نرمی۔ انسان کی نگاہ مایۂ آشوبِ امتیاز بننے کے بجائے وحدت کی نظارہ گر لگتی ہے۔ ہر منظر ناظمِ کون و مکاں کا ثناخواں نظر آتا ہے۔

اس سفر میں کبھی ایسا بھی لگا کہ ہم کسی بامِ حرم پر کھڑے ہیں اور نیچے پوری وادی ایک وسیع عبادت گاہ کی مانند پھیلی ہوئی ہے۔شہری زندگی کے مصنوعی حلقۂ دامِ ستم سے نکل کر یہ فضا انسان کو اپنے اصل وجود کی طرف واپس بلاتی ہے۔ پہاڑوں کا سیمائے اُفق سے گلے ملنا، وادی کا آسمان میں تحلیل ہونا اور خاموشی میں زندگی کی آواز سنائی دینا، یہ سب کچھ شورشِ میخانۂ شہرسے بالکل مختلف تجربہ تھا۔ شہر کا انسان جو ہر وقت زحمت کشِ ہنگامۂ عالم بنا رہتا ہے، یہاں آکر اپنی روح کے سامنے بیٹھ جاتا ہے۔ شمعِ تخیّل روشن ہوتی ہے، افسونِ بیداری ٹوٹتا ہے اور نسیمِ زندگی انسان کے اندر کہیں بہت دور سوئے ہوئے احساس کو جگا دیتی ہے۔

مجھے لگتا ہے سفر انسان کو مخلص دوستوں، اچھے انسانوں، منفرد اور دلکش مناظر، عشق و شوق سے لبریز حسنِ کائنات سے روبرو کرتا ہے۔ نئے آداب، ثقافت، تہذیب، رسوم، اخلاق اور کردار سے روبرو کرتاہے۔یہاں ہر چیز کے پیچھے ایک سوال ہے اور ہر سوال کے پیچھے ایک راز۔ اس راز میں اترنے والا ہی غوّاص بنتا ہے؛ اور جو عقل، تجربے اور مشاہدے کے ساتھ اترے، وہ غوّاصِ دانش و بینش بن کر فطرت کے پوشیدہ معانی تلاش کر سکتا ہے۔

حسن کے ساتھ حقیقت کو دیکھنا بھی ضروری ہے۔ شیلا ویلی کی فطری دولت بے مثال ہے، مگر بنیادی سہولیات کا فقدان اس حسن کے چہرے پر ایک سوالیہ نشان بھی ثبت کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کا نظام انتہائی خراب اور خستہ ہے، صحت کی مناسب سہولیات موجود نہیں، مواصلاتی نظام آج کے اس جدید دور میں بھی تقریباً ناپید ہے اور معیاری تعلیم کی سہولت بھی عنقا ہے۔ یہ تضاد عجیب ہے کہ جس خطے کوقدرت نے بے تحاشا گنجِ ہائے گراں مایہ سے نوازا ہو، وہاں کے انسان بنیادی سہولیات کے لیے ترستے رہیں۔ اگر گلگت بلتستان کے ایسے علاقوں میں عالمی سیاحت کے لیے مناسب انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے، سڑکیں، صحت، مواصلات، تعلیم، رہائش اور ماحول دوست سیاحتی نظام قائم کیا جائے تو یہ خطہ اپنی موجودہ معاشی صلاحیت سے کہیں زیادہ پیدا کر سکتا ہے۔ ہمیں صرف پہاڑ نہیں بیچنے؛ ہمیں اپنی تہذیب، فطرت، محنت، ثقافت اور حسن کو دنیا کے سامنے ایک منظم انداز میں پیش کرنا ہے۔ یہی طبیعتِ آزاد قوموں کا راستہ ہے کہ وہ اپنی نعمتوں کو پہچانیں، ان کی حفاظت کریں اور انہیں ترقی کا وسیلہ بنائیں۔

