28/09/2025
کلاس کنٹرول:
ڈسپلن, کلاس کنٹرول اور Behaviour Management تین الگ چیزیں ہیں۔ ڈسپلن کا تعلق کارکردگی سے ہے۔ آج ہم کلاس کنٹرول اور Behaviour Control کے بارے میں بات کریں گے۔ دونوں میں تھوڑا سا فرق ہے لیکن ہم ان کو ایک جیسا مان لیتے ہیں۔
کلاس کنٹرول کا مقصد اساتذہ کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ تدریسی عمل کو بغیر کسی مداخلت کے آسانی کے ساتھ سرانجام دے سکیں۔
کلاس کنٹرول میں دو اہم فیکٹرز کا عمل دخل ہے۔
سب سے پہلا اور اہم فیکٹر اساتذہ کی شخصیت کا ہے۔ اگر آپ کے اساتذہ کو معمولی بات پر غصہ آتا ہے اور وہ اس کا اظہار ضرورت سے ذیادہ کرتے ہیں, تو غالب امکان یہی ہے کہ بڑے بچوں کی کلاس کے لٸے وہ مناسب نہیں۔ بچے ان کے غصے کو انجواۓ کرتے ہیں اور کلاس میں ٹیچر کا مذاق بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ٹیچر بچوں کو کچھ نہیں کہتی اور صرف لیکچر ڈیلیور کرتی ہے تو بچے اپنی مرضی کرتے ہیں اور ٹیچنگ پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ اس صورت میں ٹیچر کا کلاس میں ہونا یا نہ ہونا برابر ہوجاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایسا کیا, کیا جاۓ کہ ٹیچرز کی کلاس کنٹرول بہتر ہو؟
سب سے پہلے تو ٹیچر کو یہ بات سمجھنی چاہیٸے کہ کلاس کنٹرول کا انحصار ان کے پہلے چند دن کی کارکردگی پر ہے۔ کلاس جب ایک دفعہ کنٹرول سے باہر ہوجاۓ تب کچھ نہیں ہوسکتا۔ یہاں تک کہ سکول پرنسپل بھی کچھ نہیں کرسکتے۔ اس لٸے ایک بات سمجھ لیں کہ جو بھی کرنا ہے ٹیچر نے ہی کرنا ہے اور پہلے چند دن میں کرنا ہے۔
ٹیچرز کو سب سے پہلے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیٸے۔ پہلے چھ, سات لیکچرز ایسے تیار کٸے جاٸیں کہ بچے امپریس ہوجاٸیں۔ یہ سب سے آسان اور مٶثر طریقہ ہے۔ اس کے بعد بھی اگر بچے کلاس ڈسٹرب کریں, تو ابتداٸی رسپانس کم سے کم دینا چاہیٸے۔ ڈاٸیریکٹ جسمانی سزا یا والدین بلانے کی دھمکی پر نہیں جانا چاہیٸے۔ اگر آپ نے ایک دفعہ کہہ دیا کہ میں نے آپ کے والدین کو بتانا ہے تو اب آپ کا فرض بنتا ہے کہ آج ہی والدین کو بتایا جاۓ۔ بچہ جب گھر پہنچے تو اس کے والدین کو پتہ ہو کہ بچے نے سکول میں کچھ غلط کیا ہے۔یہاں ایک غلطی کبھی نہیں کرنی چاہیٸے۔ والدین کو کبھی یہ نہ بتاٸیں کہ بچہ کلاس میں شور کررہا ہے۔ اس بات سے والدین کو کوٸی فرق نہیں پڑتا اور الٹا سکول کی کمزوری ظاہر ہوجاتی ہے۔ اس کی بجاۓ اگر آپ والدین کو بتا دیں کہ بچہ کلاس میں لیکچر نہیں سن رہا یا ہوم ورک مکمل نہیں ہوا, تو اس کا اثر ذیاد