Arffa karim public school shinkiari mansehra.

Arffa karim public school  shinkiari mansehra. this page officially belong to school

announcement and any kind of info will be official

15/01/2022
22 دسمبر 2011ارفع کریم کی بیماری کا آغاز ہوا تھاپاکستان کی بیٹی کا آخری وقت قریب آن پہنچا تھا۔ اس کے پاس صرف 24 دن کا وق...
22/12/2021

22 دسمبر 2011
ارفع کریم کی بیماری کا آغاز ہوا تھا
پاکستان کی بیٹی کا آخری وقت قریب آن پہنچا تھا۔ اس کے پاس صرف 24 دن کا وقت باقی تھا

ارفع کریم اپنی بیماری سے پہلے ناسا کے کسی پراجیکٹ پر کام کر رہی تھی۔ 22 دسمبر 2011 کو ارفع کریم گھر پر ہی تھیں جب ان کو مرگی کا دورہ پڑا ،ان کو فوری طور پر سی ایم ایچ ہسپتال پہنچایا گیا، وہاں ان کو دل کی تکلیف بھی شروع ہو گئی، جس کی شدت سے وہ کومے میں چلی گئیں۔ 2 جنوری 2012 کو بل گیٹس نے ارفع کریم کے والدین سے رابطہ کیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ ارفع کا علاج اپنی زیر نگرانی امریکہ میں کروانا چاہتے ہیں۔ بل گیٹس کے ہی کہنے پر امریکی ڈاکٹرز کا پینل بنا جو وڈیو کانفرنسز کے ذریعے پاکستانی ڈاکٹرز کی رہنمائی اور معاونت کرتے رہے

9 جنوری 2012 کو ارفع کی طبعت کچھ سنبھلی لیکن عارضی طور پر۔ ڈاکٹروں کی رپورٹ کے مطابق اس کے دماغ کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ وہ 2012 میں 24 دن کومے میں رہنے کے بعد 14 جنوری 2012 بروز ہفتہ لاہور کے سی ایم ایچ اسپتال میں اللہ کو پیاری ہو گئیں

14 جنوری 2012 کو 10 بجے شب تمام پاکستان کے چینل پر ان کی افسوس ناک خبر نشر ہوئی تو پوراپاکستان صدمے سے نڈھال ہو گیا

کچھ لوگ مر کر بھی امر ہو جاتے ہیں ارفع ان میں سے ایک تھی۔ مائیکرو سافٹ ٹیکنالوجی میں جو ارفع کریم رندھاوا کو دسترس تھی اس کو خراج تحسین، خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے حکومت نے بعد از مرگ لاہور کے ایک پارک اور کراچی کا آئی ٹی سینٹر ارفع کریم کے نام سے منسوب کر دیا

علاوہ ازیں ان کے گاؤں کو بھی ارفع کریم کا نام دے دیا گیا۔ کرنل عبدلکریم رندھاوا ارفع کریم کے والد، جن کا کام ملک کا دفاع کرنا ہے جو کہ ایک آرمی آفیسر ہیں انہوں نے پاکستان کو ایک راستہ دکھایا کہ پاکستان کا نظریاتی سرحدوں پر دفاع ارفع کریم جیسی بیٹیاں ہیں جن سے دنیا کے سامنے پاکستان کا روشن چہرہ واضح ہوتا ہے

ارفع کریم فیصل آباد کے ایک نزدیکی گاؤں رام دیوالی میں 2 فروری 1995 کو پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد امجد عبدالکریم رندھاوا ایک آرمی آفیسر ہیں۔ ارفع کریم صرف تین سال کی عمر میں سکول میں جانے لگی۔ نو برس کی عمر میں 2004 میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کا امتحان پاس کر کے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایک تہلکہ مچا دیا۔ ارفع کریم رندھاوا نے دنیا کی کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ہونے کا اعزازحاصل کیا

