Sir Sayyed Public High School Chaprar Sialkot

Sir Sayyed Public High School Chaprar Sialkot

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sir Sayyed Public High School Chaprar Sialkot, High School, Chaprar, Sialkot.

18/12/2025
18/12/2025

اساتذہ سے سرزد ہونے والی غلطیاں
اساتذہ کرام ان کو ایک مرتبہ ضرور پڑھیں
درس وتدریس سے بہتر کوئی مشغلہ نہیں اور استاد سے بہتر کسی کا مرتبہ نہیں ہے، لیکن ضروری ہے کہ استاد مخلص ہو، باعمل ہو، بااخلاق اور باکردار ہو، معصوم تو نہیں لیکن غلطیوں اور گناہوں سے دور رہنے والا ہو، اس لیے کہ اگر استاد میں خامی اور غلطی ہوگی تو بچوں کی تربیت پر اس کا بڑا گہرا اثر پڑے گا، آئیے آج دیکھتے ہیں کہ بعض اساتذہ سے کیا کیا غلطیاں سرزد ہوتی ہیں-
1) بغیر مطالعہ کے پڑھانا-
2) کلاس میں لیٹ جانا، اور وقت سے پہلے نکل آنا-
3) تعلیم اور تدریس چھوڑ کر کلاس میں موبائل استعمال کرنا، مطالعہ کرنا، اخبار چاٹنا، سونا، مضمون لکھنا وغیرہ-
4) طلبہ کے سوالات کا جواب نہ دینا، یا سوال کرنے پر ناراض ہونا-
5) انصاف نہ کرنا، کسی طالب کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا-
6) طلبہ کی حاضری نہ لینا-
7) امتحان کے سوالات بہت مشکل بنانا-
8) مارنے میں اعتدال نہ برتنا، جانوروں کی طرح پیٹنا-
9) اسباق صحیح سے نہ سننا-
10) طلبہ کو گالی دینا-
11) غريب، یتیم کمزور سمجھ کر ظلم ڈھانا، کسی کو حقیر سمجھنا-
12) نام بگاڑنا-
13) کلاس روم میں داخل ہوتے وقت سلام نہ کرنا الٹا بچوں کو بطور استقبال کھڑے کرانا-
14) امتحان کا پیپر بتا دینا-
15) کورس اور نصاب مکمل نہ کرنا-
16) طلبہ سے مشکل کام کرانا-
17) مدرسے کے اصول و ضوابط کی پابندی نہ کرنا-
18) مدرسے سے غائب رہنا،
19) بچوں میں برائی دیکھنے کے باوجود خاموش رہنا-
20) جس فن میں مہارت نہ ہو پھر بھی زبردستی تدریس کے لیے اس کتاب کو طلب کرنا-
21) بچوں کی تعلیم پر زیادہ توجہ نہ دینا اور باہر ٹیوشن خوب پڑھانا-
22) اچانک بیچ سال میں موٹی تنخواہ کے واسطے مستعفی ہوجانا-
23) نمازوں میں سستی کرنا-
24) طلبہ پر اپنا رعب جمانا، طلبہ کے سامنے ہمیشہ اپنی بڑائی بیان کرنا-
25) مدرسے کے خادموں اور عاملوں کے ساتھ بدسلوکی کرنا-
26) اپنی گھنٹی ختم ہو جانے کے باوجود بھی کلاس سے نہ نکلنا اور دوسرے کا وقت چاٹ جانا-
27) امتحان ہال میں ہنگامہ کرنا، شور مچانا، چیخنا چلانا-
28) صفائی کا خیال نہ رکھنا، گندے خراب کپڑے پہن کر کلاس میں پڑھانے آنا-
29) بچوں سے محبت کرنے میں غلو کرنا-
30) ناجائز طریقے سے بچوں سے پیسے کھانا-
31) بچوں کے سامنے منشیات کا استعمال کرنا-
32) داڑھی چھیلنا کترنا یا کاٹنا-
یہ چھوٹی بڑی کچھ غلطیاں ہیں جو عام طور پر مدارس کے اساتذہ سے سرزد ہوتی ہیں، اساتذہ کو چاہیے کہ ان غلطیوں سے اور تمام غلطیوں سے بچیں، اساتذہ مثالی بنیں، طلبہ کے لیے آئیڈیل اور نمونہ بنیں، خوش اخلاق بنیں، اس لیے کہ طلبہ اپنے اساتذہ کو دیکھ کر بہت کچھ سیکھتے ہیں اور اپنے اساتذہ کی نقالی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر قسم کے گناہ سے بچائے اور ہم سب کو معاف فرمائے اور اساتذہ کی خدمات کو قبول فرمائے آمین-

