Sirate Mustqeem

Sirate Mustqeem

Share

Read ،& Understand Qurran.

30/12/2025
17/09/2025

📖

الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا،
من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له.
أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

أما بعد!

---

: "علم کی فضیلت"۔

اسلام میں علم کو سب سے بڑی نعمت اور فضیلت قرار دیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث میں بار بار علم حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

---

قرآنی دلائل

1. پہلی وحی میں اللہ تعالیٰ نے علم کی اہمیت بیان کی:
﴿اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ﴾ (العلق:1)
ترجمہ: "پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔"
→ یعنی اسلام کی ابتدا ہی تعلیم و علم سے ہوئی۔

2. اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ﴾ (الزمر:9)
ترجمہ: "کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟"
→ اس آیت سے ظاہر ہے کہ اہلِ علم کو ایک بلند مقام عطا کیا گیا ہے۔

3. ایک اور جگہ فرمایا:
﴿يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾ (المجادلہ:11)
ترجمہ: "اللہ ایمان والوں کو اور علم دیے جانے والوں کو بلند درجات عطا فرماتا ہے۔"

---

احادیث مبارکہ

1. رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"طلب العلم فريضة على كل مسلم." (ابن ماجہ)
ترجمہ: "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔"

2. آپ ﷺ نے فرمایا:
"من سلك طريقاً يلتمس فيه علماً سهّل الله له به طريقاً إلى الجنة." (مسلم)
ترجمہ: "جو شخص علم حاصل کرنے کے لئے کوئی راستہ اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔"

3. ایک اور حدیث میں ہے:
"إن العلماء ورثة الأنبياء." (ترمذی)
ترجمہ: "بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں۔"

---

علم کی اہمیت اور فضیلت کی وضاحت

علم انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔

بغیر علم کے انسان نہ اللہ کو پہچان سکتا ہے، نہ ہی دین کو سمجھ سکتا ہے۔

علم وہ خزانہ ہے جو چوری سے محفوظ رہتا ہے اور تقسیم کرنے سے بڑھتا ہے۔

جہالت کی وجہ سے معاشرہ تباہ ہوتا ہے، اور علم کی برکت سے معاشرہ سنورتا ہے۔

ایک عالم کی ایک رات کی عبادت ہزار جاہلوں کی عبادت سے بہتر ہے، کیونکہ عالم کی عبادت شعور اور فہم کے ساتھ ہوتی ہے۔

---

عملی پیغام

ہمیں چاہیے کہ دینی اور دنیاوی دونوں علوم حاصل کریں۔

اپنے بچوں کو تعلیم دینا ہماری ذمہ داری ہے۔

دینی علم کے بغیر صرف دنیاوی علم انسان کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے، لہٰذا قرآن و سنت کی روشنی میں علم حاصل کریں۔

استاد اور علماء کی عزت کریں، کیونکہ یہی انبیاء کے وارث ہیں۔

17/09/2025

معجزاتِ نبوی ﷺ ایک بہت بڑا موضوع ہے۔ نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار معجزات عطا فرمائے۔ یہ معجزات دراصل آپ ﷺ کی نبوت اور رسالت کی سچائی کی دلیل ہیں۔ ذیل میں چند اہم معجزات کا ذکر کیا جا رہا ہے:

1. قرآنِ مجید

سب سے بڑا اور دائمی معجزہ قرآنِ کریم ہے۔

یہ کتاب قیامت تک کے لیے ہدایت اور چیلنج ہے کہ کوئی اس جیسی سورت یا آیت بنا کر دکھائے۔

آج تک کوئی اس کے مقابلے میں نہ آسکا اور نہ ہی آسکے گا۔

2. شق القمر (چاند کا دو ٹکڑے ہونا)

کفارِ مکہ کے مطالبے پر آپ ﷺ نے اشارہ کیا تو چاند دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔

یہ واقعہ متعدد صحابہ کرامؓ نے بیان کیا اور قرآن میں بھی اشارہ موجود ہے (سورۃ القمر: 1)۔

