22/12/2021
🥀یہ بات ہے اُن دنوں کی کہ جن دنوں کچھ عجب ہی نظارے تھے
وہ ہوئے تو اَزل سے ہی نہیں ہمارے پھر بھی ہمیں جان سے پیارے تھے
🥀اُن کی آنکھوں میں ڈوب جاتے اکثر کئی ویسے عاشق مزاج لوگ
اور جو تھے ہِجروصال کےپُرستارانہیں وہ لگتے ہی بیچارے تھے
🥀رگِ جاں سے جو ہوئے واقف تو چھڑانے لگے دامن اپنا
وہ جن کو ہم اب تک سمجھتے رہے عمر بھر کے سہارے تھے
🥀وہ جفا کے پیکرِ عشق تھا، جو چرایا تھا ظلمتوں سے ہم نے
سرِ بازار جب بکا تو سمجھے یہاں رہنے سے تو بہتر کنارے تھے
🥀شامیں تو منتظر ہی رہیں خوشیاں لوٹانے کی ہمیں ،لیکن
یہ اُداسیوں میں لپٹی ہوئی راتیں ہمارے فنا ہونے کے مُبہم اشارے تھے
🥀اور عین ممکن تھا کہ اگر ہمارے بخت میں، لفظوں کی سیاہی نہ ہوتی
تو ہم بھی چراغ فروزاں ہوتے جیسے اُن کے آنگن میں وہ چمکتے ستارے تھے
✍🏼شہریار حسین صاحب ✨
https://mabrarblog.blogspot.com/2021/12/blog-post.html