صحیح حدیث - Sahih Hadis

صحیح حدیث - Sahih Hadis “Allah is with those who have patience.” -Quran 2:153

اللہ سب سے بڑا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ وہی عبادت اور نذر و منت کے لائک ہے۔ تمام انبیاء افضل بشر ہیں جن کو رب تعالی نے نبوت کے اعلی منسب پر فائز فرمایا جن پر ایمان لانا لازم ہے ۔ رسول نئی رسالت لے کر آتا ہے کتاب کے ساتھ جبکہ نبی پچھلے رسول کی تائید کرتا ہے۔ تمام الہامی کتابوں اور ملائکہ پر ایمان لانا لازم ہے ۔ اچھی بری تقدیر پر قیامت اور روز محشر کے دن پر ایمان ہونا لازم ہے

30/12/2024
تصویر میں، ایک شخص نے اپنے ذاتی نقطہ نظر سے اپنا "منصفانہ" حصہ لینے کا فیصلہ کیا، اور اس عمل میں دوسروں کے حصے کو برباد ...
20/09/2024

تصویر میں، ایک شخص نے اپنے ذاتی نقطہ نظر سے اپنا "منصفانہ" حصہ لینے کا فیصلہ کیا، اور اس عمل میں دوسروں کے حصے کو برباد کر دیا... یہ شخص آپ کو قسم دے کر کہے گا کہ اس نے صرف اپنا حق لیا ہے، اور وہ واقعی سچ بول رہا ہو گا، لیکن وہ ان لوگوں میں سے ہے جو فساد پھیلاتے ہیں۔

آپ کو اپنا حق لینے کا پورا حق ہے...
لیکن آپ کو یہ حق نہیں کہ اسے اس طریقے سے لیں جو آپ کے نزدیک منصفانہ ہو اور دوسروں کے حقوق کو نقصان پہنچائے۔

یہی حق کے استعمال میں زیادتی ہے!

02/08/2024

مدینہ میں کوئی نہ رہے حتیٰ کہ جـنگل کے درندے آئیں اور ابوبکر کو گھسیٹ کر لے جائیں ۔۔۔ یہ حکم صادر ھوا خلیفہ اوّل کی طرف سے۔۔۔

مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی ان میں 600 صحابہ کرام ایسے بھی تھے جوکامل حافظ قرآن تھے.
اور اس جنگ میں 27000 کفار وصل جہنم ہوئے .
اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا۔
خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں
یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"
بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:
مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے
درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں"
صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ
سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ
خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔

13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو
اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔
یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی
نہ کبھی بعد میں لڑی"
اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد
خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259
صحابہ کرام شہید ھویے تھے۔ ختم نبوت ﷺ کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے
ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔

اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔
انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس ہاں وہی
جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم
میں مشہور تھے
اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا:
اےالله ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں
اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں"

چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب
وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم
پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر
و سناں کا زخم نہ لگا ہو۔
عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا لاڈلا بھائی۔۔۔۔ ہاں وہی زید بن خطابؓ جو اسلام لانے میں صف اول میں شامل تھے انہوں نے مسلمانوںبمیں آخری خطبہ دیا:

والله ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے
بات نہ کرونگا جب تک کہ انہیں شکست
نہ دے دوں یا شہید نہ کر دیا جاؤں"
اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔

وہ بنو حنفیہ کا باغ "حدیقۃ الرحمان" تھا جس میں اتنا خون بہا کہ اسے "حدیقۃ الموت" کہا جانے لگا۔ وہ ایسا باغ تھا جس کی
دیواریں مثل قلعہ کے تھیں
کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا
لشکر ہو اور براء بن مالکؓ کہے:
*"لوگو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے
اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں
تمہارے لئے دروازہ کھولونگا"

اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر
منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار
کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں
چھلانگ لگا دی
قیامت تک جو بھی بہادری کا دعوی کرے گا
یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا!!!

ایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھا
ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور
پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوتؐ
کو کاٹ کر رکھ دیا
*اے قوم! کاش کہ تم جان لیتے کہ
تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر
رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی
ختم نبوت کا دفاع کیا ہے۔۔۔۔
کاش تمہیں یا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم
کہتے ان صحابہؓ کے جذبوں کا علم ہوتا جو ایک
مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک
پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔۔۔۔
اور اسی جنگ میں وحشی ابن حرب نے مسیلمہ کذاب کو جہنم واصل کیا۔ اسی جنگ کے بعد وہ کہتے تھے کہ شائد حمزہ رضی اللہ کا کفارہ ادا ھو سکے۔۔
تب کے مسلمانوں نے اپنا سب کچھ ختم نبوت پر قربان کر دیا اور خلیفہ اوّل امیر المومنین حضرت سیدنا ابو بکر صدیق اکیلے مدینہ منورہ میں رہے۔ کہتے ہیں کہ وہ اتنے بے چین تھے کہ معلوم ھوتا تھا انگاروں پر پاؤں دھرے ہیں۔

اے مسلمانوں، تحفظ ختم +نبوتؓ کے جہاد میں اپنا اپنا کردار ادا کرو تا کہ قیامت کے دن خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب ہو
آخر میں میری آپ تمام دوستوں سے التماس ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس داستان عشق وقربانی کو تمام مسلمانوں کے سامنے رکھنے کی غرض سے اس تحریر کو
آگے منتقل کرنے کےلئے اپنا کردار ادا کیجئے.

