The Teacher Foundation Sialkot

The Teacher Foundation Sialkot

Share

Noon Academy of Sciences is an educational training center in which you can get live interactive ses

30/04/2026

شہر اقبال میں بہت بڑا مقابلہ خطاطی آپ کی تخلیق کا منتظر
*قائد قومی مقابلہ خطاطی 2026سیالکوٹ*
برائے طلباء و طالبات
(حد عمر 35 سال)
فن پارہ جمع کروانے کی آخری تاریخ 5مئی 2026
انٹری فیس: 500 روپے
*1لاکھ کے کیش انعامات، شیلڈ اور سرٹیفکیٹ*
زیر اہتمام : *قائد پبلک ہائی سکول و PEN نیٹ ورک سیالکوٹ*
ایڈریس: محلہ اسلام آباد سرکلر روڈ سیالکوٹ
رابطہ و ایزی پیسہ نمبر:
03497364747

30/04/2026

شہر اقبال میں بہت بڑا مقابلہ خطاطی آپ کی تخلیق کا منتظر
*قائد قومی مقابلہ خطاطی 2026سیالکوٹ*
برائے طلباء و طالبات
(حد عمر 35 سال)
فن پارہ جمع کروانے کی آخری تاریخ 5مئی 2026
انٹری فیس: 500 روپے
*1لاکھ کے کیش انعامات، شیلڈ اور سرٹیفکیٹ*
زیر اہتمام : *قائد پبلک ہائی سکول و PEN نیٹ ورک سیالکوٹ*
ایڈریس: محلہ اسلام آباد سرکلر روڈ سیالکوٹ
رابطہ و ایزی پیسہ نمبر:
03497364747

Hafiz Zulfiqar Shahid Usman Rehmat Ali پروفیسر محمد نعیم اعوان Abid Yousaf Ashfaq Niaz Rizwan Wahid Shabbir Mughal Calli Circle Abdul Shakoor Sial Manzoor Elahi Amir Shahzad Asad Waqas Fazal Ur Rahman Siddiqui Mian Adnan Siddique Inayat Rasool Waseem Akram Hafiz Zulfiqar Shahid Hafiz Naveed Hafiz Naqeeb Isaar Blood Shabbir Malik Burhan Mufeez Government College Women University Sialkot Govt. Murray Graduate College, Sialkot UMT Sialkot Uskt Crushes Asad Ullah Qureshi Javed Butt Ashraf Art Mughaljee Art Navid Khan Artest Atif Iqbal Qazi Artist Artgallery Lahore Muhammad Arif Artist Abdul Wahab Art Shabbir Ahmad Zia ArtistZaki Sheikh

03/11/2025

دو سوالات مسلسل پوچھے جارہے ہیں کہ اچھا پرنسپل کیسے تلاش کریں؟ اور پرنسپل کی SOPs کیا ہوں گی؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ پرنسپل کی ایس او پیز ہوتی نہیں۔ پرنسپل کی جاب ڈسکرپشن (JDs) ہوتی ہیں۔ ایس او پیز پراسیس یا Operations کے لٸے لکھی جاتی ہیں۔ پرنسپل سمیت تمام سٹاف کی JDs ہی ہوتی ہیں۔

اب آپ بتاٸیں گے کہ پرنسپل کی JDs بھیج دیں۔

پرنسپل کی JDs آپ کو انٹرنٹ سے باآسانی مل سکتی ہیں۔ آپ چاہیں تو AI سے بھی بنوا سکتے ہیں, لیکن یہ JDs پھر بھی غلط ہوں گی اور صرف کاغذ کا ضیاع ہوگا۔

پرنسپل کی JDs لکھنے کے لٸے دو باتیں مدنظر رکھنا ضروری ہیں۔

پہلی بات یہ کہ پرنسپل کا داٸرہ اختیار کیا ہے؟ اگر آپ نے پرنسپل کو اکیڈیمکس, ایڈمن اور فاٸنانس کا مکمل اختیار دیا ہے تو آپ تینوں شعبوں کی JDs الگ الگ لکھ سکتے ہیں۔