13/12/2025

چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT)

چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) ایک ایسا اے آئی ٹول ہے جو استاد کی سوچ کو وسعت دیتا ہے اور تدریس کے عمل کو منظم کرتا ہے۔ یہ ٹول دراصل انسانی گفتگو کے انداز کو سمجھنے اور اسی انداز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی بنیاد لینگویج ماڈل پر ہے، یعنی یہ الفاظ، جملوں اور خیالات کے درمیان تعلق کو سمجھ کر جواب تیار کرتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ صرف معلومات نہیں دیتا بلکہ سبق، مثال، سرگرمی اور سوالات بھی ترتیب دے سکتا ہے۔
جب ایک استاد روزانہ کلاس میں داخل ہوتا ہے تو اس کے سامنے کئی عملی مسائل ہوتے ہیں۔ کہیں وقت کم ہے، کہیں نصاب زیادہ ہے، کہیں بچے کمزور ہیں اور کہیں وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی ایسے تمام حالات میں استاد کے ساتھ ایک معاون ٹول کی طرح کام کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی نان فارمل اسکول میں ایک ہی ٹیچر کو مختلف جماعتوں کو پڑھانا ہو تو وہ چیٹ جی پی ٹی سے ہر جماعت کے لیے الگ مگر مربوط سرگرمیاں بنوا سکتا ہے، جو ایک ہی موضوع کے گرد گھومتی ہوں مگر سطح کے مطابق ہوں۔
عملی تدریس کی ایک مثال دیکھیں۔ فرض کریں جماعت سوم کے بچوں کو “اسم” سمجھانا ہے، مگر بچے تعریف یاد نہیں کر پا رہے۔ استاد چیٹ جی پی ٹی سے یہ لکھ کر مدد لے سکتا ہے کہ “جماعت سوم کے بچوں کو اسم کھیل کے ذریعے سمجھانے کا طریقہ بتائیں”۔ جواب میں چیٹ جی پی ٹی ایسی سرگرمی تجویز کرے گا جس میں بچے کلاس روم میں موجود چیزوں کے نام خود بولیں، لکھیں یا گروپس میں بانٹیں۔ یوں سبق رٹا لگانے کے بجائے تجربے سے سیکھا جائے گا۔
اسی طرح ریاضی میں جمع یا تفریق پڑھاتے وقت اکثر بچے گھبرا جاتے ہیں۔ استاد چیٹ جی پی ٹی سے کہہ سکتا ہے کہ “روزمرہ زندگی کی مثالوں سے جمع سمجھانے کی کہانی بنائیں”۔ ٹول بچوں کی عمر کے مطابق ایسی کہانی تیار کر دے گا جس میں ٹافیاں، آم، یا سکے شامل ہوں، جنہیں بچے فوراً سمجھ لیتے ہیں۔ استاد اس کہانی کو زبانی بھی سنا سکتا ہے اور تختہ سیاہ پر مثال بنا کر بھی سمجھا سکتا ہے۔