01/08/2024

اسلام وعلیکم

آج کچھ گزارشات اہلسنت بھائیوں کے نام خواہ وہ بریلوی ہوں ، دیوبندی ہوں یا اہلحدیث ، جس طرح مختلف فتنے پھیل رہے ہیں۔ وہیں ایک فتنہ گستاخ صحابہ کا بھی ہے، جن کا مقصد سادہ لوح عوام کے جذبات سے کھیل کر ان کو صحابہ کرام کے خلاف اکسانا ہوتا ہے ۔ اور اس کے لیے وہ طرح طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں۔ ان میں چند ایک درج ذیل ہیں

1- ضعیف حدیث کو صحیح بنا کر پیش کرنا اور حوالہ میں خیانت کرنا ۔
2- ایسی کتابیں جو اہلسنت کی نہیں وہاں سے روایات لے کر ان کو اہلسنت کتاب کہ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ۔
3- حدیث کو کسی اور مطلب کے لیے استعمال کرنا

یہاں پر اہلسنت حضرات کو بھی بہت شوق ہوتا ہے خود مفتی بننے کا پھر وہ اپنے فہم سے بغیر تحقیق کے فیصلہ کرتے ہیں کہ آیا یہ بات درست بھی ہے یا نہیں، یہ جھوٹا روی تو نہیں اور نتیجہ گمراہی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ آج دنیا میں %80 اہلسنت مسلک رائج ہے۔ اگر یہ گمراہی پھیلانے والے لوگ اپنے دلائل میں اتنے پختہ ہوتے تو علماء اہلسنت سے اپنے مسلک کو منواتے نہ کہ عوام کے گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ۔
سب لوگ خود مفتی بننے کئی بجائے پہلے مکمل تحقیق کر لیا کرے ۔ اگر ایک ہی حدیث پر فیصلہ ہونا ہوتا تو پھر یہ علمی مدارس یہ زندگیاں وقف کر دینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

میری یہ خواہش ہے کہ سب لوگ اس پوسٹ کو شئیر کریں،
جزاک اللہ

04/07/2024

*حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت!!*

مجھے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں آتا تھا جتنا خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتا تھا حالانکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے شادی سے تین سال پہلے وفات پا چکی تھیں۔ ( رشک کی وجہ یہ تھی ) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں کثرت سے ان کا ذکر کرتے سنتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رب نے حکم دیا تھا کہ خدیجہ کو جنت میں ایک خولدار موتیوں کے گھر کی خوشخبری سنا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بکری ذبح کرتے پھر اس میں سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو حصہ بھیجتے تھے۔

*صحیح بخاری # 6004*

22/02/2024

حضرت صالح علیہ السلام قوم ثمود کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے۔ آپ نے جب قوم ثمود کو خدا (عزوجل)کا فرمان سنا کر ایمان کی دعوت دی تو اس سرکش قوم نے آپ سے یہ معجزہ طلب کیا کہ آپ اس پہاڑ کی چٹان سے ایک گابھن اونٹنی نکالیے جو خوب فربہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو۔ چنانچہ آپ نے چٹان کی طرف اشارہ فرمایا تو وہ فوراً ہی پھٹ گئی اور اس میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت و تندرست اور خوب بلند قامت اونٹنی نکل پڑی جو گابھن تھی اور نکل کر اس نے ایک بچہ بھی جنا اور یہ اپنے بچے کے ساتھ میدانوں میں چرتی پھرتی رہی۔
اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا جس میں پہاڑوں کے چشموں سے پانی گر کر جمع ہوتا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! دیکھو یہ معجزہ کی اونٹنی ہے۔ ایک روز تمہارے تالاب کا سارا پانی یہ پی ڈالے گی اور ایک روز تم لوگ پینا۔ قوم نے اس کو مان لیا پھر آپ نے قوم ثمود کے سامنے یہ تقریر فرمائی کہ:۔

یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمۡ مِّنْ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ قَدْ جَآءَتْکُمۡ بَیِّنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ ؕ ہٰذِہٖ نَاقَۃُ اللہِ لَکُمْ اٰیَۃً فَذَرُوۡہَا تَاۡکُلْ فِیۡۤ اَرْضِ اللہِ وَلَاتَمَسُّوۡہَا بِسُوۡٓءٍ فَیَاۡخُذَکُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿73﴾ (پ8،الاعراف:73)