اگر اختیار صرف اکیڈیمکس کا ہے تو پرنسپل کہنا اور پرنسپل کی Designation دینا غلط ہے۔ وہ فرد آپ کے سکول میں واٸس پرنسپل کا کام کررہا ہے۔ عام طور پر ایمپلاٸی پرنسپل کے پاس اکیڈیمکس کا بھی مکمل اختیار نہیں ہوتا۔

دوسرا اور اہم فیکٹر پرنسپل کی JDs میں آپ کے سکول میں چلنے والے پروگرامز کا ہے۔ آپ کے سکول میں جتنے بھی منفرد اور عمومی پروگرامز چل رہے ہیں ان سب کو مدنظر رکھ کر JDs لکھ دی جاتی ہے۔

چند دوستوں نے پرنسپل کی JDs میرے ساتھ شٸیر کی ہیں۔ ایسا لگتا ہے بیچارے کو چوری کرتے ہوۓ پکڑ لیا ہو۔

میں پرنسپلز کو ایک JD لکھ کر دیتا ہوں۔

پرنسپل مجھے 15 صفحات پر مشتمل سکول مانیٹرنگ فریم ورک کی دو ماہانہ رپورٹ مرتب کرکے دیا کریں۔ باقی کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔
مزمل شاہ

دوسرے سوال کا جواب بعد میں دے دوں گا۔

19/10/2025

7th Annual
Sareer e Qalam
National Calligraphy and Painting Exhibition and competition city Sialkot
0302 6168075

18/10/2025

ایک استاد کی ویڈیو دیکھی جو اپنے طلباء کو بتا رہا تھا کہ سخت گرمی میں چلتے مجھے ایک گھر کے ساتھ پیڑ نظر آیا. سوچا اس کے نیچے کچھ ٹھنڈک لوں پسینہ خشک کروں. میں وہاں کھڑا ہی تھا کہ اوپری منزل کی کھڑکی کھلی. ایک شخص نے باہر مجھے دیکھا میں نے اسے دیکھا. اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا پانی پیو گے.؟ میں نے ہاں میں سر ہلا دیا.
وہ شخص کھڑکی بند کر کے چلا گیا. میں نے سوچا کتنا اچھا انسان ہے. اس گرمی میں اسے دوسروں کا احساس ہے. میں انتظار کرنے لگا دو منٹ چار منٹ سات منٹ اور پھر میں نے دل میں کہا کتنا گھٹیا انسان ہے. مجھے آسرا دے کر خود سو گیا. اچانک گھر کا دروازہ کھلا اور وہ شخص شرمندہ مسکراہٹ کے ساتھ ایک جگ گلاس اٹھائے باہر نکلا. کہنے لگا میں نے کہا کیا سادہ پانی پلاوں شکنجبین ہی پلا دیتا ہوں. اس لئے کچھ وقت لگا.
استاد کہنے لگے مجھے پھر اپنی سوچ پر شرمندگی ہوئی. کہ کتنا اچھا بندہ ہے. اس دور میں بھی اجنبیوں کا اتنا اکرام کر رہا ہے. اس نے مجھے گلاس دیا میں نے گھونٹ بھرا وہ شربت پھیکا تھا. میں نے پھر سوچا کتنا بے وقوف انسان ہے. شکنجبین بھی کوئی پھیکا بناتا ہے. میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے جیب سے پڑیا نکالی اور کہا مجھے پتہ نہیں تھا آپ میٹھا پیتے ہیں یا نہیں اور کتنا میٹھا.؟ اس لئے یہ چینی الگ سے لایا ہوں.
کہنے لگے مجھے ایک بار پھر اپنی سوچ بدلنی پڑی. دوستو ہم وہی ہوتے ہیں جو ہم سوچ رہے ہوتے ہیں. یہ دنیا اور ہمارے آس پاس اس کے لوگ و واقعات کی اچھائی برائی ہمارا دماغ طے کر رہا ہوتا ہے. دماغ کا ایک مسئلہ ہے یہ بہت جلد باز واقع ہوا ہے. اس لئے جلد بازی کے ہمارے فیصلے ہمیں ہی شرمندہ کراتے ہیں. بار بار شرمندہ کرتے ہیں.
منقول