شام ڈھلنے لگی تو واپسی کا وقت آگیا۔ تقریباً چار بجے ہم واپسی کے مقام پر پہنچے، کھانا کھایا اور تقریباً پانچ بجے جامعۃ النجف سکردو کی طرف روانہ ہوگئے۔ سورج کی روشنی میں اب پہلے جیسی تیزی نہ تھی؛ افق پر پھیلتی ہوئی شام کسی شاعر کے ہاتھ کی لکیر معلوم ہوتی تھی۔ دن کی آخری روشنی ہمیں کچھ دیر اور روکنا چاہتی تھی، مگر ہر سفر کا مقدر واپسی ہے۔ دل میں سوزِ اشتیاقِ تھا کہ یہ راستہ ختم نہ ہو۔ لُطفِ ہمسایگیِ شمس و قمر کا یہ دن اپنی یاد ہمارے اندر چھوڑ چکا تھا۔ پہاڑوں سے اترتے ہوئے یوں محسوس ہوا جیسے ہم کسی وادی سے نہیں بلکہ اپنے ہی کسی خوب صورت خواب سے واپس آ رہے ہوں۔ اس سفر کی ہر ساعت نے پیغامِ سحر کی طرح ہمارے اندر ایک نئی امید رکھی اور ہر منظر کا نقشِ کفِ پا دل کی زمین پر ثبت ہوتا چلا گیا۔

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اتنے دشوار اور سخت سفر کے باوجود ہم کسی مشکل کے بغیر بخیریت و سلامتی جامعۃ النجف سکردو واپس پہنچے۔ رات کو جب بستر پر لیٹ کر سر تکیے پر رکھا اور آنکھیں بند کیں تو عجیب کیفیت طاری ہوئی۔ یوں لگا جیسے شیلا ویلی ابھی تک ہمارے اندر موجود ہے؛ پانی کے سریلے نغمے پھر سے سنائی دینے لگے، ہوا کی نرم جنبش محسوس ہونے لگی، ٹھنڈے پانی کی لہریں ذہن کی سطح پر لہرانے لگیں، اور وادی کے وہ خاموش مناظر کاشانۂ دل میں دوبارہ آباد ہوگئے۔ تبسّم فشاں زندگی کی وہ ساعتیں کبھی لغزشِ مستانۂ خیال بن کر لوٹتیں، کبھی سوز و ساز کی طرح دل میں اترتیں کہ انسان آخر کس چیز کی تلاش میں ساری عمر دوڑتا رہتا ہے؟ شاید وہ اسی سکون کا متلاشی ہے جو ایک خاموش چشمے کے کنارے چند لمحوں کے لیے اسے مل جاتا ہے۔
درخت، پانی، پتھر، پرندے، جانور، دہقان اور پہاڑ سب ایک ایسی مربوط حقیقت کا حصہ ہیں جسے دیکھنے کے لیے صرف آنکھ کافی نہیں؛ دیدۂ حکمت چاہیے، چشم خرد چاہیے، دانش و بینش چاہیے۔
شیلا ویلی کی زیارت ِدل انگیزنے ہمیں یہ احساس دیا کہ کائنات میں کوئی شئے بے مقصد نہیں اور کوئی وجود بے ربط نہیں۔ ہر ذرہ کسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پانی اپنی روانی سے، پہاڑ اپنی بلندی سے، درخت اپنی خاموشی سے، انسان اپنی محنت سے اور آسمان اپنی وسعت سے ایک ہی حقیقت کا پتہ دیتے ہیں۔ یہی نظمِ ہستی ہے، یہی حسن کی اصل معنویت ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان، اگر تعصب اور غفلت کے پردے ہٹا کر دیکھے، تو فطرت کے ہر ورق پر خالق کی قدرت کے آثار پڑھ سکتا ہے۔ شیلا ویلی کا یہ سفر ختم ضرور ہوگیا، مگر اس کے مناظر ابھی تک دل کے اندر زندہ ہیں انشاء اللہ ہمارے کاشانۂ دل میں ہمیشہ کے لیے آباد رہیں گے۔
ہم جامعۃ النجف سکردو کا اور جامعہ کے پورے سٹاف کے ممنون و مشکور ہیں کہ ہمیں اتنے بہترین اہتمام کے ساتھ شاندار سفر کرنے کا موقع فراہم کیا۔ہمارے اس مطالعاتی سفر کو خوشگوار بنانے میں بعض زندہ دل مومنین کا بھی سخاوت مندانہ حصہ ہے جنہیں مصور ارض و سما ہی جزائے لا یزال سے نواز ے گا۔
اس سفر میں ہم نے "سیروا فی الارض" کی کائناتی الہی دعوت کی اہمیت کا بھی خوب ادراک کیا۔ یہ وہ انسان ساز دعوت ہے جسے ہماری ملت نے ابھی اچھی طرح نہیں سمجھا۔ شائد دیگر غیر مسلم اقوام اربوں کھربوں ڈالر خرچ کر کے ہماری نیابت میں یہ فریضہ نبھا رہی ہیں۔
اللہ ہمیں صحیح معنوں میں سیر عالمِ انفس و آفاق کی توفیق سے نوازے۔

