Way of the Muhammad - PBUH

Way of the Muhammad - PBUH

Share

#Quran | #Sunnah | #Hadith

05/06/2024

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر کے دن تشریف لاتے تو نماز سے آغاز فرماتے اور جب اپنی نماز پڑھ لیتے اور سلام پھیرتے تو کھڑے ہو جاتے ، لوگوں کی طرف رخ فرماتے جبکہ لوگ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں بیٹھے ہوتے ۔ اگر آپ کو کوئی لشکر بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو اس کا لوگوں کے سامنے ذکر فرماتے اور اگر آپ کو اس کے سوا کوئی اور ضرورت ہوتی تو انھیں اس کا حکم دیتے اور فرمایا کرتے :’’ صدقہ کرو ، صدقہ کرو ، صدقہ کرو ۔‘‘ زیادہ صدقہ عورتیں دیا کرتی تھیں ، پھر آپ واپس ہو جاتے اور یہی معمول چلتا رہا حتیٰ کہ مروان بن حکم کا دور آ گیا ، میں اس کے ساتھ ، ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر نکلا حتیٰ کہ ہم عیدگاہ میں پہنچ گئے تو دیکھا کہ کثیر بن صلت نے وہاں مٹی ( کے گارے ) اور اینٹوں سے منبر بنایا ہوا تھا ۔ تو اچانک مروان کا ہاتھ مجھ سے کھینچا تانی کرنے لگا ، جیسے وہ مجھے منبر کی طرف کھینچ رہا ہو اور میں اسے نماز کی طرف کھینچ رہا ہوں ۔ جب میں نے اس کی طرف سے یہ بات دیکھی تو میں نے کہا : نماز سے آغاز ( کا مسنون طریقہ ) کہاں ہے ؟ اس نے کہا : اے ابوسعید ! نہیں ، جو آپ جانتے ہیں اسے ترک کر دیا گیا ہے ۔ میں نے کہا : ہرگز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو میں جانتا ہوں تم لوگ اس سے بہتر طریقہ نہیں لا سکتے ۔۔۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے تین دفعہ کہا ، پھر چل دیے ۔

Sahih Muslim #2053
کتاب: نماز عیدین کے احکام و مسائل

Status: صحیح

05/06/2024

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے اضحیٰ کے دن کے متعلق حکم دیا گیا ہے کہ اسے بطور عید مناؤں جسے کہ اللہ عزوجل نے اس امت کے لیے خاص کیا ہے ۔“ ایک آدمی نے کہا : فرمایئے کہ اگر مجھے دودھ کے جانور کے سوا کوئی جانور نہ ملے تو کیا میں اس کی قربانی کر دوں ؟ آپ نے فرمایا :’’ نہیں ‘ بلکہ اپنے بال کاٹ لو ‘ ناخن اور مونچھیں تراش لو اور زیر ناف کی صفائی کر لو ۔ اللہ کے ہاں تمہاری یہی کامل قربانی ہو گی ۔“

Sunan Abu Dawood #2789
قربانی کے مسائل

Status: صحیح

04/06/2024

یزید بن حیان تیمی کہتے ہیں: میں، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم، سیدنا زید بن ارقم ؓ کے پاس گئے، جب ہم ان کے پاس بیٹھ گئے تو حصین نے کہا: اے زید! تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث سنی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ جہاد کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازیں پڑھی ہیں، زید! بس تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، زید! تم نے جو احادیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہیں، وہ ہمیں بھی بیان کرو، انھوں نے کہا: اے بھتیجے! میری عمر بڑی ہو گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صحبت کو بھی کافی عرصہ گزر چکا ہے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌کی جو احادیث یاد کی تھیں، ان میں سے بعضوں کو بھول بھی گیا ہوں، اس لیے میں تم کو جو کچھ بیان کر دوں، اس کو قبول کر لو اور جو نہ کر سکوں، اس کی مجھے تکلیف نہ دو۔ پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ غدیر خم، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے، کے مقام پر خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور وعظ و نصیحت کی اور پھر یہ بھی فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! خبردار! اے لوگو! میں ایک بشر ہی ہوں، قریب ہے کہ میرے ربّ کا قاصد میرے پاس آ جائے اور میں اس کی بات قبول کر لوں، بات یہ ہے کہ میں تم میں دو بیش قیمت اور نفیس چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اس میں ہدایت اور نور ہے، پس اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پکڑ لو اور اس کے ساتھ چمٹ جاؤ۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر آمادہ کیا اور اس کے بارے میں ترغیب دلائی، اور پھر فرمایا: دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو یاد دلاتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ یاد کرواتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے حق میں اللہ تعالیٰ کی یاد دلاتا ہوں۔ حصین نے کہا: اے زید! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں آپ کے اہل بیت میں سے نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا: بیشک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت میں سے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اہل بیت وہ ہیں، جن پر صدقہ حرام ہے۔ حصین نے کہا: وہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: وہ آلِ علی، آلِ جعفر اور آلِ عباس ہیں۔ اس نے کہا: کیا اِن سب پر صدقہ حرام ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔

Musnad Ahmed #322
کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب

Status: صحیح

04/06/2024

ام عطیہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ میرے والد آپ ﷺ پر قربان ہوں آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدالفطر اور عید قربانی کے دن ( عید کی نماز کے لئے جائیں ۔ اور ) پردے والیوں کو بھی ساتھ لے کر جائیں لیکن حیض والی صف سے الگ رہیں ۔ اور نیکی کے کام اور مسلمانوں کی دعا میں شامل ہوں ۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کہا :’’ اے اللہ کے رسول ﷺ ! اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو تو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کی بہن اپنی چادر اس کو بھی اوڑھائے ۔‘‘

