14/06/2026
ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیں
اُمّتی باعثِ رُسوائیِ پیغمبرؐ ہیں
یہ شعر علامہ اقبالؒ کے فکری اور اصلاحی انداز کی یاد دلاتا ہے۔ اس میں امتِ مسلمہ کی کمزوری، فکری گمراہی اور دینی زوال پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
لفظی تشریح:
ہاتھ بے زور ہیں: مسلمانوں میں عمل، قوت، ہمت اور جدوجہد کی کمی ہے۔
الحاد سے دل خوگر ہیں: لوگوں کے دل دین سے دور ہو کر بے دینی، شکوک اور مادہ پرستی کے عادی ہو گئے ہیں۔
اُمّتی باعثِ رسوائیِ پیغمبرؐ ہیں: امت کے افراد اپنے کردار اور اعمال کی وجہ سے اپنے نبی ﷺ کے نام کو عزت دینے کے بجائے بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔
مرکزی پیغام:
اقبال مسلمانوں کو جھنجھوڑنا چاہتے ہیں کہ
صرف مسلمان کہلانا کافی نہیں، عمل بھی ضروری ہے۔
جب ایمان کمزور اور کردار خراب ہو جائے تو قوم اپنی عزت کھو دیتی ہے۔
امت کو اپنے عقائد، اخلاق اور اعمال کی اصلاح کرنی چاہیے۔
مسلمان اگر قرآن و سنت کی تعلیمات سے دور ہو جائیں تو وہ اپنے نبی ﷺ کی تعلیمات کی صحیح نمائندگی نہیں کر سکتے۔
سادہ الفاظ میں مفہوم:
شاعر افسوس سے کہتا ہے کہ مسلمانوں میں نہ عمل کی طاقت باقی رہی ہے اور نہ ایمان کی مضبوطی۔ وہ دین سے دور ہو کر ایسے راستوں پر چل پڑے ہیں کہ ان کا طرزِ زندگی رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق نہیں رہا، اور یہی بات امت کی ذلت و رسوائی کا سبب بن رہی ہے۔
سبق:
قوموں کی عزت صرف نام، نسب یا دعووں سے نہیں بلکہ مضبوط ایمان، اچھے کردار، علم اور عمل سے قائم رہتی ہے۔