جامعۃ النجف سکردو میں ’’نئے عالمی حالات اور ہماری دینی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر اہم علمی نشستازقلم: حسین بشیر سلطانی سکر...
06/09/2026

جامعۃ النجف سکردو میں ’’نئے عالمی حالات اور ہماری دینی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر اہم علمی نشست
ازقلم: حسین بشیر سلطانی
سکردو، 4 ستمبر 2026۔
جامعۃ النجف سکردو بلتستان میں ایک یادگار علمی پروگرام منعقد ہوا۔ یہ پروگرام عالمی شہرت یافتہ مقرر اور عالمی حالات سے واقف شخصیت مولانا سید علی مرتضیٰ زیدی صاحب کی آمد پر رکھا گیا تھا۔ ’’نئے عالمی حالات اور ہماری دینی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر یہ علمی نشست جامعۃ النجف کے شیخ مفید ہال میں منعقد ہوئی، جس میں طلبہ، اساتذہ، ارباب فکر و دانش اور بیدار جوانوں نے شرکت کی۔ تلاوتِ قرآن مجید کی سعادت حسین بشیر سلطانی نے حاصل کی، نعت کا ہدیہ افضل ذاکری نے جبکہ منقبت محمد واجد نے پیش کی۔ اس کے بعد مولانا سید علی مرتضیٰ زیدی نے تفصیلی گفتگو فرمائی۔
مولانا سید علی مرتضیٰ زیدی نے اپنی گفتگو کا آغاز قرآن مجید کی اس آیت سے کیا۔ انہوں نے عالمی منظرنامے میں تبدیلی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ ایک وقت برطانیہ جو ایک چھوٹے سے جزیرے پر مشتمل ملک تھا دنیا پر حاکم تھا۔ اس کے بعد امریکہ عالمی نظام میں اس کا جانشین بن گیا۔ امریکہ نے اچھے نعروں اور سبز باغوں کے ذریعے ’’امریکی استعماریت‘ کو فروغ دیا۔ برطانوی استعمار نے جہاں فوجی طاقت کو استعمال کیا، وہیں امریکہ نے ثقافتی میدان میں اپنا اثر قائم کیا، اگرچہ اس نے فوجی طاقت سے بھی کام لیا۔
انہوں نے تاریخی اور دینی تناظر میں برطانوی استعمار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں یہ خوف موجود تھا کہ اسلام دوبارہ یورپ پر غالب نہ
آجائے۔ مسلمان صدیوں پہلے یورپ کے اندر داخل ہوئے۔ انہوں نے یورپ میں اپنے مراکز قائم کیے۔ وہ قسطنطنیہ، اسپین اور اندلس تک پہنچے۔ پھر جدید استعماریت نے مسلمانوں کی طاقت کو کچل دیا۔انہوں نے اپنی کامیاب ترین کاروائی کے طور پر مسلمانوں اور مغلوب اقوام کو احساسِ کمتری میں مبتلا کیا اور ان کی خودی کو مسلوب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اور اسلامی جمہوریہ ایران سمیت بعض اقوام اس کیفیت سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں، لیکن عرب دنیا اور برصغیر کے معاشرے اس نظام میں پھنسے رہے۔ انہوں نے کہا کہ عرب خطے میں اسرائیل کو بٹھایا گیا اور اس کے مقابلے کی کوئی مضبوط قوت باقی نہ رہی۔
مولانا زیدی نے کہا کہ انقلابِ اسلامی ایران نے اس صورتِ حال میں ایک بنیادی تبدیلی پیدا کی اور استعماری طاقتوں کے بنائے ہوئے پیٹرن کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ ایک نئی تمدنی بنیاد پر اپنا نظام قائم کرنے کی کوشش کی۔ مغربی طاقتوں کے پاس ترقی کا ایک مخصوص مادی اور دنیوی تصور ہے۔ گزشتہ پچاس برسوں میں سکردو سمیت دنیا کے مختلف علاقوں میں سہولیات اور مادی ترقی تو بڑھی ہیں، مگر کیا اسی تناسب سے سکون، محبت اور انسانی اطمینان بھی بڑھا ہے؟ آج کیریئر کاؤنسلنگ تک میں اکثر گفتگو کا مرکز پیسہ ہی ہوتا ہے، جبکہ بہترین سہولیات رکھنے والے معاشروں میں بھی لوگ منشیات کے باعث اپنی زندگیاں کھو رہے ہیں اور اندر سے کھوکھلے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر انسان نے بالآخر نشے اور بے سکونی میں مبتلا ہونا ہے تو صرف مادی ترقی کی دوڑ کا کیا فائدہ؟
انہوں نے انقلابِ اسلامی ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس ’’جھوٹ‘‘ کو بے نقاب کرنے اور حقیقت بیان کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق بعد ازاں انقلاب اسلامی ایران کامیاب ہوا اور آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے معنویت، خود اعتمادی اور خود انحصاری کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے باوجود ایران اپنے پاؤں پر کھڑا ہوا۔