ترجمہ کنزالایمان:۔اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لئے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں دردناک عذاب آئے گا۔
چند دن تو قوم ثمود نے اس تکلیف کو برداشت کیا کہ ایک دن اُن کو پانی نہیں ملتا تھا۔ کیونکہ اس دن تالاب کا سارا پانی اونٹنی پی جاتی تھی۔ اس لئے ان لوگوں نے طے کرلیا کہ اس اونٹنی کو قتل کرڈالیں۔
قدار بن سالف:۔چنانچہ اس قوم میں قدار بن سالف جو سرخ رنگ کا بھوری آنکھوں والا اور پستہ قد آدمی تھا اور ایک زنا کار عورت کا لڑکا تھا۔ ساری قوم کے حکم سے اس اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔ حضرت صالح علیہ السلام منع ہی کرتے رہے، لیکن قدار بن سالف نے پہلے تو اونٹنی کے چاروں پاؤں کو کاٹ ڈالا۔ پھر اس کو ذبح کردیا اور انتہائی سرکشی کے ساتھ حضرت صالح علیہ السلام سے بے ادبانہ گفتگو کرنے لگا۔ چنانچہ خداوند قدوس کا ارشاد ہے کہ:۔


فَعَقَرُوا النَّاقَۃَ وَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّہِمْ وَقَالُوۡا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الْمُرْسَلِیۡنَ ﴿77﴾ (پ8،الاعراف77)

ترجمہ کنزالایمان:۔ پس ناقہ کی کوچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح ہم پر لے آؤ جس کا تم وعدہ دے رہے ہو اگر تم رسول ہو۔
زلزلہ کا عذاب:۔قوم ثمود کی اس سرکشی پر عذابِِ خداوندی کا ظہور اس طرح ہوا کہ پہلے ایک زبردست چنگھاڑ کی خوفناک آواز آئی۔ پھر شدید زلزلہ آیا جس سے پوری آبادی اتھل پتھل ہو کر چکنا چور ہو گئی۔ تمام عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کر تہس نہس ہو گئیں اور قوم ثمود کا ایک ایک آدمی گھٹنوں کے بل اوندھا گر کر مر گیا۔ قرآن مجید نے فرمایا کہ:۔

فَاَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوۡا فِیۡ دَارِہِمْ جٰثِمِیۡنَ ﴿78﴾

ترجمہ کنزالایمان :۔ تو انہیں زلزلہ نے آلیا تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے رہ گئے تو صالح نے ان سے منہ پھیرا۔(پ8،الاعراف:78)
حضرت صالح علیہ السلام نے جب دیکھا کہ پوری بستی زلزلوں کے جھٹکوں سے تباہ و برباد ہو کر اینٹ پتھروں کا ڈھیر بن گئی اور پوری قوم ہلاک ہو گئی تو آپ کو بڑا صدمہ اور قلق ہوا۔ اور آپ کو قوم ثمود اور اُن کی بستی کے ویرانوں سے اس قدر نفرت ہو گئی کہ آپ نے اُن لوگوں کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ اور اُس بستی کو چھوڑ کر دوسری جگہ تشریف لے گئے اور چلتے وقت مردہ لاشوں سے یہ فرما کر روانہ ہو گئے کہ:۔

یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَۃَ رَبِّیۡ وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلٰکِنۡ لَّاتُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِیۡنَ ﴿۷۹﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔اے میری قوم بے شک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچا دی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کے غرضی (پسند کرنے والے)ہی نہیں۔(پ۸،الاعراف:۷۹)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قوم ثمود کی پوری بستی برباد و ویران ہو کر کھنڈر بن گئی اور پوری قوم فنا کے گھاٹ اتر گئی کہ آج اُن کی نسل کا کوئی انسان روئے زمین پر باقی نہیں رہ گیا۔
(تفسیر الصاوی،ج۲،ص۶۸۸،پ۸،الاعراف:۷۳۔۷۷تا ۷۹ ملخصاً)
درس ہدایت:۔اس واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب ایک نبی کی ایک اونٹنی کو قتل کردینے والی قوم عذابِ الٰہی کی تباہ کاریوں سے اس طرح فنا ہو گئی کہ ان کی نسل کا کوئی انسان بھی روئے زمین پر باقی نہ رہ گیا تو جو قوم اپنے نبی کی آل و اولاد کو قتل کرڈالے گی بھلا وہ عذابِ الٰہی کے قہر سے کب اور کس طرح محفوظ رہ سکتی ہے؟ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ کربلا میں اہل بیت نبوت کو شہید کرنے والے یزیدی کوفیوں اور شامیوں کا یہی حشر ہوا کہ مختار بن عبید کے دورِ حکومت میں یزیدیوں کا بچہ بچہ قتل کردیا گیا اور ان کے گھروں کو تاخت و تاراج کر کے ان پر گدھوں کے ہل چلائے گئے اور آج روئے زمین پر ان یزیدیوں کی نسل کا کوئی ایک بچہ بھی باقی نہیں رہ گیا۔
ایک لاکھ چالیس ہزار یزیدی مقتول:۔حاکم محدث نے ایک حدیث روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی بھیجی تھی کہ قوم یہود نے حضرت زکریا علیہ السلام کو قتل کردیا تو ان کے ایک خون کے بدلے ستر ہزار یہودی قتل ہوئے اور آپ کے نواسہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے ایک خون کے بدلے سترستر ہزار یعنی ایک لاکھ چالیس ہزار کوفی و شامی مقتول ہوں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اس طرح پورا ہوا کہ مختار بن عبید کی لڑائی میں ستر ہزار کوفی و شامی قتل ہوئے اور پھر عباسی سلطنت کے بانی عبداللہ سفاح کے حکم سے ستر ہزار کوفی و شامی مارے گئے۔ کل مل کر ایک لاکھ چالیس ہزار مقتول ہوگئے۔ (المستدرک ،کتاب التفسیر،باب اخبار القتل عوض الحسین۔۔۔۔۔۔الخ ،ج۳،ص۷،رقم ۲۳۰۱)

