05/06/2024
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر کے دن تشریف لاتے تو نماز سے آغاز فرماتے اور جب اپنی نماز پڑھ لیتے اور سلام پھیرتے تو کھڑے ہو جاتے ، لوگوں کی طرف رخ فرماتے جبکہ لوگ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں بیٹھے ہوتے ۔ اگر آپ کو کوئی لشکر بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو اس کا لوگوں کے سامنے ذکر فرماتے اور اگر آپ کو اس کے سوا کوئی اور ضرورت ہوتی تو انھیں اس کا حکم دیتے اور فرمایا کرتے :’’ صدقہ کرو ، صدقہ کرو ، صدقہ کرو ۔‘‘ زیادہ صدقہ عورتیں دیا کرتی تھیں ، پھر آپ واپس ہو جاتے اور یہی معمول چلتا رہا حتیٰ کہ مروان بن حکم کا دور آ گیا ، میں اس کے ساتھ ، ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر نکلا حتیٰ کہ ہم عیدگاہ میں پہنچ گئے تو دیکھا کہ کثیر بن صلت نے وہاں مٹی ( کے گارے ) اور اینٹوں سے منبر بنایا ہوا تھا ۔ تو اچانک مروان کا ہاتھ مجھ سے کھینچا تانی کرنے لگا ، جیسے وہ مجھے منبر کی طرف کھینچ رہا ہو اور میں اسے نماز کی طرف کھینچ رہا ہوں ۔ جب میں نے اس کی طرف سے یہ بات دیکھی تو میں نے کہا : نماز سے آغاز ( کا مسنون طریقہ ) کہاں ہے ؟ اس نے کہا : اے ابوسعید ! نہیں ، جو آپ جانتے ہیں اسے ترک کر دیا گیا ہے ۔ میں نے کہا : ہرگز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو میں جانتا ہوں تم لوگ اس سے بہتر طریقہ نہیں لا سکتے ۔۔۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے تین دفعہ کہا ، پھر چل دیے ۔
Sahih Muslim #2053
کتاب: نماز عیدین کے احکام و مسائل
Status: صحیح