09/01/2022
بیدمؔ نہ آؤں جا کہ دیارِ رسُولﷺ سے
تُربت ہو میری زیرِ سایہ دیوارِ مصطفٰےﷺ
صَلَّى اللهُ عَلَیہِ واٰلِہٖٖ وَسَلَّم
بیدم وارثی
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Online Quran o Tajveed, Tutor/Teacher, Sialkot.
09/01/2022
بیدمؔ نہ آؤں جا کہ دیارِ رسُولﷺ سے
تُربت ہو میری زیرِ سایہ دیوارِ مصطفٰےﷺ
صَلَّى اللهُ عَلَیہِ واٰلِہٖٖ وَسَلَّم
بیدم وارثی
آج کی حدیث۔
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور اول وقت میں آئے اور خطبہ میں شریک ہو،چل کر آئے سوار نہ ہو اور امام کے قریب رہے،خطبہ سنے اور لغو کام نہ کرے اس کے لیے ہر قدم کے بدلے سال بھر کا عمل ہے۔ایک سال کے روزے اور اس کی راتوں کے قیام کا اس کے لئے اجر ہے۔(مشکوة شریف رقم الحدیث122)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے:
“يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث ”
اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔
(جامع ترمذی ،۳۵۲۴)
کابل کے ایک پروفیسر کی کہانی ان کی زبانی
———————— ————————
پڑھنے کیلئے پاس اتنے پیسے نہیں تھے اس لئے زمیں فروخت کرکے پڑھا ، فارن سے پی ایچ ڈی کرلی ،
واپس کابل آیا ، سوچ رہا تھا اتنا سارا پڑھ لیا ہے اب تو صدر کے بعد سب سے بڑی کرسی مجھے ملے گی !
کافی عرصہ نوکری کیلئے دفتروں کی خاک چانی ، نوکری نہیں ملی ۔کچھ تو کرنا تھا اس لئے ایک کار سروس سٹیشن کھلا ، رشتہ داروں نے خوب مذاق اڑایا مگر میں اپنے اپ کو اور گھر والوں کو تسلی دیتا رہا کہ سب بہتر ہوجائے گا ۔سروس سٹیشن بہت خستہ حال تھا ۔شیشوں کے بجائے پلاسٹک کا سہارا لیا ، کابل کی یخ بستہ اور تیز و تند ہوائیں آئے روز پلاسٹک اڑا لے جاتے اور مجھے ہر روز نئے پلاسٹک خریدنے پڑتے ۔
چچا زاد بھائیوں کو میرے نئے کام سے کافی راحت محسوس ہوتی تھی ۔
آئے روز خوبصورت کاریں لاتے اور مجھ سے دھلاتے تھے اگرچہ میرے ساتھ اور بھی لوگ کام کرتے تھے مگر ان کی کاریں ہمیشہ میں خود صاف کرتا تھا ۔
سخت سردی کا موسم تھا ۔ کابل کی یخ بستہ ہوائیں جسم کے آر پار گزرتی تھی میں پلاسٹک والی کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ رہا تھا ۔چچا زاد آئے گاڑی کھڑی کی اور صفائی کا کہا،،،
گاڑی اندر سے پوری طرح گوبر ، گھاس سے بھری پڑی ہے ۔
خدا جانے مگر میرا گمان یہ تھا کہ یہ انھوں بےخود ہی جان بوجھ کے گندی کی ہے تاکہ میں صاف کروں اور وہ دیکھ کر سکون پائے!
میرے ساتھ کام کرنے والے گاڑی کی طرف لپکے ، میں نے انھیں منع کیا،مطلب یہ تھا کہ اب چچا زاد بھائی ہے وہ تو صرف اس لئے آئے ہے کہ مجھے صفائی کرتے ہوئے دیکھے ۔ میں نے بھائی کو بٹھایا اور ان کیلئے چاہے کا آرڈر دیا ۔
اور خود گاڑی کی واش کرنے لگا ۔
کام بہت سخت تھا ، میری آنکھیں بھر آئی ۔مگر کام کرتا رہا اور ان کی گندی گاڑی صاف کی ۔
چچا زاد بھائی چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے باہر آئے اور کہا اچھی طرح صاف کرنا ! اگر سچ پوچھے تو بہت ہی کھٹن حالت تھی مگر میں نہیں چاہتا تھا کہ بھائی کے امیدوں پر پانی پھیرو
کچھ دنوں بعد
کار اچھی طرح دھوئی ، کار کا مالک کافی مضطرب تھا ، میں نے سوچا شاہد گاڑی اچھی طرح صاف نہیں ہوئی ہے ، میں نے پوچھا بھائی کیا بات ہے اپ اتنے پریشان کیوں ؟ انھوں نے کہا میں طالب علم ہوں اور میرا امتحان ہے
عجیب بات یہ تھی کہ وہ معاشیات کا طالب علم تھا اور دوسری طرف میں نے معاشیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی
میں نے پوچھا کس مضمون کا پرچہ ہے ؟
انھوں نے کہا “ اکاویُٹنگ”
میں نے کہا تم سامنے اس روم میں جاؤں میں آتا ہوں
میں نے انھیں چھ ماہ کا سبق پندرہ منٹ میں سمجھا دیا !