Sunan Darmi #1650
عیدین کے متعلق ابواب

Status: صحیح

04/06/2024

عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید کے دن عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے کھانا کھاتے تھے ۔ قربانی کے دن نہیں کھاتے تھے ۔ حتی کہ لوٹتے اور اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ۔

Sunan Darmi #1641
عیدین کے متعلق ابواب

Status: صحیح

28/04/2024

عمرو بن یحیی مازنی رحمہ اللہ اپنے والد ( یحیی ) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے ( چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر ) عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے ، جو عمرو بن یحیی مازنی رحمہ اللہ کے دادا ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں ، ( اُن سے یحیی نے ) کہا : کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ کس طرح رسول اللہ ﷺ وضو فرمایا کرتے تھے ؟ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ، چنانچہ انھوں نے وضو کا پانی منگوایا ، پھر اُسے اپنے ہاتھوں پر انڈیلا اور ( ہاتھ میں پانی لے کر ) دونوں ہاتھوں کو دو دو بار دھویا ، پھر تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر اُسے جھاڑا ، پھر تین بار چہرہ دھویا ، پھر دو دو بار دونوں ہاتھوں کو ( یعنی بازوؤں کو ) کہنیوں سمیت دھویا ، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا ( ایک بار ) مسح کیا ، اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لے آئے ( یعنی ) اپنے سر کے اگلے حصے سے مسح شروع کیا ، پھر دونوں ہاتھوں کو اپنی گُدّی تک لے گئے ، پھر ان دونوں کو ( سر پر پھیرتے ہوئے ) واپس لوٹایا ، یہاں تک کہ اُسی جگہ تک لوٹ آئے جہاں سے ( مسح کا ) آغاز کیا تھا ، پھر انھوں نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے ۔

Muwatta Imam Malik #31
طہارت (کے مسائل) کی کتاب

Status: صحیح

24/04/2024

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو کوئی سرمہ لگائے اسے چاہئے کہ طاق لگائے ۔ اور جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ۔ اور جو کوئی ( استنجا کے لیے ) ڈھیلے استعمال کرے اسے چاہئے کہ طاق استعمال کرے ، جس نے اس طرح کیا اس نے بہت اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ۔ اور جو کوئی کھانا کھائے وہ ( دانتوں کا ) خلال کرے ، جو چیز خلال کرنے سے نکالے اسے پھینک دے اور جو چیز زبان سے نکالے وہ کھا سکتا ہے ۔ جو کوئی قضائے حاجت کے لئے جائے تو چھپ جائے ۔ اگرچہ وہ ریت کا ٹیلہ ہی پائے ۔ جسے وہ اپنے پیچھے کر لے ۔ کیونکہ شیطان بنو آدم کی پیٹھوں سے کھیلتا ہے جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا اور جو نہ کرے اس پر کوئی حرج نہیں ۔‘‘

سنن الدارمی 689

23/04/2024

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص بھی مجھے سلام کہتا ہے تو اللہ مجھ پر میری روح لوٹا دیتا ہے اور میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں ۔“

ابوداؤد 2041

10/04/2024

میں نے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عیدالفطر کی نماز پڑھی ہے ۔ ان تمام بزرگوں نے نماز خطبہ سے پہلے پڑھی تھی اور خطبہ بعد میں دیا تھا ( ایک مرتبہ خطبہ سے فارغ ہونے کے بعد ) نبی کریم ﷺ اترے گویا اب بھی میں آنحضرت ﷺ کو دیکھ رہا ہوں ، جب آپ لوگوں کو اپنے ہاتھ کے اشارے سے بٹھا رہے تھے پھر آپ صف چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور عورتوں کے پاس تشریف لائے ۔ بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات» الخ یعنی ” اے نبی ! جب مومن عورتیں آپ کے پاس آئیں کہ آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں کہ اللہ کے ساتھ نہ کسی کو شریک کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی اور نہ بہتان لگائیں گی جسے اپنے ہاتھ اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیں “ آپ نے پوری آیت آخر تک پڑھی ۔ جب آپ آیت پڑھ چکے تو فرمایا تم ان شرائط پر قائم رہنے کا وعدہ کرتی ہو ؟ ان میں سے ایک عورت نے جواب دیا جی ہاں یا رسول اللہ ! ان کے سوا اور کسی عورت نے ( شرم کی وجہ سے ) کوئی بات نہیں کہی ۔ حسن کو اس عورت کا نام معلوم نہیں تھا بیان کیا کہ پھر عورتوں نے صدقہ دینا شروع کیا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا لیا ۔ عورتیں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چھلے اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں ۔

Sahih Bukhari #4895
قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

Status: صحیح

07/04/2024

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں کتنے دنوں میں قرآن پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا :’’ ایک مہینے میں ۔‘‘ انہوں نے کہا : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ ابوموسیٰ ( ابن مثنیٰ ) نے یہ جملہ بار بار دہرایا ۔ یعنی انہوں نے اس مدت میں کمی چاہی ۔ بالآخر آپ نے فرمایا :’’ سات دنوں میں پڑھو ۔‘‘ انہوں نے کہا : میں اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا :’’ جس شخص نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا ، اس نے اسے سمجھا ہی نہیں ۔‘‘

Sunan Abu Dawood #1390
ماہ رمضان المبارک کے احکام و مسائل

Status: صحیح

Want your school to be the top-listed School/college in Sillanwali?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Sillanwali
40010