10/08/2025
کبھی سوچا تھا وہ دن بھی آئے گا جب لاہور کے ایک تاریخی کالج کی میرٹ لسٹ کسی خوشخبری کے بجائے ایک قومی المیہ سنائے گی؟ اسلامیہ کالج سول لائنز… وہی ادارہ جو کبھی ذہین طلبہ کی پہلی پسند اور والدین کے فخر کی پہچان تھا، آج اپنی ایڈمیشن لسٹ میں چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ اس قوم کا تعلیم پر سے اعتماد مر چکا ہے۔ میں خود وہاں نہیں گیا، مگر خبر اتنی سچی اور دل دہلا دینے والی تھی کہ اسے نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔
کبھی یہ وہ جگہ تھی جہاں داخلہ فارم لینے والوں کی لمبی قطاریں گیٹ سے باہر تک پھیل جاتی تھیں۔ بچوں کے چہروں پر خواب ہوتے تھے، والدین کی آنکھوں میں امید کی روشنی، اور میرٹ لسٹ کا دن کسی تہوار سے کم نہیں لگتا تھا۔ آج وہ سب ختم ہو گیا ہے۔ اب بچے صاف کہہ دیتے ہیں: “کالج پڑھنے کا فائدہ ہی کیا؟”
اس سوچ کے پیچھے صرف فیسوں کا بوجھ یا مہنگائی نہیں، بلکہ ایک پوری سوچ کی تبدیلی ہے۔ ہم نے خود اپنے بچوں کو سکھایا کہ “ڈگری سے کچھ نہیں ہوتا” اور اب وہ ایک قدم آگے بڑھ کر کہہ رہے ہیں “پڑھائی سے کچھ نہیں ہوتا”۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور آن لائن بزنس نے ان کے دماغ میں یہ بٹھا دیا ہے کہ شارٹ کٹ سے سب کچھ مل سکتا ہے۔ محنت، صبر اور تعلیمی بنیاد ان کے لیے بیکار ہو چکی ہے۔
اگر یہی حال رہا تو آنے والے وقت میں ہمارا بچہ آٹھویں جماعت کے بعد کتابیں پھینک دے گا۔ وہ استاد کو نہیں بلکہ موبائل اسکرین کو اپنا استاد مانے گا، اور کلاس روم کے بجائے شارٹ کٹ کے جال میں اپنی زندگی برباد کر دے گا۔ یہ صرف ایک کالج یا ایک شہر کی کہانی نہیں، یہ پورے ملک کا آنے والا کل ہے۔
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم خاموش رہ کر یہ سب دیکھ سکتے ہیں یا آواز اٹھا کر اس دھار کو بدل سکتے ہیں۔ تعلیم پر سے اٹھا ہوا اعتماد ہم نے خود مارا ہے… اور اسے زندہ کرنا بھی ہمارا ہی فرض ہے۔
سوال صرف یہ ہے… کیا آپ اس جنگ میں شامل ہوں گے، یا اگلی میرٹ لسٹ آنے تک صرف تماشائی رہیں گے؟