22/02/2024

حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا واقعہ

حضرت صالح علیہ السلام قوم ثمود کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے۔ آپ نے جب قوم ثمود کو خدا کا فرمان سنا کر ایمان کی دعوت دی تو اس سرکش قوم نے آپ سے یہ معجزہ طلب کیا۔ کہ آپ اس پہاڑ کی چٹان سے ایک گابھن اونٹنی نکالیے۔ جو دودھ بھی دیتی ہو اور ایک دن ساراتالاب کا پانی وہ پیۓ اور ایک روز ہم اور خوب فربہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو۔

چنانچہ آپ نے الله پاک کے حضور دعا كى اور چٹان کی طرف اشارہ فرمایا۔ تو وہ فوراً ہی پھٹ گئی اور اس میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت و تندرست اور خوب بلند قامت اونٹنی نکل پڑی۔ جو گابھن تھی اور نکل کر اس نے ایک بچہ بھی جنا۔ اور یہ اپنے بچے کے ساتھ میدانوں میں چرتی پھرتی رہی۔

اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا جس میں پہاڑوں کے چشموں سے پانی گر کر جمع ہوتا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! دیکھو یہ معجزہ کی اونٹنی ہے۔ ایک روز تمہارے تالاب کا سارا پانی یہ پی ڈالے گی اور ایک روز تم لوگ پینا۔ قوم نے اس کو مان لیا۔ پھر آپ نے قوم ثمود کے سامنے یہ تقریر فرمائی کہ:۔

یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمۡ مِّنْ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ قَدْ جَآءَتْکُمۡ بَیِّنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ ؕ ہٰذِہٖ نَاقَۃُ اللہِ لَکُمْ اٰیَۃً فَذَرُوۡہَا تَاۡکُلْ فِیۡۤ اَرْضِ اللہِ وَلَاتَمَسُّوۡہَا بِسُوۡٓءٍ فَیَاۡخُذَکُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ

ترجمہ:۔ اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی یہ اللہ کا ناقہ(اونٹنی)ہے تمہارے لئے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں دردناک عذاب آئے گا۔

چند دن تو قوم ثمود نے اس تکلیف کو برداشت کیا کہ ایک دن اُن کو پانی نہیں ملتا تھا۔ کیونکہ اس دن تالاب کا سارا پانی اونٹنی پی جاتی تھی۔ اس لئے ان لوگوں نے طے کرلیا کہ اس اونٹنی کو قتل کر ڈالیں۔

اونٹنی کا قاتل
چنانچہ اس قوم میں قدار بن سالف جو سرخ رنگ کا بھوری آنکھوں والا اور پستہ قد آدمی تھا اور ایک زنا کار عورت کا لڑکا تھا۔ ساری قوم کے حکم سے اس اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔ حضرت صالح علیہ السلام منع ہی کرتے رہے، لیکن قدار بن سالف نے پہلے تو اونٹنی کے چاروں پاؤں کو کاٹ ڈالا۔ پھر اس کو ذبح کردیا اور انتہائی سرکشی کے ساتھ حضرت صالح علیہ السلام سے بے ادبانہ گفتگو کرنے لگا۔ چنانچہ خداوند قدوس کا ارشاد ہے کہ:۔

فَعَقَرُوا النَّاقَۃَ وَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّہِمْ وَقَالُوۡا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الْمُرْسَلِیۡن

ترجمہ:۔ پس ناقہ(اونٹنی)کی کوچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح ہم پر لے آؤ جس(عذاب)کا تم وعدہ دے رہے ہو اگر تم رسول ہو۔(2)