سائنس کی تدریس میں یہ ٹول خاص طور پر مفید ثابت ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر موضوع “پودوں کی نشوونما” ہو اور اسکول میں کوئی چارٹ یا ماڈل موجود نہ ہو تو استاد چیٹ جی پی ٹی سے سادہ زبان میں مرحلہ وار وضاحت لے سکتا ہے۔ پھر اسی وضاحت کو بنیاد بنا کر بچوں سے سوالات پوچھ سکتا ہے، جیسے بیج کو پانی نہ ملے تو کیا ہوگا؟ سورج کی روشنی کیوں ضروری ہے؟ اس طرح ایک عام سبق تحقیقی گفتگو میں بدل جاتا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی اسیسمنٹ کے میدان میں بھی استاد کا بوجھ کم کرتا ہے۔ استاد اگر چاہے تو مکمل سبق پڑھانے کے بعد چیٹ جی پی ٹی سے اس سبق پر مبنی مختصر سوالات، زبانی سوالات، یا گھریلو کام تیار کروا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر “جماعت پنجم کے لیے پانچ سوچ پر مبنی سوالات بنائیں” لکھنے پر ٹول ایسے سوالات دے گا جو صرف یادداشت نہیں بلکہ سمجھ کو جانچتے ہیں۔
اساتذہ کی اپنی پیشہ ورانہ بہتری کے لیے بھی یہ ٹول انتہائی کارآمد ہے۔ اگر کسی استاد کو محسوس ہو کہ کلاس کنٹرول میں مسئلہ آ رہا ہے، یا بچے دلچسپی نہیں لے رہے، تو وہ چیٹ جی پی ٹی کو پورا مسئلہ لکھ کر بتا سکتا ہے۔ جواب میں یہ ٹول تدریسی حکمتِ عملیاں، رویے بہتر بنانے کے طریقے، اور عملی تجاویز فراہم کرے گا، جو فوری طور پر آزمائی جا سکتی ہیں۔
ایک اور عملی پہلو زبان سیکھنے کا ہے۔ اردو میڈیم اسکولوں میں انگریزی پڑھانا اکثر مشکل بن جاتا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی سے روزمرہ استعمال کے جملے، مکالمے، اور رول پلے سرگرمیاں تیار کروائی جا سکتی ہیں۔ استاد بچوں کو دو دو کے گروپ میں بانٹ کر وہ مکالمے بولنے کی مشق کروا سکتا ہے، جس سے بولنے کا اعتماد پیدا ہوتا ہے۔
جہاں تک اس ٹول کے استعمال کا تعلق ہے، یہ نہایت آسان ہے۔ موبائل یا کمپیوٹر میں انٹرنیٹ موجود ہو تو چیٹ جی پی ٹی فوراً دستیاب ہے۔ ویب براؤزر میں chat.openai.com کھولیں، یا موبائل ایپ اسٹور سے ChatGPT ایپ ڈاؤنلوڈ کریں۔ اکاؤنٹ بنانے کے بعد سیدھا سوال لکھیں، جیسے آپ کسی سینئر استاد سے بات کر رہے ہوں۔ کوئی خاص تکنیکی مہارت درکار نہیں، صرف سوال واضح ہونا چاہیے۔
یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ چیٹ جی پی ٹی ایک معاون ٹول ہے، حتمی فیصلہ اور اختیار استاد کے پاس ہی رہتا ہے۔ استاد کو چاہیے کہ وہ اس ٹول سے حاصل شدہ مواد کو اپنے حالات، بچوں کی سطح اور مقامی ماحول کے مطابق ڈھال کر استعمال کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک اچھا استاد اور ایک عام صارف میں فرق پیدا ہوتا ہے۔
(منصور اختر غوری)

(آپ نے یہ تحریر مکمل پڑھی ھے مطلب آپ دلچسپی رکھتے ہیں اے آئی عملی طور پر سیکھنے کے لیے کمنٹس میں دیا گیا گروپ جوائن کرسکتے ہیں)