#تعلیم

18/10/2025

1. سمارٹ ہوم ورک کا بنیادی تصور (Core Concept)

سمارٹ ہوم ورک دراصل تعلیمی سوچ میں ایک تبدیلی ہے۔ پہلے زمانے میں ہوم ورک کا مطلب تھا “زیادہ مشق” — تاکہ طلبہ سبق یاد رکھیں۔
اب سمارٹ ہوم ورک کا مقصد ہے “فہم اور عملی استعمال”۔ یعنی طلبہ کو وہ کام دیا جائے جس سے وہ:
- سوچیں
- مشاہدہ کریں
- نئی چیزیں دریافت کریں
- سبق کو اپنی زندگی میں لاگو کریں۔
یہ تصور "Active Learning" اور "Student-Centered Education" سے جڑا ہے، جہاں طالب علم سیکھنے کا شریک بنتا ہے، صرف ہدایت پر عمل کرنے والا نہیں۔

2. سمارٹ ہوم ورک کی اہم خصوصیات (Key Characteristics)
بامقصد (Purposeful): ہر ہوم ورک کسی واضح تعلیمی مقصد سے جڑا ہو۔ صرف مصروف رکھنے کے لیے نہ دیا جائے۔
حقیقی دنیا سے تعلق (Real-Life Connection): کام ایسا ہو جس کا تعلق روزمرہ زندگی، گھر یا کمیونٹی سے ہو۔
دلچسپ اور تخلیقی (Engaging & Creative): ہوم ورک میں کچھ ایسا عنصر ہو جو طلبہ کو پرجوش کرے — جیسے تصاویر، مشاہدہ، ویڈیو، یا کہانی۔
اختیار اور انتخاب (Choice & Ownership): طلبہ کو کام کے طریقے یا مواد کے انتخاب میں کچھ آزادی دی جائے۔
فیڈبیک پر مبنی (Feedback-Oriented): کام کے بعد استاد یا ساتھی طلبہ سے رہنمائی یا تبصرہ حاصل کیا جا سکے۔
📘 3. سمارٹ ہوم ورک کیسے تیار کیا جائے؟ (How to Design Smart Homework)
🔹 (الف) مقصد واضح کریں
پہلے یہ طے کریں کہ اس ہوم ورک سے طلبہ کیا سیکھیں گے؟
مثال: “طلبہ روزمرہ میں توانائی کے استعمال کو سمجھیں۔”
🔹 (ب) عمل پر مبنی بنائیں
صرف سوالات لکھوانے کے بجائے کوئی سرگرمی شامل کریں:
“طلبہ گھر کے پانچ آلات کی فہرست بنائیں جو بجلی استعمال کرتے ہیں۔”
🔹 (ج) ربط پیدا کریں
سبق کو گھر، معاشرت، یا ماحول سے جوڑیں۔
مثال: “پانی کے ضیاع پر اپنے گھر والوں سے بات کریں اور بچاؤ کی تجاویز لکھیں۔”
🔹 (د) مختلف مہارتوں کو شامل کریں
زبان، تخلیق، مشاہدہ، تجزیہ — سب شامل ہوں۔
مثال: “ریاضی کے سوال کے ساتھ تصویر یا ویڈیو بطور وضاحت تیار کریں۔”
🔹 (ہ) وقت اور سطح کا خیال رکھیں
ہوم ورک مختصر مگر بامقصد ہو۔
طلبہ کی عمر اور سطح کے مطابق ہو تاکہ وہ آسانی سے مکمل کر سکیں۔
🌟 4. سمارٹ ہوم ورک کے نتائج اور اثرات (Impact and Benefits)
1۔ طلبہ کی سیکھنے میں دلچسپی بڑھتی ہے۔
وہ ہوم ورک کو بوجھ نہیں بلکہ ایک تجربہ سمجھتے ہیں۔
2۔ اساتذہ کو طلبہ کی سوچ کا انداز سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
یعنی وہ دیکھ سکتے ہیں کہ طالب علم نے سبق کو کس زاویے سے سمجھا۔
3۔ والدین کی شمولیت بڑھتی ہے۔
چونکہ اکثر سمارٹ ہوم ورک گھر، خاندان یا کمیونٹی سے متعلق ہوتا ہے۔
4۔ طلبہ میں خود اعتمادی اور ذمہ داری بڑھتی ہے۔
جب انہیں تخلیقی آزادی ملتی ہے تو وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین کرنے لگتے ہیں۔
5۔ سکول کی ساکھ میں بہتری آتی ہے۔
جب طلبہ دلچسپ اور عملی ہوم ورک کرتے ہیں تو والدین اور کمیونٹی بھی سکول کی تعریف کرتی ہے۔
مثال:
موضوع: ماحولیاتی آلودگی
سمارٹ ہوم ورک:
طلبہ اپنے محلے میں موجود تین آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی کریں، ان کی تصاویر لیں یا خاکہ بنائیں، اور ایک پیراگراف میں لکھیں کہ انہیں کم کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔
اس سے طلبہ کو صرف "آلودگی کی اقسام" یاد نہیں رہتیں بلکہ وہ مسئلے کے حل سوچنے والے شہری بنتے ہیں۔