3. معراج النبی ﷺ

آپ ﷺ کو آسمانوں کی سیر کروائی گئی۔

بیت المقدس سے سات آسمانوں، جنت اور دوزخ تک کا مشاہدہ کرایا گیا۔

یہ معجزہ جسم اور روح دونوں کے ساتھ ہوا۔

4. پانی کا چشمہ بہنا

کئی مواقع پر آپ ﷺ کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے اور صحابہ کرامؓ نے وضو اور پیاس بجھائی۔

5. کھانے کی برکت

تھوڑا سا کھانا آپ ﷺ کے دستِ مبارک سے کئی افراد کے لیے کافی ہو جاتا۔

غزوہ خندق کے موقع پر حضرت جابرؓ کے گھر کا ایک بکری کا گوشت اور تھوڑا سا آٹا پورے لشکر کے لیے کافی ہوا۔

6. بیماروں کو شفا دینا

آپ ﷺ نے کئی مریضوں پر ہاتھ پھیرا تو وہ فوراً صحت یاب ہو گئے۔

حضرت علیؓ کی آنکھ خیبر کے موقع پر دکھ رہی تھی، آپ ﷺ نے لعابِ دہن لگایا اور فوراً شفا ملی۔

7. درختوں اور جانوروں کا کلام کرنا

درخت آپ ﷺ کے حکم سے چل کر آئے۔

کھجور کا تنا جب آپ ﷺ کو چھوڑ کر خطبہ دینے لگے تو رونے لگا، حتیٰ کہ آپ ﷺ نے اسے گلے لگایا۔

جانوروں نے بھی آپ ﷺ سے کلام کیا، جیسے ایک اونٹ نے اپنے مالک کے ظلم کی شکایت کی۔

8. غیب کی خبریں

آپ ﷺ نے کئی پیشین گوئیاں فرمائیں جو حرف بہ حرف پوری ہوئیں۔

روم اور فارس کی سلطنتوں کا زوال۔

اسلام کا دنیا میں پھیل جانا۔

حضرت عمارؓ کی شہادت وغیرہ۔

9. دعا کی برکت

آپ ﷺ کی دعا سے بارش نازل ہوئی، قحط ختم ہوا۔

آپ ﷺ کی دعا سے صحابہ کرامؓ کے بیمار ٹھیک ہوئے اور مشکلات دور ہوئیں۔

10. اخلاق و سیرت (سب سے عظیم معجزہ)

آپ ﷺ کی اخلاقی عظمت سب سے بڑا معجزہ ہے۔

دشمن بھی آپ کو صادق و امین کہتے تھے۔

قرآن نے گواہی دی: "بے شک آپ ﷺ بلند ترین اخلاق کے مالک ہیں" (سورۃ القلم: 4)۔

08/09/2025

.

The five pillars of Islam are the foundation of a Muslim's faith and practice. They are:

Testifying the fact that there is no god but Allah, and that Muhammad is His bondsman and messenger: This is the declaration of faith, where a person acknowledges that there is only one God, Allah, and that Muhammad is His final messenger. This testimony is the foundation of Islam and is required for anyone who wants to become a Muslim.

Establishment of prayer: Muslims are required to perform five daily prayers, which are obligatory for all Muslims, including reverts. These prayers help Muslims connect with Allah, seek guidance, and maintain a sense of humility and gratitude.

Payment of Zakat: Zakat is the giving of a portion of one's wealth to the poor and needy. This pillar of Islam helps promote social justice, equality, and compassion. It also helps Muslims cultivate a sense of generosity and detachment from material possessions.

Pilgrimage to the House (Kaba): The Hajj, or pilgrimage to Makkah, is a once-in-a-lifetime obligation for Muslims who are physically and financially able. This pilgrimage helps Muslims connect with their spiritual heritage, seek forgiveness, and experience a sense of unity and solidarity with other Muslims from around the world.