مولانا زیدی نے مسلم تہذیب کے تاریخی ورثے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب انگریزوں کا راج نہیں تھا تو مسلمانوں نے تاج محل، عظیم مساجد اور دیگر شاندار عمارتیں تعمیر کیں۔ اس دور میں مسلمانوں کے اپنے علمی مراکز اور جامعات بھی موجود تھیں، لیکن استعمار کے آنے کے بعد یہ نظام تباہ ہوا۔ بعد میں دوسرے ممالک کے لوگ آ کر سڑکیں بنانے لگے اور اسے ترقی کا نام دیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ترقی کا تصور صرف سڑکوں اور عمارتوں تک محدود کیوں ہو؟
انہوں نے ایران کی حالیہ سیاسی و عسکری صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب رہبر نے ’’عاشورائی جنگ‘‘ کی بات کی تو انہیں یقین ہوگیا تھا کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر کرتے ہوئے ان کے بعض بیانات پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی کے حوالے سے امریکی قیادت کے متضاد اور مضحکہ خیز دعووں کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔ انہوں نے موجودہ کشیدگی کو فرعون کے واقعے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات حالات ایسے رخ اختیار کرتے ہیں کہ مخالف طاقت خود اپنے دام میں پھنس جاتی ہے۔
مولانا زیدی نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ٹیکنالوجی کا مقابلہ ٹیکنالوجی سے کیا اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی اپنی اہمیت واضح کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ رہبر کی شہادت کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں اور ہم نے کیا کیا؟ ان کے مطابق اگر ہم نے صرف جذبات کا اظہار کیا اور اپنی زندگیوں میں کوئی عملی تبدیلی پیدا نہیں کی تو ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید رہبر لوگوں کو خدا کی طرف بلاتے تھے، اس لیے ہمیں بھی نفس پرستی اور دوسروں کی غلامی سے نکلنا ہوگا، اپنی نمازیں بہتر بنانی ہوں گی، قرآن مجید کی تلاوت اور عبادت میں اضافہ کرنا ہوگا، اخلاق کو بہتر بنانا ہوگا اور اپنی خواہشاتِ نفسانی پر قابو حاصل کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے اوپر سب سے بڑا ظلم یہ کرتے ہیں کہ اپنی صلاحیتوں سے غافل رہتے ہیں اور ان پر کام نہیں کرتے۔ ہماری صلاحیتیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج بچے اور بچیاں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام پر مصروف ہیں۔ خدا نے ہمیں بے صلاحیت پیدا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو کام انسان کرے اسے اچھے طریقے سے اور بہترین معیاروں کے مطابق کرے۔
مولانا زیدی نے ادارہ سازی اور منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم کروڑوں روپے کے پروگرام منعقد کرتے ہیں، لیکن اس سے بہتر یہ ہے کہ ایک اسکول یا یونیورسٹی بنا دی جائے۔ ان کے مطابق آج اہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کے لیے دنیا کے بڑے ظالموں کے مقابلے میں کھڑے ہونے کا ایک نیا مرحلہ سامنے آیا ہے، اس لیے اب پہاڑوں اور غاروں میں بیٹھنے کا وقت نہیں بلکہ دنیا سے مربوط ہو کر اجتماعی طور پر آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کا مقدر ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے ولایتِ فقیہ کو اہل تشیع کے لیے عالمی نمائندگی کا ایک پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام دنیا کے مسائل میں ایک آواز فراہم کرتا ہے اور ہمیں ایک راستہ متعین کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ انہوں نے رہبر معظم کو ایک نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف کھڑا ہونے والا ذلیل ہوگا۔ ان کے مطابق اہل بیت علیہم السلام سے محبت رکھنے والے افراد کو اپنے اندر یہ عزم پیدا کرنا چاہیے کہ وہ اپنے دینی نظام اور اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ان کے مطابق عمل کریں۔
سوال و جواب کے سیشن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض بیانات، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے اور اس کے ممکنہ علاقائی اثرات کے بارے میں سوالات کیے گئے۔ مولانا زیدی نے ٹرمپ کے بیانات کو ناقابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق امریکی صدر کے بیانات میں تسلسل نہیں ہوتا۔