08/10/2025

💥 *سکول بیگ بوجھ کی دنیا*💥

صارم پانچویں جماعت کا ذہین اور خوش مزاج طالبعلم ہے۔
نئی کلاس میں آنے کے بعد اب اس کا بیگ چھوٹا پڑ رہا تھا. وعدے کے مطابق اس کے بابا نے اسے اس سال نیا بیگ دلا دیا ۔
ہر روز وہ صبح جلدی اٹھ کر اسکول کے لیے تیار ہوتا ۔ اپنے بڑے سے بیگ کو کھینچتا سنبھالتا اسکول کی جانب روانہ ہوتا ، اُس کی کلاس دوسری منزل پرہے، جہاں تک پہنچنے کے لیے سیڑھیاں چڑھنا پڑتی ہیں۔ شروع میں تو سب معمول کا لگتا تھا،
*لیکن کچھ ہفتوں کے بعد صارم کو سیڑھیاں چڑھتے وقت کمر میں درد* *محسوس ہونے لگا۔*
وہ تھوڑا سا جھک کر چلنے لگا، اور اُس کا جسمانی توازن بھی بگڑنے لگا۔ والدین نے بھی نوٹس کیا کہ وہ کمر میں درد کی بھی شکایت کرنے لگا ہے ۔
*جب اسے ڈاکٹر کو دکھایا تو رپورٹ آئی کہ اُس کی ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ پڑ رہا ہے۔*
ڈاکٹر نے وضاحت کر دی کہ *یہ سب اُس کے بھاری بیگ کی وجہ سے ہو رہا ہے، جو وہ روزانہ اسکول لے جاتا ہے۔ اس کی ہڈی کی ساخت متاثر ہو رہی ہے۔*

یہ ایک سچی کہانی ہے، خاندان ہی کا ایک واقعہ ہے، مگر یہ سب خلیج ٹائمز میں چھپنے والے ایک آرٹیکل کو دیکھ کر یاد آ گیا۔
*خلیج ٹائمز (22 جولائی 2025) میں ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں متحدہ عرب امارات کے* *مختلف اسکولز کی جانب سے ٹرالی بیگز پر پابندی کا ذکر کیا گیا۔*
ڈاکٹروں اور والدین کی رائے میں یہ بیگز نہ صرف خطرناک انداز میں گھسیٹے جاتے ہیں بلکہ سیڑھیاں چڑھتے وقت بچوں کی کمر اور گردن پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

*ماہرینِ اطفال اور فزیو تھراپسٹ کہتے ہیں کہ بچوں کے بیگ کا وزن ان کے جسمانی وزن کا 10–15٪* *سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔*
یعنی پانچویں چھٹی کے بیشتر طلبہ کا وزن چالیس سے پنتالیس چھیالیس کلوگرام ہوتا ہے تو ان کا بیگ چار پانچ کلو سے زیادہ نہ ہو۔
*پاکستان میں پرائمری کلاسز کا بیگ بھی دس سے بارہ تیرہ کلو وزنی ہوچکا ہے۔*

