Noor Ul Hudaa International Quran academy

Noor Ul Hudaa International Quran academy

Share

Quran with tajweed & translations & Tafseer & Arabic language

26/02/2023
17/02/2023

الَّھُمَّ صَلي علي مُحَمَّدٍ وَعَلي آلِ مُحَمَّدٍ کَماَ صَلَّيتَ عَلي اِبْرَاھِيمَ وَعَلي آلِ اِبْرَاھِيمَ اِنَّکَ حَمِيدُ مَجِيد

اَلَّھُمَّ بَارِک عَلي مُحَمَّدٍ وَّعَلي آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکتَ عَلي اِبرَا ھِيمَ وَعَلي آلِ اِبرَاھِيمَ اِنّکَ حَمِيدُ مَّجِيد

10/02/2023

ویلنٹائن ڈے کی حقیقت اور تباہ کاریاں

مغربی تہذیب نے بہت سے بے ہودہ رسوم و رواج کو جنم دیا۔ اور بدتہذیبی اور بدکرداری کے نئے نئے طریقوں کو ایجاد کیا۔ جس کی لپیٹ میں اس وقت پوری دنیا ہے اور بطور خاص مسلم معاشرہ اس کی فتنہ سامانیوں کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ مختلف عنوانات سے دنوں کو منانے اور اس میں رنگ ریلیاں رچانے کے کلچر کو فروغ دینا شروع کیا۔اور اس کی آڑ میں بہت سی خرافات روایات اور بد اخلاقی و بے حیائی کو پھیلانے لگے۔ چناں چہ ان ہی میں ایک 14 فروری کی تاریخ ہے جس کو *’’یوم عاشقاں ‘‘یا ’’یوم ِ محبت ‘‘* کے نام سے منایا جاتا ہے اور تمام حدوں کو پامال کیا جاتا ہے۔ بے حیائی اور بے شرمی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ اور تہذیب وشرافت کے خلاف کاموں کو انجام دیا جاتا ہے۔ اور ناجائز طور پر اظہار محبت کے لئے اس دن کاخاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ چند سال قبل یہ لعنت اس درجہ ہمارے معاشرہ میں عام نہیں تھی لیکن اب رفتہ رفتہ نوجوان طبقہ اس کا غیر معمولی اہتمام کرنے لگا ہے، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء وطالبات میں دلچسپی بڑھتی جارہی ہے اور گویا کہ یہ دن ان کے لئے دیگر تمام دنوں سے زیادہ اہمیت کا حامل بن گیا کیوں کہ اس دن وہ اپنی آرزو کی تکمیل اور اپنے جذبات کا اظہار کرسکتے ہیں اور غیر شرعی و غیر اخلاقی طور پر محبت کا راگ الاپ سکتے ہیں۔جب کہ شرعی اور اخلاقی نیز معاشرتی اعتبار سے اس کی بہت ساری خرابیاں اور مفاسد ہیں لیکن ان تمام کو بالائے طاق رکھ کر جوش ِ جنوں اور دیوانگی میں اس دن کو منانے کی فکروں میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔آئیے اس کی حقیقت اورتاریخ کو جانتے ہیں تاکہ اس لعنت سے مسلم نوجوانوں کو بچایاجا سکے۔

ویلنٹائن ڈے کی حقیقت

ویلنٹائن ڈے کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، اس کی ابتداء کے لئے کئی ایک واقعات کو منسوب کیا جاتا ہے۔ جن میں ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ :سترھویں صدی عیسوی میں روم میں ویلنٹائن نام کا ایک پادری ایک راہبہ کی محبت میں مبتلا ہوگیا، چوں کہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لئے نکاح ممنوع تھا، اس لئے ایک دن ویلنٹائن نے اپنی معشوقہ کی تشفی کے لئے اسے بتایا کہ اسے خواب میں یہ بتایا گیا کہ 14 فروری کا دن ایسا ہے کہ اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ جسمانی تعلقات بھی قائم کرلیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جا ئے گا۔راہبہ نے اس پر یقین کرلیا اور دونوں نے سب کچھ کر گزرے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموما ہوا کرتا ہے یعنی ان دونوں کو قتل کردیا گیا۔ کچھ عرصے بعد چند لوگوں نے انھیں محبت کا شہید جان کر عقیدت کا اظہار کیا اور ان کی یاد میں یہ دن مناناشروع کردیا۔ ( ویلنٹائن ڈے :7)