#منصوراخترغوری #تعلیم

05/12/2025

آج ایک اسکول ایڈمنسٹریٹر نے مجھ سے ایک اہم مسئلے کے حل کے بارے میں مشورہ طلب کیا۔ میں نے سوچا کہ چونکہ اس پیج کی اچھی خاصی Viewership ہے، اس لیے یہ بات اس پلیٹ فارم کے ذریعے اساتذہ، ایڈمنسٹریٹرز اور سیکشن ہیڈز تک بہتر انداز میں پہنچ سکتی ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ کچھ بچے ایسے ہیں جو اسکول روزانہ ہی تاخیر سے پہنچتے ہیں۔ یہ کوئی کبھی کبھار کا نہیں بلکہ مستقل نوعیت کا مسئلہ ہے۔ معمول کے مطابق ان کی ڈائری میں Late Comers کی مہر لگانا، والدین کو بلا کر تنبیہ کرنا یا بچوں کو ہلکی سرزنش کرنا ، یہ سب اداروں کا روزمرہ نظام ہے۔
لیکن Pre-Primary اور Lower Primary کے چھوٹے بچوں کے معاملے میں خرابی اس وقت گہری ہوجاتی ہے جب والدین کے ذریعے وقت پر اسکول پہنچنے کے باوجود وہ کلاس کے آغاز کے چند منٹ بعد ہی سستی، نیند یا غیر فعالیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں اساتذہ سے لے کر انتظامیہ تک سب کے لیے یہ صورتحال پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ کبھی بچوں کو تازہ دم کرنے کے لیے انہیں ہاتھ منہ دھلوانے بھی بھیجا جاتا ہے، لیکن جب ان بچوں سے بات کی جاتی ہے تو ایک نہایت سنجیدہ مسئلہ سامنے آتا ہے:

بچے رات دیر تک جاگتے رہتے ہیں
ان کی وہ صحت مند اور ضروری نیند جو کم از کم 6 سے 8 گھنٹے ہونی چاہیے پوری نہیں ہو پاتی۔ اس کی بڑی وجہ ہمارے بدلتے ہوئے سماجی رویّے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہاتھ میں موبائل فون ہے، نہ کوئی Firewall ہے نہ Privacy Control، اور اکثر والدین کو اندازہ نہیں کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی دنیا کس طرح آہستہ آہستہ بچوں کی سوچ، اخلاقیات اور روزمرہ رویّوں پر اثر انداز ہورہی ہے۔
لہٰذا والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کی تفریح کے لیے محدود اسکرین ٹائم مقرر کریں۔ ایک عمومی اندازے کے مطابق 1 سے 1.5 گھنٹے روزانہ وہ بھی کنٹرولڈ ماحول میں ، مناسب حد ہونی چاہیے۔

گھریلو اور معاشی حالات کا اثر
ہمارے معاشرے میں معاشی دباؤ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ گھر کا سربراہ تقریباً ہر روز دیر تک ملازمت میں مصروف رہتا ہے۔ جب والد رات گئے گھر لوٹتے ہیں تو لازمی بات ہے کہ کھانا بھی دیر سے ہوتا ہے، اور بچے بھی اسی دوران جاگتے رہتے ہیں۔
ایسے میں ماں کی ذمہ داریاں دوگنی ہوچکی ہیں نہ صرف گھر کا نظم و نسق بلکہ بچوں کی تربیت بھی بڑی حد تک ان پر آچکی ہے۔ اگر والد وقت کی وجہ سے تربیت میں فعال کردار نہیں ادا کر پاتے تو یہ ذمہ داری بھی ماں ہی کو اٹھانی پڑتی ہے۔
اگر ماں آج کے دور کے تقاضوں اور بچوں کی جمالیاتی و ذہنی ضروریات سے پوری طرح واقف نہ ہو تو بچے اس سے بتدریج دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یوں Generation Gap صرف عمر کے فرق تک محدود نہیں رہتا بلکہ سوچ اور نقطۂ نظر کے اختلاف تک پہنچ جاتا ہے، جس کے الگ مسائل سامنے آتے ہیں۔

تاخیر، بے ترتیبی، اور غیر فعالیت ، جڑ ایک ہی ہے
رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے ہی بچے صبح دیر سے اٹھتے ہیں، تھکے ہوئے ہوتے ہیں،