اسکول بیگز کا وزن ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے جو نہ صرف جسمانی نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ بچوں کی تعلیمی کارکردگی اور ذہنی سکون پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔
*اکثر بیگ ایسے لگتے ہیں جیسے بچے اسکول نہیں جا رہے کسی دوسرے علاقے میں ہجرت کر رہے ہوں ۔*

*عالمی سطح پر اس کا حل کیسے نکالا گیا؟*
یورپ امریکہ میں تو ڈیجیٹل تعلیم ایک بہترین حل ہے ۔ بچوں کو کروم بکس یا ٹیبلٹس دیے جاتے ہیں بیگ ہلکا، بچے چاق چوبند ۔
پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں مکمل طور پر شائد ممکن نہیں ہو ۔ لیکن کافی حد تک ایسا ہو سکتا ہے ۔

*لاکر سسٹم*
جب سے ڈیجٹل سٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ان گنت فلمیں اور سیریز دیکھی ہیں تب سے دیکھ رہے ہیں کہ سکول لیول کی ہر کہانی میں بچوں کے پاس لاکر ہوتے ہیں ۔ جو وه اپنی مرضی سے سجاتے بھی ہیں اور سکول میں اپنے سٹور کے طور پر استعمال بھی کرتے ہیں ۔ اس طرح کتابیں اسکول میں رہتی ہیں ۔ بچہ صرف وہی لے کر آتا ہے جن ضرورت ہو ۔ اسکول لاکرز بچوں کے لیے بھی ضروری ہیں تاکہ ہر چیز ہر روز کندھے پر نہ لادنی پڑے
یہ سکولز میں ایک بار کا خرچہ ضرور ہے لیکن بہرحال یہ ایک بہترین حل ہے ۔ پاکستان میں پاک ترک جیسے سکولوں نے چھوٹی کلاسز میں یہ تجربہ کیا کہ بچوں کو لاکرز لے دئیے۔ ہمارے نجی اور سرکاری سکولوں کو اس حوالے سے کچھ سوچنا چاہیے ۔

*مختصر نصاب:*
یورپ میں اکثر ایک کتاب کے تین حصے بنا دیے جاتے ہیں تاکہ ایک وقت میں صرف ایک ہی ساتھ لایا جا سکے ۔ ہمارے ہاں بھی کچھ اچھے سکول ایسا ہی نصاب پڑھا رہے ہیں جہاں ہر مضمون کے دو یا دو سے زیادہ حصوں پر مشتمل کتاب ہے لیکن کلاسز اس طرح ڈیزائن نہیں کی جاتیں کہ بچوں کے بیگ کا وزن کچھ کم ہو پائے ۔

تاہم بعض مائیں یہ بھی شکایت کرتی ہیں کہ جب ہم نے بیگ کا وزن کم کروانے کے لیے سکول کے دیئے گئے شیڈول کے مطابق کتابیں نکلوائی، پتہ چلا ٹیچر نے اس روز اسی کتاب سے کام کروایا جو گھر پر تھی ۔ اور تو اور جو ہفتہ وار شیڈول میں کسی مضمون کا دن نہیں تھا تو کتاب نکلوا دی اور ٹیچر کو یاد آیا کہ آج کچھ منٹ اس مضمون کو دینے چاہیں جس کا آج دن ہی نہیں ۔
یوں بچے کوئی بھی کتاب بیگ سے نکالنے پر ہی نہیں راضی ہوتے کہ کیا معلوم کب ضرورت پڑ جاۓ ۔ اس کا حل یہی ہے کہ سکول اپنے طے شدہ شیڈول پر ہی سختی سے قائم رہیں۔