کہا وہ گاڑی اپ نے دھوئی ؟
میں نے کہا ہاں جی ! زندگی ہے کام تو کرنا ہے نا !
میں نے انھیں اپنی پڑھائی کے بارے میں بتایا
وہ حیران تھا !
اب وہ ضد کرنے لگا کہ اپ کو میرے ساتھ چلنا ہوگا ، ہماری یونیورسٹی کے وی سی میرے دوست ہے
میں نے سے بات کرتا ہوں وہ اپ کو ضرور نوکری دے گا ۔
میں ان کے ساتھ چلنے لگا تو انھوں نے میرے میلے کچلے کپڑے دیکھ کر استفسار کیا کوئی اور کپڑے نہیں ہے اپ کے پاس ؟
میں نے کہا نہیں ، مجھے پتہ ہے نوکری کسی نے دینی نہیں یہ تو بس اپ ضد کررہے ہے اس لئے تمہارے ساتھ جانے لگا ہوں
گیلے کپڑے زیب تن کئے ہوئے میں وی دی آفس کے ایک کونے میں کھڑا ہوگیا ۔آفس میں قیمتی فرنیچر رکھا ہوا تھا مگر میرا دل نہیں کررہا تھا کہ اس پر پر بیٹھو ں
وی سی مجھے مستری سمجھا ، میاں نے ایک کپڑا لیا صوفے پر رکھا اور بیٹھ گیا ۔
طالب علم نے میری کہانی انھیں سنائی ۔ انھوں تمسخرانہ نظروں سے مجھے گورا ۔
جان چھڑانے کی خاطر انھوں نے کہا تم ڈیمو کیلئے تیاری کرو ہم تمہیں کال کریں گے ۔
میں نے کہا میں ابھی بھی ڈیمو کیلئے تیار ہوں !
انھیں میرا یہ انداز اچھا نہیں لگا مگر پھر بھی انھوں نے فون اُٹھایا ، سب ٹیچرز کو اس کلاس روم میں بلاؤں کہو ڈیمو ہے !
انھوں نے مجھے ایک مارکر پکڑایا میں نے دو مارکر اور مانگے ۔
کلاس پوری طرح بھری تھی ۔میں نے سلام کیا ۔ میرے کپڑے دیکھ کر تمام طلبہ مسکرا رہے تھے ۔ حکم ہوا اپ ڈیمو شروع کریں
میں نے کہا کس موضوع پر لیکچر دوں ؟
کہا اپ کی مرضی !