ایران کے فضائی دفاعی قوت سے متعلق سوال کے جواب میں مولانا زیدی نے کہا کہ دنیا کے بہت سے اسٹریٹیجک تجزیہ کار ایران کے دفاعی نظام کو طاقتور قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کا دفاعی نظام واقعی کمزور ہوتا تو امریکہ ایران کی جوہری تنصیبات اور دیگر اہم اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر چکا ہوتا اور ایران کو اس مقام تک پہنچا دیتا جہاں وہ اسرائیل پر ایک گولی بھی نہ چلا سکتا۔ انہوں نے اسرائیل کے دفاعی نظام کی متعدد تہوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود ایران نے اس نظام کو چیلنج کیا، اس لیے ایران کو کمزور قرار دینا درست تجزیہ نہیں۔
ایران کی اہم شخصیات کے تحفظ کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بعض اوقات کسی شخصیت کی حفاظت میں ناکامی کو صرف کمزوری کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اس کے پیچھے سیاسی اور عسکری حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت کے بعض افراد آخری وقت تک میدان میں موجود رہے اور شہادت سے خوف زدہ نہیں ہوئے۔ اگر ایرانی نظام واقعی کمزور ہوچکا تھا تو جنگ کیوں روکی گئی اور مطلوبہ امریکی اہداف مکمل طور پر حاصل کیوں نہیں کیے گئے؟
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طویل عرصے سے پابندیوں کا سامنا کرنے کے باوجود ایران نے جدید جنگی وسائل اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی صلاحیتیں منوا لیں۔ ہمارے معاشروں میں یہ ذہنیت پائی جاتی ہے کہ کہیں سے کوئی آئے گا، اور ہماری مشکلات حل کرے گا۔ جب تک ہم خود اپنے مسائل حل کرنے کے قابل نہیں ہوں گے، اس انتظار سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوست ممالک سے تعلقات ختم کیے جائیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اپنی مشکلات کے حل کے لیے دوسروں پر مکمل انحصار نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کو خدا نے بے صلاحیت پیدا نہیں کیا۔ قرآن کا اصول ہے کہ انسان کو اس کی محنت کا صلہ ملتا ہے، اس لیے ہمیں دوسروں کی غلطیوں کا شکوہ کرنے سے پہلے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔
گلگت بلتستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ خطہ پانی اور قدرتی وسائل کے اعتبار سے غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہاں موجود وسائل کو صرف خام شکل میں استعمال کرنے یا دوسروں کے حوالے کرنے کے بجائے ان سے مربوط ٹیکنالوجی، صنعت اور کاروباری صلاحیتیں خود پیدا کی جانی چاہئیں۔
انہوں نے امریکہ کی معاشی اور ثقافتی پالیسیوں کے حوالے سے کہا کہ ایران کے خلاف پابندیاں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہیں اور موجودہ دور میں ان کے دوبارہ اعلان کو کسی نئی حکمت عملی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق ان پابندیوں کے باوجود ایران نے اپنی صلاحیتیں پیدا کیں۔ انہوں نے اپنے تجزیے میں کہا کہ 2026 تک امریکی عالمی طاقت کے اثرات میں نمایاں کمی واقع ہوچکی ہے اور ان کے خیال میں امریکہ کے معاشی، سیاسی، عسکری اور ثقافتی غلبے کا دور اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔
مغربی معاشروں میں منشیات اور عرب و برصغیر کے معاشروں میں ’’مغربی غلامی‘‘ کے نشے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دونوں مسائل کی جڑ زندگی کی حقیقتوں سے دوری اور غلط راستے کا انتخاب ہے۔ ان کے مطابق مغربی معاشروں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے زندگی کی حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا، جبکہ ہمارے معاشروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوسروں کی غلامی سے نکلیں اور ایسے نظام کی اندھی تقلید نہ کریں جس سے خود اس کے پیروکار بھی تھک چکے ہوں۔
