02/12/2021
Economics Club Umtskt
Economics Club gear up students contribution towards understanding and implementing different tactics used as innovative and supportive pillars for society
02/12/2021
14/01/2020
10/01/2020
09/01/2020
Join us for thoughtful discussion on gender equity and economy. Gender equity is a human fight not a male or female fight.
05/10/2019
All gratitude to the amazing teachers in the world.
”The most important job I do is teaching.”
On World Teachers' Day, we remember how Bill Nordhaus postponed his Nobel Prize press conference to be able to finish his class at Yale University.
The same morning after he learnt he'd been awarded the 2018 Prize in Economic Sciences, Professor Bill Nordhaus taught his intermediate macroeconomics class at Yale University. The press conference regarding the announcement had to be postponed so he could finish his class.
Nordhaus was awarded the 2018 Prize in Economic Sciences "for integrating climate change into long-run macroeconomic analysis."
28/08/2019
Modern Monetary Theory: printing new notes or imposing more taxes! Here is an expert opinion:
Modern monetary theory | Business Recorder In a rapidly changing world, ways of thinking which served us well in other eras, become obstacles to understanding, and reacting appropriately to change. Traditional economic theories, currently being taught all around the world,blinded economists to the possibility of the global financial crisis.T...
28/08/2019
Deficit: taxes or printing new notes; an insight from Modern Monetary Theory by Dr Asad Zaman.
Modern monetary theory | Business Recorder In a rapidly changing world, ways of thinking which served us well in other eras, become obstacles to understanding, and reacting appropriately to change. Traditional economic theories, currently being taught all around the world,blinded economists to the possibility of the global financial crisis.T...
اگر حکومت کو1000 ارب مل جائیں تو؟
ڈاکٹر عتیق الرحمن (PIDE)
اس وقت جب حکومت بجٹ بناچکی، ہر ادارہ اور ہر فرد کا بجٹ میں سے حصہ مقرر ہو چکا، اگر اچانک حکومت کے پاس کہیں سے1000 ارب کا خزانہ نازل ہو جائے تو حکومت کیا کیا کر سکتی ہے؟ یقینا حکومت کیلئے اس بڑی خوشخبری کوئی نہیں ہوسکتی۔ حکومت اس میں سے 100 ارب دیامیر بھاشا کیلئے مختص کرکے اس پر سنجیدگی سے کام شروع کر سکتی ہے۔ بنیادی اشیائے ضرورت پر 150 ارب کی ٹیکس کی چھوٹ دیکر بڑھتی مہنگائی پر روک لگا سکتی ہے۔ 50 ارب سے تمام ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرکے عوامی داد سمیٹ سکتی ہے۔100ارب صحت اور تعلیم کو دے کر دونوں میں بہتری لاسکتی ہے، 100 ارب سے مکانوں کی تعمیر کیلئے قرض فنڈ قائم کر کے اپنے ایک وعدے کی تکمیل کی طرف بڑا قدم اٹھا سکتی ہے، 150 ارب چھوٹے قرضوں کیلئے مقرر کر کے لاکھوں لوگوں کے کاروبار کو سہولت فراہم کرسکتی ہے۔ 150 ارب کی پٹرول پر ٹیکس میں چھوٹ دیکر مہنگائی کی کمر توڑ سکتی ہے جو آج تک عوام کی کمر توڑتی رہی ہے۔100 ارب گرد سے بجلی کی ٹرانسمشن لائنز بنا کر صنعتوں اور کاروبار کیلئے بجلی کی بلاتعطل سپلائی ممکن بنا سکتی ہے۔ ابھی 1000ارب میں سے بہت ساری رقم باقی ہے، وہ ساری رقم ترقیاتی کاموں کیلئے مختص کر کے براہ راست عوامی فلاح میں حصہ ڈال سکتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان ترقیاتی کاموں سے روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا کرکے ملکی معیشت کو بڑھوتری دے سکتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت کے پاس اتنا قارون کا خزانہ کہاں سے آئے گا؟ اس کا ذریعہ میں بتاتا ہوں۔ یہ جو 12.25 فیصد کے حساب سے سرکاری قرضوں پر سود ادا کیا جارہا ہے، اس کو واپس نون لیگ والی شرح سود پر لیجاؤ، 1000 ارب کی بچت ہو جائے گی۔ اندرونی قرض پر سود کی ادائیگی کیلئے حکومت نے 2531ارب مختص کر رکھے ہیں، شرح سود آدھی کر دیجئے، قابل ادائیگی سود کی رقم آدھی رہ جائے گی، اس میں وہ سارے اقدامات کر لیجئے جن کا اوپر تذکرہ کیا گیا۔
