ھي ڪلپ خاص والدين لاء آھي.
پنهنجي پرائمري جي ٻارن کي انگلش ميڊيم اسڪول ۾ داخلا وٺي ڏيڻ کان اڳم هن تعليمي ماهر مرحوم ڊاڪٽر نبي بخش بلوچ جو موقف ٻڌڻ نه وساريندا.
Govt Boys Lower Secondary School Bhirkan
Education for All.
07/08/2025
سکول کی بیٹھک بدلنے سے تعلیمی انقلاب — کیرالہ کی حیران کن مثال
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ صرف کلاس روم میں بچوں کے بیٹھنے کی ترتیب بدلنے سے تعلیمی نتائج میں انقلاب لایا جا سکتا ہے؟ شاید یہ سن کر حیرت ہو، مگر بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ کے ایک اسکول نے یہ کر دکھایا ہے۔
ہم میں سے بیشتر ایسے اسکولوں سے وابستہ رہے ہیں جہاں ذہین اور لائق سمجھے جانے والے بچوں کو اگلی قطاروں میں بٹھایا جاتا تھا، جبکہ نسبتاً کمزور یا شرارتی بچوں کو "بیک بینچر" بنا کر پچھلی نشستوں پر دھکیل دیا جاتا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے تعلیم بھی ایک مخصوص طبقے کا حق ہو اور باقی صرف حاضری پوری کرنے آئے ہوں۔
اساتذہ کی توجہ کا مرکز بھی یہی اگلی قطاریں ہوتی تھیں۔ وہ چاہتے تھے کہ یہ بچے اچھے نمبر لائیں، تاکہ اسکول اور استاد کی شہرت میں اضافہ ہو۔ لیکن اس "تفریق زدہ ترتیب" میں پیچھے بیٹھنے والے بچوں کی صلاحیتیں اکثر نظر انداز ہو جاتی تھیں، اور رفتہ رفتہ وہ تعلیمی میدان سے دُور ہوتے جاتے تھے۔
کیرالہ کے اس اسکول نے اسی پرانی روایت کو توڑنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بچوں کو قطاروں میں بٹھانے کی بجائے ایک نیم دائرہ (Half Circle) کی صورت میں بٹھانا شروع کیا، جس کے بیچ میں استاد کو جگہ دی گئی۔ اس ترتیب کا مقصد واضح تھا:
ہر بچہ استاد کے برابر فاصلے پر ہو، ہر بچے کو یکساں توجہ ملے، اور کوئی بھی "بیک بینچر" نہ رہے۔
اس چھوٹی سی تبدیلی نے حیران کن نتائج دیے۔ وہ بچے جو پہلے خاموش، شرمیلے یا نالائق سمجھے جاتے تھے، اب استاد کی توجہ پا کر اعتماد سے بھر گئے۔ ان کی کارکردگی میں بہتری آئی اور وہ تعلیمی مقابلے میں حصہ لینے لگے۔
یہ تجربہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تعلیمی نظام میں صرف بڑے نصاب یا بھاری بجٹ سے ہی نہیں، بلکہ سوچ کی تبدیلی اور چھوٹے مگر مؤثر اقدامات سے بھی بڑی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
آپ نے اسکول میں کہاں بیٹھا؟ اگلی صف میں یا پچھلی؟
اب سوچئے، اگر ہم ہر بچے کو برابر کا موقع دیں تو کیسا معاشرہ بنے گا؟
اس پیغام کو ضرور دوسروں تک پہنچائیں، کیونکہ تعلیم صرف علم نہیں، برابری کا نام بھی ہے۔
اگر ایک اُستاد بچے کو تعلیم کی طرف مائل نہ کر سکے،
علم سے محبت نہ سکھا سکے،
سوچنے کا شعور نہ دے سکے —
تو وہ استاد نہیں، صرف ایک ٹیپ ریکارڈر ہے؛
جو آتا ہے، سبق سناتا ہے… اور چلا جاتا ہے۔
📌 بچے صرف الفاظ یاد کرنے سے نہیں سیکھتے —
وہ جذبہ، اپروچ، اور احساس سے سیکھتے ہیں۔
استاد کا کام صرف “کتاب پڑھانا” نہیں،
بلکہ دلوں کو جگانا، ذہنوں کو بیدار کرنا، اور خواب دکھانا ہوتا ہے۔
تعلیم وہی ہے جو بچے کے اندر کی روشنی کو باہر لائے —
ورنہ کتابیں تو بازار میں بھی ملتی ہیں،
لیکن شعور صرف استاد سے ملتا ہے۔
22/05/2025
🌿🌱🌿🌱🌱🌿🌱🍀🍃☘️
اسانجي ھن Govt Boys Lower Secondary School Bhirkan پيج کي وڌ کان وڌ شيئر ڪريو تہ جيئن اسانجي ڪميونٽي وارا دوست اسان سان جڙي سگھن....
ؤايڊمن
09/05/2025
اسانجي اسڪول جي پھرين (غالبا) بيچ جي ھڪ گروپ تصوير.......
28/01/2025
اڄ مورخہ 25.01.25 تي استاد صاحبان طرفان پنھنجي ذاتي ڪليڪشن ڪري اسڪول جو پراڻو فرنيچر رپيئر ڪرايو. تہ جيئن اسانجا ٻار سڪون سان ويھي تعليم حاصل ڪن.....
اسانجو عزم ھڪ معياري تعليم فراھم ڪرڻ آھي. ان عزم ۾ اوھان علائقي واسين جو ساٿ ضروري آھي. مھرباني ڪري پنھنجي ٻارن تي نظر رکو. ٽائيم سان اسڪول موڪليو. ٻار جي ڪلاس ٽيچر ۽ ھيڊ ماسٽر سان رابطي رھو.
مھرباني.
05/01/2025
12 زمانن جا 12 فارمولا ۽ 12 مثال
هڪ ئي تصوير ۾
محترم والدين
السلام عليڪم جيئن ته سياري جي ساليانه موڪلن کان بعد پھرين جنوري 2025 کان اسڪول کلي رھيا آھن.
پنھنجن ٻارڙن کي گورنمينٽ بوائز ايليمينٽري اسڪول ڀرڪڻ ۾ ضرور موڪليندا.
مھربانی
23/11/2024
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Village Bhirkan
Shikarpur
Opening Hours
| Monday | 08:30 - 14:00 |
| Tuesday | 08:30 - 14:00 |
| Wednesday | 08:30 - 14:00 |
| Thursday | 08:30 - 14:00 |
| Friday | 08:30 - 12:30 |
| Saturday | 08:30 - 14:00 |