29/12/2022
Join WhatsApp group for learning Qur'an & Hadith
https://chat.whatsapp.com/IQ7L7mmTjdp8j36TK6ES0G
القرآن - سورۃ نمبر 88 الغاشية آیت نمبر 1
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
هَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ الۡغَاشِيَةِؕ ۞
لفظی ترجمہ:
هَلْ اَتٰىكَ: کیا آئی ہے تیرے پاس
حَدِيْثُ: خبر
الْغَاشِيَةِ: ڈھانپ لینے والی کی/ چھا جانے والی آفت کی
ترجمہ:
کیا تمہیں اُس چھا جانے والی آفت کی خبر پہنچی ہے؟
تفسیر:
سورة الْغَاشِیَة 1
مراد ہے قیامت، یعنی وہ آفت جو سارے جہاں پر چھا جائے گی۔ اس مقام پر یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ یہاں بحیثیت مجموعی پورے عالم آخرت کا ذکر ہو رہا ہے جو نظام عالم کے درہم برہم ہونے سے شروع ہو کر تمام انسانوں کے دوبارہ اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کی عدالت سے جزا و سزا پانے تک تمام مراحل پر حاوی ہے۔
Al-Quran - Surah 88 - Al-Ghaashiya
Ayah 1 # هَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ الۡغَاشِيَةِؕ
Word by word:
Has : هَلْ
(there) come to you : أَتَىٰكَ
(the) news : حَدِيثُ
(of) the Overwhelming? : ٱلْغَٰشِيَةِ
Transliteration (English)
Hal ataka hadeethu alghashiyati
Translation:
Has the news of the overwhelming event reached you?
Commentary:
1 "The over-shadowing calamity": the Resurrection which will overshadow the whole world. One should know that here the Hereafter as a whole is being depicted, which comprehends aII the stages from the upsetting of the present system to the resurrection of all human beings and the dispensation of rewards and punishments from the Divine Court.
31/08/2022
Surah No. 111 - Ayah No. 5
Commentary:
5 The word used for her neck is jid, which in Arabic means a neck decorated with an ornament. Sa`id bin al-Musayyab, Hasan Basri and Qatadah say that she wore a valuable necklace and used to say: "By Lat and `Uzza, I will sell away this necklace and expend the price to satisfy my enmity against Muhammad (Allah's peace and blessings be upon him) ." That is why the word jid has been used here ironically, thereby implying that in Hell she would have a rope of palm-fibre round her neck instead of that necklace upon which she prides herself so arrogantly. Another example of this ironical style is found at several places in the Qur'an in the sentence: Bashshir-hum bi-`adhab-in alima "Give them the good news of a painful torment. "
The words babl-um min-masad have been used for the rope which will be put round her neck, i e. it will be a rope of the masad kind. Different meanings of this have been given by the lexicographers and commentators. According to some, masad means a tightly twisted rope; others say that: masad is the rope made from palm-fibre; still others say that it means the rope made from rush, or camel-skin, or camel-hair. Still another view is that it implies a cable made by twisted iron strands together.
31/08/2022
سورۃ نمبر 111 المسد آیت نمبر 5
تفسیر:
سورة اللھب 5
اس کی گردن کے لیے جید کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو عربی زبان میں ایسی گردن کے لیے بولا جاتا ہے جس میں زیور پہنا گیا ہو۔ سعید بن المسیب، حسن بصری اور قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ وہ ایک بہت قیمتی ہار گردن میں پہنتی تھی، اور کہا کرتی تھی کہ لات اور عزی کی قسم میں اپنا یہ ہار بیچ کر اس کی قمت محمد ﷺ کی عداوت میں خرچ کردوں گی۔ اسی بنا پر جید کا لفظ یہاں بطور طنز استعمال کیا گیا ہے کہ اس مزین گلے میں جس کے ہار پر وہ فخر کرتی ہے، دوزخ میں رسی پڑی ہوگی۔ یہ اسی طرح کا طنزیہ انداز کلام ہے جیسے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر فرمایا گیا ہے فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ " ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری دے دو۔
جو رسی اس کی گردن میں ڈالی جائے گی اس کے لیے حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ کے الفاظ استعمال کیے ہیں، یعنی وہ رسی مسد کی قسم سے ہوگی۔ اس کے مختلف معنی اہل لغت اور مفسرین نے بیان کیے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ خوب مضبوط بٹی ہوئی رسی کو مسد کہتے ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ کھجور کی چھال سے بنی ہوئی رسی کے لیے یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں مونجھ کی رسی یا اونٹ کی کھال یا اس کے صوف سے بنی ہوئی رسی۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد لوہے کے تاروں سے بٹی ہوئی رسی ہے۔