بعض کے نزدیک یہ وہ دن ہے جب سینٹ ویلنٹائن نے روزہ رکھا تھا اور لوگوں نے اسے محبت کا دیوتا مان کر یہ دن اسی کے نام کردیا۔ کئی شرکیہ عقائد کے حامل لوگ اسے یونانی کیوپڈ( محبت کے دیوتا ) اور وینس ( حسن کی دیوی ) سے موسوم کرتے ہیں۔ یہ لوگ کیوپڈ کوویلنٹائن ڈے کا مرکزی کردار کہتے ہیں جو اپنی محبت کے زہر بھجے تیر نوجوان دلوں پر چلاکر انہیں گھائل کرتا تھا۔ تاریخی شواہد کے مطابق ویلنٹائن کے آغاز کے آثار قدیم رومن تہذیب کے عروج کے زمانے سے چلے آرہے ہیں۔

واقعہ بہر حال جو بھی ہو اور جس مقصد کے لئے بھی اس کا آغاز کیا گیا ہو لیکن آج اس رسم ِ بد نے ایک طوفان ِ بے حیائی برپا کردیا۔ عفت و عصمت کی عظمت اور رشتہ ٔ نکاح کے تقد س کو پامال کردیا۔ اور نوجوان لڑکو ں اور لڑکیوں میں آزادی اور بے باکی کو پیدا کیا۔ معاشرہ کو پراگندہ کرنے اور حیا و اخلاق کی تعلیمات، اور جنسی بے راہ روی کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا۔ بر سرعام اظہار محبت کے نت نئے طریقوں کے ذریعہ شرم و حیا،ادب وشرافت کو ختم کرڈالا۔اس کی وجہ سے جو نہایت شرمناک واقعات رونماں ہورہے ہیں اور تعلیم گاہوں اور جامعات میں جس قسم کی بے حیائی بڑھتی جارہی ہے اس کے لئے بعض قلم کاروں نے مستقل کتابیں لکھیں ہیں تاکہ اس بے ہودگی سے نوجوان نسل کو روکا جاسکے۔

ویلنٹائن ڈے کی تباہیاں

ویلنٹائن ڈے نے پاکیزہ معاشرہ کو بڑی بے دردی کے ساتھ بد امن اور داغ دار کیا ہے۔ اخلاقی قدروں کو تہس نہس کیا ہے، اور رشتوں، تعلقات، احترام، انسانیت تمام چیزوں کو پامال کیا ہے۔ لال گلاب اور سر خ رنگ اس کی خاص علامت ہے، پھول کی تقسیم اور اس موقع پر ویلنٹائن کارڈ کا تبادلہ بھی اظہارِمحبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بڑی پیمانے پر اس کی تجارت ہوتی ہے اور ہوس پرست اس کو منہ بولے دام میں خریدتے ہیں۔ منچلوں کے لئے ایک مستقل تفریح کا سامان بن گیا۔ ویلنٹائن کی جھوٹی محبت کا انجام کیا ہوتا ہے اس کو مختصر جملوں میں بیان کیا کہ:٭عشق کا بھوت نفرت میں بدل گیا، محبت کی شادمی کا دردناک انجام، خاوند کے ہاتھوں محبوبہ کا قتل۔ ٭عشق کی خاطر بہن نے بھائی کا قتل کردیا۔٭محبوبہ محبوب سمیت حوالات میں بند۔٭محبت کی ناکامی پر دوبھائیوں نے خود کشی کرلی۔٭محبت کی ناکامی میں نوجوان ٹرین کے آگے گود گیا، جسم کے دوٹکڑے۔٭ناکام عاشق نے لڑکی کو والدین چچا اور ایک بچی سمیت قتل کرڈالا۔یہ وہ اخباری سرخیا ں ہیں جو نام نہاد محبت کی بناپر معاشرتی المیہ بنی آئے روز اخبارات کی زینت بنتی جارہی ہیں۔ ( ویلنٹائن ڈے، تاریخ، حقائق اور اسلام کی نظر میں :119)