نون لیگ کے دور میں شرح سود 6 فیصد سے کم تھی، تو اس کو 12.25 فیصد پر کیوں لیجایا گیا؟ سٹیٹ بنک جو شرح سود مقرر کرتا ہے، اس کی ویب سائٹ پر تمام فیصلوں کی تفصیل موجود ہے۔ ہر فیصلے میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ مہنگائی زیادہ ہورہی ہے، اس کو کنٹرول کرنے کیلئے شرح سود بڑھائی جارہی ہے۔ جناب حماد اظہر نے بھی اپنی بجٹ تقریر میں ایک سے زیادہ مرتبہ یہ فرمایا کہ ہم مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے مانیٹری پالیسی کو استعمال کر رہے ہیں۔ یعنی کہ شرح سود کو بڑھا کر مہنگائی کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ یعنی یہ جو شرح سود بڑھانے سے قابل ادائیگی سود 1000ارب بڑھ گیا، یہ دراصل مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی فیس ہے، جو حکومت بنکوں کو ادا کرتی ہے۔ اگر یہ فیس ہم ادا نہ کرتے تو وہ سارے کام ممکن تھے جو اوپر تذکرہ کئے گئے۔ لیکن ان سب ممکنات کی قربانی ہم مہنگائی کنٹرول فیس کی ادائیگی کیلئے کرتے جا رہے ہیں۔
شرح سود سے مہنگائی کیسے کنٹرول ہو سکتی ہے؟ ایک بوسیدہ معاشی نظریہ کے مطابق جب شرح سود بڑھتی ہے تو عوام اپنے اخراجات کر کے بنکوں میں پیسہ جمع کرواتے ہیں، تاکہ اس پرزیادہ سود کمایا جا سکے۔ جب لوگ اخراجات کم کرتے ہیں تو مجموعی ڈیمانڈ کم ہونے سے مہنگائی کم ہوجاتی ہے۔
کیا یہ معاشی نظریہ پاکستان کیلئے درست ہے؟ ہر گز نہیں۔میں اور آپ سب پاکستان کے شہری ہیں اور پیسے خرچ کرنے والے لوگ ہیں۔ کیا آپ نے شرح سود بڑھنے کے بعد اپنے بنک ڈیپازٹ بڑھائے؟ کیا آپ کے اخراجات شرح سود بڑھنے کے بعد کم ہوئے؟ آپ میں سے کتنے لوگوں نے اپنے اخراجات کو مؤخر کیا؟ پچھلے 9 ماہ سے شرح سود مسلسل بڑھائی جارہی ہے، کیا آپ نے مہنگائی میں کمی کا کوئی اشارہ دیکھا؟ بلکہ شرح سود بڑھنے کے بعد مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہی ہوا ہے۔
شرح سود بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ کیونکر ہوا؟ اس کی وجہ یہ ہیکہ جب شرح سود بڑھتی ہے تو حکومت کے ذمہ واجب الادا سود کی رقم بڑھ جاتی ہے۔ یہ رقم پوری کرنے کیلئے حکومت کویا تو ٹیکس بڑھانا پڑیں گے، یا کرنسی پرنٹ کرنا پڑے گی۔ یہ دونوں اقدامات مہنگائی کو بڑھاتے ہیں۔ نون لیگ کی حکومت نے گذشتہ مالی سال کیلئے ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی کا تخمینہ 1400 ارب لگایا تھا، جب شرح سود بڑھی تو سود کی مقدار 1400ارب سے بڑھ کر2531 ارب تک جا پہنچی ۔ حکومت پر ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے کیلئے دباؤ بڑھا، اور حکومت نے پہلے پٹرول پر ٹیکس بڑھائے، پھر دیگر اشیائے ضرورت پر ٹیکس بڑھائے، اور اب بجٹ میں جو کچھ کیا وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ تو جب شرح سود بڑھتی ہے، اس سے ٹیکس پر دباؤ بڑھتا ہے، اور ٹیکس بڑھنےسے مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت ساری صنعتیں قرض لیکر اس سے کاروبار چلاتی ہیں۔ شرح سود بڑھانے سے ان کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، اس سےبھی مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔
کیا بنک کم شرح سود پر قرض دینے پر راضی ہو جائیں گے؟ جی بالکل ہوں گے۔ سابق حکومت نے شرح سود موجودہ شرح کے نصف سے بھی کم رکھی، اس کے باوجود بنک حکومت کو قرض دیتے رہے۔ لیکن بالفرض حکومت شرح سود اس سے بھی کم لے جائے، تب بھی قرض کے حصول میں رکاوٹ نہیں آسکتی۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ بنکوں نے 16000 ارب سے زیادہ کی رقم حکومت کو ادھار دے رکھی ہے ۔ اگر وہ حکومت کو یہ رقم دوبارہ قرض نہیں دیں گے تو ان کو اس رقم کیلئے مارکیٹ میں کلائنٹ تلاش کرنا ہوں گے، اور یہ کام راتوں رات ممکن نہیں۔ تاہم اگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بنک اپنے لئے مارکیٹ سےکسٹمر تلاش کرنا شروع کردیں تو معیشت کیلئے اس بے بڑی خوش خبری نہیں ہوسکتی۔ اس وقت بنک حکومت سے اتنا بھاری سود لیتے ہیں کہ ان کو کاروبار کی فائنانسنگ کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہی نہیں۔ اگر بنک بزنس فائنانسنگ پر توجہ دیں اور حکومت کو دئیے گئے قرض کا محض دس فیصد بزنس فائنانسنگ پر لگائیں تو بزنس ایکٹویٹی میں بے تحاشا اضافہ ہوگا۔ بنک سے فائنانس ہونے والے کاروبار کا مکمل ریکارڈ موجود ہوتا ہے، اس لئے اس سے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہو گا، جو حکومت کیلئے بھی اچھی خبر ہوگی۔
کیا شرح سود کم کرنے سے حکومت کو قرض لینے میں مشکل نہیں ہوگی؟ جیسا کہ اوپر بتایا گیا، بنکوں کے پاس کوئی دوسرا آپشن فوری طور پر دستیاب نہیں۔ لیکن اگر بنک حکومت کو قرض کم کر دیتے ہیں تو حکومت کے پاس سٹیٹ بنک سے قرض لینے کا آپشن موجود ہے۔ آئی ایم ایف جیسے ادارے سٹیٹ بنک سے قرض لینے سے منع کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک مرکزی بنک سے قرض لینا مہنگائی لاتا ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم بتا چکے، کمرشل بنک سے قرض لینا بھی مہنگائی لاتا ہے، کیونکہ اس قرض کی ادائیگی کیلئے ٹیکس بڑھانے پڑتے ہیں، جن سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ لیکن جب شرح سود کم ہوگی تو اضافی قرض کی ضرورت کم ہوجائے گی، سٹیٹ بنک سے پیسے پرنٹ کروانے کی ضرورت کم ہوگی، اور مہنگائی کنٹرول میں رہے گی۔
یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کرنسی کا واحد ذریعہ سٹیٹ بنک ہی ہے۔ جب کمرشل بنکوں سے زیادہ شرح سود پر قرض لیئے جائیں، اور سود کی ادائیگی کیلئے مزید قرض لیتے جائیں، تو بنک ایک حد سے آگے نہیں جاسکیں گے، کیونکہ وہ کرنسی نہیں پیدا کر سکتے۔ آخرکار پھر سٹیٹ بنک کے پاس جانا ہوگا کہ وہ کرنسی پرنٹ کر کے قرضے فائنانس کرے۔ اگر شرح سود زیادہ ہوگی تو زیادہ کرنسی پرنٹ کرنا ہوگی، اور مہنگائی پھر سے بڑھ جائے گی۔ شرح سود کم ہوگی تو کم کرنسی پرنٹ کرنا ہوگی۔
درست شرح سود کیا ہے؟ میرے جیسے مذہب پسند کے نزدیک تو مناسب شرح سود صفر ہے، لیکن چونکہ ہم مغرب کے مرید ہیں، تو شرح سود مغرب ہی سے کاپی کر لیتے ہیں۔ امریکہ میں حالیہ شرح سود 2.25 فیصد، برطانیہ میں 0.75 فیصد، جرمنی میں 0 فیصد، فرانس 0.55 فیصد، بھارت 4فیصد ہے۔ تو یہ رہی درست شرح سود۔ اس سے زیادہ شرح سود بنیادی طور پر وہ فیس ہے جو حکومت مہنگائی کنٹرول کرنےکیلئے ادا کرتی ہے۔ لیکن یہ وہ دوائی ہے جو مرض کو ختم کرنے کی بجائے مریض کو ختم کر دیتی ہے۔ اسی لئے امریکی کانگریس کے ایک ممبر اور ماہر معیشت رائٹ پٹمین (Wright Patman) نے کہا تھا، سود کو بڑھا کر مہنگائی کنٹرول کرنے کی کوشش ایسے ہی ہے جیسے پٹرول چھڑک کر آگ بجھانے کی کوشش کرنا۔ اگر آپ شرح سود کو امریکی شرح سود پر لے جائیں، تو1000 ارب کی بجائے 2000ارب روپے بچائے جاسکتے ہیں، اس میں جو کرنا چاہو کر لو۔
لیجئے آپ کے 80 فیصد معاشی مسائل کا حل مل گیا، اور بہت سارے سوالوں کا جواب مل گیا، لیکن ایک سوال باقی ہے، کیا حکومت ایسا کرے گی؟ ہر گز نہیں، کیونکہ انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا، اس میں بنیادی شرط شرح سود کو بلند رکھنا ہے۔ اسد عمر کے بقول ابتدا میں آئی ایم ایف نے 20فیصد سے زیادہ شرح سود کا تقاضا کیا تھا۔ اگر ایسی کوئی شرط حکومت نے تسلیم کر لی، تو سود کی رقم3500 ارب سے بڑھ جائے گی، پھر شاید روٹی دال کا حصول بھی ممکن نہ رہے۔
12/07/2019
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Small Industrial Estate UMT Sialkot
Sialkot