*نو بیگ ڈے* :
ہفتے میں ایک آدھ دن مکمل بیگ فری دن بھی ہونا چاہیے ۔
کم از کم ایک دن بچوں کو بیگ کے بوجھ سے نجات ملے ۔ اصل میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ صارم کی کہانی کسی ایک بچے کی نہیں یہ اُن لاکھوں بچوں کی کہانی ہے جو ہر روز علم کے نام پر بوجھ ڈھوتے ہیں۔
بیگ کا وزن صرف کندھے پر نہیں ہوتا، کبھی کبھی زہنوں اور مسکراہٹوں پر بھی آ جاتا ہے۔ *بوجھ کی دنیا کو کسی بھی طور کم ہونا چاہیے ۔*

سعدیہ مسعود

07/10/2025

جو شخص غصے کی کیمسٹری کو سمجھتا ہو وہ بڑی آسانی سے غصہ کنٹرول کر سکتا ہے“ میں نے پوچھا ”سر غصے کی کیمسٹری کیا ہے؟“
وہ مسکرا کر بولے ”ہمارے اندر سولہ کیمیکلز ہیں‘ یہ کیمیکلز ہمارے جذبات‘ ہمارے ایموشن بناتے ہیں‘ ہمارے ایموشن ہمارے موڈز طے کرتے ہیں اور یہ موڈز ہماری پرسنیلٹی بناتے ہیں“ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولے ”ہمارے ہر ایموشن کا دورانیہ 12 منٹ ہوتا ہے“ میں نے پوچھا ”مثلا“۔۔۔؟ وہ بولے ”مثلاً غصہ ایک جذبہ ہے‘ یہ جذبہ کیمیکل ری ایکشن سے پیدا ہوتا ہے‘مثلاً ہمارے جسم نے انسولین نہیں بنائی یا یہ ضرورت سے کم تھی‘ ہم نے ضرورت سے زیادہ نمک کھا لیا‘
ہماری نیند پوری نہیں ہوئی یا پھر ہم خالی پیٹ گھر سے باہر آ گئے‘ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟ ہمارے اندر کیمیکل ری ایکشن ہو گا‘ یہ ری ایکشن ہمارا بلڈ پریشر بڑھا دے گا اور یہ بلڈ پریشر ہمارے اندر غصے کا جذبہ پیدا کر دے گا‘ ہم بھڑک اٹھیں گے لیکن ہماری یہ بھڑکن صرف 12 منٹ طویل ہو گی‘ ہمارا جسم 12 منٹ بعد غصے کو بجھانے والے کیمیکل پیدا کر دے گا اور یوں ہم اگلے 15منٹوں میں کول ڈاؤن ہو جائیں گے چنانچہ ہم اگر غصے کے بارہ منٹوں کو مینیج کرنا سیکھ لیں تو پھر ہم غصے کی تباہ کاریوں سے بچ جائیں گے“
میں نے عرض کیا ”کیا یہ نسخہ صرف غصے تک محدود ہے“ وہ مسکرا کر بولے ”جی نہیں‘ ہمارے چھ بیسک ایموشنز ہیں‘ غصہ‘ خوف‘ نفرت‘ حیرت‘ لطف(انجوائے) اور اداسی‘ ان تمام ایموشنز کی عمر صرف بارہ منٹ ہو تی ہے‘ ہمیں صرف بارہ منٹ کیلئے خوف آتا ہے‘ ہم صرف 12 منٹ قہقہے لگاتے ہیں‘ ہم صرف بارہ منٹ اداس ہوتے ہیں‘ ہمیں نفرت بھی صرف بارہ منٹ کیلئے ہوتی ہے‘ ہمیں بارہ منٹ غصہ آتا ہے اور ہم پر حیرت کا غلبہ بھی صرف 12 منٹ رہتا ہے‘
ہمارا جسم بارہ منٹ بعد ہمارے ہر جذبے کو نارمل کر دیتا ہے“ میں نے عرض کیا ”لیکن میں اکثر لوگوں کو سارا سارا دن غصے‘ اداسی‘ نفرت اور خوف کے عالم میں دیکھتا ہوں‘ یہ سارا دن نارمل نہیں ہوتے“ وہ مسکرا کر بولے ”آپ ان جذبوں کو آگ کی طرح دیکھیں‘ آپ کے سامنے آگ پڑی ہے‘ آپ اگر اس آگ پر تھوڑا تھوڑا تیل ڈالتے رہیں گے‘ آپ اگر اس پر خشک لکڑیاں رکھتے رہیں گے تو کیا ہو گا ؟ یہ آگ پھیلتی چلی جائے گی‘ یہ بھڑکتی رہے گی‘
ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے جذبات کو بجھانے کی بجائے ان پر تیل اور لکڑیاں ڈالنے لگتے ہیں چنانچہ وہ جذبہ جس نے 12 منٹ میں نارمل ہو جانا تھا وہ دو دو‘ تین تین دن تک وسیع ہو جاتا ہے‘ ہم اگر دو تین دن میں بھی نہ سنبھلیں تو وہ جذبہ ہمارا طویل موڈ بن جاتا ہے اور یہ موڈ ہماری شخصیت‘ ہماری پرسنیلٹی بن جاتا ہے یوں لوگ ہمیں غصیل خان‘ اللہ دتہ اداس‘ ملک خوفزدہ‘ نفرت شاہ‘ میاں قہقہہ صاحب اور حیرت شاہ کہنا شروع کر دیتے ہیں“ وہ رکے اور پھر بولے ”آپ نے کبھی غور کیا ہم میں سے بے شمار لوگوں کے چہروں پر ہر وقت حیرت‘ ہنسی‘ نفرت‘ خوف‘ اداسی یا پھر غصہ کیوں نظر آتا ہے؟
وجہ صاف ظاہر ہے‘ جذبے نے بارہ منٹ کیلئے ان کے چہرے پر دستک دی لیکن انہوں نے اسے واپس نہیں جانے دیا اور یوں وہ جذبہ حیرت ہو‘ قہقہہ ہو‘ نفرت ہو‘ خوف ہو‘ اداسی ہو یا پھر غصہ ہو وہ ان کی شخصیت بن گیا‘ وہ ان کے چہرے پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے درج ہو گیا‘ یہ لوگ اگر وہ بارہ منٹ مینج کر لیتے تو یہ عمر بھر کی خرابی سے بچ جاتے‘ یہ کسی ایک جذبے کے غلام نہ بنتے‘ یہ اس کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہوتے“ میں نے عرض کیا ”اور کیا محبت جذبہ نہیں ہوتا“ فوراً جواب دیا ”محبت اور شہوت دراصل لطف کے والدین ہیں‘ یہ جذبہ بھی صرف بارہ منٹ کاہوتا ہے‘
آپ اگر اس کی بھٹی میں نئی لکڑیاں نہ ڈالیں تو یہ بھی بارہ منٹ میں ختم ہو جاتا ہے لیکن ہم بے وقوف لوگ اسے زلف یار میں باندھ کر گلے میں لٹکا لیتے ہیں اور یوں مجنوں بن کر ذلیل ہوتے ہیں‘ ہم انسان اگر اسی طرح شہوت کے بارہ منٹ بھی گزار لیں تو ہم گناہ‘ جرم اور ذلت سے بچ جائیں لیکن ہم یہ نہیں کر پاتے اور یوں ہم سنگسار ہوتے ہیں‘ قتل ہوتے ہیں‘ جیلیں بھگتتے ہیں اور ذلیل ہوتے ہیں‘ ہم سب بارہ منٹ کے قیدی ہیں‘ ہم اگر کسی نہ کسی طرح یہ قید گزار لیں تو ہم لمبی قید سے بچ جاتے ہیں ورنہ یہ 12 منٹ ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتے“۔
میں نے ان سے عرض کیا ”آپ یہ بارہ منٹ کیسے مینیج کرتے ہیں“ وہ مسکرا کر بولے ”میں نے ابھی آپ کے سامنے اس کا مظاہرہ کیا‘ وہ صاحب غصے میں اندر داخل ہوئے‘ مجھ سے اپنی فائل مانگی‘ میں نے انہیں بتایا میں آپ کی فائل پر دستخط کر کے واپس بھجوا چکا ہوں لیکن یہ نہیں مانے‘ انہوں نے مجھ پر جھوٹ اور غلط بیانی کا الزام بھی لگایا اور مجھے ماں بہن کی گالیاں بھی دیں‘ میرے تن من میں آگ لگ گئی لیکن میں کیونکہ جانتا تھا میری یہ صورتحال صرف 12 منٹ رہے گی چنانچہ میں چپ چاپ اٹھا‘