زلزلہ کا عذاب
قوم ثمود کی اس سرکشی پر عذابِِ خداوندی کا ظہور اس طرح ہوا کہ پہلے ایک زبردست چنگھاڑ کی خوفناک آواز آئی۔ پھر شدید زلزلہ آیا جس سے پوری آبادی اتھل پتھل ہو کر چکنا چور ہو گئی۔ تمام عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کر تہس نہس ہو گئیں اور قوم ثمود کا ایک ایک آدمی گھٹنوں کے بل اوندھا گر کر مر گیا۔ قرآن مجید نے فرمایا کہ:۔

فَاَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوۡا فِیۡ دَارِہِمْ

ترجمہ:۔ تو انہیں زلزلہ نے آ لیا تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے رہ گئے تو صالح نے ان سے منہ پھیرا۔(3)

حضرت صالح علیہ السلام نے جب دیکھا کہ پوری بستی زلزلوں کے جھٹکوں سے تباہ و برباد ہو کر اینٹ پتھروں کا ڈھیر بن گئی اور پوری قوم ہلاک ہو گئی تو آپ کو بڑا صدمہ اور قلق ہوا۔ اور آپ کو قوم ثمود اور ان کی بستی کے ویرانوں سے اس قدر نفرت ہو گئی کہ آپ نے ان لوگوں کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ اور اس بستی کو چھوڑ کر دوسری جگہ تشریف لے گئے اور چلتے وقت مردہ لاشوں سے یہ فرما کر روانہ ہو گئے کہ:۔

یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَۃَ رَبِّیۡ وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلٰکِنۡ لَّاتُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِیۡنَ ﴿۷۹﴾
ترجمہ:۔ اے میری قوم بے شک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچا دی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کے غرضی(4) ہی نہیں۔(5)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قوم ثمود کی پوری بستی برباد و ویران ہو کر کھنڈر بن گئی اور پوری قوم فنا کے گھاٹ اتر گئی۔ کہ آج اُن کی نسل کا کوئی انسان روئے زمین پر باقی نہیں رہ گیا۔(6)

درس ہدایت
اس واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب ایک نبی کی ایک اونٹنی کو قتل کردینے والی قوم عذابِ الٰہی کی تباہ کاریوں سے اس طرح فنا ہو گئی کہ ان کی نسل کا کوئی انسان بھی روئے زمین پر باقی نہ رہ گیا۔ تو جو قوم اپنے نبی کی آل و اولاد کو قتل کرڈالے گی بھلا وہ عذابِ الٰہی کے قہر سے کب اور کس طرح محفوظ رہ سکتی ہے؟

22/02/2024

میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدصَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم
الله کے آخری نبی اور رسول ﷺ ہیں

22/02/2024

قوم "عاد :
قوم عاد ایک ایسی قوم تھی جو
بڑے طاقتور تھے
40 ہاتھ جتنا قد
800 سے 900 سال کی عمر
نہ بوڑھے ھوتے
نہ بیمار ھوتے
نہ دانت ٹوٹتے
نہ نظر کمزور ھوتی
جوان تندرست و توانا رہتے
بس انھیں صرف موت آتی تھی
اور کچھ نہیں ھوتا تھا
صرف موت آتی تھی
ان کی طرف اللہ تعالی نے حضرت ھود علیہ السلام کو بھیجا
انھوں نے ایک اللہ کی دعوت دی
اللہ کی پکڑ سے ڈرایا
مگر وہ بولے
اے ھود ! ہمارے خداوں نے تیری عقل خراب کر دی ھے
جا جا اپنے نفل پڑھ
ہمیں نہ ڈرا
ہمیں نہ ٹوک
تیرے کہنے پر کیا ہم اپنے باپ دادا کا چال چلن چھوڑ دیں گے
عقل خراب ھوگئی تیری
جا جا اپنا کام کر
تیرے کہنے پر چلیں تو ہم تو بھوکے مر جائیں
انھوں نے شرک ظلم اور گناھوں کے طوفان سے اللہ کو للکارا
تکبر اور غرور میں بد مست بولے

فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ بِغَيْرِ‌ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَ‌وْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ ﴿١٥﴾
اب قوم عاد نے تو بےوجہ زمین میں سرکشی شروع کردی اور کہنے لگے ہم سے زور آور کون ہے؟ (۱) کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے اسے پیدا کیا وہ ان سے (بہت ہی) زیادہ زور آور ہے، (۲) وہ (آخر تک) ہماری آیتوں کا (۳) انکار ہی کرتے رہے۔
کوئی ھے ہم سے ذیادہ طاقتور تو لاو ناں ؟
ہمیں کس سے ڈراتے ھو ؟
اللہ نے قحط بھیجا
بھوک لگی
سارا غلہ کھاگئے
مال مویشی کھا گئے
حرام پر اگئے
چوھے بلی کتے کھاگئے
سانپ کھاگئے
درخت گرا کر اسکے پتے کھا گئے
بھوک نہ مٹی
نہ بارش ھوئی نہ قطرہ گرا نہ غلہ اگا
پھر تنگ آکر اپنا ایک وفد بیت اللہ بھیجا
ان کا دستور تھا جب مصیبت آتی تو اوپر والے کو پکار اٹھتے
جب دور ھوجاتی تو اپنے بتوں کو پوجنے لگتے
بیت اللہ وفد گیا اور کہا کہ ہمارے لئے اللہ سے دعا کرو کہ بارش برسائے
اللہ نے3 بادل پیش کئے
کالا
سفید
سرخ
اللہ نے فرمایا ان میں سے ایک کا انتخاب کرو
انھوں نے آپس میں مشورہ کیا
کہ سرخ میں تو ھوا ھوتی ھے
سفید خالی ھوتا ھے
کالے میں پانی ھوتا ھے
کالا مانگو
اللہ تعالی نے کہا واپس پہنچو بادل بھیجتا ھوں
وہ خوشی خوشی واپس آئے
سب لوگ ایک میدان میں جمع ھوئے
بادل آیا
وہ ناچنے لگے کہ اب بارش ھوگی
قحط مٹے گا
کھانے کو ملے گا
کیا پتا تھا
کہ وہ بارش نہیں اللہ کا عذاب ھے
جو تم ھود سے کہتے تھے کہ
لے آ ! جس سے ہم کو ڈراتا ھے
اس بادل مین ایسی تند و تیز ھوا تھی کہ
جس نے ان کو اٹھا مارا ان کے گھر اڑا دئیے
60 ہاتھ کے قد اور لوگ تنکوں کی طرح اڑ رہے تھے
ھوا ان کے سروں کو ٹکراتی تھی اتنی زور سے ٹکراتی کہ ان کے بھیجے نکل نکل کر منہ پر لٹک گئے
بعض لوگ بھاگ کر غار میں گھس گئے کہ یہاں تو ھوا نہیں آ سکتی
مگر میرے رب کا حکم ھو کر رہتا ھے
ھوا غار میں بگولے کی طرح داخل ھوتی اور انکو باہر اٹھا کر پھینک دیتی
اللہ نے فرمایا
فھل تری من باقیہ
کیا کوئی باقی بچا ھے ؟
اللہ تعالی نے ان کو ہلاک کر کے دکھایا کہ جب تم اللہ کی اس کے رسول کی نافرمانی کروگے
اللہ تم پر ایسی جگہ سے عذاب بھیجے گا جہاں سے گمان بھی نہ ھوگا
جو گناہ قوم عاد نے کیا
کیا وہ ہم نہیں کر رہے
کیا ہم اللہ کی حدوں کا پار نہیں کر گئے
کیا ہم نے اللہ کو اپنی نافرمانی سے نہیں للکارا ھوا ھے
توبہ کرو
اللہ سے ڈرو
قرآن پڑھو
جن گناھوں کو ہم معمولی سمجھتے ہیں اللہ نے ان گناھوں پر پوری پوری قومیں زمین بوس کر دی ہیں
الستغفرا للہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ
Everyone