انہوں نے گلگت بلتستان میں بڑھتی ہوئی آبادی، سیاحت اور زمین کے استعمال کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق دولت کمانا بری بات نہیں، بلکہ محنت سے زیادہ سے زیادہ کمانا چاہیے، لیکن اس دولت اور وسائل کے استعمال کے بارے میں مستقبل کی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ آنے والے برسوں میں یہاں کتنی آبادی ہوگی، کتنے لوگ آئیں گے، زمین پر کیا دباؤ پڑے گا اور اس کے نتیجے میں مقامی لوگوں کے لیے کیا صورتِ حال پیدا ہوگی۔ انہوں نے اپنی زمینیں دوسروں کو فروخت کرنے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ترقی کرنی ہے تو خود منصوبہ بندی کرکے ترقی کی جائے اور اپنے وسائل کا کنٹرول ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔
پاکستان اور ایران کے تعلقات کے حوالے سے مولانا زیدی نے کہا کہ پاکستان بیک وقت مختلف طاقتوں سے تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایران عراق جنگ کے دوران بھی پاکستان کے مختلف فریقوں کے ساتھ تعلقات موجود تھے اور پاکستان نے ہمیشہ ایک توازن قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اکثر کسی شخص کے اچھے کام کو نمایاں کرنے کے بجائے اس کی کمزوری یا اسکینڈل کو زیادہ تیزی سے پھیلایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ منفی چیزیں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں، جبکہ اچھے کام اور کامیابیوں کو اتنی توجہ نہیں دی جاتی۔ انہوں نے تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنے ہیروز، سائنس دانوں، محققین اور کامیاب افراد کو نوجوانوں کے سامنے پیش کریں۔
آسٹریلیا کے ایک شہر میں محبان ِ اہل بیت کی جانب سے قائم کیے گئے ایک مدرسے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں نئی عمارت کا نام مسلمان سائنس دان جابر بن حیان کے نام پر رکھا گیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ بچوں کو بتایا جائے کہ مسلمان صرف مذہبی شخصیات ہی نہیں بلکہ سائنس اور تحقیق کے میدان میں بھی عظیم کردار ادا کرچکے ہیں۔ ہمیں بھی اپنے بچوں کے سامنے ایسے علمی نمونے پیش کرنے چاہئیں تاکہ ان کے اندر علمی اور تحقیقی خود اعتمادی پیدا ہو۔
انہوں نے کہا کہ اگر مذہبی اور اجتماعی وسائل کو منظم انداز میں تعلیم، تحقیق اور ادارہ سازی پر خرچ کیا جائے تو قوم دوسروں کی محتاجی سے نکل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذہبی مالی وسائل کا ایک حصہ یونیورسٹیوں، کالجوں، اسکولوں اور تحقیقی اداروں کے قیام پر صرف کیا جائے تو معاشرے کی علمی و معاشی طاقت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے شادی بیاہ، گاڑیوں، لباس اور نمود و نمائش پر ہونے والے غیر ضروری اخراجات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر شادیوں کو سادہ کر دیا جائے تو بڑی مقدار میں وسائل بچائے جا سکتے ہیں، جنہیں تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں اور دیگر اجتماعی منصوبوں پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔
مولانا زیدی نے کہا کہ غلطیوں کی اصلاح ضروری ہے، لیکن کسی ایک طبقے یا محدود گروہ کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار قرار دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی مذہبی یا اجتماعی نظام میں اصلاح کی ضرورت ہو تو اسے ضرور درست کیا جائے، لیکن ساتھ ہی معاشرے کے عام افراد کو بھی اپنے اخراجات، طرزِ زندگی اور وسائل کے استعمال پر غور کرنا ہوگا۔
سید علی مرتضیٰ زیدی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی حالات میں مسلمانوں خصوصاً نوجوانوں کے لیے سب سے بڑی ضرورت اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا، علم حاصل کرنا، ادارے قائم کرنا، وسائل کو محفوظ رکھنا، خود انحصاری پیدا کرنا اور دینی و اخلاقی ذمہ داریوں کو عملی زندگی سے جوڑنا ہے۔ ان کے مطابق بدلتی ہوئی دنیا میں وہی معاشرے مضبوط ہوں گے جو صرف دوسروں کے اقدامات پر تبصرہ کرنے کے بجائے اپنی علمی، فکری، معاشی، سائنسی اور اجتماعی صلاحیتوں کی تعمیر کریں۔

