28/01/2026
نوبل ایجوکیشنل سسٹم اسکردو میں
پلے گروپ سے جماعت ہفتم (7th) تک داخلے جاری ہیں۔
معیاری تعلیم، بہترین اساتذہ اور بچوں کی بہترین تربیت کے ساتھ۔
دلچسپی رکھنے والے والدین اس نمبر پر رابطہ کریں:
📞 0344-5312774
30/12/2025
Admission open in noble educational system skardu
09/12/2025
الحمدللہ! نوبل ایجوکیشنل سسٹم سکردو میں سالانہ پرائز ڈسٹری بیوشن تقریب نہایت شاندار انداز میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں طلباء و طالبات نے خوبصورت ٹیبلو، تقاریر، اور نغموں کے ذریعے حاضرین کو محظوظ کیا اور اپنی صلاحیتوں
کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
سکول ڈائریکٹر سر کاظم بلغاری نے تمام مہمانان، والدین، اساتذہ اور طلباء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور ادارے کے مشن و وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے روشن مستقبل کی امید دلائی۔
نوبل ایجوکیشنل سسٹم سکردوعلم، تربیت اور قابلیت کا وہ
مرکز ہے، جہاں خواب بنتے ہیں اور حقیقت کا روپ دھارتے ہیں۔ نوبل! آپ کے بچوں کا روشن مستقبل
06/12/2025
الحمدللہ! نوبل ایجوکیشنل سسٹم سکردو میں سالانہ پرائز ڈسٹری بیوشن تقریب نہایت شاندار انداز میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں طلباء و طالبات نے خوبصورت ٹیبلو، تقاریر، اور نغموں کے ذریعے حاضرین کو محظوظ کیا اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
تقریب کو رونق بخشنے کے لیے معزز مہمانانِ گرامی نے شرکت کی، جن میں:
سوشل ویلفیئر آفیسر محترم حیدر صاحب
ڈائریکٹر آف اسٹیٹسٹکس بوائز ڈگری کالج سکردو جناب اشرف حسین صاحب
بیورو چیف اخبار، محترم منظور مظہری صاحب
ان معزز شخصیات کی موجودگی نے پروگرام کو چار چاند لگا دیے۔
پرنسپل سر محمد کاظم نے تمام مہمانان، والدین، اساتذہ اور طلباء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور ادارے کے مشن و وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے روشن مستقبل کی امید دلائی۔
نوبل ایجوکیشنل سسٹم سکردو علم، تربیت اور قابلیت کا وہ مرکز ہے، جہاں خواب بنتے ہیں اور حقیقت کا روپ دھارتے ہیں۔
نوبل! آپ کے بچوں کا روشن مستقبل۔
18/05/2025
نوبل ایجوکیشنل سسٹم سکردو میں شیخ صاحب نے بچوں کے سامنے ادب اور فلسطین کے موضوع پر ایک پرجوش تقریر کی۔ انہوں نے ادب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادب انسان کے دل و دماغ کو روشن کرتا ہے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے فلسطین کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے مظلوم فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت پر زور دیا اور بچوں کو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی ترغیب دی۔ ان کی تقریر نے بچوں کے دلوں میں امید، انصاف اور انسانیت کا جذبہ بیدار کیا۔ یہ ایک تعلیمی اور اخلاقی سبق تھا جو نوجوان نسل کو حساس اور باشعور شہری بننے کی راہ دکھاتا ہے۔