22/02/2024

‏قوم لوط

سب سے زیادہ بےحیا قوم لوط علیہ سلام کی قوم تھی یہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں میں دلچسپی رکھتے تھے
خاص کر مسافروں میں سے کوئی خوبصورت لڑکا ہوتا تو یہ لوگ اسے اپنا شکار بنا لیتے طلموت میں لکھا ہے
کہ اہل سدوم اپنی روز مرہ کی زندگی میں سخت ظالم دھوکہ باز اور بد معاملہ تھے
کوئی مسافر ان کے علاقے سے بخیریت نہیں گزر سکتا تھا
کوئی غریب ان کی بستیوں سے روٹی کا ایک ٹکڑا نہ پا سکتا تھا۔
کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ باہر کا آدمی ان کے علاقے میں پہنچ کر فاقوں سے مر جاتا تھا اور یہ لوگ اس کے کپڑے اتار کر اس کی لاش کو برہنہ دفن کر دیتے۔ اپنی وادی کو انہوں نے ایک باغ بنا رکھا تھا
۔ جس کا سلسلہ میلوں تک پھیلا ہوا تھا اس باغ میں وہ انتہائی بے حیائی کے ساتھ اعلانیہ بد کاریاں کرتے تھے۔
حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں توحید کی دعوت دی اور بدکاری کے اس گھناونے عمل سے توبہ کرنے کا حکم دیا۔
حضرت لوط نے کہا تم یہ کیوں کرتے ہو کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت حاصل کرنے کے لیے مرد کی طرف مائل ہوتے ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔ تو پھر حضرت لوط اہل سدوم کو دن رات وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے۔ لیکن اس قوم پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔
بلکہ وہ بدنصیب بہت فخریہ انداز میں یہ کام کرتے تھے انہیں حضرت لوط کا سمجھانا بھی برا لگتا تھا
لہذا انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اگر تم ہمیں اسی طرح بھلا کہتے رہے اور ہمارے کاموں میں مداخلت کرتے رہے
تو ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ حضرت لوط نے نصیحت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔
لہذا ایک دن اہل سدوم نے خود ہی عذاب الہی کا مطالبہ کر دیا۔
اللہ تعالی نے اب تک ان کے اس بدترین عمل فحاشی اور بدکاری کے باوجود ڈھیل دے رکھی تھی۔
لیکن جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے ایک دن کہا
کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ۔
لہذا ان پر عذاب الہی کا فیصلہ ہوگیا۔
اللہ نے اپنے خاص فرشتوں کو دنیا کی طرف روانہ کر دیا۔ یہ فرشتے دراصل حضرت میکائیل، اور جبرائل علیہ السلام تھے
پھر یہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر تشریف لے آئے۔
حضرت لوط نے جب ان خوبصورت نوعمر لڑکوں کو دیکھا تو سخت گھبراہٹ اور پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔
انہیں یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اگر ان کی قوم کے لوگوں نے انہیں دیکھ لیا۔
تو نہ جانے وہ انکے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ حضرت لوط کی بیوی کا نام وائلہ تھا
وہ آپ پر ایمان نہیں لائی تھی
اور وہ دراصل منافقہ تھی۔ وہ کافروں کے ساتھ تھی لہذا اس نے جاکر اہل سدوم کو یہ خبر دے دی۔
کہ لوط کے گھر دو نوجوان لڑکے مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں
یہ سن کر بستی والے دوڑتے ہوئے۔ حضرت لوط کے گھر پہنچے
حضرت لوط نے کہا کہ یہ جو میری قوم کی لڑکیاں ہیں
یہ تمہارے لیے جائز اور پاک ہیں اللہ سے ڈرو مجھے میرے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو۔
کیا تم میں سے کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں،؟
حضرت لوط علیہ السلام کی بات سن کر وہ لوگ بولے
تم بخوبی واقف ہو کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی حاجت نہیں
اور جو ہماری اصل چاہت ہے اس سے تم بخوبی واقف ہو۔
قوم لوط کے اس شرم سار جواب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے
کہ وہ فعل بد میں کس حد تک مبتلا ہو چکے تھے
جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم ان کے گھر کی طرف دوڑتی ہوئی آئی تو حضرت لوط نے گھر کے دروازے بند کر دیے اور ان نوجوانوں کو ایک کمرے میں چھپا دیا۔
ان بدکار لوگوں نے آپ کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا تھا
اور ان میں سے کچھ گھر کے دیوار پر بھی چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے
حضرت لوط علیہ السلام اپنے مہمانوں کی عزت کے خیال سے بہت زیادہ گھبرائے ہوئے تھے فرشتے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی بے بسی اور پریشانی کا یہ عالم دیکھا۔ تو حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے یوں فرمایا۔
اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں
یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے
۔ ابھی کچھ رات باقی ہے تو آپ اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو
اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔
اہل سدوم حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کا دروازہ توڑنے پر بضد تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے گھر سے باہر نکل کر اپنے پر کا ایک کونا انہیں مارا۔
جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلے باہر نکل آئے
اور بصارت ظاہر ہوگئی
یہ خاص عذاب ان لوگوں کو پہنچا۔ جو حضرت لوط کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام حقیقت حال جان کر مطمئن ہو گئے
اور اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کو ہی نکل کھڑے ہوئے۔
لیکن پھر بھی ان کی بیوی ان کے ساتھ تھی لیکن کچھ دور جا کر وہ واپس اپنے قوم کی طرف پلٹ گئی اور قوم کے ساتھ جہنم واصل ہو گئی۔
صبح کا آغاز ہوا تو اللہ کے حکم سے حضرت جبرئیل نے بستی کو اوپر سے اکھاڑ دیا اور پھر اپنے بازو پر رکھ کر آسمان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ آسمان والوں نے بستی۔۔۔‏کے کتے کے بھونکنے اور مرغوں کے بولنے کی آوازیں سنیں
۔ پھر اس بستی کو زمین پر دے مارا گیا جس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔
ہر پتھر پر مرنے والے کا نام لکھا ہوا تھا۔
جب یہ پتھر ان کو لگتے تو ان کے سر پاش پاش ہوجاتے۔
صبح سویرے شروع ہونے والا
یہ عذاب اشراک تک پوری بستی کو نیست و نابود کر چکا تھا
قوم لوط کی ان خوبصورت بستیوں کو اللہ نے ایک انتہائی بدبو دار
اور سیاہ جھیل میں تبدیل کردیا۔ جس کے پانی سے رہتی دنیا تک کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔
سمندر کے اس حصے میں کوئی جاندار مچھلی، مینڈک وغیرہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے اسے ڈیڈ سی (Dead Sea) یعنی بحیرہ مردار کہا جاتا ہے
جو اسرائیل اور اردن کے درمیان واقع ہے۔ ماہرین آثار نے دس سالوں کی تحقیق و جستجو کے بعد اس تباہ شدہ شہر کو دریافت کیا تھا۔
تحقیقات سے پتہ چلا تھا کہ اس شہر میں زندگی بالکل ختم ہو چکی ہے۔
شہر کے راستے اور کھنڈرات کو دیکھ کر ارکلوجسٹ نے یہ اندازہ لگایا
کہ جب یہ شہر تباہ ہوا تو اس وقت لوگ روزمرہ کے معاملات اور کاموں میں مشغول تھے
اور یہاں زندگی اچانک ختم ہو گئی تھی
اہل سدوم جنہیں پتھر بنا دیا گیا تھا۔ ان کے بت ابھی تک بحیرہ مردار کے پاس موجود ہیں جو لوگوں کے لیے ایک عبرت ہے
آج یورپی ممالک میں انسانی آزادی کے نام پر اس بدکاری کی اجازت دی جاتی ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کچھ علاقے بھی گناہ اور بیماری کی لپیٹ میں ہیں جن میں ایک شہر تونسہ شریف کے نام سے سرفہرست ہے
اور اس فحش عمل کو باعث فخر سمجھا جاتا ہے
روایتوں کے مطابق ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے شیطان سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین عمل کیا ہے ابلیس بولا جب مرد مرد سے بدفعلی کرے اور عورت عورت سے خواہش پوری کرے۔
اس تحریر کے پس منظر میں آپ لوگوں سے التجا ہے کہ جب آپکے بچے سن بلوغت مطلب (10 سے 15) کی عمر کو پہنچ رہے ہوں تو ان پر خاص نظر رکھیں کیونکہ یہی وہ عمر ہوتی ہے جسمیں اگر بچہ اس غلط عادت میں مبتلا ہوجاۓ تو ساری عمر اس عادت کو نہیں چھوڑ سکتا لہذا اپنے بچوں پر خاص توجہ دیں وہ کس کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں نظر میں رکھیں
شکریہ🌹