05/09/2026
*لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"*  *رپورٹ: سید طاہر الموسوی | سکردو**سکردو:* جامعۃ النجف سکرد...
03/09/2026

*لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"*
*رپورٹ: سید طاہر الموسوی | سکردو*

*سکردو:* جامعۃ النجف سکردو میں ہفتہ وار سلسلہ "درسِ اخلاق" کے تحت آج نمازِ ظہرین کے بعد ممتاز عالمِ دین علامہ شیخ سجاد حسین مفتی نے طلاب سے خصوصی خطاب کیا۔

علامہ صاحب نے اپنے خطاب کا موضوع "سیرتِ محمدیؐ اور سیرتِ صادقیؑ میں مشترک اخلاقی اوصاف" رکھا۔
خطاب کے آغاز میں انہوں نے قرآن کی آیت مبارکہ پیش کی:
*"لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"*
*اردو ترجمہ:* "بے شک تمہارے لیے رسول اللہؐ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے"
انہوں نے فرمایا: آج میں آپ کے سامنے رسول اللہؐ اور امام جعفر صادقؑ کی مشترکہ اخلاقی خصوصیات بیان کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے حضرت عائشہؓ کا ایک واقعہ نقل کیا کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: "رسول اللہؐ کا اخلاق کیسا تھا؟" تو انہوں نے جواب دیا: "کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟" اس نے کہا: "جی پڑھا ہے"۔ فرمایا: "تو جان لو کہ رسول اللہؐ کا پورا وجود ہی قرآن کا عملی نمونہ اور اخلاق کا پیکر تھا۔" بالکل اسی طرح امام جعفر صادقؑ بھی اخلاق کا مجسم پیکر تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ امام صادقؑ فرماتے ہیں: "اپنی تہذیب و ثقافت کی بنیاد علم پر رکھو، جہالت پر نہیں۔ کسی چیز کو صرف اس لیے مت اپناؤ کہ ہمارے آباء و اجداد ایسا کرتے تھے، بلکہ ہر رسم و رواج کو علم اور تہذیب کی کسوٹی پر پرکھو۔شراب کی حرمت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "جب اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام قرار دیا تو نبی کریمؐ نے صحابہ کو حکم دیا۔ صحابہ نے فوراً اطاعت کرتے ہوئے اپنے گھروں میں موجود شراب کے مٹکے تک باہر گلیوں میں پھینک دیے۔ یہ تھی رسول اللہؐ کی حقیقی اطاعت۔"
انہوں نے کہا کہ "اسی طرح امام صادقؑ نے دینِ محمدیؐ کی حفاظت مسجد میں بیٹھ کر کی۔ آپ نے علم کا ایسا چراغ روشن کیا کہ آپ کے 4000 سے زائد شاگرد تیار ہوئے جنہوں نے دنیا کے کونے کونے میں دینِ محمدؐ کو پھیلایا۔
آخر میں علامہ صاحب نے طلاب کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: "آج ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم سب سے پہلے دینِ محمدیؐ کا علم حاصل کریں، شریعت کو سمجھیں، خود اس پر عمل کریں اور پھر اس پیغام کو دنیا تک پہنچائیں۔
درس کے اختتام پر مدرسے کی ترقی، تمام مومنین کی سلامتی، مریضوں کی شفایابی، عالمِ اسلام کے اتحاد اور امامِ زمانہؑ کے جلد ظہور کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

*اظہارِ تشکر* اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تقریباً ڈھائی ماہ کے وقفے کے بعد ایک بار پھر جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، کراچی می...
01/09/2026