نہ صحیح ناشتہ کر پاتے ہیں،
نہ مکمل یونیفارم پہن پاتے ہیں،
کبھی ٹائی غائب، کبھی موزے،
کبھی کتاب گھر رہ جاتی ہے،
کبھی کاپی ملتی نہیں۔
ان تمام مسائل کے پیچھے ایک ہی بنیادی وجہ ہے: غیر منظم گھریلو روٹین۔
حل صرف ایک: بچوں کی منظم روزمرہ شیڈولنگ

اس سنگین مسئلے پر قابو پانے کا واحد مؤثر حل یہ ہے کہ بچوں کا واضح اور منظم ٹائم ٹیبل بنایا جائے۔

سونے جاگنے کا وقت،
کھانے پینے کا وقت،
پڑھائی اور ہوم ورک،
کھیل کود،

اسکرین ٹائم سب کچھ ایک ترتیب میں ہو۔
جب بچوں کی روزمرہ زندگی نظم و ضبط میں آتی ہے تو نہ صرف ان کی صحت بہتر ہوتی ہے، بلکہ ان کی تعلیمی کارکردگی، رویّے اور اسکول میں مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھی جاتی ہے۔

Photos from Sir Sayyed Public High School Chaprar Sialkot's post 03/12/2025

✨ اسکول ٹرپ کامیابی کے ساتھ مکمل! ✨
الحمدللہ! بچوں نے ٹرپ میں بھرپور لطف اٹھایا—رائیڈز، گیمز، سرگرمیاں اور تعلیمی مقامات سب نے اُن کے دن کو یادگار بنا دیا۔
بچوں کی خوشی دیکھ کر واقعی ٹرپ کا مقصد پورا ہوا۔
والدین کے تعاون کا شکریہ! 🙏✨

30/09/2025

السلام علیکم محترم والدین،

براہ کرم بچوں کو اسکول ڈسپلن کے درج ذیل اصولوں کا پابند بنائیں:

1. صاف ستھرا یونیفارم پہن کر آئیں۔

2. بال وقت پر کٹوائیں۔

3. ناخن کاٹیں، روزانہ برش اور غسل کریں۔

4. جوتے پالش شدہ ہوں۔

آپ کے تعاون سے ہم اپنے طلبہ کو مزید بااعتماد اور منظم بنا سکیں گے۔

شکریہ
پرنسپل 🌸

24/07/2025

"الحمدللہ! ہماری تمام طالبات نے میٹرک 2025 میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ 100٪ رزلٹ پر ہمیں اپنی بچیوں پر فخر ہے۔ دل سے مبارکباد 🎉🌸📚

02/04/2025

عید کی تعطیلات کا اختتام – تعلیمی سرگرمیاں بحال

پیارے طلبہ و والدین!
عید کی خوشیوں کے بعد اب وقت ہے تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کا۔ سر سید پبلک ہائی اسکول، میں عید کی تعطیلات کے بعد کل بروز جمعرات، 3 اپریل 2025 سے اسکول معمول کے مطابق کھل جائے گا۔

تمام طلبہ کو وقت کی پابندی کے ساتھ اسکول آنے کی تاکید کی جاتی ہے۔

اوقاتِ کار:
🔹 پیر تا جمعرات: صبح 7:30 بجے تا 1:15 بجے
🔹 بروز جمعہ: صبح 7:30 بجے تا 12:00 بجے

براہ کرم نوٹ کریں کہ اسکول مقررہ وقت پر ہی کھلے گا، لہٰذا تمام طلبہ وقت پر حاضری یقینی بنائیں۔ چھٹی سے گریز کریں تاکہ تعلیمی سلسلہ بلاتعطل جاری رہے۔

منجانب:
سر سید پبلک ہائی اسکول

Want your school to be the top-listed School/college in Sialkot?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Chaprar
Sialkot
51310

Opening Hours

Monday 07:00 - 15:00
Tuesday 07:00 - 15:00
Wednesday 07:00 - 15:00
Thursday 07:00 - 15:00
Friday 07:00 - 13:00
Saturday 07:00 - 15:00