06/08/2022
Al-Qur'an - Surah No. 113 Al-Falaq, Verse No. 1
القرآن - سورۃ نمبر 113 الفلق آیت نمبر 1
06/08/2022
Al-Qur'an - Surah No. 113 Al-Falaq, Verse No. 2
القرآن - سورۃ نمبر 113 الفلق آیت نمبر 2
06/08/2022
Al-Qur'an - Surah No. 113 Al-Falaq, Verse No. 3
القرآن - سورۃ نمبر 113 الفلق آیت نمبر 3
06/08/2022
Al-Qur'an - Surah No. 113 Al-Falaq, Verse No. 4
القرآن - سورۃ نمبر 113 الفلق آیت نمبر 4
06/08/2022
القرآن - سورۃ نمبر 113 الفلق آیت نمبر 5
Al-Qur'an - Surah No. 113 Al-Falaq, Verse No. 5
01/07/2022
القرآن - سورۃ نمبر 114 الناس آیت نمبر 1
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۞
لفظی ترجمہ:
قُلْ: کہہ دو | اَعُوْذُ: میں پناہ لیتا ہوں | بِ: کی | رَبِّ: رب | النَّاسِ: لوگوں کا
ترجمہ:
کہو، میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب
Qul aAAoothu birabbi alnnasi
Say: “I seek refuge with the Lord of mankind;
القرآن - سورۃ نمبر 114 الناس آیت نمبر 2
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مَلِكِ النَّاسِۙ ۞
لفظی ترجمہ:
مَلِكِ: باد شاہ | النَّاسِ: لوگوں کا
ترجمہ:
انسانوں کے بادشاہ
Maliki alnnasi
the King of mankind,
01/07/2022
لقرآن - سورۃ نمبر 114 الناس آیت نمبر 3
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِلٰهِ النَّاسِۙ ۞
لفظی ترجمہ:
اِلٰہِ: معبود | النَّاسِ: لوگوں کا
ترجمہ:
انسانوں کے حقیقی معبود کی
Ilahi alnnasi
the True God of mankind,
سورۃ نمبر 114 الناس آیت نمبر 3
تفسیر:
سورة الناس 1 یہاں بھی سورة فلق کی طرح اعوذ باللہ کہنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کو اس کی تین صفات سے یاد کر کے اس کی پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ایک اس کا رب الناس، یعنی تمام انسانوں کا پروردگار و مربی اور مالک و آقا ہونا۔ دوسرے اس کا ملک الناس، یعنی تمام انسانوں کا بادشاہ اور حاکم و فرمانروا ہونا۔ تیسرے اس کا الہ الناس، یعنی انسانوں کا حقیقی معبود ہونا۔ (یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ الہ کا لفظ قرآن مجید میں دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایک وہ شے یا شخص جس کو عبادت کا کوئی استحقاق نہ پہنچتا ہو مگر عملا اس کی عبادت کی جارہی ہو۔ دوسرا وہ جسے عبادت کا استحقاق پہنچتا ہو اور جو حقیقت میں معبود ہو، خواہ لوگ اس کی عبادت کر رہے ہوں یا نہ کر رہے ہوں۔ اللہ کے لیے جہاں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اسی دوسرے معنی میں ہوا ہے) ان تین صفات سے استعاذہ کا مطلب یہ ہوا کہ میں اس خدا کی پناہ مانگتا ہوں جو انسانوں کا رب، بادشاہ، اور معبود ہونے کی حیثیت سے ان پر کامل اقتدار رکھتا ہو، جو اپنے بندوں کی حفاظت پر پوری طرح قادر ہے، اور جو واقعی اس شر سے انسانوں کو بچا سکتا ہے جس سے خود بچنے اور دوسرے انسانوں کو بچانے کے لیے میں اس کی پناہ مانگ رہا ہوں۔ یہی نہیں بلکہ چونکہ وہی رب اور بادشاہ اور الہ ہے، اس لیے اس کے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں جس سے میں پناہ مانگوں اور جو حقیقت میں پناہ دے بھی سکتا ہو۔
Surah No. 114 - Ayah No. 3
Commentary:
1 Here also, as in Surah Al-Falaq, instead of saying A'udhu-billahi (I seek Allah's refuge) , a prayer has beat taught to seek Allah's refuge by reference to His throe attributes: first, that He is Rabb-un nas, i.e. Sustainer, Providence and Master of all mankind; third, that He is Ilah-un-nas, i.e. real Deity of all mankind, (Here, one should clearly understand that the word ilah has been used in two meanings in the Qur'an: first for the thing or person who is practically being worshipped although it or he is not entitled to worship; second, for Him Who is ' entitled to worship, Who is in fact the Deity whether the people worship Him or not, wherever this word is used for Allah; it has been used in the second meaning) . Seeking refuge by means of these throe attributes means: "I seek refuge with that God, Who being the Sustainer, King and Deity of men, has full power over them, can fully protect them and can really save them from the evil, to save myself and others from which 1 am seeking His refuge. Not only this: since He alone is Sustainer, King and Deity, therefore, there is no one beside Him with Whom I may seek refuge and he may give real refuge."