Fast of Ramadan: Muslims fast during the month of Ramadan to develop self-control, empathy for those in need, and a deeper appreciation for the blessings of Allah. Fasting also helps Muslims cultivate a sense of discipline, patience, and gratitude.

These five pillars of Islam provide a framework for Muslims to live a balanced, meaningful, and spiritually fulfilling life. They help Muslims develop a strong sense of faith, community, and social responsibility, and provide a foundation for personal growth, self-improvement, and spiritual development.

08/09/2025

Salaat.

06/09/2025

عشقِ مصطفی ﷺ اور آج کا مسلمان

عشقِ مصطفی ﷺ وہ نعمت ہے جو ایمان کی روح اور دلوں کی زندگی ہے۔ جب تک مسلمان کے دل میں حضور ﷺ کی محبت نہ ہو، اُس کا ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ قرآن نے خود فرمایا:

> النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ
(سورۃ الاحزاب: 6)
’’نبی ﷺ مومنوں کی جانوں سے زیادہ ان کے قریب اور محبوب ہیں۔‘‘

صحابہ کرام کا عشق ﷺ

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں عشقِ مصطفی ﷺ کی روشن مثال ہیں۔ ان کے لیے سب کچھ قربان تھا لیکن نبی ﷺ کا حکم اور خوشنودی سب سے مقدم تھی۔ جنگ اُحد میں حضرت ابو دُجانہؓ نے اپنی پیٹھ کو نبی ﷺ کے سامنے ڈھال بنا دیا تاکہ کوئی تیر آپ ﷺ کو نہ لگے۔ حضرت بلال حبشیؓ غلامی کے عذاب سہہ گئے مگر عشقِ رسول ﷺ سے پیچھے نہ ہٹے۔

آج کا مسلمان اور عشقِ مصطفی ﷺ

بدقسمتی سے آج کے مسلمان کا عشق زیادہ تر زبان اور جذباتی نعروں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ہم محافلِ میلاد کرتے ہیں، نعتیں پڑھتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، مگر عملی زندگی میں سنتِ رسول ﷺ کو بھول جاتے ہیں۔

کاروبار میں جھوٹ اور دھوکہ عام ہے۔

معاشرت میں ظلم، بے حیائی اور غفلت ہے۔

نماز و روزہ میں سستی اور لاپرواہی ہے۔

یہ سب عشقِ مصطفی ﷺ کے دعوے کے خلاف ہے۔ اگر واقعی دل میں عشق ہے تو پھر عمل میں اطاعت بھی ہونی چاہیے۔

حقیقی عشقِ مصطفی ﷺ

نبی ﷺ کے ہر حکم کو ماننا۔

سنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا۔

اخلاقِ مصطفی ﷺ اپنانا۔

عدل، رحم، صدق اور امانت میں آپ ﷺ کی پیروی کرنا۔

نتیجہ

عشقِ مصطفی ﷺ صرف زبان کا دعویٰ نہیں، بلکہ زندگی کا طرزِ عمل ہے۔ آج کا مسلمان اگر اپنی زبانی محبت کو عملی پیروی میں بدل لے تو وہی عروج دوبارہ نصیب ہو سکتا ہے جو صحابہ کرام کو ملا تھا۔

06/09/2025

اللہ سے ڈرنے والے (متقین) لوگوں کی نشانیاں قرآن و حدیث میں کثرت سے بیان ہوئی ہیں۔ چند اہم نشانیاں یہ ہیں:

قرآنِ پاک کے مطابق:

1. نماز قائم کرنا – جو لوگ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ (البقرہ:3)

2. اللہ پر ایمان اور بھروسہ – ہر حال میں اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ (آل عمران:159)

3. قرآن پر ایمان – جو قرآن اور پچھلی کتابوں کو مانتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ (البقرہ:4)

4. غیب پر ایمان – اللہ کو، آخرت کو اور فرشتوں کو بغیر دیکھے مانتے ہیں۔ (البقرہ:3)

