03/07/2018
I am offering a course titled
C # ASP.NET Web Application Development with MVC.
Course Objective
By the end of this course, the participants would be able to analyze, design, develop a web application using ASP.NET based on MVC Architecture. They would implement views using bootstrap, jQuery, and AJAX. In addition to views, they would be able to apply a new form of Query language called LINQ (Language Integrated Query) for interaction with the database. After the development of the project they would be able to deploy the product (that they have created) on a server running IIS (7.0 or later) and SQL Server.
Pre-Requisite
Elementary C++ Programming, Database Concepts, OOP Preferred
Intended Audience
University Students planning their Final Year Project in .NET
Venue
Sialkot Cantt
Days/Timing
Will be mutually decided
Duration
1 Month
Contact 0335-1606797
21/07/2016
Professor Judy Haiven's opinion on Honor Killings In the west and their double standards.
13/12/2015
ٹائٹینک پر تقریبا 2230 لوگ سوار تھے،جن میں سے 706 بچا لیا گیا تھا، اس کا مطلب ہے کہ 1500 سے زیادہ ڈوب گئے تھے۔۔۔!!
فلم میں تقریبا سارے ڈوب کر مرجاتے ہیں جبکہ ہیرو چند گھنٹے بعد سردی کی شدت سے مرتا ہے ڈوب کر نہیں۔۔۔!! یہ فلم کے واقعات ہیں۔ جو ایک میگزین سے پتا چلے
جس نے بھی یہ فلم دیکھی ڈوبنے والے سینکڑوں بچوں اورخواتین کے ساتھ کسی کو ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا حالانکہ یہ خواتین اور بچے بڑی بے بسی سے ڈوبتے ہوئے مرے، یہ فلم دیکھنے والے ہر شخص کی تمنا تھی کہ بس ہیرو اور ہیروئن ڈوبنے سے بچ جائیں۔
کیا آپ میں سے کسی نے کبھی اپنے آپ سے پوچھا ہے کہ اس چور ،شرابی اور جواباز ہیرو کے ساتھ فلم دیکھنے والا ہر شخص ہمدردی کا اظہار کر تا ہے جبکہ بے بسی میں ڈوب کر مرنے والے سینکڑوں بچوں اور خواتین کے ساتھ فلم دیکھنے والا کوئی بھی شخص ہمدردی کا اظہار نہیں کررہا تھا بلکہ دل تھام کر ہیرو اور ہیروئن کے اوپر ہی فوکس کر تا ہے؟؟
جواب:
کیونکہ پروڈیوسر کا فوکس اور توجہ اس ہیرو اور ہیروئن پر ہے ،کیمرہ گھوما پھرا کر انہی کو دیکھا تا ہے،ڈائیلاگ انہی کے دکھائی جارہے ہیں، گویا کہ اس کشتی میں یہی دو سوار ہیں،اس لیے فلم دیکھنے والا ہر شخص بھی ان کو ہی بھر پور توجہ سے دیکھتا ہے ،ان ڈوبنے والے سینکڑوں بچوں ،بوڑھوں اور خواتین کو خاطر میں نہیں لاتا۔
میڈیا کے ذریعے ہر روز ہمارے ساتھ یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے ،
ہر روز سینکڑوں مسلمان بچے،خواتین امریکی ،فرانسیسی،برطانوی،روسی اور اسرئیلی طیاروں اور ڈرون کے حملوں میں مارے جارہے ہیں ، لاکھوں کی تعداد میں اب تک مر چکے ہیں لیکن میڈیا پر ان کیلئے کوئی جگہ نہیں اور مزید مسلمانوں کے خلاف قتل وغارت کا بازار گرم ہے،برما،فلسطین شام،عراق،لیبیا،یمن،کشمیر ہر جگہ مسلمان قتل کیے جارہے ہیں
پر میری طرح آپ نے بھی کبھی بریکنگ نیوز نہیں دیکھی ہوگی کسی چینل پر ۔۔۔۔۔
ہاں یہ پروڈیوسر نے کیمرے کو پیرس میں ہونے والے False flag حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ہلاکتوں پر کر دی تو دنیا بھر کے حکمران ایسے دوڑ کر پیرس پہنچے گویا یہ دنیا میں کوئی واحد واقعہ پیش آیا ہے،
اس کو ظلم کہا ،دہشت گردی کہا،فرانس سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا!!
لیکن وہ مسلمان جو بیگناہ مارے گئے اور مارے جارہے ہیں ان پر کوئی ہمدردی نہیں غیر تو غیر اپنے ہی ایسے منہ پھیر جاتے ہیں کہ دل خون کے آنسو روتا ہے۔۔۔۔۔
31/10/2015
11-year-old starts own business selling secure passwords generated by dice rolls
Passwords are something of a problem. The easy-to-remember ones are also easy for others to figure out, either through guesswork, phishing, or brute force methods. This leaves harder-to-remember strings of characters as the most secure passwords...