میں نے معاشیات کے دس موضوعات بورڈ پر لکھیں
میری خوبصورت لکھائی بورڈ پر کافی بھلی دکھائی دے رہی تھی ،۔
میں نے کہا اس میں کونسے موضوع پر بات کروں
انھوں نے دوسرے نمبر والا ٹاپک
میں نے اس موضوع کو مزید کلاسفیائی کیا ۔پھر ان کی طرف دیکھ کر کہا اب ان میں کونسا موضوع ٹھیک رہے گا
پورا بورڈ بھر دیا ۔دو ساتھ جوڑے ہوئے بورڈ بھر گئے ۔
اچانک تالیاں بجنے لگی ۔میں نے موڑ کے پیچھے دیکھا پوری کلاس کھڑی تھی اور تالیاں بجارہی تھی اور ان کے سامنے میں ، میلے کپڑوں میں کھڑا تھا ۔
وی سی نے کہا ! ہاں بھائی بتاؤ کتنی تنخوا لوں گے ؟
اور مجھے نوکری مل گی
میں نے مشین کی طرح کام کیا ۔ماہ کے آخر میں مجھے یونیورسٹی بیسٹ ٹیچر کے ایوارڈ کے ساتھ اچھی خاصی تنخوا ملی ۔سب سے زیادہ تنخوا اس یونیورسٹی میں پچاس ہزار افغانی تھی ۔ پر مجھے ایک لاکھ بیس ہزار پر رکھ لیا گیا ۔اس کے بعد امریکہ یونیورسٹی ، فنانس منسٹری ، بین الاقوامی کانفرنسوں اور دنیا کہ کہیں یونیورسٹیوں میں کام کرنے کے مواقع ملے ۔ میری سروس سٹیشن کے ایک سال کنٹریکٹ ابھی ختم نہیں ہوا تھا اور میں نے تیس ممالک دیکھ لیں ۔ میں آج بھی اپنے چچازادوں کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا ہوں
وہ بھی میرا بہت احترام کرتے ہیں اور نام کے ساتھ “صاحب” ضرور کہتے ہیں
میں خدا سے خوش ہوں ۔
زندگی کے سامنے کبھی ہتھیار مت ڈالیں ۔زندگی کے بہت سارے جہت ہیں ہمیشہ آنے والے کل کیلئے پرامید رہے ۔ کبھی کوئی کام کرتے ہوئے شرماتے نہیں
زندگی میں کوئی کام چھوٹا اور بڑا نہیں ہوتا ، البتہ کام کے طریقے چھوٹے اور بڑے ضرور ہوتے ہیں.
ZARA HAT KAR 😞😞😞
معذرت کیساتھ۔۔۔ 🙏🙏۔۔۔
ابو جان ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ
کسی قبرستان میں ایک شخص نے رات کے وقت نعش کیساتھ زنا کیا۔
بادشاہ وقت ایک نیک صفت شخص تھا اسکے خواب میں ایک سفید پوش آدمی آیا اور اسے کہا کہ فلاں مقام پر فلاں شخص اس گناہ کا مرتکب ہوا ہے، اور اسے حکم دیا کہ اس زانی کو فوراً بادشاہی دربار میں لا کر اسے مشیر خاص کے عہدے پر مقرر کیا جائے۔ بادشاہ نے وجہ جاننی چاہی تو فوراً خواب ٹوٹ گیا۔ وہ سوچ میں پڑ گیا۔
بہر حال
سپاہی روانہ ہوئے اور جائے وقوعہ ہر پہنچے، وہ سخص وہیں موجود تھا۔۔
سپاہیوں کو دیکھ کر وہ بوکھلا گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ اسکی موت کا وقت آن پہنچا ہے۔۔
اسے بادشاہ کے سامنے حاضر کیا گیا۔ بادشاہ نے اسے اسکا گناہ سنایا اور کہا ۔
آج سے تم میرے مشیر خاص ہو،
دوسری رات بادشاہ کو پھر خواب آیا۔
تو بادشاہ نے فوراً اس سفید پوش سے اس کی وجہ پوچھی کہ ایک زانی کیساتھ ایسا کیوں کرنے کا کہا آپ نے؟؟
سفید پوش نے کہا
اللّٰہ کو اسکا گناہ سخت نا پسند آیا، چونکہ اسکی موت کا وقت نہیں آیا تھا اسی لیے تم سے کہا گیا کہ اسے مشیر بنا لو، تاکہ وہ عیش میں پڑ جائے اور کبھی اپنے گناہ پر نادم ہو کر معافی نا مانگ سکے۔ کیوں کہ اسکی سزا آخرت میں طے کر دی گئی ہے۔ مرتے دم تک وہ عیش میں غرق رہے گا، اور بلکہ خوش بھی ہوگا کہ جس گناہ پر اسے سزا دی جانے چاہیے تھی اس گناہ پر اسے اعلیٰ عہدہ مل گیا۔۔
سو اسے گمراہی میں رکھنا مقصد تھا۔۔
ابو اٹھے میرے سر پہ ہاتھ رکھا اور کہا بیٹا۔۔