وضو کیا اور نماز پڑھنی شروع کر دی‘ میرے اس عمل پر 20 منٹ خرچ ہوئے‘ ان 20 منٹوں میں میرا غصہ بھی ختم ہو گیا اور وہ صاحب بھی حقیقت پر پہنچ گئے‘ میں اگر نماز نہ پڑھتا تو میں انہیں جواب دیتا‘ ہمارے درمیان تلخ کلامی ہوتی‘ لوگ کام چھوڑ کر اکٹھے ہو جاتے‘ہمارے درمیان ہاتھا پائی ہو جاتی‘ میں اس کا سر پھاڑ دیتا یا یہ مجھے نقصان پہنچا دیتا لیکن اس سارے فساد کا آخر میں کیا نتیجہ نکلتا؟ پتہ چلتا ہم دونوں بے وقوف تھے‘ ہم سارا دن اپنا کان چیک کئے بغیر کتے کے پیچھے بھاگتے رہے چنانچہ میں نے جائے نماز پر بیٹھ کر وہ بارہ منٹ گزار لئے اور یوں میں‘ وہ اور یہ سارا دفتر ڈیزاسٹر سے بچ گیا‘ ہم سب کا دن اور عزت محفوظ ہو گئی“
میں نے پوچھا ”کیا آپ غصے میں ہر بار نماز پڑھتے ہیں“ وہ بولے ”ہرگز نہیں‘ میں جب بھی کسی جذبے کے غلبے میں آتا ہوں تو میں سب سے پہلے اپنا منہ بند کر لیتا ہوں‘ میں زبان سے ایک لفظ نہیں بولتا‘ میں قہقہہ لگاتے ہوئے بھی بات نہیں کرتا‘ میں صرف ہنستا ہوں اور ہنستے ہنستے کوئی دوسرا کام شروع کر دیتا ہوں‘ میں خوف‘ غصے‘ اداسی اور لطف کے حملے میں واک کیلئے چلا جاتا ہوں‘ غسل کرلیتا ہوں‘ وضو کرتا ہوں‘ 20 منٹ کیلئے چپ کا روزہ رکھ لیتا ہوں‘ استغفار کی تسبیح کرتا ہوں‘
اپنی والدہ یا اپنے بچوں کو فون.کرتا ہوں‘ اپنے کمرے‘ اپنی میز کی صفائی شروع کر دیتا ہوں‘ اپنا بیگ کھول کر بیٹھ جاتا ہوں‘ اپنے کان اور آنکھیں بند کر کے لیٹ جاتا ہوں یا پھر اٹھ کر نماز پڑھ لیتا ہوں یوں بارہ منٹ گزر جاتے ہیں‘ طوفان ٹل جاتا ہے‘ میری عقل ٹھکانے پر آ جاتی ہے اور میں فیصلے کے قابل ہو جاتا ہوں“ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے عرض کیا ”اور اگر آپ کو یہ تمام سہولتیں حاصل نہ ہوں تو آپ کیا کرتے ہیں“ وہ رکے‘ چند لمحے سوچا اور بولے ”آسمان گر جائے یا پھر زمین پھٹ جائے‘ میں منہ نہیں کھولتا‘
میں خاموش رہتا ہوں اور آپ یقین کیجئے سونامی خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ میری خاموشی کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ وہ بہرحال پسپا ہو جاتاہے‘ آپ بھی خاموش رہ کر زندگی کے تمام طوفانوں کو شکست دے سکتے ہیں۔
#تعلیم

Want your school to be the top-listed School/college in Sialkot?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Khadim Ali Road Sialkot
Sialkot
51310