22/09/2026
*انسان کا کردار اس کے قریبی رشتوں میں پہچانیے*
جو شخص اپنے والدین کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہو یا بلاوجہ قریبی رشتوں کو توڑ دیتا ہو، اس پر اعتماد کرتے ہوئے دل میں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے:
جو اپنے قریب ترین لوگوں کے غیر تحریری حقوق کا پاس نہ رکھ سکا، وہ دوسرے عہد اور امانتیں کس حد تک نبھائے گا؟
اعتماد کی بنیاد صرف قانونی معاہدوں پر نہیں ہوتی۔ ہم کسی شخص پر اس لیے اعتماد کرتے ہیں کہ ہمیں امید ہوتی ہے کہ وہ امانت کی حفاظت اس وقت بھی کرے گا جب اس کے سر پر کوئی قانون یا نگرانی موجود نہ ہو۔
قرآن کریم نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کو غیر معمولی اہمیت دی ہے:
﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾
’’اور تمہارے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘
(الإسراء: 23)
والدین کے ساتھ احسان صرف مالی خدمت کا نام نہیں۔ ان کے احترام، ان کی دل جوئی، مناسب انداز میں اختلاف اور ان کے حقوق کی رعایت میں انسان کے کردار کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔
البتہ یہاں اعتدال ضروری ہے۔
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا مطلب یہ نہیں کہ والدین کی ہر بات لازماً درست ہو، یا اولاد ظلم اور زیادتی کو بھی خاموشی سے قبول کرتی رہے۔ والدین پر بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اولاد کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں، تحقیر، مسلسل موازنہ، طعنوں اور غیر ضروری مداخلت سے اجتناب کریں۔
حقوق کا نظام صرف ایک فریق سے اخلاق کا مطالبہ کرنے سے قائم نہیں ہوتا؛ ہر شخص کو پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ میرے ذمے کیا حق ہے اور میں اسے کس حد تک ادا کررہا ہوں۔
درحقیقت خاندان انسان کی پہلی تربیت گاہ ہے جہاں وہ وفا، احترام، حق شناسی، معافی اور اپنی غلطی تسلیم کرنا سیکھتا ہے۔ اگر یہ اوصاف گھر میں پختہ ہوجائیں تو امید کی جاسکتی ہے کہ وہ شخص دوسرے تعلقات، دوستی، کاروبار اور معاملات میں بھی حقوق کا پاس رکھنے والا ہوگا۔
اسی لیے کسی انسان کو پہچاننا ہو تو صرف یہ نہ دیکھیے کہ وہ آپ کے ساتھ کیسا ہے؛ یہ بھی دیکھیے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ کیسا ہے جن سے اسے کوئی دنیاوی فائدہ حاصل کرنا باقی نہیں۔
*کیونکہ کردار کا اصل امتحان اکثر وہاں ہوتا ہے جہاں نہ مفاد وفاداری پر مجبور کررہا ہو، نہ قانون، اور نہ لوگوں کی نگاہ۔*
ضیاء آنلائن قرآن اکیڈمی وٹسپ
00923456759686