اس سے دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہوا۔ اس سے دنیا میں یہ پیغام گیا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ ارفع کریم جب بل گیٹس سے ملی تو اس کے بارے میں کہا گیا کہ پاکستان کا دوسرا رخ ۔ ارفع کریم کو پاکستان کے دوسرے چہرے کا نام دیا گیا۔ ایک روشن چہرے کا نام۔ ارفع کریم رندھاوا مائیکرو سافٹ کارپوریشن کی دعوت پر جولائی 2005 میں اپنے والد کے ہمراہ امریکہ گئیں۔ جہاں اسے دنیا کی کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کی سند دی گئی

کمپیوٹر کا نام لیں تو ہمارے دماغ میں بل گیٹس کا نام بھی آتا ہے۔ بل گیٹس کا یہ کارنامہ ہے کہ انہوں نے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کو وسعت دی، آسان بنایا، عام افراد تک اس کی رسائی ممکن ہوئی۔ بل گیٹس دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں۔ اس عظیم ہستی جس کی زندگی بہت مصروف ہے بل گیٹس نے ارفع کریم سے دس منٹ ملاقات کی۔ ارفع کریم کی حوصلہ افزائی کی ،کہا جاتا ہے کہ ارفع کریم سے زیادہ بل گیٹس اس سے متاثر ہوئے

اس ملاقات میں بل گیٹس نے ارفع کریم کو دنیا کی کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ ایپلی کیشن کی سند عطا کی۔ یہ نہ صرف ارفع، اس کے والدین، بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کی بات تھی۔ اس ملاقات میں بل گیٹس نے ارفع کریم کو کہا "اوہ تو یہ بھی پاکستان کا ایک چہرہ ہے کہ تمہاری جیسی لڑکیاں بھی وہاں ہیں ؟ ورنہ میں تو یہی سمجھتا تھا کہ وہاں لڑکیوں کو پڑھنے نہیں دیا جاتا" ارفع نے بڑے اعتماد سے بل گیٹس سے کہا، پاکستان کا بس یہی چہرہ ہے

یہ تھی ارفع کریم پاکستان کا چہرہ۔ یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔ ارفع کریم نے بل گیٹس کے ساتھ ناشتہ بھی کیا۔ اس کے علاوہ دبئی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ماہرین کی جانب سے دو ہفتوں کے لیے انہیں مدعو کیا گیا جہاں انہیں مختلف تمغہ جات اور اعزازات دئیے گئے۔ ارفع کریم نے دبئی کے فلائینگ کلب میں صرف دس سال کی عمر میں ایک طیارہ اڑایا اور طیارہ اڑانے کا سرٹیفیکٹ بھی حاصل کیا

ارفع کریم کو 2005 میں اس کی صلاحیتوں کے اعتراف میں ” صدارتی ایوارڈ “، ”مادر ملت فاطمہ جناح جناح طلائی تمغے” اور” سلام پاکستان یوتھ ایوارڈ” سے بھی نوازا گیا۔ صرف دس سال کی عمر میں انہوں نے” پرائیڈ آف پرفارمنس” بھی حاصل کیا جس کو حاصل کرنے کے لیے عمر لگ جاتی ہے

مائیکرو سافٹ نے بارسلونا میں منعقدہ سن 2006 کی تکنیکی ڈیویلپرز کانفرنس میں پاکستان میں سے صرف ارفع کریم کو مدعو کیا گیا تھا۔ پوری دنیا سے پانچ ہزار سے زیادہ مندوبین میں سے پاکستان کا روشن چہرہ صرف ارفع کریم تھی۔ یہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔ وہ ملک و قوم کا فخر تھی، اس نے سولہ سال کی عمر میں وہ سب حاصل کر لیا جو کرنا تھا۔ پوری دنیا میں اپنا سکہ منوایا اور پوری دنیا کے سامنے ملک و قوم کا خوب نام روشن کیا۔ پاکستان اور اہل پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا

احد عارف بھائی کی وال سے منقول

04/03/2021
24/02/2021

Address

Shinkiari

Opening Hours

Monday 09:00 - 15:00
Tuesday 09:00 - 15:00
Wednesday 09:00 - 15:00
Thursday 09:00 - 15:00
Friday 09:00 - 12:00
Saturday 09:00 - 15:00

Telephone

+923219641034

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Arffa karim public school shinkiari mansehra. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category