16/01/2020
عدم تعاون / نا فرمانی
اساتذہ (خصوصاً جو مڈل اور سیکنڈری کلاسز کو پڑھا رہے ہیں) کو طلباء کی طرف سے پیش آنے والے مسٔلوں میں سر فہرست عدم تعاون اور نا فرمانی کے مسائل ہیں۔
بچوں میں عدم تعاون کا رویہ عام طور پر تب پیدا ہوتا ہے جب انہیں کوئی ایسا کام کرنے کو کہا یا مجبور کیا جاۓ جو انہیں نا پسند ہو یا اسے کرنے میں مشکلات کی وجہ سے نہ کر پا رہے ہوں۔
عدم تعاون کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ لاشعوری طور پر اپنے بڑوں کو دیکھتے ہوئے طالبعلم بھی رولز اینڈ ریگولیشنز پر عمل کرنے کی بجائے انکی خلاف ورزی کر کے خوشی محسوس کرتا ہے۔ قوانین کی سرعام خلاف ورزی کرنا ، نرم روی کی بجائے سختی سے پیش آنا اور دلیل کی بجائے ڈانٹ ڈپٹ سے بات منوانا ایسے رویوں کی کچھ مثالیں ہیں جو بچے کی تربیت میں اپنا کردار ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی ادا کرتی چلی جاتی ہیں۔ بچے نصیحتوں کی بجائے اپنے ارد گرد موجود عملی مثالوں سے تربیت پاتے ہیں۔
عدم تعاون خاموشی سے بھی ہو سکتا ہے اور آگے بڑھتے ہوئے واضح نا فرمانی کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔
میرے ذاتی خیال میں بچہ نافرمانی کی طرف فوری مائل نہیں ہوتا ۔ بلکہ بے جا توقعات ، بہت زیادہ عمل سے خالی نصیحت، بچے کے عدم تعاون کے عوامل کو سمجھے بغیر کام پر اصرار اور سختی کا اظہار اور بسا اوقات اپنے دوستوں میں ہیرو بننے کی خواہش اسے اس نہج پر لے آتے ہیں کہ وہ علی اعلان نا فرمانی پر اتر آتا ہے۔ ایسا طالبعلم جو پڑھائی میں دلچسپی نہ لے رہا ہو اسے بار بار زبردستی سے پڑھائی پر مائل کرنا اس میں سرکشی یا نا فرمانی کو ابھارتا ہے۔
استاد کو ہمیشہ پہلے طالبعلم کے مسٔلے کو جاننا ، حل کرنے کی کوشش کرنا اور پھر اسے کام کرنے پر آمادہ کرنا چاہئے اور یہ بھی خیال رہے کہ بعض اوقات طالبعلم کو قائل کرنے کیلئے دلیل سے زیادہ توجہ اور محبت کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ انتہائی شدید صورتوں کے علاوہ اگر استاد اپنے طالبعلم کے منفی رویے کو ذاتی توہین تصور کرے تو وہ اصلاح میں کامیاب نہیں ہو گا۔ اور یہ سمجھنا بھی زیادتی ہو گی کہ بچے کے رویہ میں تبدیلی فوراً آ جائے گی۔ رویے میں تبدیلی کا عمل مسلسل توجہ، مسلسل مدد اور مسلسل چیک اینڈ بیلنس کا نظام برقرار رکھنے سے ہی وقوع پذیر ہو گا۔
والدین کا کردار اس معاملے میں کلیدی نوعیت کا ہے۔ مثال کے طور پر اگر سکول کی طرف سے بچے میں تعلیم کا شوق ابھارنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور دوسری جانب والدین بچے کی ہر خواہش بغیر اس میں احساس ذمہ داری پیدا کئے پوری کرتے چلے جا رہے ہوں، تو نتائج اکثر اوقات منفی برآمد ہوں گے۔ بچوں کے رویے میں مثبت تبدیلی کے لئے ہمیشہ والدین کو ساتھ ملا کر کام کرنے کو ترجیح دیجئے۔ تا کہ جو ماحول اسے سکول میں مل رہا ہے، گھر کا ماحول اس جیسا نہیں تو اس سے ہم آہنگ ضرور ہو۔
والسلام
شیراز رشید