جب گناہوں ہر آسانی ملنے لگے تو سمجھ لینا آخرت خراب ہو گئی۔ اور توبہ کے دروازے بند کر دیے گئے تم پر۔۔
میں سن کر حیران رہ گیا۔۔ اپنے گریباں میں اور آس پاس نگاہ دوڑائی۔
کیا آج ایسا نہیں ہے؟؟
بار بار گناہوں کا موقع ملتا ہے ہمیں اور کتنی آسانی سے ملتا ہے اور کوئی پکڑ نہیں ہوتی ہماری۔ ہم خوش ہیں۔ عیش میں ہیں۔۔ کتنے ہی مرد و خواتین کتنی ہی بار گھٹیا فعل کے مرتکب ہوتے ہیں اور مرد اسے اپنی جیت اور عورت اپنی جیت کا نام دیتی ہے۔
اور اگلی بار ایک نیا شکار ہوتا ہے۔۔
پہلی بار گناہ ہر دل زور زور سے دھڑکے گا آپکا، دماغ غیر شعوری سگنل دے گا۔ ایک ٹیس اٹھے گی ذہن میں۔ جسم لاغر ہونے لگے گا ، کانپنے لگے گا
یہ وہ وقت ہوگا جس ایمان جھنجھوڑ رہا ہوتا ہے، چلا رہا ہوتا ہے کہ دور ہٹو، باز رہو۔
مگر دوسری بار یہ شدت کم ہو جائے گی۔ اور پھر ختم۔
پھر انسان مست رہتا ہے۔ اور خوش بھی۔ مگر افسوس کہ اوپر والا اس سے اپنا تعلق قطع کر لیتا ہے۔۔
گناہ کا راستہ ہمیشہ ہموار ہوگا اور آسان بھی، مگر یاد رکھیے سچ کا راستہ دشوار ہوتا ہے اس میں بے شمار تکلیفیں ہونگی، آزمائشیں، مصیبتیں سب ہونگی مگر گناہ کا راستہ ہمیشہ ہموار ہوگا۔۔
کسی زمین میں گندم خود بخود نہیں اگ آتی۔ آگائی جاتی ہے۔ محنت کی جاتی ہے، خیال کیا جاتا ہے، حفاظت کی جاتی ہے تب جا کے پھل ملتا ہے مگر کسی زمین میں جھاڑیاں، غیر ضروری گھاس پھوس ، کانٹے دار پودے خود ہی اگتے ہیں۔ ان پہ کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی، وہ خود ہی اگتی ہیں اور کچھ ہی دنوں میں پوری زمین کو لپیٹ میں لیکر اسے ناکارہ بنا دیتی ہے۔۔
اسی طرح بالکل آپکے دل کی زمین ہے جہاں گناہوں کا تصور از خود پیدا ہوگا۔ اور بڑھے گا۔ مگر نیکیوں کے لیے گناہوں سے بچنے کے لیے محنت کرنی پڑے گی۔۔ دشواریوں سے گذرنا ہوگا۔۔
خدارا اس لعنت سے بچیں ۔ اس میں ملوث ہونا کوئی کمال نہیں،
بچنا کمال ہے۔۔ باز رہنا کمال ہے۔ سوچیے ، نکلیے اس گناہ سے
کیوں حیا کا اٹھ جانا۔ ایمان اٹھ جانے کی نشانی ہے۔ نشانی ہے اس بات کی کہ اندھیری قبر میں بہت برا ہونے والا ہے۔
خدا ہم سب کو ہدایت دے۔۔
آمین۔
19/08/2019
مراکش میں ایک خانقاہ ہے جہاں کوئی حصول علم کے لئے جاتا تو اس کا سر منڈوا دیا جاتا اور اسےبڑے دروازے پر بٹھا دیا جاتا کہ وہ ہر آنے والے کے جوتے سیدھے کرتا رہے-
جب وہ پورے ذوق و شوق سے یہ کام کرنے لگتا تو اسکی ترقی کر دی جاتی اور اسے مہمانوں کے کھانے کے بعد برتن اٹھانے پر لگا دیا جاتا، جب وہ اس میں بھی اپنا شوق شامل کر لیتا تو اسے برتن دھونے کی ڈیوٹی دے دی جاتی، جب وہ اس میں بھی اپنی لگن سے کامیاب ہو جاتا تو اسے مہمانوں کو کھانا پیش کرنے پر معمور کر دیا جاتا۔۔۔۔۔۔۔
حتیٰ کی ترقی کرتے کرتے وہ صاحب علم مرشد کا قرب حاصل کر لیتا کیونکہ اب اس میں وہ انا جو پہلے دن تھی موجود ہی نہ تھی۔ لہٰذا انا ایک رکاوٹ ہے حصول علم و معرفت میں۔
"مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں 'جب میں اور تُو ایک ہو جاتے ہیں تو دوئی نہیں رہتی جب دوئی ہی نہ رہے تو انا کیسی'"
انا جب تک، فنا کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتی،
نماز عشق سے دل کی جبیں محروم رہتی ہے
12/06/2019