آخری بات

یہ وہ تلخ حقائق اور ویلنٹائن ڈے کی تباہ کاریوں کی ایک مختصر روداد ہے،جس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کے عنوان سے پوری دنیا میں کیا تباہی مچائی جاتی ہے اور کس طرح ایمان و اخلاق سے کھیلاجاتا ہے،معاشرہ کو بے حیا بنانے اور نوجوانوں میں بے غیرتی اور بے حیائی کو فروغ دینے میں اس دن کی کیا تباہیاں ہیں، اس حقیقت سے کسی عقل مند اور سلیم المزاج انسان کو انکار نہیں ہوسکتا کہ اس وقت پوری دنیا میں بے حیائی کو پھیلانے اور بدکاری کو عام کرنے کی منصوبہ بند کوششیں ہورہی ہیں، نوجوانوں کو بے راہ رو کرنے اور بالخصوص مسلم نوجوانوں سے جذبہ ٔ ایمانی کو کھرچنے اور حیا واخلاق کے جوہر سے محروم کردینے کے یہ دن اور اس طرح کے بہت سے حربے اسلام دشمن طاقتیں استعمال کررہی ہیں۔امت ِمسلمہ کے نوجوانوں کو ان تمام لغویات اور واہیات قسم کی چیزوں بچنا ضروری ہے، اور معاشرہ کو پاکیزہ بنانے اور اخلاق وکردار کو پروان چڑھانے کے لئے اس طرح کے بے حیائی کو فروغ دینے والے دنوں کا بائیکاٹ کرنا ضروری ہے، اور ا س کے بالمقابل اسلام کی حیا کی پاکیزہ تعلیمات کو عام کرنے سکولوں،کالجوں، یونیورسٹیوں کے ماحول میں بالخصوص اور نوجوان اپنے افراد واحباب اور دوستوں میں بڑے اہتمام کے ساتھ اس دن کے حقیقت اور تباہ کاری سے آگاہ کریں اور ان تمام چیزوں سے اپنے آپ کو بچائیں جو کسی بھی اعتبار سے معاشرہ میں بے حیائی کے پھیلنے کا ذریعہ بنے اور دنیا والوں کو اسلام کی بلند ترین تعلیمات کا خوبصورت نمونہ پیش کرنے والے بنیں۔

06/02/2023

عَنْ عمر أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ".

ترجمہ:عمر رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمل نیت ہی سے صحیح ہوتے ہیں (یا نیت ہی کے مطابق ان کا بدلا ملتا ہے) اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جو نیت کرے گا۔ پس جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لیے ہجرت کرے اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی اور جو کوئی دنیا کمانے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہجرت کرے گا تو اس کی ہجرت ان ہی کاموں کے لیے ہو گی

تشریح: بعض روایات میں اس حدیث کا سبب ورود بھی بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے اُمِّ قیس نامی عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا اس نے اس وقت تک نکاح کرنے سے انکار کردیا جب تک وہ ہجرت نہ کرے۔ اس نے اس کی شرط کی وجہ سے ہجرت کرلی اور وہاں جاکر دونوں کا باہم نکاح ہوگیا۔ چنانچہ صحابہ میں اس کا نام ہی مہاجر اُمِّ قیس مشہور ہوگیا۔ اس سے حدیث شریف میں اخلاص و نیت کی اہمیت و فضیلت بیان کی گئی ہے کہ انسان کے اعمال کی قبولیت اور اس پر اجر و ثواب کا استحقاق نیت کی اصلاح اور اس کی درستگی پر ہے۔ مثلاً جس کی نیت ہجرت کے وقت اللہ تعالیٰ کی رضا اور رسول اللہﷺ کی اطاعت و اتباع ہوگی تو اس کو اس ہجرت کا ثواب ملے گا اور جس کی نیت ہجرت کے وقت دنیا کمانا یا دنیا کا کوئی اور مقصد شادی وغیرہ تھی تو اس کو وہی کچھ ملے گا جس کا اس نے ارادہ یا نیت کی ہوگی۔ اس لیے انسان کا مقصود و نیت تمام اعمال میں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہونی چاہیئے اور یہ کہ نیت دل سے ہو گی نہ کہ زبان سے۔ کیونکہ نیت دل کے فعل و عمل کا نام ہے اور یہ ضروری ہے۔ لہٰذا نماز میں زبان سے مختلف الفاظ کے ساتھ نیت کے الفاظ غیر مشروع ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ مقام بیداء میں پہنچے گا تو انہیں اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہ میں نے کہا، یا رسول اللہ! اسے شروع سے آخر تک کیوں کر دھنسایا جائے گا جب کہ وہیں ان کے بازار بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان لشکریوں میں سے نہیں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! شروع سے آخر تک ان سب کو دھنسا دیا جائے گا۔ پھر ان کی نیتوں کے مطابق وہ اٹھائے جائیں گے.

تشریح: انسان کے ساتھ اجر و ثواب یا عذاب و عقاب کا معاملہ اس کی نیت و ارادہ کے موافق ہوگا اور انسان کو حسب استطاعت اہلِ شر و فساد سے دور رہنا چاہیے اور ان کے ساتھ خلط ملط ہو کر رہنے اور ان کی جماعت بڑھا کر ان کی حوصلہ افزائی سے پرہیز کرنا چاہیئے ورنہ دنیا میں ان پر آنے والے عذابِالٰہی سے ان کے ساتھ رہنے والے بھی نہیں بچ سکیں گے۔ نیز کعبہ پر لشکر کی چڑھائی اور اس کی ہلاکت کی خبر رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کے معجزات و نشانات میں سے ہے جن کے وقوع و صداقت پر ایمان ضروری ہے کیونکہ ان کی بنیاد سراسر وحیِ الٰہی پر ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Sialkot?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Sialkot