16/09/2023

‏بہت سے لوگ اپنے ڈیٹا پرائیویسی کو لیکر اس خوف کی وجہ سے اپنا پرانا موبائل فون مارکیٹ میں بیچنے سے گھبراتے ہیں (خصوصاً خواتین ) کہ کہیں ان کے پرسنل ڈیٹا تک کوئی رسائی نہ حاصل کرلیں جو بالکل بجا ہے اور اس کی ٹھوس وجوہات ہیں۔

اس بات سے تو آپ سبہی واقف ہوں گے کہ موبائل سے ڈلیٹ شدہ ڈیٹا ریکور ہو جاتا ہے اور موبائل فارمیٹ کرنے کے باجود ڈیٹا ریکور ہونا ممکن ہے بہت سے ایسے میتھڈز اور طریقے ہیں جن سے ڈیڈ ڈیٹا تک ریکور کیا جاسکتا ہے

اگر کبھی آپ کو کسی وجہ سے اپنا موبائل بیچنا پڑے تو مندرجہ ذیل طریقہ کار سے اپنے ڈیٹا کو ہمیشہ کے لیے ان ایکسس ایبل بناتے ہوئے محفوظ طریقے سے موبائل مارکیٹ میں بیچ سکتے ہیں.

سب سے پہلے مرحلے میں سمپلی فیکٹری ری سیٹ کریں
اس عمل سے فون کی ریم اور اسٹوریج تفصیلات مؤثر طریقے سے ڈیلیٹ ہو جائیں گی

اسکے بعد ڈیٹا اوور رائٹ کریں
فیکٹری ری سیٹ کرنے کے بعد پرانے ڈیٹا کے حصول کو مزید ناممکن بنانے کے لیے ڈیوائس کی اسٹوریج کو کسی قسم کے بیکار ڈیٹا سے اوور رائٹ کریں۔

بڑی بڑی فائلز جس سے موبائل کی میموری جلدی جلدی بھر جائیں سٹوریج فل کرکے پھر سے ریسٹور کیجئے اور یہ عمل کم سے کم تین چار بار دہرائیں مکمل تسلی کے لیے چاہیں تو اس سے بھی زیادہ بار دہرا سکتے ہیں

اس کے بعد پھر چاہیں کوئی کتنا بھی بڑا ڈیٹا ریکوری سافٹ ویئر ہوگا، وہ آپ کی پچھلی فضول کاپیاں ہی ریسٹور کرتا رہے گا جو آپ نے آخر میں بطور ڈمی ڈیٹا موبائل میں بھری تھی۔

آپ کے اصل ڈیٹا پر کئی ملٹی لیئرز ڈیٹا چڑھ چکا ہے جسے ریکور کرنا ناممکن ہے اب آپ کا ڈیٹا کلئیر ہے اپنا موبائل بے فکر ہو کر سیل کرسکتے ہیں ۔۔

Address

Shorkot
35050

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when صحیح حدیث - Sahih Hadis posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share