12/04/2026
"اس کی مہمان نوازی اور محبت میں اتنا خلوص تھا کہ مجھے اپنے رکھے گئے روزے کے خلوص پر شک ہونے لگا"
غالباً 28واں روزہ تھا اور آج مجھے اپنے والد صاحب کو لینے شورکوٹ سے جھنگ جانا تھا۔ میں اور فہد اپنے طے کیے گئے وقت کے مطابق اپنی گاڑی پہ بیٹھے اور جھنگ کے لیے روانہ ہو گئے ۔ ہم روزے سے تھے اور سفر بخوبی گزر رہا تھا۔ ہمیں وہاں قریبا چھ بجے کے قریب پہنچنا تھا اور ارادہ تھا کہ ہم افطاری کے وقت جنھگ پہنچ جائیں گے اور افطاری وہیں پر کریں گے لیکن معاملہ یکسر مختلف ہوا۔
جھنگ سے پہلے ہی راستے میں ایک بہت بُرا ٹریفک جیم ملا۔ قریبا ہمارا آدھا گھنٹہ وہاں پر ضائع ہوا۔ دیکھنے اور پوچھنے پر معلوم ہوا کہ کوئی گنّے والی ٹرالی روڈ سے نیچے گر گئی ہے اور ڈرائیور ٹرالی کے نیچے اگیا ہے۔ ریسکیو کی ٹیم میں وہاں موجود تھیں اور ڈرائیور کو بچانے کے لیے کوشش کر رہی تھی۔ خیر آپریشن مکمل ہوا اور ٹریفک بحال ہوئی اور ہمارا سفر دوبارہ شروع ہوا۔ اب چونکہ ہمارا وقت کافی ضائع ہو چکا تھا اور جھنگ جا کر روزہ افطار کرنے کا منصوبہ بھی مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا تھا۔ تو سوچا راستے میں پانی یا کھجور یا جو چیز بھی میسر ہوئی افطاری کر لیں گے بقیہ ہم جھنگ جا کر ہی کچھ کھائیں گے۔ المختصر افطار کا وقت ہوا اور پانی پینے کی غرض سے ایک چھوٹی سی دکان پر رُکے۔ دیہاتوں کی دکانیں عام طور پر "آل ان ون" ہوتی ہیں۔ کہنے کو وہ چھوٹی سی کریانے کی دکان تھی لیکن ساتھ سبزی، فروٹ، سموسے ، پکوڑے اور جلیبی وغیرہ بھی اپنی خوشبوئیں بکھیر رہےتھے۔ میں نے دکان کے مالک کو ادباً سلام کیا اور ایک گلاس پانی کی خواہش کی۔
وہ تو جیسے ہمارے ہی انتظار میں تھا کہ جب اسے معلوم ہوا کہ ہم روزہ دار ہیں، اس نے ہنگامی بنیادوں پر ہماری افطاری کا بندوبست کرنا شروع کر دیا۔ ایک بندے سے کہا "یار کھجوریں لے آؤ" تو دوسرے سے کہا "ایک جگ پانی لاؤ اور گلاس دھو کر لانا"۔ ساتھ ہی وہ فورا گھر بھاگا اور چند لمحوں بعد چاولوں کی دو بھری ہوئی پلیٹیں لے آیا۔ اب کل ملا کر ہمارے سامنے کھجوریں،پینے کے لیے پانی اور چاولوں کی دو پلیٹیں موجود تھیں۔
میں نے کہا بڑے بھائی اتنا تکلف کیوں کر رہے ہیں اب ایک گلاس پانی پلا دیتے۔ اس بھائی کے جواب نے مجھے حیران کر دیا اور سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اس نے کہا "بھائی آپ کون سا خود آئے ہیں، آپ تو لائے گئے ہیں ۔آپ مہمان ہیں اور روزہ دار ہیں"۔
اس کی مہمان نوازی اور محبت میں اتنا خلوص تھا کہ مجھے اپنے رکھے گئے روزے کے خلوص پر شک ہونے لگا۔