5. انفاق فی سبیل اللہ – اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں، چاہے آسانی ہو یا تنگی۔ (آل عمران:134)

6. غصہ ضبط کرنا – اپنے غصے کو قابو میں رکھتے ہیں اور دوسروں کو معاف کر دیتے ہیں۔ (آل عمران:134)

7. گناہ پر نادم ہونا – جب کوئی غلطی ہو جائے تو فوراً توبہ کرتے ہیں۔ (آل عمران:135)

حدیث کے مطابق:

1. تنہائی میں بھی اللہ کو یاد کرنا – جب کوئی اکیلا ہوتا ہے تب بھی اللہ سے ڈرتا ہے۔

2. عدل و انصاف قائم رکھنا – فیصلہ کرتے وقت رشتہ داری یا دشمنی کے بجائے حق کو ترجیح دینا۔

3. زبان کی حفاظت – جھوٹ، غیبت، چغلی اور بے فائدہ باتوں سے بچنا۔

4. دل میں نرمی اور عاجزی – تکبر اور غرور نہ ہونا، بلکہ انکساری اختیار کرنا۔

5. حرام سے بچنا – چھوٹی بڑی برائی سے بچنا اور ہمیشہ حلال کمانا۔

6. عبادت میں اخلاص – نیت صرف اللہ کی رضا کے لیے رکھنا۔

خلاصہ:

اللہ سے ڈرنے والے لوگ وہ ہیں جو دل میں اللہ کی عظمت رکھتے ہیں، ہر حال میں اس کی رضا تلاش کرتے ہیں، اور گناہ سے بچنے کے لیے محتاط رہتے ہیں۔

06/09/2025

روزانہ استغفار کرنے کی بہت زیادہ فضیلت احادیثِ مبارکہ میں آئی ہے۔ استغفار یعنی اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی مانگنا۔ یہ عمل نہ صرف گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے بلکہ رزق، صحت، سکونِ قلب اور دنیا و آخرت کی بھلائی بھی عطا کرتا ہے۔

---

📖 قرآن مجید میں استغفار کی فضیلت:

1. اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

> "اور اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو، وہ تمہیں ایک وقتِ مقرر تک اچھا سامان دے گا اور ہر صاحبِ فضل کو اس کے فضل کا بدلہ دے گا۔"
(سورۃ ہود: 3)

2. ایک اور جگہ فرمایا:

> "پس میں نے کہا کہ اپنے رب سے بخشش مانگو، بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسائے گا، اور تمہیں مال و اولاد میں اضافہ دے گا، اور تمہارے لیے باغات اور نہریں بنائے گا۔"
(سورۃ نوح: 10-12)

---

🌹 احادیث میں استغفار کی فضیلت:

1. رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> "جو شخص کثرت سے استغفار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، ہر غم سے نجات عطا فرماتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو۔"
(ابو داؤد، ابن ماجہ)

2. نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

> "خوشخبری ہے اس بندے کے لیے جس کے نامہ اعمال میں قیامت کے دن کثرت سے استغفار ملے۔"
(ابن ماجہ)

3. رسول اللہ ﷺ خود روزانہ ستر سے زیادہ مرتبہ (بعض روایات میں سو مرتبہ) استغفار کرتے تھے۔
(بخاری)

---

✨ روزانہ استغفار کے فوائد:

گناہوں کی معافی

دل کو سکون

رزق میں برکت

مشکلات سے نجات

بارش اور رحمت کا نزول

اولاد میں اضافہ

دنیا و آخرت کی کامیابی

---

📿 استغفار کے چند مسنون الفاظ:

أستغفرُ اللهَ رَبِّي مِن كلِّ ذَنبٍ وأتوبُ إلَيْهِ

أستغفرُ اللهَ العظيمَ الّذي لا إلهَ إلاّ هو الحيّ القيّومَ وأتوبُ إلَيْهِ

Want your school to be the top-listed School/college in Sialkot?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Sialkot
51310