*اظہارِ تشکر*

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تقریباً ڈھائی ماہ کے وقفے کے بعد ایک بار پھر جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، کراچی میں اپنی علمی و تحقیقی خدمات کا سلسلہ شروع کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔

🔹رواں سال جولائی اور اگست کے دو ماہ کے دوران بلتستان کے مختلف مدارس و علمی اداروں میں جامعۃ المصطفیٰ شعبۂ تحقیق کی جانب سے منعقدہ ورکشاپس، تربیتی کلاسز اور مختلف علمی و تحقیقی سرگرمیوں میں شرکت اور خدمت کا موقع ملا۔

🔹اس دو ماہ کے عرصے میں مدارس کے مدیران، اساتذہ اور مسئولین کی جانب سے فنِ تحقیق، تحریر اور قلمی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے جس قدر دلچسپی اور تعاون کا مظاہرہ کیا گیا، وہ نہایت حوصلہ افزا اور قابلِ تحسین تھا۔ بالخصوص اکثر مدارس کے طلبہ و طالبات کا شوق، محنت، ذوقِ مطالعہ اور تحقیقی مزاج ہمارے لیے باعثِ مسرت بھی رہا اور ہمارے حوصلوں کو مزید بلند کرنے کا ذریعہ بھی بنا۔

🔹مختصر مدت کے باوجود طلبہ و طالبات نے فنِ تحریر کی مختلف مختصر اصناف(زندگی نامہ، خلاصہ نویسی، رپورٹ، کالم اور مضمون)کے ساتھ ساتھ مقالہ نویسی میں بھی اپنی استعداد اور تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ بالخصوص رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے افکار کے موضوع پر منعقدہ مقالہ و مضمون نویسی میں طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی۔ اس مختصر عرصے میں تقریباً 100 مضامین و مقالات تحریر کیے گئے، جو ان کے علمی شوق، محنت اور تحقیقی ذوق کی روشن علامت ہیں۔

🔹ہم ان تمام مدارس کے مسئولین، اساتذہ اور طلبہ و طالبات کے تہِ دل سے شکر گزار اور ممنون ہیں جن کے خلوص، تعاون اور حوصلہ افزائی سے یہ تحقیقی دورہ کامیابی سے ہمکنار ہوا۔

🔹اس موقع پر حوزہ علمیہ جامعۃ النجف سکردو کی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کا خصوصی شکریہ ادا کرنا بھی اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ بالخصوص حجۃ الاسلام شیخ محمد علی توحیدی اور برادر علی نوری صاحب کے لیے دل کی گہرائیوں سے سپاس گزار ہوں، جنہوں نے دو ماہ کے دوران بھرپور تعاون فرمایا اور اختتام پر علم، تحقیق اور محققین کی تجلیل و حوصلہ افزائی کے لیے ایک باوقار اور شاندار اختتامی تقریب کا انعقاد کیا۔

🔹اس باوقار تجلیلی تقریب میں مختلف مدارس سے تعلق رکھنے والے ان طلبہ و طالبات کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی جنہوں نے مختلف علمی و تحقیقی موضوعات پر قلم اٹھایا اور اپنی تحقیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ یہ اقدام یقیناً نوجوان نسل میں تحقیق، مطالعہ اور علمی تحریر کے ذوق کو پروان چڑھانے میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔

🔹اس باوقار تقریب میں علما، دانشوران اور مختلف مدارس کے اساتذہ کو بھی مدعو کیا گیا، تاکہ معاشرے میں علم و تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے اور معاصر دنیا کے تقاضوں کے پیشِ نظر طلبہ کے تحقیقی کردار اور علمی ذمہ داریوں کو مزید نمایاں کیا جا سکے۔

🔹 بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام معاونین، اساتذہ، مسئولین، محققین اور طلبہ و طالبات کی علمی و تحقیقی کاوشوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے علم و عمل میں برکت دے اور انہیں معاشرے کی علمی و فکری تعمیر میں مؤثر کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

🔹اللہ تعالیٰ آپ سب کی علمی و تحقیقی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔

سکندرعلی بہشتی
جامعۃالمصطفیٰ کراچی
18ربیع الاول

Address

Skardu Baltistan
Skardu
03465309955

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Najaf Skardu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Jamia Najaf Skardu:

Shortcuts

Share

Category